
حافظ طاہر محمود اشرفی
15 اکتوبر 2013
طالبان نے پشاور کے چرچ پر بم حملے میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا ہے لیکن ان کا اس حملے کو ایک جائز عمل قرار دئے جانے اور اسے اسلامی احکام کی بجا آوری گردانے جانے سے لوگوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اس نے عام طور پر اسلام کے خلاف نفرت و حقارت کو جنم دیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ میں اس دعوے کی مذہبی حیثیت کی وضاحت کرنے کی کوشش کروں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی ذلیل حرکت پاکستان کی شہرت اور اس کے اتحاد کے لئے مضررساں ہے ۔ چونکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں ، اور یہاں بہت سارے غیر مسلم بھی بستے ہیں جو کہ اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے مسلمان ہیں ۔ وہ پاکستان کی تخلیق میں شامل حال رہے ہیں اور اب تک اس کی تعمیر و ترقی کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں ۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ۔ جب میں نے اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں گہرائی سے مطالعہ کیا تو حیران و پریشان ہو گیا اس لئے کہ اگر ان کی حق تلفی نہ کی جائے تو ان کے حقوق مسلمانوں کے حقوق سے کہیں کم نہیں ہیں ۔
کسی بھی مسلمان کی طرح غیر مسلموں کی بھی جان ، مال عزت و آبرو کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ، نجران کے عیسائیوں کے ساتھ کئے گئے بہت سارے عہد و پیمان میں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ فرمائے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جان ، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ضمانت دی ہے ۔ مختلف مواقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل کیا گیا ہےکہ ان کا مذہب ، ان کی زمینیں ، ان کی جائداد ، ان کے قافلے ان کے پیغمبران اور ان کے بت سب اللہ کے حفظ و امان میں ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ۔ ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی جان اور ان کی جائداد اتنی ہی مقدس ہے جتنی مسلمانوں کی ۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس غیر مسلم کی مدد کروں گا جسے اس کی زندگی میں کسی مسلمان نے تکلیف دی ہو یا اس کی جائداد کو تباہ کیا ہو۔
خون بہا کے تصور کا اطلاق غیر مسلموں پر بھی ہوتا ہے ۔ جس طرح ایک مسلمان کے لئے معاوضہ ہے بالکل اسی طرح غیر مسلموں کے معاملے میں بھی یہ ایک فریضہ ہے۔ اور اسی طرح چور کی سزا قطع ید کا بھی اطلاق بغیر کسی امتیاز کے کیا گیا ہے ۔ مسلم اور غیر مسلم کی جائداد کی حرمت کے معاملے میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہے ۔ مذہب اور عبادت کرنے کے حقوق اور تمام حقوق انتہائی مقدس ہیں ۔
قرآن کا فرمان ہے :
‘‘مذہب کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے’’(256:2)
جب مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو آپ نے کفار مکہ ، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مختلف معاہدوں پر دستخط کئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی واضح انداز میں یہ فرما دیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہو گا ۔ اس حد تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے ان عیسائیوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے تھے مسجد نبوی میں عبادت کرنے کے لئے اجازت عطا فرمائی ۔
عمر بن عبدالعزیز نے کسی بھی چرچ یا مندر کو منہدم نہ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ جب خالد بن ولید نے دمشق کو فتح کیا تو آپ نے ایک معاہدے پر دستخط کیا ، چار گواہوں کی موجودگی میں کئے گئے اس عہد و پیمان میں دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ آپ نے 14 چرچوں کو تحفظ فراہم کیا ۔(البدایہ والنہایہ)۔ فتح مصر کے موقع پر باضابطہ طور پر چرچوں کو تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی ۔ امیر معاویہ نے زیر تعمیر مسجد کی توسیع کے لئے ایک چرچ کی زمین کو استعمال کرنا چاہا لیکن جب عیسائیوں نے احتجاج کیا تو انہوں نے اپنی اس تجویز کو ملتوی کر دیا ۔ عمر بن عبدالعزیز نے بھی اپنے دور حکومت میں ایک ایسا ہی منصوبہ ملتوی کیا تھا ، اور اپنے گورنر وں کو عیسائیوں کی ان تمام زمینوں کو لوٹانے کا حکم دیا تھا جس کا تعلق چرچ سے تھا ۔ عمر بن خطاب نے معمر غیر مسلم شہریوں کو ٹیکس کی ادئیگی سے آزاد کر دیا تھا اور اس کے بجائے ریاستی خزانے سے ان کے لئے ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیا تھا ۔
قرآن اور احادیث نبوی غیر مسلموں کے حقوق پر واضح ہیں ۔ یہاں تک کہ ہمیں ان غیر مسلموں کو برا نام دینے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ہم کس طرح ان کے قتل یا ان کی عبادت گاہوں کی مسماری کا جواز فراہم کر سکتے ہیں ۔
مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے کہ اسلامی ریاستوں کے قائدوں نے کبھی بھی غیر مسلموں کو متأثر کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔حضرت عمر کا خادم اپنی پوری زندگی عیسائی ہی رہا ۔جب تاتاریوں نے عراق پر حملہ کیا ، عیسائی اور مسلمان بندی بنا لئے گئے ، ابن تیمیہ کو تاتاریوں سے گفتگو کے درمیان عیسائیوں اور یہودیوں کو چھوڑ کر اور مسلمانوں کو لے کر بھاگ جانے کا موقع دیا گیا تھا لیکن ابن تیمیہ نے اس سے انکار کر دیا اور اس بات پر زور دیا کہ جب تک یہودیوں اورعیسائیوں کو رہا نہیں کر دیا جا تا وہ مسلمانوں کو لے کر نہیں جائیں گے ۔ میں اس موقع پر حضرت عمر کے اس خطبے کو نقل کرنے سے نہیں چوکنا چاہتا جو انہیں نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد دیا تھا :
مومنون کا قائد اور اللہ کا بندہ عمر یہاں کے باشندوں سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ ان کی عزت و عظمت ، صلیب ، شہریں ، ان کے ضعیف اور بیمار سب محفوظ و مامون ہوں گے ۔ کسی کو بھی ان چرچوں کو تباہ کرنے یا ان پر قبضہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا ۔ ان کی زمین کا ایک ایک ذرہ محفوظ و مامون ہوگا ۔ مذہب تبدیل کرنے کے لئے انہیں کوئی مجبور نہیں کرے گا ۔ انہیں خزانے سے عطیات حاصل ہوتے رہیں گے جیسا کہ اس سے پہلے کا معمول رہا ہے (طبری)۔
پیشاور میں چرچ پر اس حملے کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی ہے ۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق سرگرمیوں میں اوران سرگرمیوں میں فرق پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کے تحت انجام دی گئی ہیں ۔ اچھی طرح سے تحقیقی و تفتیش کئے بغیر ہر چیز پر اسلام کا لیبل لگانا مناسب نہیں ہے ۔ آل پاکستان علما کونسل نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ جو لوگ ان معصوموں کے قتل میں ملوث ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ان کا یہ دعویٰ کے غیر مسلم موت کے حقدار ہیں غلط، بے محل اور غیر اسلامی ہے ۔ ریات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلموں کی زندگی ، جائداد اور عزت و احترام کی حفاظت کرے ۔
حافظ طاہر محمود اشرفی پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین ہیں ۔
ماخذ : http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C10%5C15%5Cstory_15-10-2013_pg7_11
URL for English article: https://newageislam.com/islam-sectarianism/islam-prohibits-ransacking-places-worship/d/14027
URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/islam-prohibits-ransacking-places-worship/d/24372