محمد یونس، نیو ایج اسلام
14نومبر، 2011
باشتراک اشفاق اللہ سید، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن،
یو ایس اے 2009
انگریزی سے ترجمہ‑
مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام
شاہ بانو کے طلاق کا معاملہ
(اندور، ہندوستان، 1978) ہندوستانی قارئین
کے ذہن و دماغ سے ابھی محونہیں ہوا ہوگا۔یہاں مختصراًعرض ہے ، شوہر نے
62 کی عمرمیں شادی کے 30 سال سے زیادہ
عرصہ کے بعد طلاق دیتے وقت صرف
مہر کا بچا ہوا حصہ اور تین ماہ کا نان نفقہ
دیا،ایسے وقت میں جب بیوی کے پاس کام کا کوئی
تجربہ نہ ہونے اور صحت کی علالت کے باعث اسے گزر
بسرکے لئے نان نفقہ کی اشد ضرورت تھی، اور اسی وجہ سے انہوں نے عدالت کا دروازے پر دستک دی۔اور ان کا معاملہ
نچلی عدالت سے ہائی کورٹ کا سفر کرتا ہوا بالآخر(1985) میں سپریم کورٹ کی بنچ تک جا پہنچا، عدالت نے شاہ
بانو کے حق میں فیصلہ دیا، عدالت کا فیصلہ قرآن کے آفاقی پیغام سے ہم آہنگ تھا۔ فیصلہ کو منسوخ کرنےاور مسلم پرسنل لاء کے مطابق نان ونفقہ کو
صرف عدت کے تین ماہ کے دوران ہی محدود کرنے کے مسلم علماء اور عوام الناس کےسر کش اور گستاخانہ مطالبے نےدر حقیقت پورے ملک میں ایک شورش برپا کر
دیا، ۔ ہندوستانی حکومت پر اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے پر مجبورکیا گیا
۔ آخر کار 1986 میں حکومت نے مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کا تحفظ) ایکٹ منظور کیا۔ مسلم پرسنل لاء کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے
کو منسوخ کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ غیر اسلامی تھا جس نے انتہائی غریب مسلم مطلقہ عورت
کو اس کے سابق شوہر کی طرف سے ملنے والے نان نفقہ کو تلف کر لیا، اور اسلامی قانون
کے متروک اور فرسودہ حصے کو قائم
رکھا۔
ایک پرانی کہاوت ہے: آپ ہمیشہ
سب کو بیوقوف نہیں بنا سکتے ، اور اب اسلام کے نام پرمتروک اور فرسودہ مسلم پرسنل لاء کے حامیوں کا وقت ختم ہو
چکا ہے۔ جیسا کہ کوئی بھی نڈر اور ایماندار
بچہ سچائی کا اعلان کر سکتا ہے، اسی طرح کوئی بھی ایماندار اور نڈر حق کو تلاش کرنے والا بھی حالات سے قطع نظر
مسلم خواتین کے نان نفقہ پر پابندیوں کے حامیوں کے صنفی تعصب کو ثابت کر سکتا ہے۔ کوئی
بھی دنیا کے کسی بھی کونے سے مذہبی رہنماؤں یا ان کی اندھی تقلید کرنے والوں کےغیض
و غضب سے بے خوف کر خفیہ طور پر سچائی پر مبنی
اپنا بیان دے سکتا ہے۔ اب ہم قرآن کا رخ کرتے ہیں جو حکمت اور سچائی کے انکشاف کا
حتمی مصدر و منبع ہے۔
قرآن مردوں کو ان کی مطلقہ
بیویوں کے لئے معقول نان ونفقہ کا حکم دیتا ہے:
“اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں
پر واجب ہے (2:241) ۔
ا سی طرح اﷲ تمہارے لئے اپنے
احکام واضح فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو "(2:242) ۔
یہ ہدایت ایک آفاقی معنیٰ رکھتا
ہے۔ یہ مرد کو اپنی طلاق شدہ بیوی کے لئے ایک بارگی یا اسے دوسری شادی کرنے
تک یا اسکے انتقال تک نان ونفقہ کی فراہمی کو ضروری نہیں قرار دیتا۔ نان نفقہ کی مدت اورمقدار
کی وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے۔ اس کا فیصلہ
حالات اور مالی عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت یا ثالثوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ
اس شخص سے جسکے ذرائع آمدنی محدود ہوں اور شادی کے بعد فوراً اپنی امیر بیوی کو طلاق دے رہا
ہو اس مالدار شخص کے برابر مالی ذمہ داریوں کے حامل ہو نے کی توقع نہیں کی جا سکتی
ہے جو ایک طویل ازدواجی زندگی گزارنے کے بعد
اپنی مفلوک الحال بیوی کو طلاق دے رہا ہو
۔ بہر حال قرآن مردوں کو عقل کے استعمال کی نصیحت کرتا ہے اور دلیل کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔
آیات 2:236 اور 33:49 مردوں کو ان عورتوں کے لئے اپنی آمدنی کے مطابق انتظامات کرنے کاحکم دیتا
ہے جن سے صرف عقد نکاح کیا ہے ، ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیا ہے ۔
“تم پر اس بات میں (بھی) کوئی
گناہ نہیں کہ اگر تم نے (اپنی منکوحہ) عورتوں کو ان کے چھونے یا ان کے مہر مقرر کرنے
سے بھی پہلے طلاق دے دی ہے تو انہیں (ایسی صورت میں) مناسب خرچہ دے دو، وسعت والے پر
اس کی حیثیت کے مطابق (لازم) ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق، (بہر طور) یہ
خرچہ مناسب طریق پر دیا جائے، یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے"(2:236) ۔
“اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے
دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی
عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں
اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو "(33:49) ۔
آیت 2:237 مردوں کو اپنی مطلقہ بیوی کےساتھ سخاوت کرنے اور ان کو مکمل مہر دینے کو کہتا ہے [1] اگر مہر مقرر کر دیا گیا تھا،اگرچہ اسے چھونے سے
پہلے ہی طلاق دیا ہو :
" اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دی درآنحالیکہ تم
ان کا مَہر مقرر کر چکے تھے تو اس مَہر کا جو تم نے مقرر کیا تھا نصف دینا ضروری ہے
سوائے اس کے کہ وہ (اپنا حق) خود معاف کر دیں یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی
گرہ ہے معاف کردے (یعنی بجائے نصف کے زیادہ یا پورا ادا کردے)، اور (اے مَردو!) اگر
تم معاف کر دو تو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے، اور (کشیدگی کے ان لمحات میں بھی) آپس میں
احسان کرنا نہ بھولا کرو، بیشک اﷲ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے"(2:237)
۔
قرآن کی ان واضح نصیحتوں
کی روشنی میں مردوں کو شادی کے وقت مہر یا
اس کے برابر مال(اگر یہ نہیں طے ہے) کو دینے
کو کہا گیا ہے اور طلاق کے وقت معاملات کے
حل کے لئے مہر کا ایک حصہ اپنے پاس برقرار رکھنا عقد نکاح کی روح کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح 30 سال سے زیادہ کی ازدواجی زندگی کے بعد ایک مسکین عورت کو باز گرد نان نفقہ سے انکار کرنا قرآن کی فراخ دلی کی روح
کے خلاف ہے جسے ایک مرد سے اس کی مطلقہ بیوی کے معاملے میں توقع کی جاتی ہے، یہاں تک
کہ اگر بیوی کو چھونے سے قبل ہی طلاق ہو جاتا ہے۔(2:237) ۔
لیکن یہی تمام نہیں ہے۔
قرآن اپنی بیوی کو طلاق دینے والے
مرد کو طلاق دینے میں تین ماہ کی مقررہ مدت
(عدت) اور حاملہ بیوی کے معاملے میں دو سال تیمار داری تک کی مدت کی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کرتا ہے۔
"تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق
رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر
وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری
خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک
دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس
کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی (65:6) صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے
لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی
(روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو
مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب
تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا"(65:7)۔
"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں یہ (حکم)
اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے، اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا
اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے، کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر
تکلیف نہ دی جائے، (اور) نہ ماں کو اس کے بچے کے باعث نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ
کو اس کی اولاد کے سبب سے، اور وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوگا، پھر اگر ماں باپ دونوں
باہمی رضا مندی اور مشورے سے (دو برس سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی
گناہ نہیں، اور پھر اگر تم اپنی اولاد کو (دایہ سے) دودھ پلوانے کا ارادہ رکھتے ہو
تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ جو تم دستور کے مطابق دیتے ہو انہیں ادا کر دو،
اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اسے خوب دیکھنے والا
ہے"(2:233) ۔
اگر قرآن کا منصوبہ مطلقہ
عورت کے متعلق ایک شخص کی ذمہ داریوں کو صرف
عدت (تین مہینے) تک اور حاملہ بیوی کے متعلق مطلقہ عورت کے حالات سے قطع نظر بچے کی پیدائش
کے بعد دو سال تک ہی محدود کرنا ہوتا تو مطلقہ عورت کے متعلق احتیاطاًمعقول
انتظام و انصرام کو لازم کرنے کیلئے حقیقتاًقرآن
