New Age Islam
Mon Jun 08 2026, 02:28 AM

Urdu Section ( 20 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistan’s Sipah-e-Sahaba promotes Genocide پاکستان میں سپاہ صحابہ جہاد کے نام پر شیعوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہا ہے، الراشدین میں حق نواز جھنگوی اور علامہ شیر حیدری کے نفرت انگیز خطابات کی دوبارہ اشاعت

 

 طفیل احمد

21 مارچ 2013

(انگریزی سے ترجمہ ۔ نیو ایج اسلام)

جیسا کہ  پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی نسل کشی کے واقعات  افشاں ہو رہے ہیں ، سنجیدہ تجزیہ کار کے لئے یہ اندازہ کرنا  دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان اگلے چند دہائیوں میں اس انسانی تباہی سے کس طرح ابھر کر سامنے آئے گا ۔ کراچی سے کوئٹہ، لاہور، پارا چنار اور گلگت تک پاکستان کے طول و  عرض میں  شیعہ مسلمانوں کو منظم طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے، اس سال ان میں سے تقریباً 300 کا قتل الگ ہے  ۔ "شیعہ کشی بند کرو، نسل کشی بند کرو" یہ ہیں وہ مدد کے  کچھ تقاضے جو  لئے گئے اشتہارات میں شیعہ ہزارہ کی تصاویر میں ہیں ،  جو کہ اب بین الاقوامی صحافت میں ظاہر ہونا شروع ہو رہے ہیں ۔ عیسائی کالونیوں کو  مقامی پولیس کے پیشگی علم میں جلایا جا رہا ہے، بلوچستان اور سندھ کے  ہندوؤں اسلام قبول کرنے یا ہندوستان  بھاگنے پر  مجبور کیا جا رہا ہے؛ احمدی مسلمان بھی پاکستانی معاشرے میں مسلسل اسلامی افواج کی ثقافتی نگرانی کے تحت ہیں۔

جیسا کہ پاکستان نفرت اورکشت  خون کی گہری طغیانی میں  ڈوب رہا ہے ، لاقانونیت اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ اس کا اندازہ ان پاکستانی خاندانوں کو ہے  جن کے رشتہ دار مارے گئے ۔ پاکستانی عوام کے مصائب کی اس گھڑی میں، یہ دو رجحانات نمایاں ہیں: - سب سے  پہلا ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور اقوام متحدہ - آزاد دنیا کے رہنما اس سانحے کے درمیان  خاموش ہیں، دوسرا، پاکستانی حکومت کے رہنما اپنے لوگوں کی ترجیحات کو دیکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں، خاص طور پر اس بات کا مطالبہ کر نے کے بجائے کہ ہندوستان  پاکستانی شہری اجمل قصاب کی لعش کو ان کے حولے کر ے، ان کے لئے  ہندوستان کے ذریعہ ، ہندوستانی پارلیمنٹ پر 2001 کے دہشت گردانہ حملے میں سزا یافتہ ایک ہندوستانی  شہری افضل گرو کی پھانسی کی مذمت میں  ایک پارلیمانی قرار داد منظور کرنے کا وقت ہے ۔

عالمگیر تباہی میں زندہ بچنے والے نوبل امن انعام یافتہ ایلی وائیسل ‘‘Elie Wiesel’’ نے کہا کہ "جہاں کہیں  بھی مردوں اور عورتوں کو ان کی نسل، مذہب، یا سیاسی نظریات کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، اس جگہ کو ، اس وقت  کائنات کا مرکز بننا چاہئے" ۔ نسل کشی ہر جگہ ہر کسی کی تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی)، جیسی پاکستان کی جہادی تنظیمیں اہلسنت والجماعت اور لشکر جھنگوی کے نام سے بھی  چلائی   جاتی  ہیں، شیعہ مسلمانوں کے منظم قتل کے لئے بے شک وہی  ذمہ دار ہیں، لیکن تحقیق اور ذرائع ابلاغ کی خبروں میں ان پر الزام کافی  نہیں  ہے ، اس نقطہ پر نہیں؛ یہاں تک کہ  نسل کشی کی قانونی تعریف بھی غیر متعلقہ ہے، اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ پاکستان کی صورت حال پر بین الاقوامی خاموشی کو ایک کثیر الجہات ردعمل  کی ضرورت ہے، مغربی حکومتوں کے کچھ ایماندار افراد اور اقوام متحدہ کو  لگام اپنے ہاتھوں میں ضرور لے لینا چاہئے ۔

 بین الاقوامی رد عمل کو  اس حقیقت پر ضرور  توجہ دینی چاہئے کہ  پاکستان مندرجہ ذیل وجوہات  کی بناء پر  مستقبل قریب میں خود حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو گا: جس شرح سے پاکستان اپنے بچوں کو تعلیم فراہم کر رہا ہے اس صورت میں  تمام بچوں کو مؤثر طریقے سے پرائمری تعلیم فراہم کرانا  تقریباً 2050تک ہی ممکن ہو گا ۔ اس کا مطلب یہ ہے: پاکستان کی طرح ایک بڑی جدید قوم کو چلانے کے لئے ضرورت کے مطابق  تعلیم یافتہ لوگ آئندہ چند دہائیوں میں برآمد نہیں ہوں گے ۔ ملک کو چلانے کے لئے ذہنی طور پر  عقلمند  افراد کی تعداد محدود ہے، جن کے نام بنیادی طور پر پاکستان کے انگریزی زبان میں پریس میں پڑھے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج میں بھی، اعلیٰ  سطح کے جرنل، اسلامی نظریے کی بھول بھلیا میں اپنے  راستے کو  کھو چکے ہیں ،  اور نچلے درجے کے افسران ایک صحیح راستہ اختیار کرنے کے مطلب میں بھی بنیادی سطح کی دانشورانہ صلاحیت سے بڑے ملک پر حکومت کے لئے، معلومات پر عملدرآمد کرنے میں قاصر ہیں ۔ وہ مغربی تجزیہ کار جو  پاکستان کی سول سوسائٹی کی حمایت کے اظہار میں آسانی محسوس  کرتے ہیں انہیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسا کوئی معاشرہ اس پیمانے پر موجود نہیں ہے جو کہ نےنتیجہ خیز ہو سکے  ۔

لوگوں کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے  سے روکتے ہوئے  ایک مذہبی وائرس، پاکستانی معاشرے کا  تعاقب کر رہا ہے ۔ گزشتہ نصف سے، پاکستانی رہنما اسکول اور کالج جانے والے نوجوانوں کے ذہنوں کو باقاعدہ نفرت انگیز  خیالات کی خوراک دے رہے ہیں ، اشرافیہ سیکورٹی کمانڈو ممتاز قادری کی طرح  ، جس نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیرکا قتل کیا  ہے ، بہت سارے لوگ  آج فخر کے ساتھ قتل کا اقبال  جرم کر رہے ہیں اور انہیں وکلاء کے تعلیم یافتہ طبقے کی طرف سے تعریف میں  پھولوں کے گلدستے پیش کئے جا رہے ہیں ۔ ایک لمحے کے لئے، جنرل ضیاء الحق کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں، ایک ایسا  اسلامی فوجی حکمران جو  پاکستان کے قیام سے ہی اسلامی نظریات کی پیداوار تھا ۔ اس کے بجائے، سیکولر رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھیں  جنہوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے  ملک کی اسلامی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیا تھا ، جو عسکریت پسند مذہبی تنظیموں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ  وہ سیکولر جماعتوں کو اقتدار میں ہوتےہوئے  بھی، حاصل کرنے کی کتی  زیادہ امید کر سکتے ہیں ۔ کل  انہوں نے  قانونی طور پر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا، آج، وہ شیعہ کو غیر مسلم قرار دئے جانے کا  مطالبہ کر رہے ہیں، کل، وہ بریلوی کو غیر مسلم قرار دئے جانے کا  مطالبہ کریں گے۔ یہ اسلامیت ہے، اور یہ خونخوار ہے ۔

 پاکستان کے سیکولر رہنما مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے 2008 ء میں اقتدار میں آنے کے فوراً بعد، مولانا فضل اللہ کے ساتھ شریعت فار پیس  معاہدے کو منظوری دی، مالاکنڈ کے عوام پر ان کے جہادی جنگجوؤں کو بری کرتے ہوئے، جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی کا حکم دیا اور شریعت کی حکمرانی نافذ کرنا شروع کر دیا۔ اگر ایسی حکومتی پالیسی اختیار کی جاتی ہے تو ملالہ یوسف زئی کی طرح معصوم لڑکیوں پر جہادی حملوں جیسے  نتائج متوقع ہیں۔ ایک بار پھر مرکزی دھارے میں شامل تمام پاکستانی رہنما ایک معاہدے کے لیے تحریک طالبان پاکستان سے  روابط پیدا  کر رہے ہیں، اس وقت فرق صرف یہ ہے کہ سیکولر پارٹیوں نے بھی جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں مذہبی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب میں،جہاں  180 ملین پاکستانیوں میں سے 60 فیصد رہتے ہیں، وزیر قانون رانا ثناء اللہ جیسے  حکومت کے رہنما نے، ایس ایس پی کے عسکریت پسند رہنما، ملک محمد اسحاق اور مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں ، جو کہ  پاکستان اور افغانستان دونوں میں شیعوں کے قتل کے پیچھے بنیادی تنظیم ۔

 پاکستان کے مستقبل قریب میں نسل کشی کے گھات میں ہونے کا  خطرہ نہیں ہے۔ حال ہی میں، ایس ایس پی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  کہ مغربی دنیا ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے، انگریزی زبان میں راشدین نامی میگزین کا پہلا شمارہ جاری کیا ہے۔ میگزین کے کور پیج میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ، " اس سے پہلے کہ فلسطین کو آزاد کرا لیا جائے  ایران گر زیر ہونا  ضروری ہے،" جس میں  توجہ ایسے  "مسلم نوجوانوں پر  مرکوز ہے  جن کی  پہلی یا دوسری زبان انگریزی ہے ۔" اس  میں ایک بڑی تعداد میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مضامین کی اشاعت کی گئی ہے ،اور حق نواز جھنگوی اور علامہ شیر حیدری کے خطابات اور جیش محمد کے کمانڈر مولانا مسعود اظہر کے ایک اہم مضمون کو دوبارہ شائع کیا گیاہے جس میں  جہاد کے جواز میں قرآن پاک کی متعدد آیات کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ پاکستان میں انسانی مصائب کے بارے میں فکر مند لوگوں کے لئے، جیش محمد یا ایس ایس پی اور دوسروں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔

 جو خطرہ  ہمارے چہرے پر نظر آرہا ہے ، پاکستانی ریاست کے خون خرابے  سے بھرے ان پورے سالوں میں  خواب خرامی کرنے کی  صلاحیت ہے ، ایک ایسی  شکل میں بالآخر زندہ بچتے ہوئے ، جس میں سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی جہادی تنظیمیں ایک مستقل طور پر  پاکستانی معاشرے میں  اپنی گرفت  مضبوط بنا رہی ہیں ، جیسا کہ حزب اللہ نے لبنان میں کیا اور حماس غزہ میں کر رہا ہے۔ آخر میں، ان تنظیموں میں سے کچھ نوجوان پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کریں گے  اور کپتان، لیفٹیننٹ اور جرنیلوں کے اعلیٰ عہدوں تک  رسائی حاصل کریں گے ۔ 12 مارچ، 2013 کو امریکہ کے نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز آر کلیپر نے  امریکی سینیٹ کمیٹی آن انٹیلیجنس کو اس  بات سے خبردار کرتے ہوئے تصدیق فراہم کرتے ہوئے کہ  لشکر طیبہ "پاکستانی عسکریت پسند گروپوں کے لئے مسلسل انتہائی پیچیدہ  اور مبہم رہے گا  " اور  ان کے پاس پاکستانی معاشرے اور سرکاری اداروں میں " حماس اور  حزب اللہ کی طرح بھی مستقل موجودگی کی  طویل مدتی صلاحیت ہے۔ " یہ صرف ایسے  وقت کی بات ہے کہ یہ قاتلانہ نظریہ ہمسایہ ممالک میں پھیل رہا ہے  ۔

 بی بی سی اردو سروس کے ایک سابق صحافی اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا  کے طفیل احمد، مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ (MEMRI) واشنگٹن ڈی سی میں ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں ۔ان سے www.tufailahmad.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

ماخذ :     http://www.viewpointonline.net/genocide-a-jihad-whither-pakistan.html

URL for English article:

 https://newageislam.com/the-war-within-islam/pakistan’s-sipah-e-sahaba-promotes/d/11511

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/pakistan’s-sipah-e-sahaba-promotes/d/13112

 

Loading..

Loading..