New Age Islam
Sat Mar 07 2026, 05:25 AM

Urdu Section ( 31 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Love Jihad or Love Trap ‘لو جہاد‘ یا ’لو ٹریپ’

حمنہ کبیر

28 جولائی 2023

’جوبھی ہندو لڑکا اگر مسلم لڑکی کے ساتھ شادی کرے گا تو اکھل بھارت ہندو یوا مورچہ کے کسی بھی ضلع دفتر میں جاکر ڈھائی لاکھ کا چیک لے سکتا ہے۔ساتھ ہی چھ مہینےتک اس کی حفاظت اور کھانے پینے کا انتظام اکھل بھارت مورچہ اپنے ذمہ لے لے گا۔‘

’ ہم کو مسلمانوں کی ۴۰؍ لاکھ لڑکیاں چاہئیں تب جاکر ہمارا لڑکا لڑکی کا ریشیو سیٹ ہوجائے گا۔آنے والے دنوں میں بڑی تعداد میں مسلمان ہندو بنیں گے۔ اس مشن کو ہم بڑے پیمانے پر چلائیں گے۔اگر مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں ان کی لڑکیوں کو ٹارگٹ کرنا ہوگا۔جب ان کی لڑکیوں کو ٹارگٹ کریں گے تو وہ اپنے آپ کمزور ہوجائیں گے۔‘

’اگر ہم ایک ہندو لڑکی کو کھو دیں تو ہمیں دس مسلم لڑکیوں کو پھنسانا چاہئے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو سری رام سینا آپ کی سیکورٹی اورروزگار کی ذمہ داری لیتی ہے۔‘

اس طرح کے ایسے کئی اشتعال انگیز بیانات ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اکثر سامنے آتے رہے ہیں۔ ’انقلاب‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق بریلی ضلع میں۲۰۱۳ء سے۲۰۲۲ء کے درمیان اب تک۶۶؍ مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلم لڑکوں سے کروا کر ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سبھی شادیاں ایک ہی مندر میں اور ایک ہی پنڈت کے ذریعے کرائی گئی ہیں ۔

ایک اور خبر کے مطابق مہاراشٹر میں کئی مسلم لڑکیوں نے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے کے لئے مہاراشٹر حکومت کی میرج ویب سائٹ پر رجسٹریشن کروایا تھا ۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر غیر مسلموں کی جانب سے لاتعداد ایسے تبصرے مل جائیں گے جن میں وہ فخر سے بتا رہے ہیں کہ اس نے مسلم لڑکی کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا ہے ، جلد ہی شادی کرکے اس کا مذہب تبدیل کروا دے گا۔

اگرچہ باوثوق ذرائع سے اس ’دھندے‘ کا شکار ہونے والی لڑکیوں کے اعدادوشمار تو نہیں معلوم ہوسکے، لیکن بہرحال ان تمام بیانوں ،خبروں ، شکار ہونے والی لڑکیوں کی وڈیوز اور تحقیق کے ذریعہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لڑکیوں کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت پھنسا کر ان سے شادی کرکے مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم لڑکیاں پورے ہوش و حواس میں رہ کر غیر مسلم سے شادی کرکے نہ صرف اپنا مذہب ترک کررہی ہیں، بلکہ بخوشی دوسرے مذہب کی رسومات و روایات کو بھی اپنا رہی ہیں۔

دوسری طرف لو جہاد کا شوشہ ہے، جس کے مطابق مسلم لڑکے غیر مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانے کے بعد ان کا مذہب تبدیل کرواکر ان سے شادی کررہے ہیں۔ لو جہاد کی نہ کوئی اصطلاح ہے اور نہ ہی اب تک کسی غیر مسلم لڑکی کی جانب سے کسی مسلم لڑکے پر لو جہاد کا الزام لگایا گیا ہے ۔ لو جہاد کے تعلق سے بھی اکثر بیانات آتے رہتے ہیں۔ ان کے علاؤہ ایسے کئی شادی شدہ جوڑے ہیں جنہوں نے ایک دوسرے سے محبت ہونے کی وجہ سے ہی شادی کی اور بغیر اپنا مذہب ترک کئے اپنی شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن بات اگر بھگوا لو ٹریپ کی ہو یا لو جہاد کی ان دونوں کا شوشہ ہی محض سیاسی مفاد کے لئے چھوڑا گیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ لو ٹریپ کے معاملات کو دبانے اور غیر مسلمانوں میں انتقام کا جذبہ جگانے کے لئے ہی لو جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ہو۔ اگر لڑکی بالغ ہے تو ہندوستانی قانون کے مطابق اسے مرضی اور پسند سے شادی کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ جس کے بعد آپ لڑکے کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کرسکتے ہیں۔ بہت سےمعاملوں میں اس قانون کا فائدہ بھی خوب اٹھایا گیا ہے ۔ ’گھر واپسی‘ کے نام پر بھی مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلموں سے کرائی جانے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مسلم لڑکیوں کا اس طرح اپنے مذہب سے متنفر ہوکر مستقبل کے بارے میں بغیر سوچے سمجھے اسے ترک کرنے کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو ایسی بہت سی وجوہات سامنے آجائیں گی جن پر غور کرتے ہوئے اس مسئلے کا کچھ تو حل ضرور نکالا جاسکتا ہے۔ الگ الگ معاملات کی الگ الگ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت میں تفریق کرنا بھی ہے۔ مسلم لڑکیوں کو غیر ضروری پاپندی میں رکھنے ، بے جا روک ٹوک کرنے سے وہ خود کو قید میں محسوس کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے بھائی کے سارے عیش ہورہے ہیں، ظاہر ہے والدین اور گھر والوں کے اس رویہ کی وجہ سے غیر مسلم لڑکیوں کی آزادی انہیں اپنی طرف راغب کرنے لگتی ہے ۔ گھر والوں کی سختی اور بے جا پابندیوں کی وجہ سے ایک باہر والے کی ہمدردی ان کے دل میں جگہ بنانے لگتی ہے۔ پابندیوں، نگرانیوں اور بلا ضرورت روک ٹوک سے بے زار لڑکی سے جب کوئی غیر شخص ہمدردی جتاتا ہے تو وہ پھر اسے اپنا سب سے بڑا ہمدرد اور نگہبان تصور کرنے لگتی ہے ۔ اگر پلان لڑکی کو راغب کرکے شادی کرنے یا مذہب تبدیل کرنے کا ہو تو کوئی بھی غیر مسلم لڑکا بآسانی لڑکی کے ذہن سے کھیل سکتا ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ انتہا پسند سوچ رکھنے والے کئی مسلمانوں نے اس مسئلے کا ایک حل یہ بتایا کہ آپ اپنی لڑکیوں سے موبائل چھین لیں،ان کی تعلیم رکوا دیں ، انہیں سخت نگرانی میں رکھیں ، باہر نکلنے پر پابندی لگائیں۔ یعنی اس مسئلہ کی جو ایک بڑی وجہ ہے اسے ہی حل بتایا جارہا ہے۔ نئی نسل والدین کے ایک تھپڑ میں باغی ہوجانے کا سوچنے لگتی ہے تو پھر پابندیاں لگانے اور ہر وقت ان کے سر پر سوار رہنے سے مسلم بچیاں ماحول سے فرار اختیار کرنے کے لئےکسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ نوجوان خاص طور پر کم عمر لڑکیوں کی تربیت اس انداز سے ہونی چاہئے کہ وہ خود کو محفوظ اور حدود میں رہتے ہوئے بھی آزاد محسوس کریں۔ ایسی کئی خبریں آتی رہتی ہیں جن میں مسلم لڑکیوں سے شادی کے کچھ مہینوں بعد یا تو انہیں مار دیا جاتا ہے، یا وہ خودکشی کرلیتی ہیں۔ نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیاں حالات حاضرہ میں دلچسپی نہیں لیتیں۔ انہیں اس طرح کے واقعات سے باخبر کریں۔ کسی لڑکی کا غیر مذہب میں شادی کرنا محض شادی کرنا نہیں ہوتا۔ شادی سے پہلے لڑکیوں کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح انہیں غیر مذہب کی تمام رسومات، طور طریقے، روایات کا بھی پابند ہونا پڑے گا۔ انکار کی صورت میں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ انہیں اسلام کی صحیح سمجھ دیں، عورتوں کو اسلام نے جو حقوق اور تحفظات فراہم کرائے ہیں ان سے واقف کروائیں۔ نئی نسل کو اسلام سمجھائیں ان پر اسلام تھوپیں نہیں کہ وہ اس سے متنفر ہونے لگیں، بغاوت پر اتر جائیں اور غیر اسلامی مذہب سے ان کی قربت بڑھنے لگے۔تربیت ایک دن میں نہیں ہوجاتی ہے، راہ سے بھٹکنے کے بعد دیے جانے والے وعظ و تربیت محض دقیانوسیت اور جہالت پر مبنی سوچ تصور کئے جاتے ہیں۔ تربیت کی شروعات کچے ذہن سے ہی ہونی چاہئے۔ اگر آپ کی بہنیں یا بیٹیاں آنکھوں میں دھول جھونک کر کسی غیر مسلم سے شادی کرتی ہیں تو بہت ممکن ہے کہ اس کی وجہ آپ کی طرف سے لگائی گئی بے جا پابندیاں، تربیت میں تفریق کرنا اور ان کے ساتھ سخت رویہ ہو۔ 

مسلم اداروں اور تنظیموں کو بھی چاہئے کہ اپنے اسکول ، ٹیوشن سینٹر، کالج وغیرہ کی تعداد میں اضافہ کریں، جن میں تعلیمی معیار ایسا ہو کہ خود وہ اپنے بچوں کو اس میں تعلیم دلانے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے نام پر موجود زیادہ تر ادارے اور شعبے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔ قومی مفاد کے بارے میں کیا خاک سوچیں گے۔

28 جولائی 2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

---------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/love-jihad-love-trap/d/130338

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..