New Age Islam
Tue Jan 27 2026, 09:25 PM

Urdu Section ( 3 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam and Democracy in the Current Context: Untapped Questions دور حاضر کے تناظر میں اسلام اور جمہوریت : چند ایسے سوالات جن پر توجہ نہیں دی گئی


ظہیر العاؤنی

24 ستمبر 2013

‘اسلام جمہوریت کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں ’ یہ ایک ایسا  سوال ہے جس نے ان گنت اور مخالف  مسائل اور نظریات کو جنم دیا ہے ۔ ایک طرف تو مغرب میں موجودہ میڈیا اور دانشور حلقوں نے  اسلام کو  مسلم مشرق وسطی میں آمریت پسند  پالیسیوں کی بنیاد پر سمجھا ہے ۔ ان کے لئے اسلام ایک پیدرانہ نظام سے تعبیر ہے  اور اس میں شہریت اور آزادی کے کسی بھی تصور کا فقدان ہے اس لئے کہ  اس میں خدا کی خود مختاری کا عقیدہ پایا جاتا ہے جس نے عوامی طاقت کو کم کر دیا ہے  ۔ ایسا دعوی کیا جاتا ہے کہ  اسلام‘‘ ایک ایسی دنیا کو عملی شکل دیتا ہے جہاں انسانی زندگی  کو وہ  اقدار  حاصل نہیں ہیں جو مغرب میں انسانی زندگی کو حاصل ہیں، جہاں آزادی ، جمہوریت، کشادگی اور تخلیقیت معدوم ہے ’’۔

مغربی اسکالرس  کی ایک بڑی تعداد کا یہ کہنا ہے کہ ایک مذہب اور ثقافت کے طور پر اسلام ایسے بے شمار  رکاوٹیں پیدا کرتا ہے جو جمہوریت کے استحکام کے لئے   سد باب ہیں ۔ ایک امریکی فلسفی اور سیاسی ماہر اقتصادیات فرانسس فوکویانہ  نے  مسلسل یہ کہا ہے کہ  "اسلام صرف ایک ایسا ثقافتی نظام ہے کو مسلسل اسامہ بن لادن یا طالبان جیسے لوگوں کو پیدا کرتا ہے جو مکمل طور پر  جدیدیت کو مسترد کرتے ہیں " ۔ اسی سلسلے میں تہذیبوں کے  متنازعہ تصادم کے  ہنٹنگٹن کے نظریہ  نے سرد جنگ کے بعد  تنازعات کی بنیادی وجہ لوگوں کی ثقافتی اور مذہبی تشخص کو قرار دیا ہے ۔

جب ہم اس مسئلے  کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے  ہیں تو  ہم واضح طور پر یہ پاتے ہیں کہ ایسے بہت سارے اسکالرس بھی ہیں جو اس بات کا  پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت ہمیشہ  اسلام کا ایک حصہ رہی ہے  ۔ ان کے مطابق  شوریٰ ( مشاورت ) کا قرآنی تصور جمہوریت کے ساتھ اسلام کی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے ہے۔

درحقیقت موجودہ بحث و مباحثہ سے ایک ایسا سوال پیدا ہوتا ہے جسے اصولیاتی حرارت کے فقدان یا  واضح دانشورانہ بددیانتی  کی وجہ سے نظرانداز کر دیا گیا ؛ ایک انسان کس معیار پر  مبنی ایک  تقابلی مساوات قائم کر سکتا ہے ، حکومت کے ایک سیاسی طرز ، جمہوریت یا ایک مذہبی اعتقاد اسلام  کے معیار پر ؟ یہاں یہ بات ذکر  کرنا ضروری ہے کہ  اسلام حکومت کے سلسلے میں کچھ ، در اصل  اس کی تینوں شاخوں، انتظامیہ ،مقننہ، اور عدلیہ کے  بارے میں مخصوص ہدایات پیش کرتا ہے ۔ لہٰذا  مغربی جمہوریت کے ایک حالیہ منصفانہ تصور کا کسی مذہبی  نظام کی ایک محفوظ شکل سے موازنہ عملی تجزیہ اور نتائج دونوں میں اصولیاتی  بنیاد کا فقدان پیدا کر دے گا ۔

اصولیاتی اجزا سے گریز کرنے اور ظاہری دلائل کو اختیار کرنے سے مخالفین کے ذریعہ اسلام اور جمہوریت کے درمیان مطابقت پیش کی جاتی ہے ، اسلام اور نام نہاد " اسلام پسند " کے درمیان ایک زبر دست  امتیاز پیدا کیا جانا ضروری ہے۔ انہیں باتوں کے درمیان  آج کل یہ سوال پوچھا جانا چاہئے خاص طور پر اس کے درمیان جو مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جو ہو رہا ہے ، کہ  بڑی اسلامی سیاسی جماعتیں کس حد تک اسلامی ہیں ؟ کیا  موجودہ سماجی و سیاسی تناظر میں دونوں کے درمیان یہ مطابقت پیدا کرنا معقول  ہو سکتا ہے؟ زیادہ  اہم بات یہ ہے کہ  ان کی انتظامی حکمت عملی میں شریعت (اسلامی قانون) کہاں ہے؟

اسلامی تعلیمات کا ایک سرسری جائزہ لینے کے بعد  ان وسیع فاصلوں کا سدباب کرنا  آسان ہو جائے گا جو حکومت کے تینوں سطحوں پر اسلام پسندوں سے اسلام کو الگ کر رہے  ہیں  ۔ لہذا، عوامی نظریات کو ایک " مذہب" کے طور پر  اصطلاح کے وسیع تر معنوں میں  ان سیاسی جماعتوں اور اسلام کے درمیان فرق پید ا کرنا ہوگا ۔ مؤخر الذکر (مذہب اسلام)کو  بہت سے مسلم اسکالر ز ایک ایسا نظام سمجھتے  ہیں جو  زندگی کے تمام شعبوں یعنی سیاست ، معاشیات، قانون سازی ، سائنس، انسانیت ، صحت ، نفسیات اور سماجیات  کا احاطہ کرتا ہے  ۔ واضح طور پر اس آسان تعریف  کو ایسے بہت سےممالک کے ذریعہ مسخ کر  دیا گیا ہے جن کی قیادت اسلامی سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں ، اس لئے کہ  وہ اگر اپنے مخالف تعلیمات کو فروغ دینے میں  نہیں تو  اپنے بہت سے عہد و پیمان  کا لحاظ  کرنے   یا شریعت کی کچھ دفعات کو نافذ کرنے میں  ناکام ضرور ثابت ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں یہ  ذکر کرنا انتہائی  اہم ہے کہ الٹے ہی ان جماعتوں نے  انتہائی قابل ذکر رائے عامہ کو  اپنے اعتماد میں لینے کے لئے اپنے ہم منصبوں کو موقع فراہم کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی سطح پر غفلت ، عدم روداری اور  کبھی کبھی اسلام فوبیا کو تقویت اور استحکام فراہم کیاہے  ۔ نتیجتاً اور  فطری طور پر بھی مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی عوام نے اعتماد کھو دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں بالکل ووٹ نہ دیکر  یا دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں کو حکومت کا موقع فراہم کر کے  بدلہ لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔

مذکورہ بالا عناصر کو ذہن میں رکھ کر  اعتماد کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ  اسلام اور جمہوریت کے درمیان ہم آہنگی  پر بحث کو سلجھانا بہت مشکل ہے  ۔ یہ مزید اصولی شفافیت اور مسلم اکثریت والے معاشروں میں موجودہ حالات  کے گہرے تجزیہ کا موقع فراہم کرتا ہے  ۔

(انگریزی سے  ترجمہ مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.moroccoworldnews.com/2013/09/106096/islam-and-democracy-in-the-current-context-untapped-questions/

URL:

https://newageislam.com/islam-politics/islam-democracy-current-context-untapped/d/13729

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/islam-democracy-current-context-untapped/d/13814

 

Loading..

Loading..