New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 05:36 AM

Urdu Section ( 2 Aug 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Purification, Tazkiyah: A Multi-Faceted and Comprehensive Process تزکیہ: ایک ہمہ پہلو اور ہمہ گیر عمل

محمد وقاص

28 جولائی 2023

تزکیہ کے لفظ کی بنیاد ’زک ۃ‘ ہے۔ اسی سے لفظ زکوٰۃ بھی ہے جس کے معنی پاک صاف کرنا، نشوونما دینا اور پروان چڑھانا ہیں۔ یہ لفظ چونکہ قرآن پاک میں متعدد مرتبہ مختلف صورتوں میں وارد ہوا ہے  چنانچہ اس کا مفہوم ہمہ گیر اور اس کے میدان وسیع ہیں۔ کسی ایک چیز کا تزکیہ مقصود نہیں بلکہ انسانی نفس، افراد کا باہمی تعلق، خاندان کی تنظیم، معاشرہ، حیثیت، رسم ورواج، حکومت وسیاست، علوم و فنون غرض عنوانات کی ایک کہکشاں ہے جو دُور تک پھیلی ہوئی ہے اور ان سب کا تزکیہ مقصود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر مطلقاً وارد ہوا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’کامیاب ہوا وہ جس نے تزکیہ کیا۔‘‘ (الاعلیٰ : ۱۴)  اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد بعثت بیان فرمائے تو چار جگہ وَیُزَکِّیْھِمْ فرمایا یعنی پیغمبر انہیں پاک کرتے ہیں۔ ذیل میں قرآن و سنت کی روشنی میں تزکیہ کے چند میدانوں کی نشاندہی کی جارہی ہے:

تزکیۂ نفس

تزکیے کا سب سے پہلا میدان انسان کا اپنا نفس ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کی جگہ جگہ صراحت فرمائی ہے۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا، پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی، یقیناً فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘(الشمس:۷-۱۰)

نفس کیا ہے۔ کیا یہ انسانی جسم کا نام ہے یا اندرونی خواہشات کو نفس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جسمِ انسانی کے لئے بھی استعمال ہواہے‘ خواہشاتِ نفس کے لئے بھی اور ضمیر کو بھی نفسِ لوامہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

تزکیۂ عقل

عقلِ انسانی فکر کا مسکن ہے۔ یہ سوچ سمجھ، غوروفکر اور تدبر کا ذریعہ ہے۔ یہی انسانیت کے لئے وجہ شرف ہے۔ عقل ہی سے انسان مختلف نظریات کو پرکھتا ہے۔ یہیں عقائد و نظریات رہتے ہیں۔ اسی کے ذریعے انسان خیروشر، نیک و بد اور   اندھیرے اور اُجالے میں فرق کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے اسی عقل کا تزکیہ ضروری ہے۔ اسی کو سید مودودیؒ نے تطہیر ِافکار کا نام دیا ہے۔ یہ دراصل تطہیرِعقل ہے۔ ہر دور میں شیطان سب سے پہلے انسانی عقل پر حملہ آور ہوا ہے بلکہ شیطان خود سب سے پہلے اسی عقل کے فریب میں مبتلا ہوکر مردود ٹھہر چکا ہے (جب اُس نے کہا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا ہے)۔ شیطان مسلّمہ عقائد کو مشکوک بنانے کیلئے وسوسہ اندازی کرتا ہے (یہی وجہ ہے کہ اُس کے وساوس سے پناہ مانگتے رہنے کی تلقین کی گئی ہے)۔

 تزکیۂ عقل کا پہلا مرحلہ اُن غیر اسلامی افکار اور نظریات کی تشخیص ہے جو عقل میں جڑپکڑ چکے ہیں یا جن کو شیطان اپنے آلہ کاروں کے ذریعے پوری قوت سے پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور پھر دلائل و براہین کی بنیاد پر صالح عقائد کو اس فکر میں بٹھانا، تزکیہ کا دوسرا مرحلہ ہے۔ ان دونوں مراحل کے لئے قرآن پاک سے زندہ تعلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آپؐ کی پاکیزہ سنت اور سیرت سے اٹوٹ رابطہ اور ان دونوں مآخذ کی بنیاد پر وجود میں آنے والے لٹریچر سے تعلق بہت ضروری ہے۔ اور صرف یہی نہیں کہ صرف ایک بار چند چیزوں کامطالعہ کرنے سے بات بن جائے بلکہ جب تک جسم اور سانس کا رشتہ استوار و برقرار رہے تب تک  یہ مطالعہ برابرجاری رہے تو توقع ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں تزکیۂ عقل کی منزل ہاتھ آجائے۔

تزکیۂ قلب

قلب جذبات کا مرکز ہے۔ اس کے اندر محبت، خوف، رجا، رشک، بُغض اور نفرت جیسے جذبات جنم لیتے رہتے ہیں۔ تزکیۂ قلب یہ ہے کہ انسان دل میں پنپنے والے جذبات کا مسلسل جائزہ لیتا رہے۔ محبت کا جائزہ لے کہ دل میں محبت کی کیفیت کیاہے۔ کیا اللہ اور اُس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت غالب ہے یا دنیا کی؟ قرآن پاک میں ارشاد باری ہے:

’’اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ،اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں، اور تمہارے عزیز و اقارب،  اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کاتم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔‘‘  (التوبہ :۲۴)

یہی معاملہ خوف کا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ فرمایا: ’’تو اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔‘‘ (التوبہ :۱۳) دل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خوف اہلِ علم کی نشانی اور دانائی کی دلیل ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا: ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘  (فاطر :۲۸)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:   ’’دانائی کا بلند ترین مقام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خوف ہے۔‘‘ لہٰذا بندۂ مومن کے دل میں جہاں اللہ کا خوف ہوگا وہیں اُس کا دل مخلوقات کے خوف سے خالی ہوگا کیونکہ یہ دونوں خوف ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

تزکیۂ جوارح

 جسم کی ظاہری حالت، ہاتھ اور پاوں،  آنکھیں اور کان اور زبان بھی مسئول ہیں۔ اِن سے صادر شدہ اعمال کی بابت سوال کیا جائے گا بلکہ قیامت کے دن جب منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو یہ اعضا خود اپنے جسم کے خلاف گواہی دیں گے۔ چنانچہ جوارح کا تزکیہ بھی ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔ زبان کا تزکیہ یہ ہے کہ اس سے خلافِ حق بات نہ نکلے۔ کوئی جھوٹ، جھوٹی گواہی، بہتان، غیبت یا فساد کی بات برآمد نہ ہو۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہے تو یہی زبان جہنم میں لے جانے کا باعث بنے گی۔ یہی حال آنکھوں اور کانوں کا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت سے باخبر ہے بلکہ یہ آنکھیں خود اس خیانت پر شاہد ہیں۔ کان جو کچھ سنتے ہیں اُس کی گواہی دیں گے۔ قرآن پاک میں دو مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی محافل میں بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی آیات کا مذاق اُڑایا جاتا ہو، یعنی ایسی بات کا سننا بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو گوارا نہیں۔

28 جولائی 2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/purification-tazkiyah-multi-faceted-comprehensive/d/130359

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..