New Age Islam
Sat Jun 13 2026, 09:20 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Jihadist Attitude Must Not Be Imposed اسلامی جہادی ذہنیت دوسروں پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے: ہر شخص بین المذاہب مکالمہ کی جانب مائل ہو رہا ہے

 

 

 

علماء کے لیے آئین

شمیم مسیح

02 جنوری 2014

عالمی سطح پر اب ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بین المذاہب مکالمہ کی طرف اپنا میلان ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا کٹر اسلامی جہادی ذہنیت دوسروں پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔

2013 کے کرسمس کے جشن کے ذریعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں اپنی زندگی میں کسی عیسائی کو پاکستان کا وزیر اعظم بنتا ہوا دیکھوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کوئی غیر مسلم پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ لیکن آئین کی اس شق کے بارے میں کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں میں یہاں پیش کر رہا ہوں، جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم ایسا شخص ہونا چاہیے جو عملی طور پر مسلم ہو۔

پاکستان کا قیام 1947 میں انڈین انڈیپندینس  ایکٹ 1947 کی شق 8 اور حکومت ہند کی دفع 1935 کے تحت عمل میں آیا۔ نو سالوں کے بعد ابتدائی دستاویز کو 1956 میں آئینی حیثیت حاصل ہوئی۔ پاکستان کی آئین میں مسلمان کی تعریف بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت پر مطلقاً اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی پر ایمان نہ رکھتا ہواور ہر اس شخص اور مذہبی مصلح کو یکسر مسترد کرتا ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ لیکن جو شخص نیشنل اسمبلی کا اسپیکر ہو اس کے اوپر مذہب کا کوئی بار نہیں ہے۔ لیکن اگر صدر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدے یا اس کے خلاف غیر اعتمادی کا ووٹ ڈال دیا جائے تو آئین کے مطابق اس وقت تک صدر رہے گا جب تک کہ نئے سرے سے صدر کا انتخاب عمل میں نہ آ جائے۔

ان مخصوص حالات میں ایک غیر مسلم کو پاکستان کا صدر بننے کا موقع آسانی کے ساتھ ہاتھ لگ سکتا ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں صوبائی وزیر اعلیٰ یا گورنر کے عہدے کے لیے مذہب یا جنس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور حکومت میں جب صرف کچھ ہی غیر مسلم امیدوار تھے، اہم ارکان حکومت کوخاص طور پر بنگال سے تعلق رکھنے والے بہت سارے ممبران کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا تھا۔

غیر مسلم ساتھیوں نے  ان کے حالات اور چیزوں کے نئےنظم و ضبط میں ان کے کردار کے تعلق سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئینی دھانچہ کے غیر مسلم ممبران نے کہا کہ یہ محمد علی جناح کے خوابوں کی تعبیر نہیں ہے۔ سریس چندر چٹ اپادھیائے نے کہا کہ معروضی قرارداد قائد اعظم کے اصولوں کے خلاف تھے۔ براٹ چندر منڈل نے کہا کہ جناح نے ‘‘واضح طور پر یہ کہا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہوگا’’۔ بھوپیندر کمار دت نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کے دور میں اس قسم کی کسی بھی قرار داد کا کوئی نام و نشان بھی نہیں  تھا۔ یہاں تک کہ مسلم اسکالرز اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی عوام کی ایک بھاری اکثریت کا ماننا ہے کہ قائد اعظم کی خواہش بالکل یہی تھی اور پاکستان کے آئینی ورثہ کی تعمیر کی سمت میں یہ ایک شاندار اقدام تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں کو یکساں حقوق فراہم کیے گئے تھے اور اسلام قبول کرنے کے لیے ان پر کوئی جبر نہیں کیا جاتا تھا۔

اکتوبر 1958 میں صدر اسکندر مرزا نے اس قانون کو منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد فوراً ہی ایوب خان نے مرزا کو معزول کر دیا اور خود کو صدر مقرر کر لیا۔ آئین 1973 کی تدوین بھٹو کی حکومت میں کی گئی جس کی تصدیق 10 اپریل کو مقننہ نے کی اور اس کا نفاذ 14 اگست 1973 کو کیا گیا۔ 1956 اور 1962 کے آئین کے بر خلاف 1973 کے آئین کو منسوخ کر کے اس کی جگہ کوئی دوسرا آئین نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں آئینی استعداد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس کے اثرات کا نعم البدل پیش کرتا ہے۔ اس میں اس شق کا اضافہ کیا گیا ہے کہ ایک مسلم صدر یا وزیر اعظم بننے سے رک سکتا ہے۔اسلام سے متضاد کسی بھی قانون کا خاکہ تیار نہیں کیا جانا چاہیے اور موجودہ قانون پہلے سے ہی اسلام کے مطابق ہونا چاہیے۔

صوبائی وزیر اعلیٰ اور گورنر کے عہدے تک کسی بھی عہدے کے لیےمذہب اور جنس کی کوئی بندش نہیں ہے۔ 1974 کی ترمیم میں احمدیہ برادری کو ان کے لیڈر مرزا غلام احمد قادیانی سمیت غیر مسلم قرار دیا گیا۔ یہ پاکستان کے زیا بھٹو تھے۔ یہاں تک کہ ان عہدوں کے لیے کوئی پابندی نہیں تھی، یہاں تک کہ اس اسلامی ماحول میں نہ کوئی عیسائی اور نہ ہی کسی دوسرے اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص صوبائی وزیر اعظم یا گورنر بننے کی اہلیت  رکھتا تھا۔

عالمی سطح پر اب ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بین المذاہب مکالمہ کی طرف اپنا میلان ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا کٹر اسلامی جہادی ذہنیت دوسروں پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔ یہ آئین صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اس آئین کا تعلق مولویوں سے بھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ایک عیسائی وزیر اعظم کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ یہ ان کی پارٹی کے لیے صرف عیسائیوں کی ہمدردی بٹورنے کا طریقہ ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.dailytimes.com.pk/opinion/02-Jan-2014/ulema-s-constitution

URL for English article:

https://newageislam.com/ijtihad-rethinking-islam/islamic-jihadist-attitude-be-imposed/d/35104

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/islamic-jihadist-attitude-be-imposed/d/35150

 

Loading..

Loading..