New Age Islam
Tue May 26 2026, 06:03 PM

Urdu Section ( 11 Feb 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Khawaja Meer Dard's Poetry was Full of Empathy, People also called it Divine خواجہ میر درد کے کلام میں بلا کا سوز وگداز تھا اور کہنے والے اسے الہامی شاعری کہتے تھے

 

ڈاکٹر محمد عقیل

1 فروری، 2015

خواجہ میر درد کا سلسلہ پدری گیارہ واسطوں سے خواجہ بہاوالدین نقش بند سے اور پچیس واسطوں سے حضرت امام عسکری سے ملتا ہے ۔ سلسلہ کے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ یہ سلسلہ حضرت غو ث الاعظم محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی تک پہنچتا ہے ۔ اورنگ زیب  کے زمانے میں ان کے جد خواجہ محمد طاہر نقشبند بخارا سے ہندوستان آئے ۔ ان کے والد خواجہ محمد ناصر عندلیب تھے ۔ ان کے آباو اجداد ونواب ظفر اللہ خاں اور ان کے والد نواب فتح اللہ خاں اپنے عہد کے امرا میں سے تھے لیکن ناصر کی طبیعت میں دورویشی اور قلندی تھی خواجہ محمدزبیر کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے تھے خواجہ زبیر نقش بندی رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان  صحبت نے محمد ناصر عندلیب کو روحانی اعتبار سے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا تھا او رانہوں نے تصوف میں محمد یہ کہ نام سے ایک نئے سلسلہ کی بنا ڈالی،اس لیے انہیں  امیر المحمدین اور خواجہ میر درد کو اول المحمدین کہا جاتا  ہے۔ اسے کشف طریق محمدی  بھی کہا جاتا ہے۔

کشف طریق محمدی : اس کشف ظہور کے بارے میں روایت ہے کہ خواجہ محمد ناصر مسلسل سات روز اپنے حجرے میں گوشہ نشین رہے ۔ خواجہ میر درد اپنےوالد کی یہ کیفیت دیکھ کر فکر مند رہتے ۔ آٹھویں روز خواجہ میر درد کے والد حجرے سے باہر نکلے اپنے بیٹے کو مغموم دیکھ کر سینے سے لگا لیا پھر اسے سات شب و روز استغراق کےدوران اللہ  کے ذریعے نوازے گئے شرف سے مطلع کیا ۔ حضرت امام حسن رحمۃ اللہ علیہ کے نزول اور طریق محمدی کےمژد ے کے اطلاع دی ۔ اور اپنے فرزند خواجہ میر درد کو اس مسلک میں اپنا پہلا مرید بنا یا اسی لیے خواجہ میر درد اول المحمدین کہلائے اور خواجہ ناصر امیر المحمدین ۔

خواجہ میر درد کا انتقال 1199ھ میں ایک روایت کے مطابق 66 سال کی عمر اور دوسری روایت کےمطابق 68 سال کی عمر میں ہوا، لیکن خواجہ میر درد کی تحریروں سے ثابت ہےکہ ان کی پیدائش 1133ھ میں ہوئی ۔ انہوں نے جملہ علوم رسمیہ اپنے والد ماجد سے پڑھے اور فارسی سراج الدین خاں آرزو سے سیکھی ۔ انہیں علوم شرعیہ میں مہارت حاصل تھی ۔ علوم القرآن ، تفسیر حدیث ، فقہ  اصول، تصوف اور سلوک میں انہیں مہارت حاصل تھی ۔ تصوف میں ان کا سلسلہ تقشبندی تھا جس میں سماع کا سننا ممنوع سمجھا جاتاہے لیکن میر درد کو سماع سے خاص یگانگت تھی موسیقی کے فن سے وہ پوری واقفیت  رکھتے تھے ۔ انہیں موسیقی اور شاعری سے دلچسپی شاہ سعداللہ کی شاعری اور موسیقی  سے ہوئی ۔ درد اپنے زمانے کے موسیقی کے بڑے استاد مانے جاتے تھے ۔ بڑے بڑے قوال اور فن کار ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔نامۂ درد میں کہتے تھے : ‘‘ میر ا سماع من جانب اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ  اس بات پر ہر وقت گواہ ہے کہ گانے والے خود بخود آتےہیں اور ہمیشہ جب تک چاہتے ہیں گاتے ہیں نہ یہ کہ فقیران کو بلاتا ہے اور گانا سننا دوسروں  کی طرح عبادت سمجھتا ہے ، بلکہ نہ  انکار کرتاہے نہ یہ کام کرتا ہے جس کا ذکر کیا اور عقیدہ وہی ہے جو میرے بزرگوں  کا عقیدہ ہے’’۔

ہر مہینے کی دوسری اور چوبیسویں تاریخ  کو خواجہ میر درد کے یہاں محفل سمع کا انعقاد ہوا کرتا تھا جس میں اس عہد کے نامور فضلا اور مشائخ  کبار اور امراء  عظام شریک ہونا سعادت سمجھتے تھے ۔ شہنشاہ وقت شاہ عالم  ثانی بھی آیا کرتے تھے ۔ ایک بار کا ذکر ہے کہ شاہ عالم کے پاؤں میں درد تھا۔ شدت تکلیف سے وہ ضبط نہ کرسکے اور تھوڑا سا پاؤں  پھیلا دیا ۔ خواجہ میر درد کی بوریا نشینی  نے شہنشاہ کی اس حرکت کو اپنے آداب محفل  کے خلاف سمجھا اور فرمایا یہ امر فقیر کے آداب محفل کے خلاف ہے۔ بادشاہ نے عذر کیا او ر معافی مانگی ۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اگر طبیعت خراب تھی تو تکلیف کرنے کی کیا ضرورت تھی ، اس سے خواجہ صاحب کے مقام استغنیٰ کا اندازہ فرمائیے۔

خواجہ  میر درد 39 سال کی عمر میں سجادہ نشین ہوئے ۔ ان کے آباو اجداد دہلی کے امرا میں سے تھے لیکن ان کے والد سب کچھ چھوڑ کر درویشی اختیار کی تھی اور اپنے والد کی ایما پر درد نے بھی پہلے ملازمت سے سبکدوش ہوئے پھر جاگیر چھوڑی  دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کش ہوئے ۔ درویش گوشہ نشین ہوگئے فاقہ کشی کی نوبت آگئی ان کے صاحبزادے ناصر نذیر فراق میخانۂ درد میں ڈیڑھ فاقوں کے بارے میں لکھتے ہیں : حضرت درد نے ساری عمر فاقوں میں بسر کی اور آپ کے گھر کا ڈیڑھ فاقہ مشہور ہوگیا ۔ ایک فاقہ اکیس رات اور اکیس دن کا ہوا اور آپ کے محل کی لونڈیوں نے بھی اکیس رات دن کچھ نہ کھایا پیا اور آدھا فاقہ اٹھارہ دن کا ۔ آپ نے اور آپ کے اہل بیت نے اور آپ کی لونڈیوں نے بھی اٹھارہ دن تک کچھ نہ کھایا پیا، کیوں کہ اس مدت میں کھانے پینے کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہوا’’۔

خواجہ میر درد کے دیوان میں سب سے زیادہ غزلیں ی اور ا کی ہیں ۔ ماہرین موسیقی بتاتے ہیں vovel ردیفیا قافیی کی غزلیں موسیقی  کے لیے زیادہ موزوں  ہوتی ہیں ۔ ان سے غنائیت پیدا ہوتی ہے۔ شمس العلماء مولوی سید امام اثر ‘‘ کاشف الحقائق ’’ میں درد کی شاعری کے بارے میں لکھتےہیں : ‘‘ خواجہ صاحب کی غزل سرائی نہایت اعلیٰ درجے کی ہے ۔ سوز و گداز میں ان کا جواب یا میر تھے یا آپ اپنے آپ جواب تھے’’۔

المختصر غزل سرائی کے اعتبار سے خواجہ صاحب ایک بڑے شاعر تھے اور ان کا نظیر سوائے میر کے کوئی دوسرا نہیں دیکھا جاتا ہے۔۔۔ سبحان اللہ کیا غزل  سرائی ہے کن کن باتوں کی تعریف کی جائے ۔۔۔  واقعی خواجہ صاحب کی غزل الہامی شاعری کا نمونہ ہے۔ علاوہ سوز وگداز وغیرہ کے ان کے کلام میں نفاست ، متانت، شیرینی ، حلاوت رنگینی بھی کس قدر پیدا ہے اور شوخی کس درجے آشکارا ہے۔ نمونے کے طور پر ان کی ایک مشہور غزل کے اشعار۔

دل مرا پھر دکھا دیا کس نے

سو گیا تھا جگا دیا کس نے

میں کہاں اور خیال بوسہ کہاں

منھ سے منھ بھڑا دیا کس نے

وہ مرے چاہنے کو کیا جانے

یہ سندیسا سنا دیا کس نے

ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے

سب یکایک چھپا دیا کس نے

و ہ بلائے سے بھاگتا تھا اور

درد تجھ تک بلا دیا کس نے

ایک غزل کے کچھ اشعار غزل:

تو کب تئیں مجھ ساتھ مری جان ملے گا

ایسا بھی کبھو ہوگا کہ پھر آن ملے گا

چلے کہیں اس جا پہ کہ تم ہوں اکیلے

گوشہ نہ لے گا کوئی میدان ملے گا

یوں وعدے ترے دل کی تسلی نہیں کرتے

تسکین تبھی ہووے گی تو جس آن ملے گی

اےدرد کہا میں نے ملو جس سے کہ چاہو

کہنے لگا تجھ سا کوئی انسان ملے گا

ان اشعار کی سب سے خاص بات سادگی اور تازگی ہے ۔ اشعار دو سو سال پہلے لکھے گئے ہیں ، لیکن  ان میں کوئی لفظ ایسا نظر نہیں آرہا ہے کہ اس کے لیے لغت کا سہارا لیا جائے ۔ ان اشعار میں شوخی بھی رنگینی  بھی اور سرمستی  بھی ہے ،مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں۔

خواجہ میر درد کی شاعری کا خاص وصف تصوف ہے ۔ متصوفانہ شاعری ہی ان کی شاعری کی جان ہے۔ ان کے زمانے میں وحدت الوجود اور وحدۃ الشہود کی بحث جاری تھی ۔ درد  نے اسے انسانی  دوستی کا ذریعہ بنایا جس میں انسانی حقوق کی اہمیت اور انسان کے بلند مرتبے پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں :

بیگانہ گر نظر پڑے تو آشنا کو دیکھ

بندہ گر آوے سامنے تو بھی خدا کو دیکھ

اے درد جہاں کہیں میں دیکھا

وہ یار ہی مرا جلوہ گر تھا

یا ان کی وہ مشہور غزل:

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

یا:

دونوں جہاں کو روشن کرتاہے نور تیرا

اعیان میں مظاہر ظاہر ظہور تیرا

وحدت الوجودی فلسفہ عبد اور معبود کو الگ نہیں کرتا جب کہ شہودی فلسفہ عبد اور معبود کی حد کو قائم رکھتا ہے ۔ پہلے شعر میں درد کو اللہ کا ظہور چاروں طرف نظر آتا ہے دوسرے شعر میں دونوں جہان کو روشن کرنے والا اللہ کا نور ہے اور آنکھوں میں اسی کے مظاہر کا ظہور ہے۔ وحدت الوجود اور وحدت  الشہود کی لمبی بحث ہے میر درد نے اپنی کتاب علم الکتاب میں لکھا ہے کہ :

‘‘ یہ اصطلاح صوفیہ کی انشراح کی ہوئی ہے اور حضور پر نور کے زمانے میں ان کا کوئی ذکر نہ تھا اس طرح سے توحید وجودی و توحید شہودی دو جدا جدا امر نہیں  تھے اس وقت کبھی توحید مطلق کے ان جزئیات سے بحث نہیں کی گئی ۔ بیان توحید میں وجودیت شہودیت کی یہ قیود بعد میں لگائی گئیں ۔ توحید کامطلب وہی تھا جو حضرت رسالت پناہ اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کوئی او رامر دینی میں دخل نہیں دے سکتا تھا ۔ حرف سننا یقین کرنے کے لیے کافی  تھا ۔۔۔  لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زمانہ گزر گیا تو ایمانوں میں کمزوری اور دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے ۔

اس وقت بعض مومنین عقلانے جو استعداد حکیمانہ رکھتے تھے جو اپنی قوت فکر سے سمجھتے آیات و احادیث سے اس کا استباط کرتے او راپنے اس بیان کو معارف کہنے لگے اور توحید مطلق کے اسی مطلب کو توحید وجودی سے مقید کردیا ۔ یہ قایل وحدت وجود ہوگئے اور ان مسائل کی تفصیل کو علم تصوف کا نام دیا ’’۔

خواجہ میر درد صوفیا ئے وحدت الوجود کے ان خیالات سےمتفق نہ تھے جو وحدت الوجود کے نام پر ترک شریعت  کرتے ہیں ۔ وحدت الوجود کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ موجود بالذات صرف وہی ہے وہ اس بات سےمتفق نہیں کہ عبد اور معبود عین ہیں ۔ مانتے تھے کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کامقصد قلب کا ماسوا سےآزاد کرنا ہے ۔ یہ سب اسی ایک شہر علم محمدی  کے کوچے ہیں اور اسی بحر ذخار کی موجیں او رنہریں ہیں۔

ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب ، کیا شہادت

یاں بھی شہود تیرا، واں بھی حضور تیرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا

ہم سبھی مہمان تھے واں ہی صاحب خانہ تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے در سے اپنے لوٹا ئے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

کوئی او ربھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں

کائنات کی بے ثباتی :

مٹ جائیں ایک آن میں کثر ت نمایاں

ہم آئینے کے سامنے جب آگے ہوکریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ گل کو یہ ثبات نہ ہم  کو ہے اعتبار

کس بات پر چمن ہوس رنگ و بوکر یں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو!

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

 یہ تصوف میں درد کا مقام ہے ۔ اٹھارویں صدی کے شعرا کے تصوف کے اشعار سبھی یہاں ملتے ہیں لیکن درد کا کلام اور زندگی  کی تصوف پر ہے۔ ان کی زندگی  بھی اور ان کی شاعری بھی تصوف کا نمونہ ہے۔

1 فروری، 2015  بشکریہ : روز نامہ خبریں، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/khawaja-meer-dard-poetry-full/d/101460

 

Loading..

Loading..