کو ایک اور فرمان جاری کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ (اوپر 2:241) ۔ یہ ایک مطلقہ
عورت کے متعلق قرآن کی گہری تشویش کی وضاحت ہے۔آیت 4:20 کے ازدواجی زندگی کے درمیان
بیوی کو دیئے گئے تحائف کو روک لینے کو منع کرنے والے حکم سے عورتوں کے متعلق
گہری تشویش نمایاں ہوتی ہے ۔
“اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں
مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو، کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے
ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہو"(4:20) ۔
نتیجہ: اپنی بیوی کو طلاق
دینے والے شخص کیلئے قرآن مندرجہ ذیل ا حکام
صادر فرماتا ہے۔
(1) طلاق کو حتمی شکل دینے
کیلئے اپنی بیوی کو عدت کے دوران اسی طرح رکھو جیسے وہ اس سے پہلے رہتی تھی
(65:6)۔
( 2) حاملہ مطلقہ بیوی کے متعلق
پیدائش اور نو مولود بچے کا خرچ دو برس تک برداشت کرنے کا حکم دیتا ہے (65:6 2:233)
3) گزارے کے لئے مناسب خرچ
فراہم کرنا‑
یہ عقل کے تقاضے کے مطابق ایک عام ہدایت ہے (2:242)
( 4 ) فہم و فراست اور عام
ہدایت کے مطابق ایک معقول معاوضہ دے
(2:236 33:49)
(5) اگر بیوی
کو چھونے سے قبل وہ رشتہ ازدواج منقطع کرتا ہے تو طے
شدہ مہر سے کم از کم نصف یا ترجیحی بنیاد پر
پور مہر ادا کرے۔
(6) کسی بھی طرح کا بیش قیمتی تحفہ جو اس نے ازدواجی
زندگی کے دوران دیا ہو اسے اپنے پاس
نہ رکھے۔
مجموعی طور پر، کسی بھی غیر حاملہ
مطلقہ عورت کے نان نفقہ کو ،ازدواجی زندگی کی مدت، اس کی صحت اور مالی حالات سے قطع نظر،روکنے
کی کوئی بھی تجویز کلیۃًشرمناک طریقے سے غیر
اسلامی ہے ، اور مطلقہ مسلم خواتین کواجتماعی
ناانصافی سے بچانے کے لئے اس کی اصلاح ضروری ہے ۔
قدیم اسلامی قانون جس میں ہندوستانی مسلم علماء پھنسے ہو ئے ہیں اور جو صرف
قرون وسطی ٰکے علماء کرام کی رائے کی نمائندگی کرتا ہے ،جسکی قطعی طور پر زمانے کے تاریخی حقائق کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے ۔جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ شدت کے ساتھ عورتوں سے نفرت کی طرف پدرانہ جھکاؤبھی تھا ۔ بلا شبہ
اس دور میں قدیم اسلامی قانون نے خواتین کو جو حقوق مہیا کروائے تھے وہ غیر مسلم تہذیب و تمدن میں ان کے ہم عصروں کو حاصل حقوق سے
بہت بہتر تھے ،اور مسلمان اس پر بجا طور پر
فخر کر سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں صنفیات میں اہم مثالی تبدیلی کے ساتھ، جو
حقوق غیر مسلم خواتین کو ان کے متعلقہ تہذیبوں
میں دستیاب ہیں وہ 'اسلامی قانون' میں ان کے
مقابلے اب بہت کم ہے۔ چونکہ قرآن مجید نے مندرجہ
بالا کے ساتھ اور دوسری آیاتوں کے ذریعہ
خواتین کو بااختیار بنانے کا واضح بیان دیا ہے، مسلم فقہاکو بلا تاخیر قرون وسطی کے مفسرین کی رائے کے بجائے قرآن
کے پیغام کے مطابق اسلامی قوانین پر نظر ثانی
کرنی چاہئے۔اگر وہ اپنی مجتہدانہ شان اوراپنے پدرانہ مفادات کو بچانا اور اس کا تحفظ
کرنا چاہتے ہیں ،اور مغربی دنیا کی نظروں میں
خود کو شیطان کا نمائندہ نہیں ظاہر کرنا چاہتے
ہیں ،جیسا کہ مغربی دنیا میں ان کے کچھ نمائندوں کے بارے میں شور ہو رہا ہ ۔
[1] آیت کو مندرجہ ذیل اصولوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
• اگر مرد طلاق دیتا ہے تو اسے عورت کو نصف مہر کی ادائیگی کرنی ہوگی،
جب تک کہ بیوی خود معاف نہ کر دے۔
• اگر ایک عورت کی طرف سے عقد نکاح منقطع کیاجاتا ہے تو جو مہر مرد کی طرف سے عقد نکاح منقطع کرنے پر
اسے ملتا، اس مہر کے نصف کو چھوڑنا ہوگا۔
• طلاق دینے والےمردکو اختیار ہے کہ وہ چھوڑے گئے مہر کے نصف حصے سے
دست بردار ہوکر سخاوت دکھاتے ہوئے مطلقہ عورت کو پورا مہر اد کر دے ۔
• طلاق لینے والے دونوں فریقین ایک دوسرے کے تئیں فراخ دلی کا اظہار
کریں اور ایک دوسرے کا استحصال کرنے سے باز رہیں۔
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے
کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش
ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام
کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر
خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل
پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔
URL
for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-the-west/france,-europe,-islam-and-the-west/d/5903
URL: