ایس ایم جعفر
5 جنوری، 2014
لکھنؤ۔ میر تقی میر نے دہلی کو عالم میں انتخاب کیا تھا لیکن وہ اس شہر کی سکونت ترک کر کے لکھنؤ میں بس گئے تھے ظاہر سی بات ہے کہ میر نے لکھنؤ شہر کو دہلی پر ترجیح دی ۔ لکھنؤ دیگر شہروں کی طرح صرف انسانی آبادی کا مسکن نہیں تھا بلکہ اپنی مخصوص شناخت کے سبب سارے عالم میں اس کی دھوم تھی ۔ ثقافت ، ادب فن تعمیر، موسیقی ، صنعت و حرفت اور اپنے مخصوص دسترخوان کے سبب یہ شہر دیگر شہروں سے ممتاز تھا اورممتاز رہے گا۔ نوابین اودھ کے زمانے میں جن چیزوں کو فروغ ملا ان میں کھانے کی مختلف اقسام بھی شامل ہیں ۔ مثلاً قورمہ، رومالی روٹی، کلچہ ، نہاری، لکھنؤی پلاؤ ، بریانی ، کباب اور شیر مال وغیرہ ۔ نوابیں اودھ سے ملنے والے انعام و اکرام اور حوصلہ افزائی نے اس وقت کے باورچیوں کو ان ڈشو ں کے علاوہ مزید نئی نئی ایجادات اور تجربے کرنے کا حوصلہ بحشا۔ جیسے کلچے میں پرت دار کلچہ ، سادہ کلچہ اور غلاف والا کلچہ ۔ نہاری میں گوشت کی نہاری او رپائے کی نہاری ۔ کبابوں میں شامی کباب، گلاوٹ کے کباب، ٹکیہ کے کباب، نرگسی کباب، سیخ کے کباب او رکاکوری کباب وغیرہ ۔ اسی طرح شیر مال کی بھی کئی اقسام ہیں جیسے باقر خانی ، تعفطان اور تبارخ وغیرہ ۔

قابل غور یہ ہے کہ اس وقت ک باورچیوں نے اپنے تجربوں کے دوران ذائقہ کے ساتھ ساتھ صحت کا بھی بھر پور خیال رکھا یعنی اپنی ڈشوں کو پکانے میں ایسے مسالوں اور ایسی اشیاء کا استعمال کیا جو ہر لحاظ سے صحت کے لئے فائدہ مند ہو ساتھ ہی ان کی مقدار بھی اتنی نپی تلی رکھی کہ اگر کسی شہ کی زیادہ مقدار صحت کےلئے نقصاندہ ہوبھی تو دیگر اشیاء اس کے نقصان کو زائل کردیں ۔ اس کے لئے انہوں نے اس وقت کے بڑے حکیموں اور طبیبوں کابھی سہارا لیا ۔ کہا جاتا ہے کہ لکھنؤ ی پلاؤ کی ریسیپی ( بنانے کا طریقہ) کسی باورچی کی نہیں بلکہ اس وقت کے ایک بڑے حکیم کے نسخہ کا نتیجہ ہے ۔ آج جسے لوگوں نے بریانی کا نام دے رکھا ہے دراصل وہی لکھنؤی پلاؤ ہے جس میں گو شت اور چاول کو کچھ خوشبو دار مسالوں کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا اور یہ صحت کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی بیماریوں میں بھی مفید ہوا کرتا تھا ، بریانی ثابت مسالوں سے تیار کی جاتی تھی ۔
یہی نہیں ان ڈشوں کے ذائقہ کو دو بالا کرنے کے لئے با قاعدہ اس کے جوڑ بھی بنائے گئے تھے ۔ جیسے نہاری کے ساتھ قلچہ ، مختلف سالنوں کے ساتھ رومالی اور تندوری روٹی ، پلاؤ او ربریانی کے ساتھ نمکین دہی اور کباب کے ساتھ مختلف اقسام کے پراٹھے وغیرہ ۔ آج بھی ان ڈشوں کا استعمال اس کے جوڑ کے ساتھ ہی ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل بھی گیا ہے۔ لوگ اپنی آسانی کے لئے کسی بھی ڈش کا جوڑ کسی کے بھی ساتھ ملا کر لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں لوگوں نے سب سے بے تکا جوڑ شیر مال او رکباب کا بنا رکھا ہے ، جب کہ شیر مال کا کباب کے ساتھ کبھی کوئی جوڑ رہا ہی نہیں ۔
دراصل شیر مال جو تندور میں پکنے والی میدے کی ایک روٹی بھر ہے چونکہ میدے کو دودھ میں گوندھا جاتا ہے او رگھی ، انڈا سوکھے میوے اور زعفران کا بھرپور استعمال ہوتا ہے اس لئے اسے شیر مال کہا جاتا ہے ۔ اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن میں سے ایک ہے باقر خانی ، یہ سائز میں شیرمال سے کئی گنا بڑی ہوتی ہے ۔ اسے شیر مال سے افضل کہا جاتاہے ۔ خوشبو دار اور ملائم باقر خوانی کا ایک لقمہ منہ میں رکھتے ہی پگھل جاتا ہے ۔ لعاب دار قورمہ کے ساتھ اس کا ذائقہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ حالانکہ باقر خانی کا تندور میں لگانا آج بھی بے حد مشکل ہوتاہے لیکن ایک وقت تھا جب ڈھائی سیر تک کی ایک باقر خانی بنائی جاتی تھی جسے لگا نے والا کاریگر اپنی کمر میں کپڑا یا رسّی باندھ کر دونوں ہاتھوں سے باقر خانی کو تندور میں لگاتا تھا اس دوران دو لوگ پیچھے سے اسی رسّی کے سہارے روکے رہتے تھے ۔ اسے تندرو سے گھر تک لے جانے کا طریقہ بھی الگ تھا ۔ تندرو سے نکال کر باقر خانی کوبغیر موڑے ایک سینی یا طباخ وغیرہ میں رکھ کر بھیجا جاتا تھا ۔ اب نہ تو وہ کاریگر ہی رہے اور نہ ہی وہ ڈھائی سیر کی باقر خانیاں ۔ شیر مال کی دوسری قسم ہے تعفطان یہ بھی تندور میں ہی تیار کی جاتی ہے لیکن اس میں زعفران کا استعمال نہیں ہوتا اور یہ صبح ناشتہ میں چائے کے ساتھ استعمال کی جاتی تھی ۔ اس کی جگہ آج بیکری میں بننے والے پرت دار سموسے نے لے لی ہے۔ کباب کے ساتھ استعمال کیلئے تندوری پراٹھا ہوتا تھا جو کہ شیر مال کی ہی ایک قسم ہے اور اس کے پکانے کا طریقہ بھی با لکل ویسا ہی ہے۔ شیر مال کی ہی ایک قسم ہے تبارخ جو عام دنوں کے بجائے شب برأت کے موقع پر خاص طور سے تیار کی جاتی تھی ۔ اس میں میدے کے ساتھ روئے اور تھوڑے سے خمیر کا استعمال ہوتا تھا ۔ شب برأت کا حلوہ اسی تبارخ پر رکھ کر تقسیم ہوتا تھا ۔
اس کام میں گذشتہ نصف صدی سے مصروف سید ابن حسین کاظمی کے مطابق اب نہ تو پہلے کی طرح ذائقوں کے شوقین رہ گئے ہیں او رنہ ہی قدردان ۔ ہنر کی جگہ پیسہ کمانے کی ہوڑ نے لے لی ہے۔ رہی سہی کثر آئے دن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پوری کردی ہے۔ راجہ محمود آبا د کے یہاں بڑی رانی صاحبہ کی فرمائش پر ایک باقر خانی میں 25 ذائقے دینے والے استاد جھمن صاحب کے شاگرد سید صاحب آج لکھنؤ میں اکیلے ایسے کاریگر ہیں جو اس کام میں پرانی روائتوں کو اب بھی برت رہے ہیں ۔ آج بھی اگر کوئی قدردان ان سے کوئی فرمائش کرتا ہے تو وہ اسے مایوس نہیں ہونے دیتے ۔ ان کے ہنر کے قدر دانوں میں صرف لکھنؤ والے ہی نہیں مجروح سلطانپوری مرحوم ، بھاگیہ شری اور شکتی کپور جیسی بالی وڈ کی ہستیاں بھی شامل ہیں ۔ ٹی وی اور فلم اداکار پپو پولیسٹر جن کا تعلق لکھنؤ سے ہی ہے کہ یہاں خاص دعوتوں میں سیدصاحب کے ہاتھ کی بنی شیر مال اور باقر خانی کا ہوناضروری ہے ۔ تین ماہ تک خراب نہ ہونے والی باقر خانی بنانے کا دعویٰ کرنے والے سید صاحب کی باقر خانی نے ملک ہی نہیں بیرون ملک میں بھی اپنے ذائقہ کا لوہا منوایا ہے ۔ آج بھی لاس اینجلس ، لندن ، جاپان، شارجہ، دوبئی، افریقہ ، امریکہ اور تنزانیہ جیسے ممالک میں رہنے والے شیر مال اور باقر خانی کے شوقین سید صاحب کے یہاں سے بنوا کر لے جاتے ہیں یا پھر وہیں سے منگوالیتے ہیں ۔ شیش محل کے رہنے والے شاداب حسین کے مطابق کئی سال قبل انہوں نے تنزانیہ میں ایک تقریب کیلئے سید صاحب کے یہاں سے دو سو باقر خانی منگوائی تھیں آج وہاں پر اس ذائقہ کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے ۔ گونڈہ ضلع سے لکھنؤ آکر شیر مال لگانے کا کام سیکھنے والے سید صاحب کے ہنر کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بھی چاول والی گلی اور بڑا باغ مفتی گنج میں واقع دو دکانوں پر خریداروں کی زبردست بھیڑ رہتی ہے پھر بھی وہ اپنی تیار کردہ باقر خانیوں کاذائقہ ہر زبان تک پہنچانے سے قاصر ہیں ۔
5 جنوری، 2014 بشکریہ : انقلاب ،نئی دہلی
URL:
https://newageislam.com/urdu-section/lucknow-still-cooks-claim-prepare/d/35215