محمد یونس، نیو ایج اسلام
27 دسمبر، 2011
(انگریزی سے ترجمہ‑
سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)
محمد یونس، شریک مصنف (اشفاق
اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے 2009
عنقریب ماضی میں، مغربی دنیا میں خواتین پر بد کاری کے معمولی شبہ پر انہیں ازیت ناک سزائیں
دی جاتی تھیں۔ ایک اجنبی کے ساتھ بستر میں پکڑے جانے پر، اس کا شوہر اسے قانونی طور
پر قتل کرسکتا تھا۔ بدکاری کے عمل کے شبہ میں اسے زندہ جلایا یا دیگر غیر انسانی طریقوں
سے مارا جا سکتا تھا اور اس سے متعلق انٹرنیٹ پر موجود مواد تک آسانی سے رسائی حاصل
کی جا سکتی ہے [1] اور جو کافی مشہور ہے اور کسی بھی طرح کی وضاحت اسے بے مزا کرے گی۔ دوسری اہم تہذیبوں میں بھی خواتین
کی حالت زار کوئی خاص بہتر نہیں تھی۔ آج، بخشنے، رحمت اور شادی سے متعلق قرآنی معیار
[2] عالمی انسانی معاشرے میں سرایت کر گئے ہیں، دنیا کے بیشتر حصوں نے خواتین کو سزا
دینے کے ظالمانہ طریقوں سے توبہ کر لیا ہے اور سزا دینے کے معتدل طریقوں کو اپنایا
ہے۔ تاہم اسلام کے بعض مراکز مخصوص سیاق و
سباق والی مثالی سزا (عوام کے درمیان کوڑے مارنا) سے اب تک چپکے ہوئے ہیں جو اس زمانے میں سخت نہیں مانا جاتا
تھا لیکن آج کی دنیا میں سزا کے پروٹوکال میں
تبدیلی سے یہ اب بہت زیادہ اور وحشیانہ تصور
کی جاتی ہیں۔ اس طرح خواتین پر ظلم و ستم
اور اذیت پہنچانے کے عمل میں تبدیلی آئی ہے۔
ہم اس پہلو کے ساتھ ایک نئی بصیرت کے لئے قرآن کی تحقیق کریں گے۔
قرآن 'عوامی بدکاری' یا 'زنا'
کے لئے کوڑے مارنے کی سزا کا حکم دیتا ہے اس
زمانے میں ایک رواج یہ تھا جو عورتوں کو اجازت دیتا تھا کہ ان کے شوہر اگر کاروبار، حملے یا کسی دوسرے مشن کے سلسلے میں گھر
سے دور ہوں تو وہ اجنبیوں
کے ساتھ رہ سکتی ہیں (24:2) ۔ اس رواج نے بچوں
کے والد کو طے کرنے کا تنازعہ پیدا کیا جو
ازدواجی زندگی سے باہر پیدا ہوئے بچوں کی شناخت کے لئے جمع ہونے پر بچوں
کے چہرے مہرے کو اس کے والد سے موازنہ کیا جاتا تھا اور اس کے بعد فیصلہ کیا
جاتا تھا [3]۔ یہ مشق، ایک سماجی معیار بن
گیا تھا، جو مردوں کو ان خواتین، جن کے ساتھ
انہوں نے عارضی شادی کی تھی یا ساتھ رہے تھے،
ان کے تئیں تمام سماجی اور مالیاتی ذمہ داریوں سے
آزاد کرتا تھا، یہ خواتین کو مالی حصولیابیوں کے لئے بدکاری کرنے پر مجبور کرتا
تھا، اور اس طرح کے تعلقات سے پیدا ہوئے بچوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے
تھے۔ یہ قرآنی خاندانی قوانین کے بالکل متضاد تھا جو (1) مردوں کو ان کے جنسی، مالیاتی اور سماجی لائسنس
سے محروم کرنے، (2) بدکاری کے ادارے بننے کا خاتمہ کرنے، (3) خواتین کو قانونی، مالی،
وراثت اور ذاتی حقوق عطا کرنے اور (4) تولیدی
مرحلے میں خواتین کو مالی تحفظ عطا کرنے کے
لئے تھا۔ اس لئے ایک ہنگامی اقدام کے طور پر
اس اشتعال انگیز عمل کو قرآن کو روکنا
تھا، جس کے لئے یہ ایک خاص اصطلاح، 'زنا' (25:68، 17:32) اور ساتھ ہی ساتھ 'فٰحشۃ' کی عام اصطلاح کا استعمال کرتا ہے(4:15
).۔ اسی کے مطابق، قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے، جب آپ کی
خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی
چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی(60:12)،
تو ان کی بیعت قبول کر لیا کریں۔
"اے نبی! جب آپ کی خدمت
میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو
شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی اور اپنی اولاد
کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے کوئی جھوٹا بہتان گھڑ کر
نہیں لائیں گی (یعنی اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے کسی غیر کے بچے کو اپنے پیٹ سے جنا
ہوا نہیں بتائیں گی) اور (کسی بھی) امرِ شریعت میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو
آپ اُن سے بیعت لے لیا کریں اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، بیشک اللہ بڑا
بخشنے والا نہایت مہربان ہے"(60:12) ۔
قرآن چار گواہوں کی شہادت
کی شرط پر گھرمیں موت تک قید (4:15) کی عبوری سزا کے ساتھ شروعات کرتا ہے(4:15):
"اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان
پر اپنے لوگوں میں سے چار مردوں کی گواہی طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں
کو گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ موت ان کے عرصۂ حیات کو پورا کر دے یا اللہ ان
کے لئے کوئی راہ (یعنی نیا حکم) مقرر فرما دے(4:15) ۔
اس کے بعد قرآن 'زنا' کے
دونوں شراکت داروں (عوامی بدکاری) کو کوڑے مارنے کی مقبول سزا مرتب کرتا ہے۔
"بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں
میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو
(جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے) اور تمہیں
ان دونوں پر اللہ کے دین (کے حکم کے اجراء) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ
پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا (کے موقع) پر مسلمانوں
کی (ایک اچھی خاصی) جماعت موجود ہو(24:2)۔
بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے) نکاح (کرنا
پسند) نہیں کرتا اور بدکار عورت سے (بھی) سوائے بدکار مرد یا مشرک کے کوئی (صالح شخص)
نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا، اور یہ (فعلِ زنا) مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا ہے"(24:3)
۔
ایک پاکباز عورت کو کسی بھی
جھوٹے الزام سے بچانے کے لئے، جھوٹی گواہی کو قابل سزا جرم (24:5) کا اعلان کیا جاتا ہے۔
"اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار
گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں (سزائے قذف کے طور پر) اسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی
ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیں (24:4) سوائے ان کے جنہوں نے اس
(تہمت لگنے) کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا
نہایت مہربان ہے (ان کا شمار فاسقوں میں نہیں ہوگا مگر اس سے حدِ قذف معاف نہیں ہوگی
"(24:5) ۔
تاہم، اگر شوہر ہی اپنی بیوی
کی بدکاری میں ملوث ہونے کا واحد گواہ تھا، تو اس کی بیوی حلف کئی بار (-9 24:6) لے کر سزا سے بچ سکتی ہے۔
"اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں اور ان کے
پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی بھی ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ
(وہ خود) چار مرتبہ اللہ کی قَسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (الزام لگانے میں) سچا ہے(24:6)
اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو(7) اور (اسی
طرح) یہ بات اس (عورت) سے (بھی) سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا
کر (خود) گواہی دے کہ وہ (مرد اس تہمت کے لگانے میں) جھوٹا ہے (8)، اور پانچویں مرتبہ
