محمد یونس، نیو ایج اسلام
1مئی، 2012
محمد یونس، مشترکہ مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام،
آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے 2009
(انگریزی سے ترجمہ‑
مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)
اکثر مفسرین
نے قرآن کی متذکرہ آیتوں کا ترجمہ ایک ایسے مخصوص ،ظاہر پرستی اور صنف پرستی
کے انداز میں کیا ہے جس کا مقصد تاریخی اعتبار
سے مرد وں کے لئے غلاموں ، قید کی گئی عورتوں ،نوکرانیوں اور طوئفوں سے جنسی استمتاع جائز و مباح کرنا ہے
، جو کہ وسیع تر قرآنی پیغام کے خلاف ہے، اور اور اس سے شادی سے متعلق قرآنی قوانین کی تضحیک ہوتی ہے۔
متذکرہ آیات (سورۃ المئومنون،23 اور سورۃ
المعارج70 )کے نزول کا تعلق مکی زمانے سے ہے
(610-622 عیسوی) ۔ شادی کے قوانین اور غلامی کو ختم کرنے والی آیتوں کا نزول
ابھی باقی تھا ، جن کا نزول ایک دہائی کے بعد متعدد مراحل میں ہوا (نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے 622 میں مدینہ ہجرت کر نے کے بعد )۔ اور ان آیات نے قیدی، غلام عورتوں،
طوائف اور رشتہ ازدواج کے علاوہ کے ساتھ یاغلامی کے ذریعہ جنسی تعلقات کے تصور کو ختم کر دیا۔
حال ہی میں لکھی گئی ایک تفسیر[1]
جسے الازہر الشریف، قاہرہ نے منظور کیا ہے
،اور جس کی توثیق اور سفارش امریکہ کے اسلامی اسکالر اور معروف عالم اور فقیہہ ڈاکٹر
خالد ابو الفضل نے کی ہے، متذکرہ آیات کا صنفی طور پر غیر جانبدارانہ اور عالم گیر ترجمہ مندرجہ
ذیل میں پیش کیا جاتا ہے جو غلامی
اور ناجائز جنسی تعلقات کی تمام صورتوں کو
ردّ کرتا ہے:
(مومن) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (23:4/ 70:29) سوائے اپنی
منکوحہ بیویوں کے ، سو (اِس میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں (23:5/ 70:30)۔
عام طور پر اس کا ترجمہ یوں
کیا جا تا ہے:
اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں
کی حفاظت کرتے ہیں(23:4/ 70:29) ‑
سوائے اپنی منکوحہ بیویوں کے یا اپنی مملوکہ کنیزوں (قیدی، غلام، لونڈی) کے، سو (اِس
میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں(23:5/ 70:30)
وہ عالمگیر ترجمہ ایسی مندرجہ ذیل بنیادوں پر مبنی ہےجسے رد نہیں
کیا جا سکتا :
1۔ - آیت 23:1-6 اور
70:19-29 میں لفظ (مومنوں)اور (عبادت گزار)کے ذریعہ غیر جانبدارانہ صنفی خطاب جو مذکورہ آیات پر مشتمل ہے۔مذکورہ دونوں حوالوں
میں مردواور عورت دونوں مخاطب ہیں
نہ کہ صرف مرد ۔
2 ۔ صنفی اعتبار سے غیر جانبدارانہ بنیاد پر لفظ ازدواج کا استعمال کیا گیا ہے (جس میں
مرد اور عورت دونوں شامل ہیں ) اور جس کا استعمال قرآن میں بارہا کیا گیا ہے۔
روایتی ترجمے زنانہ انداز (بیویوں کے طور پر)
میں ہیں، جو صنفی طور پر جانبدار، گمراہ کن
اورنامعقول ہے۔
3۔ حرف ِ ‘او’
(23:5 / 70:30) کا ترجمہ'یا' کے بجائے
قرآن کی ہمہ گیر تعبیر کے مطابق 'یعنی'
کیا گیا ہے۔
پیش کی گئی قرآن کی عالمگیر تشریح پروارد ہونے والے کسی بھی طرح کے شکوک و شبہات سے
بچنے میں مندرجہ ذیل دلائل مزید معاون ہونگے
۔
1 ۔ قرآن میں لفظ 'دائیں ہاتھ' کا استعمال مجازاً مثبت قانونی حیثیت
، مثلاً 'دائیں ہاتھ' والے صحابی (56:8، 56:27) اور خدا کا دایاں ہاتھ (39:67) جتانے
کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ لہذا، جملہ 'ما
ملکت ایمٰنہم کا بہترین معنی “جو ان کے نکاح
میں ہیں ' ہی ہو سکتا ہے۔
2 ۔ درج ذیل میں دی گئی اس کی آیتوں میں غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے واضح نصیحتیں ہیں:
90:13 میں قرآن نے غلاموں کو آزاد کرنےا ورآیت نمبر (90:13)میں قرآن نے قحط کے دوران کھانا کھلانے،اور (14)میں یتیم رشتہ
داروں اور (15) میں گردو غبار میں پڑے ہوئے
ضرورت مند وںکی مدد کرنے کے متعلق نصیحتیں
ہیں ۔
4:92میں اس بات کا حکم دیا گیا ہےکہ اگر کسی مومن کے ہاتھوں غیر شعوری طور پر کسی دوسرے مومن کا قتل ہوجائے تو اسکی سزا ایک مومن غلام کو آزاد کرنا اور اس کا معاوضہ کی
اداکرنا ہے ۔
5:89 میں حلف توڑنے پر کے کفارہ میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
2:177 میں اس بات کا بیان ہے
کہ متقی حضرات نیکی حاصل کرنے کے لئے غلاموں کو آزاد کرتے تھے
۔
9:60 میں غلاموں کو ان کے مذہبی عقیدے سے قطع نظر صدقہ لینے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔
58:3 میں ظہار (جس کی
وجہ سے ایک شوہر بیوی کی تمام ازدواجی ذمہ
داریوں سے بری ہوجاتا ہے لیکن اسے طلاق دینے
کا حق نہیں ہوتا )، کے کفارہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا
ہے۔
3 ۔ چونکہ غلامی اور عصمت فروشی ساتھ ساتھ چلتی ہے، قرآن کا مقصد شادی
