New Age Islam
Tue Jan 27 2026, 11:06 PM

Urdu Section ( 24 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Jihadist Magazine Azaan’s Call for Western Muslims to Attack Their Own Homelands مجلہ اذان میں یوروپ کے مسلمانوں کو اپنے اپنے وطن میں حملہ کرنے کی دعوت قطعی طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے

  

 

غلام غوث، نیو ایج اسلام

20 فروری 2014

ایک طالبانی جہادی مجلہ اذان میں یہ زہر آلود بیان شائع کیا گیا کہ ‘‘اگر آپ مغربی باشندے ہیں تو اپنے اپنے ممالک میں حملے کریں’’، ‘‘اور ایسا کرنا آپ کا ایک مذہبی فریضہ ہے، اگر آپ جہاد کے مقصد پر نکلتے ہیں تو اتنا یقین رکھیں کہ آپ جنت میں جائیں گے جہاں 72 حوریں آپ کو گلے لگانے کے لیے آپ کا انتظار کر رہی ہیں’’۔

مجلہ اذان کا چوتھا شمارہ مارچ 2013 میں شائع ہوا ہے۔ اس مجلہ کو خراسان میں واقع ایک میڈیا گروپ نے شائع کیا ہے جس میں ازبکستان، تاجکستان، ایران کے مشرقی حصوں، افغانستان کے علاوہ پختونخوا اور بلوچستان جیسے پاکستان کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے کے طالبان کے خوابوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ خراسان اس ایک بڑے خطے کا تاریخی نام ہے۔

گزشتہ شمارے کی طرح یہ شمارہ بھی اسلام کے نام پر ایسے نظریات سے بھرا پڑا ہے کہ جن کی وقعت زہر آلود اسلام مخالف پروپگنڈہ سے زیادہ نہیں ہے۔ دوسرے جہادی رسالوں کی طرح اس رسالہ میں بھی اسلام کی بڑی بے حرمتی کی گئی ہے جس کا ارتکاب پاکستانی ریاست نے کیا ہے جو ان رسالوں کی اشاعت کی اجازت دیتی ہے۔ ان رسالوں میں پیش کئے گئے نظریات کی تردید کرنے پر پاکستان میں نیو ایج اسلام (NewAgeIslam.com) پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور وہ نظریات دن بہ دن فروغ پاتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ اس ویب میگزین کے ایڈیٹر جناب سلطان شاہین نے ستمبر 2013 میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے گزشتہ سیشن میں کہا تھا کہ اسلامی قرار داد کی بے عزتی اور بے حرمتی کو اس وقت تک خاطر میں نہ لائیں جب تک کہ خود اسلام کو اسلامی ممالک میں جہادی کتابوں اور مجلات سے محفوظ نہیں کر لیا جاتا۔

پہلے میں مجلہ اذان کے اس شمارے کو مثال بنا کر ان نقصانات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں جو اس قسم کے رسالوں نے اسلام اور مسلم معاشروں اور خاص طور پر نوجوانوں کا کیا ہے۔ اس رسالے کے مشمولات حساس مسلم نوجوانوں پر ایک منفی اثر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یاتو مرنے کے لیے یا مارنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اگر وہ ایک سچے مسلمان ہیں تو ان کے لیے ان کی زندگی کا اس سے اچھا مقصد کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔اور اس طرح یہ نظریہ ان کے ایمان اور ان کے عقیدہ کے لیے خطرناک ہے اس لیے کہ یہ نظریہ غیر جنگجو عام شہریوں سمیت تمام کافروں کو مارنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہابیوں نے کافر کی جو تعریف پیش کی ہے اس میں تمام غیر وہابی مسلمان بھی شامل ہیں جن کے تندرست و تواناں نوجوانوں کو مار دیا جانا چاہیے، بوڑھے اور بچوں کو غلام بنانا اور عورتوں کو جہادیوں کی داشتہ بنانا چاہئے۔

 اس میگزین کا سب سے پر کشش باب ممکنہ جہادیوں کو ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ اگر وہ اس پر عمل کریں تو وہ غیر شعوری طور پر ان کے نام نہاد جہاد سے منسلک ہو جائیں گے اس لیے کہ اس میں ان نوجوان نسلوں کو وہ تمام بنیادی وسائل اور ذرائع مہیاء کرائے گئے ہیں کہ وہ مغرب میں ان کی بنیاد پر کوئی بھی حملہ آسانی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔

‘‘To the Jihadis in the West’’ (مغرب میں جہادیوں کے نام ایک پیغام) کے عنوان سے اس میگزین کی کور اسٹوری جسے سلامۃ المہاجر نامی ایک مغربی جہادی نظریہ ساز نے لکھا ہے، ایسے مشمولات پر مشتمل ہے جس کا مقصد اس کے حساس نوجوان قاریوں کے ذہن میں ناپاک ارادوں کے ذہر گھولنا ہے۔ اس مضمون میں مغربی نوجوانوں کو اس وقت تک اپنے اپنے ممالک میں حملہ کرنے پر برانگیختہ کیا گیا ہے جب تک مسلم ممالک کے تئیں ان کے ممالک کی خارجہ پالیسیوں میں کوئی بہتر تبدیلی نہ پیدا ہو۔ نوجوانوں کو انتہاپسند بنانے کے لیے ان کا سب سے بڑا نعرہ یہ ہے کہ مغربی ممالک بشمول غیر وہابی مسلمانوں کے اسلام سے برسر پیکار ہیں۔

مغربی جہادی نظریہ ساز ابو سلامۃ المہاجر نے اس تعلق سے دلائل کے انبار لگا دئے ہیں۔ اس میگزین میں مسلم نوجوانوں کو پوری دنیا میں خود ساختہ جہادی میدان جنگ قائم کرنے کا معقول جواب دینے کی کوشش میں قرآن و حدیث کو سیاق و سباق کے خلاف پیش کیا گیا ہے۔ اسلام کی بنیاد پرست تشریحات سے مسلم نوجوانوں کو برانگیختہ کرتے ہوئے اس میں ایسی بہت ساری صورتوں کو بیان کیا گیا ہے کہ جن کے مطابق وہ جہادی سرگرمیاں شروع کرنے اور شہادت حاصل کرنے کے لیے اپنے والدین، بیوی بچوں، اپنے گھر اور یہاں تک کہ اپنی تعلیم کا بھی سلسلہ بند کر کے اپنی تعلیم گاہ بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

اس مضمون کے مندرجہ ذیل اقتباسات اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہوں گے کہ طالبانی جہادی اسلام اور اس کی پرامن تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ یہاں تک کہ طالبان کے حمایتی مسلم مفکرین بھی ان کے اس اسلام مخالف خطرناک نظریات پر اپنی خاموشی نہیں توڑ سکتے۔

مضمون میں یہ لکھا ہے کہ ‘‘جہادی اپنے مقصد میں جو سب سے بڑا تعاون پیش کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ یوروپ میں حملے کریں، بیرون ملک میں کافروں پر حملہ کرنے پر زیادہ بڑ ا نقصان اس وقت ہوگا کہ جب خود ان کی زمین پر ان کے خلاف حملے کیے جائیں۔ ہمارے مقاصد میں سے ایک مقصد کافروں کو خود ان کے ملک میں دہشت زدہ کرنا، ان کے حوصلے پست کرنا، ان کی معیشت کو نقصان پہنچانااور امت مسلمہ کے خلاف ان کی جارحیت کا دائرہ تنگ کرنا ہے’’۔

اس مغربی جہادی نے مزید یہ کہا کہ: ‘‘جب کبھی بھی مغربی ممالک کے کسی شہر میں کوئی حملہ کیا جاتا ہے تو اس حملے سے اس ملک کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ کسی بھی حملے کے فوراً بعد ہی شہر کو چاروں طرف سے بند کر دیا جاتا ہےجس کی وجہ سے ہر قسم کی تجارت میں بڑے نقصانات ہوتے ہیں۔ اس حملے میں مارے جانے والوں اور زخمی ہونے والوں کے متعلقین اور گھر والوں کو اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اگر چہ وہ حملہ شہادت حاصل کرنے کے لیے ایک آپریشن ہو تب بھی اس کے بعد فوراً ہی مجاہد کی تلاش شروع ہو جاتی ہے، انتظامیہ کی نظریں اس کے بعد پھر کسی حملے پر ٹکی رہیں گی، مستقل طور پر انہیں اپنے حفاظتی دستوں میں اضافہ کرنا پڑے گا جس سے نہ صرف یہ کہ انہیں ایک بڑی قیمت چکانی پڑے گی بلکہ نتیجتاً ان کے شہریوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو کر رہ جائیں گی۔

اسلام تمام انسانوں کےلئے زندگی اور عزت و وقار کے تحفظ اور مذہب کی آزادی کا احترام کرتا ہے۔ لہٰذا مغربی ممالک کو نشانہ بنانا جس کا مقصد مغربی ممالک کی معیشت کا بڑا نقصان کرنااور وہاں ان لوگوں کی جانیں لینا ہو عالمی امن کے لیے خطرناک ہے اور یہ اجتماعی طور پر خود اسلام کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔

مغربی جہادی نظریہ ساز ابو سلامۃ المہاجر نے اس مضمون میں ایسی جارحانہ تکنیک پیش کی ہے کہ جن کے ذریعہ یہ جہادی مغربی حکومتوں کو اپنے ظلم و جبر کے آگے بے بس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں:

‘‘جو حملے انجام دئے جاتے ہیں انہیں ہر سال خاص تقریبات کا انعقاد کر کے یاد کیا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر ہر صلیبی ملک میں ہر مہینہ کسی ایک گزشتہ حملے کو یاد کرنے کے لیے ایک خاص تقریب منعقد کی جائے تو ایک بات تو یقینی ہے کہ وہاں کے شہری اپنی حکومتوں پر یہ دباؤ ڈالیں گے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کے مقابلے میں اپنی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی کریں’’۔

اس امر کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ اس قسم کی تلقین و ترغیب سے مغرب میں رہنے والے مسلمان کے ایک غیر مسلم پڑوسی یا دوسرے کسی غیر مسلم اکثریتی والے ملک میں رہنے والوں کے ذہن و دماغ میں کس قدر اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے تئیں عدم تحفظ اور بد اندیشی پیدا ہونے والی ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں اسلام کا خوف پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ہم مسلمان اسلامی اصول و نظریات کی بنیاد پر اس قسم کے حقیر اور گھٹیا دعووں کی تردید نہیں کرتے ہیں تو کیا ہمارے پاس بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا گلہ شکوہ کرنے کی کوئی بنیاد رہ جاتی ہے؟

اس جہادی نظریہ ساز نے یہ کہہ کر آگ کو مزید ہوا دی کہ: ‘‘آپ کے پاس سوچنے کے لیے عملی مسائل بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس ایسا کوئی گائڈ و رہنماں نہ ہو جو آپ کو جہاد کے محاذوں پر لے جائے اور ہو سکتا ہے کہ ایسا کوئی ملنے میں آپ کا ایک طویل عرصہ بیت جائے۔ اس عرصے میں آپ خود کو ایک حملے کے لیے تیار کر سکتے ہیں’’۔

اس مغربی جہادی نظریہ ساز نے یہ کہا کہ مغربی ممالک میں ہر مہینے ایک حملہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اسلامی ممالک کے تئیں اپنی خارجہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ایسے حملے سر انجام دینے کے لیے کہ جس میں زیادہ سے زیادہ نقصان ہو اور کافروں کی زیادہ سے زیادہ ذلت و رسوائی ہو مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان زیادہ موزوں ہیں اس لیے کہ وہ ‘‘آسانی کے ساتھ یہ کام کر سکتے ہیں اور ان پر کوئی شک بھی نہیں ہوگا’’۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کفار کو نقصان پہنچانے کا مطلب غیر وہابی مسلمانوں، شیعہ، احمدیوں، عیسائیوں، ہندؤں اور ان تمام لوگوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنانا ہے جو وہابیت زدہ اسلام کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اس میں حملوں کو ترجیح دینے کی نصیحتیں کی گئی ہیں اور اس تعلق سے اس میں چند ہدایات بھی مذکور ہیں۔

‘‘ہر مجاہد کو اس کے اپنے حالات کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ ایک پشتون قبائلی شخص کبھی بھی کسی آپریشن کو انجام دینے کے لیے کفار کے مرکز میں داخل ہونے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا؛ لیکن وہ ایام طفولیت سے ہی ہتھیار سنبھال رہا ہے اور سارے دن پہاڑیوں پر ہی اپنے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ جب کہ آپ اس ملک سے اچھی طرح واقف ہیں جس میں پیدا ہوئے ہیں اور وہاں کوئی شک و شبہ کے بغیر ہی اپنے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کسی محاذ پر جاتے ہیں تو قوت و ہمت اور علم میں انصار کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لہٰذا اللہ نے جن نعمتوں سے آپ کو نوازا ہے انہیں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا کام کریں اور کفر کو ایسی جگہ سے ضرب لگائیں جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف ہو’’۔

انہوں نے مزید لکھا کہ: جب یہ بات ہو چکی تو اب یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے ایسے بھی کچھ بھائی ہیں جو ہو سکتا ہے کہ مسلسل انٹیلی جنس سروسز کی نگرانی میں ہوں، ہمارے ایسے بھائیوں کے لیے مغرب میں کوئی بھی حملہ کرنا ایک انتہائی مشکل ترین امر ہے، اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں تو جہاد کی سرزمین کو ہجرت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ ایسی صورت حال میں ملک کو چھوڑ کر کہیں اور کا سفر کرنا بھی ممکن ہے۔ لہٰذا اگر آپ کو مغرب میں کوئی حملہ کرنا ہو یا ہجرت کرنی ہو، تو تیاری آج سے ہی شروع ہو جانی چاہیے’’۔

 اس مذکورہ حجت کی تائید اسلامی مصادر و مراجع سے کرنے اور اپنی باتوں کا شرعی جواز پیش کرنے کے لیے وہ طالبانی نظریہ ساز سلامۃ المہاجر نے دو قرآنی آیتوں کو مکمل طور پو ان کے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا ہے:

‘‘جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسے طور پر) پرے جما کر لڑتے کہ گویا سیسہ پلائی دیوار ہیں وہ بےشک محبوب کردگار ہیں’’۔ (61:4)

‘‘مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں’’۔ (9:38)

اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے خود قرآ ن کو اور ان قرآنی احکامات کا غلط استعمال کیا ہے جو معاشرے میں انصاف، صبر و استقلال، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و آشتی کا باعث ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کا نزول ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ کی ایک صورت حال بنی ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی چھوٹی سے کمیونٹی کے دفاع میں جنگ کرنا ضروری تھا۔ بنیادی طور پر ان آیتوں کا انطباق اسی زمانے کے لیے محدود تھا جب مسلمانوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا تھا سوائے اس کے کہ وہ یا تو دفاع میں جنگ کریں یا اپنی زندگی اور اپنی مرضی کے مطابق آزادی کے ساتھ ایک مذہب پر عمل کرنے کے اپنے حقوق کو کھو دیں۔ اعتدال پسند اسلامی علماء اور فقہاءان آیات کا انطباق صرف دفاعی صورت حال میں ہی کرتے ہیں۔ لہٰذا معصوم لوگوں کو قتل کرنے کے لیے ان آیات کا استعمال کرنا کسی بھی مسلمان کے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ان آیات سے کسی بھی طرح کے تشدد کا کوئی جواز نہیں ملتا۔

اگر وہ مغربی جہادی نظریہ ساز مسلمان ہیں تو انہیں آیت (2:190) سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے جس میں اللہ نے مسلمانوں کو صرف انہیں لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا ہے جو ان سے لڑتے ہیں اور اللہ نے کسی بھی طرح کی زیادتی کو حرام قرار دیا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے ‘‘خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا’’۔ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب کفار عرب نے مسلمانوں کو اسلام پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کے ان کے ان کے حقوق سے محروم کر دیا اور ان کو ان کے وطن (مکہ) سے نکال دیا اور ان کے نئے مسکن (مدینہ) مین بھی ان پر حملہ کیا۔ ابتداء میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کو اپنے دفاع میں بھی لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے تقریباً ایک دہائی تک سخت مصیبتوں کا سامنا کیا۔ جب انہوں نے ظلم و ستم کی ساری حدیں پار کر دیں اور زندہ رہنے کے لیے بھی جب ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تو اللہ نے مسلمانوں کو ان کفار کے ساتھ صرف دفاعی جنگ لڑنے کی اجازت دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ ‘‘ان سے لڑو جو تم سے جنگ کرتے ہیں’’ اور ‘‘اپنے حدود سے تجاوز مت کرو’’۔ اگر ان آیتوں کو ہر زمانے کے لیے نازل کیا گیا ہوتا تو اللہ ان آیتوں کے انطباق کو دفاعی جنگوں کے معنیٰ میں صرف کفار عرب تک ہی محدود نہیں رکھتا۔

ہمیں یہ لگتا ہے کہ مغربی جہادی نظریہ ساز سلامۃ المہاجر کا نظریہ مکمل طور پر حالت کے حقائق کے مخالف ہے۔ اسی لیے ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہندوستان، امریکہ اور یوروپی ریاستوں جیسے غیر مسلموں کی اکثریت والے ممالک مسلمانوں کو زیادہ مذہبی حقوق اور مسلمانوں کی ثقافت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس کے بر عکس سعودی عرب جسے اسلام کا مرکز سمجھا جاتا ہے وہاں بھی مسلمانوں کو اتنے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان مین مسلمانوں کو اسلامی معمولات اور رسوم و رواج پر عمل کرنے اور اپنے نبیوں کا میلاد پورے دھوم دھام سے منانے کی پوری آزادی ہے جن کی اجازت سعودی عرب میں نہیں ہو گی۔ اسی لیے مسلمانوں کو ایک اسلامی ریاست کے بارے میں سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ غیر مسلموں کی اکثریت والے ممالک میں انہیں ہر وہ حقوق و مراعات حاصل ہیں کہ مسلم ممالک میں وہ جن کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اللہ نے بارہا مسلمانوں کو اعتدال پسند اور سیکولر ہونے اور زمین پر امن و سکون بحال رکھنے کا حکم دیا ہے خواہ وہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں۔ اس لیے کہ (28:56), (3:20), (5:99), (2: 256), (109:7), (10:99), (32:13), (11:118), (64:2), (9:6) یہ مذکورہ تمام آیتیں مسلمانوں کو ایک غیر مسلم ریاست میں روداری کا تصور دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ قرآن میں ایسی بہت ساری آیتیں ہیں جو لوگوں کے درمیان کوئی تمیز کئے بغیر ہی تمام قسم کی ناانصافی، تشدد، ظلم و جبر اور حیوانیت کو حرام قرار دیتی ہیں۔ یہاں میں تین ایسی قرآنی آیتیں اور ایک حدیث نقل کر رہا ہوں جن سے مغرب میں حملہ کرنے کی اس جہادی نظریہ ساز کی دعوت کی تردید ہوتی ہے:

‘‘جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا’’۔ (5:32)

‘‘جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے’’۔ (60:8)

‘‘اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے’’۔ (8:61)

ابو شریح سے رویات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

‘‘اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں ہے، وہ مؤمن نہیں ہے، وہ مؤمن نہیں ہے، کسی نے پوچھا کہ کون یا رسول اللہ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘وہ شخص جو اپنے پڑوسیوں کو امن اور تحفظ نہیں فراہم کر سکا’’ (صحیح البخاری، جلد 8، نمبر 45)

اس حدیث میں پڑوسیوں سے مراد ہر قسم کے پڑوسی ہیں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم؛ ایک سچا مسلم وہ ہے جو رنگ و نسل سے قطع نظر ہر قسم کے پڑوسیوں کو امن اور تحفظ فراہم کرتا ہو۔ ظاہر ہے کہ اس حدیث سے اس مغربی جہادی نظریہ ساز کی تردید ہوتی ہے جو ‘‘مغرب میں ایک دہشت گردانہ حملے کی’’ دعوت دے رہا ہے، اس کے علاوہ یہ حدیث بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک بے نظیر مثال قائم کرتی ہے۔

مختصر یہ کہ اس طرح کے رسالے اور مجلات دہشت گردوں کے ارادوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی قتل و غارت گری اور قرآنی تشریحات سے ان کے برے ارادوں اور قابل مذمت نظریات و معتقدات کا ثبوت ملتا ہے۔ ان کے ان گھناؤنے عمل کا نیک اسلامی معتقدات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ مجرم، باغی اور گناہوں کے تاجر اپنے اس ظالمانہ اور پر تشدد جہاد کے عمل کا جو بھی بے بنیاد جواز پیش کریں ان کا اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جہاں تک اس قسم کے رسالوں اور مجلات کا تعلق ہی جن کی تشہیر انٹرنیٹ کے ذریعہ کی جارہی ہےانہیں ممنوع قرار دیا جانا چاہیے تاکہ زمین امن و امان کے مرکز سے ہمیشہ  سر سبز وشاداب رہے۔ یہ کتنے بڑے مذاق کی بات ہے کہ اسلام کو رسوا کرنے والے اس قسم کے مجلات پر پابندی لگانے کے بجائےِ پاکستان نیو ایج اسلام جیسی اشاعتوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے جو اسلام کی ایسی تشریحات اور نظریات کی مسلسل تردید کر تا ہے۔

(انگیزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار، غلام غوث تصوف اور روحانیت سے وابستہ ایک عالم اور فاضل ( کلاسیکل اسلامی اسکالر) ہیں ۔ انہوں نے دہلی میں واقع صوفی نظریات کے حامل اسلامی ادارہ جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء ذاکر نگر ، نئی دہلی سے تخصص فی التفسیر، حدیث، عربی اور اسلام کے کلاسیکی علوم کی تکمیل کی ہے ۔ انہوں نے عالمیت اور فضیلت بالترتیب جامعہ وارثیہ عربی کالج ، لکھنؤ اور جامعہ منظر اسلام ، بریلی ، یوپی سے مکمل کی ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے انہوں نے عربی میں گریجویشن کیا ہے۔

URL for English article:

https://newageislam.com/radical-islamism-jihad/jihadist-magazine-azaan’s-call-western/d/35836

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/jihadist-magazine-azaan’s-call-western/d/66235

 

Loading..

Loading..