یہ (کہے) کہ اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب ہو اگر یہ (مرد اس الزام لگانے میں) سچا
ہو"(24:9)۔
جیسا کہ یہ آیت خواتین کو بظاہر کسی بھی ثبوت کو چھوڑے بغیر
بدکاری کا ارتکاب کرنے کا لائسنس دیتی ہے لیکن قرآن نے تین سطح پر 'درست'
کرنے کے نظم کو متعارف کرایا جس کے بعد معاملے میں ثالثی ہونی چاہئے(/354:34)
۔ ایک مرد جو اپنی بیوی پر بدکاری کا شبہ کرتا
ہے تو اسے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں نصیحت
کرے، انہیں عارضی طور پر خواب گاہوں میں خود سے الگ کریں اور آخر میں تادیبی کاروائی
کریں، اس میں ناکام رہنے پر اپنے طبقے کے لوگوں کو شامل کریں اور طلاق حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے (/354:34)۔
"مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے
بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں،
پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ
(اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی
کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود
سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا)
مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ
کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے۔ اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت
کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے
مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے
درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے"(/354:34)۔
تاہم، اگر ایک شخص نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگانے کو منتخب کیا
ہے تو اسے چار عینی شاہدین لانا چاہئے (4:15)، جو کہ بدکاری کے ساتھ شامل پوشیدگی کو
مد نظر رکھتے ہوئے، تقریباً تمام معاملات میں تلاش کر پانا ناممکن ہے۔ دوسری جانب جھوٹے گواہ کھڑے کرنے کا ارتکاب کرنے
والوں کو سخت سزا کے لئے مجبور کیا جائے گا(24:4 )۔ تو شاید سب سے بہتر ایک آدمی یہ کر سکتا ہے کہ وہ
اسے طلاق دے دے، یا ایک اسے طلاق دینے کی صورت
پیدا کر دے۔ لہذا، وحی کے نزول کے دوران، ہنگامی اقدام (عوامی کوڑے مارنے کا عمل ) کھلے طور پر اور رائج بدکاری کے عمل پر مکمل روک لگانے اور روایتی طور پر
پوشیدہ طریقے سے ہونے والی بدکاری کو
نصیحت اور ثالثی میں تبدیل کرنا تھا (4:34)۔
ایک لفظ کے طور پر کیا کوڑے
مارنے کا حکم دائمی رہا ہے؟
کوڑے مارنا، اس زمانے کے سزا
کے مقبول قانون سے لیا گیا تھا۔ قرآن کوڑے
مارنے کے آلے (چھڑی یا چابک)، عملی طریقہ اور
کس اعضاء کو کوڑے مارنا ہے، اور اس کی شدت کی سطح کی وضاحت نہیں کرتا ہے۔ لہذا
قرآن میں 'کوڑے مارنے' کا جو ذکر ہے وہ 'سزا' کی علامت ہے (24:2) - جیسا کہ یہ موت رجم
کے علاوہ سزا دینے کا واحد راستہ تھا۔ الہی قانون )5:48) کی متحرک نوعیت کو
دیکھتے ہوئے، انسان اس کے طریقے کو تبدیل کر سکتے ہیں- جیسا کہ انہوں نے قرآن کے پہلے سے موجود اصولوں میں کیا ہے جس کا اظہار
پہلے کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے [2]۔
لہذا، تنہائی میں سزا کی نوعیت
(کوڑے مارنے) کو دیکھتے ہوئے- دوسری مصالحت آمیز قرآنی آیات (-35 4:34 ، -924:8)
کو نظر انداز کر اسے بغیر تاریخی سیاق و سباق کے
سخت یا ظالمانہ کہنا گمراہ کن ہوگا۔
قرآن انسانیت کو سزا دینے کے لئے نازل نہیں
کیا گیا ہے بلکہ انسانیت کو جزا دینے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ " اور ان سے ان کے بارِگراں اور طوقِ (قیود)
جو ان پر (نافرمانیوں کے باعث مسلّط) تھے، ساقط فرماتے (اور انہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ
یاب کرتے) ہیں (7:157)۔ اور اس کے عظیم مقاصد کے لئے لامحالہ کچھ مختصر مدت کے لئے
مشکل اقدامات ضروری ہوں گے، جیسا کہ مورچہ بند سماجی نظام میں یکایک تبدیلی حاصل کرنے
کے لئے ناگزیر ہے۔
نتیجہ: جو کچھ بھی ہو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بدکاری کے لئے سزا رجم کی تجویز قرآن سے نہیں لی گئی ہے۔ اس زمانے
میں عوامی طور پر رائج بدکاری کا عمل قرآن کے خاندانی قوانین سے متصادم تھا اور تب قرآن نے ایک ہنگامی اقدام کے طور پر بدکاری کے لئےکوڑے مارنے کی سزا مقرر کی۔ تاہم، یہ ایک عورت کو جو بغیر کسی ثبوت کے بد کاری کا ارتکاب
کرتی ہو وہ صرف بے گناہی کا حلف لے کر سزا سے بچ سکتی ہے (-924:8)۔ اسی طرح، ایک بغیر شادی شدہ عورت جو ایک بچے کو جنم
دیتی ہے اسے بھی سزا سے چھوٹ مل سکتی ہے اس
بناء پر کہ وہ بار بار تصدیق (حلف کے تحت)
کرے کہ وہ آدمی جس نے اس سے شادی کرنے کا وعدہ
کیا تھا، اس نے اسے دھوکہ، جنسی زیادتی کی ہے، جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، جبکہ جس انسان
نے اس عورت کو حاملہ بنایا اس کے جنسی جرم‑ چاہے عصمت دری یا
دھوکہ‑
کی شدت پر انحصار کرتے ہوئے وہ سزا پانے کا
حقدار ہونا چاہئے‑
متذکرہ بالا ناپاکی جس کا خدا احترام کرتا ہے
(4:1) اور احکامات کی حفاظت کی جائے
(4:34) اور مؤخر الذکر، خدا کے عہد کی خلاف ورزی (2:177، 6:152، 23:8، 70:32)۔ مسلمان
فقہہ حضرات کو قرآنی مثالوں سے مطابقت رکھنے والے جدید شریعت
کی تخلیق کرنی ہوگی، جس الہی شریعت کی وضاحت اس پرچے میں کی گئی ہے۔
مختصر میں، ایک مخصوص تناظر والے
ہنگامی قانون کا (عوامی کوڑے مارنے، بنیادی
طور پر اس کی شدت خواتین برداشت کریں) ہر وقت اور ہر جگہ لفظ پرستانہ اطلاق ساتویں صدی
کے عرب کے قبل از اسلام کے حقائق کے مطابق تھا، اور قرآن کے قانون سازی کے تحرک پر فرمان سے قطع نظر ، یہ مخصوص کو عام میں تبدیل کرتا ہے اور قرآن کی
رحم اور ہمدردی کی روح اور خواتین کے تئین اس کی گہری تشویش کو ماند کرتا ہے، اور اسلام
کو اس کی خوبصورتی اور شرافت سے باہر نکالتا ہے اور اس طرح دین اسلام کو سفاکانہ اور
غیر اسلامی بناتا ہے۔
www.medievalwarfare.info
/ torture.html[1]
- www.middle-ages.org.uk/burned-at-the-stake.htm
www.elizabethan-era.org.uk/elizabethan-crime-and-punishment.htm
[2] ایک کافی کمزری بعد ایک بچے کو جنم دیتی ہے (31:4)، "وہ مشقت
برداشت کرتی ہے اور تکلیف سے انہیں جنم دیتی
ہیں" (46:15)
[3] محمد حسین ہیکل، دی لائف آف محمد، انگلش ٹرانسلیشن بائی محمد اسماعیل
راگی، 8واں ایڈیشن، 1989 ء کراچی، صفحہ 319
------------
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے
کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش
ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام
کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر
خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل
پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی
رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
URL
for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/flogging-of-women-for-sex-outside-marriage-stands-brutal-and-un-islamic-today/d/5921
URL: