New Age Islam
Wed Jan 28 2026, 05:18 AM

Urdu Section ( 29 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistani Al Qaida fuelling Shia-Sunni war in Syria پاکستانی القاعدہ شام میں شیعہ سنی جنگ کو ایندھن فراہم کر رہا ہے

 

مسعود مکرم، نیو ایج اسلام

24 مارچ، 2013

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح بغاوت جمعہ کے دن اس وقت بھیانک شدت اختیار کر  گئی، جب ایک قدامت پسند سنی مسلم عالم شیخ البوتی ایک مسجد کے اندر بم دھماکے میں ہلاک کر دئے گئے۔ جمہوری اصلاحات کے لئے، چالیس سالہ اسد کی آمریت کے خلاف سماجی بغاوت کی قیادت القاعدہ کی ذیلی تنظیم جبہۃ النصرہ  کے ذریعہ کی جا رہی ہے،جو اسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ سیکولر، اسلام پسندوں، بائیں بازو اور دہشت گرد جیسی،  غیر منظم  ،جنگجوجماعتوں کے جنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے دن بہ دن وہاں کی سیاسی صورت حال  پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ سنی عالم شیخ البوتی  شیعہ علاوی  صدر کے لئے طاقت کا منبع تھے ، جن کے خلاف سنی اکثریت جنگ لڑ رہی ہے۔

فری سیرین آرمی، ایک ایسا گروپ ہے، جو سابق فوجی افسران اور سپاہیوں پر مشتمل، آمریت کا مقابلہ کرنے والے بڑے گروپوں  میں سے  ایک ہے، اور بڑی حد تک سیکولر ہے۔ تاہم، نصرہ  جو القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم ہے، وہ بھی ایک بڑی فورس  ہے جو کہ بنیاد پرست اسلامی نظریہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ شیخ البوتی کے قتل کے دھماکے نے ، فرقہ وارانہ اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لئے، القاعدہ طرز کےخود کش بم دھماکوں کے آغاز کا اشارہ دیا ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے یہ رائے دیتے ہوئے  کہ، ہو سکتا ہے کہ یہ دھماکہ القاعدہ کی  تنظیموں کے ذریعہ کیا گیا ہو ، اس حملے کی مذمت کی ہے۔

اس وقت، پاکستان کا نام شام میں بغاوت کے تعلق سے جبہۃ النصرہ کے کردار کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ، امریکی انڈر سکریٹری  ہلیری کلنٹن نے،  ایک سنگین  بیان یہ دیا تھا کہ شام میں دہشت گردوں کو پاکستان میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کی طرف سے 'پیغامات' موصول ہو رہے تھے۔ النصرہ بنیادی طور پر القاعدہ کے عراق کی شاخ سے منسلک ہے جو شام میں دہشت گردوں کو بھیجتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شام، پاکستان اور عراق کا القاعدہ نیٹ ورک بہت فعال اور طاقتور ہو گیا ہے، جو ملک کے لیے معاملات کو بدتر بنا سکتا ہے،  جیسا کہ  نیٹو اس جنگ زدہ ملک میں فوجی  مداخلت کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ دہشت گردی سے متاثر ممالک میں القاعدہ کی موجودگی نے، ان ممالک میں مداخلت کے لئے نیٹو کو جواز فراہم کیا ہے۔ اور اگر القاعدہ شام میں بھی مرکز ی حیثیت  اختیار کر لیتا ہے، تو وہاں بھی نیٹو مداخلت کرے گا۔

اقلیتی شیعہ آبادی اس صورت حال کے متعلق فکر مند ہے، جیسا کہ بشر الاسد کے خاتمہ کا مطلب سنی انتہا پسندوں کے ذریعہ اقتدار  پر قبضہ ہو گا،جو کہ نہ صرف ان کے اپنے وجود کے لئے خطرہ  کی وجہ ہے، بلکہ ان کے عقائد اور ثقافتی اور مذہبی ورثے کے لئے بھی خطرہ کا باعث ہے۔ اس طرح، بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جنگ، نا عاقبت اندیش القاعدہ کے ساتھ، سیکولر اور جمہوری بغاوت کا اغوا کرنے کے لئے،شیعہ سنی جھگڑوں میں تبدیل ہو گیا ہے ، تاکہ وہاں اسلام کی ایک وہابی سلفی شکل قائم کی جائے ،جہاں شیعہ کافر قرار دئے گئے ہوں، اور قتل کے مستحق قرار دئے گئے ہوں۔

القاعدہ کے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے، عراق اور پڑوسی ممالک کے شیعہ ، دمشق کی ایک مشہور مسجد حضرت زینب کی حفاظت اور دفاع کرنے کے لئے شام کا سفر کر رہے ہیں جو کہ شیعوں کے لئے مذہبی اہمیت کی حامل ایک اہم جگہ ہے۔

سی آئی اے کے  ذریعہ شام میں سیکولر باغیوں کی مدد پہونچا کر معاملات کو  بدتر بنا دیا گیا ہے، لیکن وہاں بھی خبر ہےکہ باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی، دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جا رہی ہے۔بشار الاسد کا معاملہ مصر، تیونس اور لیبیا سے مختلف ہے، کیونکہ اسے ایران، روس اور دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

ایک سیاسی مخالف کو قتل کرنے کے لئے، دمشق کی مسجد میں بم دھماکہ، پاکستان کے مساجد اور مزارات میں ان بم دھماکوں کی یاد دلاتا ہے، جو شام بغاوت میں، القاعدہ اور  طالبان کےعناصر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، اور پاکستان کے بے لگام علاقوں میں ان کی  شراکت داری کو واضح کرتا ہے ۔ کسی بھی صورت میں، شام کا مستقبل تاریک لگتاہے۔

URL for English article

https://newageislam.com/the-war-within-islam/pakistani-al-qaida-fuelling-shia/d/10877

URL for this article

https://newageislam.com/urdu-section/pakistani-al-qaida-fuelling-shia/d/11334

 

Loading..

Loading..