کے نظام کے ذریعہ مرد اور عورت غلاموں کی باز
آباد کاری کر کے غلامی کا خاتمہ کرنا ہے۔اسی
لئے قرآن (4:3، 4:25)میں مرودوں کو ان کی مملوکہ کنیزوں سے شادی کرنے ، اور (24:32)میں غیر شادی شدہ غلاموں اور باندیوں کا
بھی نکاح کرنے ،اور(24:33) میں غلاموں اور باندیوں میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر
دینے کی شرط پر آزاد ہو نے والے غلام ) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب کے شرائط کے ساتھ آزاد کر نے کی نصیحت دیتا ہے ۔
"اور اگر تم کو اس بات
کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند
ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ
(سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک
ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے"(4:3)
"اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیویوں) سے نکاح
کرنے پر قادر نہ ہو تو مومن لونڈیوں میں ہی
جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے
تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل
کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی
کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری
کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیویوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان
کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے
کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان
ہے"(4:25)
"اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو۔ اور اپنے غلاموں
اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے
فضل سے خوش حال کردے گا۔ اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے
(24:32)۔ اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ
خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت
اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان
کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی
زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے
گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے"(24:33)
4۔ ایک دوسرے تناظر میں، قانونی کوڈ کے برخلاف جسے اس وقت ترجیح دی
گئی تھی ، اور جو ایک ہزار سال تک کامیاب بھی رہا، لیکن قرآن نے غلام یا ما ملکت ایمٰنہم طبقے کے لئے علیحدہ سول
قانون یا کوڈ کی تدوین نہیں کیا ۔ تاہم، قرآن
ماضی یا مروجہ روایات کے حوالے سے کبھی بھی
غلامی کو فروغ نہیں دیتا ، لیکن قرآن کے معاشرہ،
تجارت، وراثت اور خاندان سے متعلق قوانین کسی کے آزاد یا غلام پیدا ہونے سے قطع نظرتمام
مومنوں کے لئے ہیں۔
نتیجہ: قرآن انسانی معاشرے
میں ہمہ جہت اصلاحات کے لئے آیا تھا، جس میں
دوسری چیزوں کے علاوہ، شادی اور خاندان سے
متعلق دیگر قوانین کے ذریعہ غلامی سے نجات اور خواتین کو بااختیار کرنےکا مقصد بھی شامل تھا۔ لہٰذا غلاموں،
قیدیوں، نوکرانیوں اور طوائف وغیرہ کے ساتھ جنسی تعلقات کی اسلام میں کوئی بھی تجویز
اس کے آفاقی پیغام سے متصادم ہوسکتی ہے ۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن
کا پیش کیا گیا ترجمہ وقت کے ساتھ ساتھ خاص،صنفی ،تاریخی روایتی عالمگیر ترجمہ کے مطابق کیا جائے گا۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کب تک اکثر مسلم علماء صنفی (مردوں کے
حق میں)اور روایتی تشریح کے پابند رہیں گے۔ جو لوگ ازدواجی زندگی کے بغیرقضائے شہوت کے مواقع
چاہتے ہیں وہ پیش کردہ اس عالمگیر ترجمہ
سےخوش نہیں ہوں گے۔ مسلم دانشوروں کو یہ
مسئلہ فیس بک، ٹویٹر اور دیگر ذرائع
ابلاغ کے ذریعہ اٹھانا چاہئے ،لیکن بقیہ سخت
پدرانہ نظریہ رکھنے والے علماء کرام
ہمیشہ ایسے ہی روایتی ترجمہ کی حمایت کرتے
رہیں گے جو مردوں کی جنسی شہوت کو پورا کرتا
ہے۔
نوٹس
1۔ اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، میری لینڈ (یو ایس اے)
2009، مصنف۔ محمد یونس اور اشفاق اللہ سید
----------
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے
کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش
ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام
کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر
خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل
پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔
URL
for English article:http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/a-fresh-insight-into-the-qur’anic-verses-quoted-to-justify-unwedded-sexual-relation-with-maids,-call-girls-etc/d/7198
URL: