ڈاکٹر محمد واسع ظفر
(آخری حصہ)
3 مارچ 2023
قرآن کریم مختلف علوم و
فنون کے درمیان تفریق نہیں کرتا، برخلاف اس کے ہر اس علم کی طرف انسان کی توجہ
مبذول کراتا ہے بلکہ ان پر تحقیق کی دعوت دیتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی
طرف لے جائے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ علماء سے یہاں روایتی یا
اصطلاحی علما ہی مراد نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ بھی مراد ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حقیقی
معرفت رکھتے ہوں، گو ان کا تعلق سائنسی علوم کے کسی شعبے سے ہی ہو۔ جو جتنی اللہ
کی معرفت رکھتا ہے، اتنا ہی اس سے ڈرتا ہے۔
اس کائنات میں قدرت کی
نشانیاں سب سے پہلے اور بہ آسانی کس کو سمجھ میں آسکتی ہیں؟ ظاہر ہے کسی عالم
تکوینیات (کوسمولوجسٹ) یا عالم فلکی
طبیعات کو۔ کہکشاؤں اور بلیک ہولز کو دیکھ دیکھ کر آج کون حیران و پریشان اور
حواس باختہ ہے؟ ظاہر ہے ماہرین فلکیات ! سائنس در حقیقت اس کائنات میں موجود قدرت
کی نشانیوں کی پرتیں ہی کھول رہی ہے۔اسی طرح اپنے وجود کے اندر اللہ تعالیٰ کی
نشانیاں کس کو بہتر طور پر سمجھ میں آسکتی ہیں؟ ظاہر ہے علم تشریح الابدان
(اناٹومی) ، علم افعال الاعضاء (فزیولوجی) یا علم النفس (سائیکولوجی) کے کسی ماہر
کو ، شرط یہ ہے کہ وہ ایمان داری سے ان پر غور و فکر کرے یا اس کی صحیح ڈھنگ سے
رہنمائی کی جائے۔ ایسا شخص جو قدرت کے نظام اور اس کی مخلوقات میں صحیح منہج پر
غور و فکر کرے گا ، وہ ملحد تو نہیں رہے گا۔
واضح رہے کہ قرآن کریم
مختلف علوم و فنون کے درمیان تفریق نہیں کرتا، برخلاف اس کے ہر اس علم کی طرف
انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے بلکہ ان پر تحقیق کی دعوت دیتا ہے جو اسے اللہ
تعالیٰ کی معرفت کی طرف لے جائے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ علماء سے
یہاں روایتی یا اصطلاحی علما ہی مراد نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ بھی مراد ہیں، جو اللہ
تعالیٰ کی حقیقی معرفت رکھتے ہوں، گو ان کا تعلق سائنسی علوم کے کسی شعبے سے ہی
ہو۔ جو جتنی اللہ کی معرفت رکھتا ہے، اتنا ہی اس سے ڈرتا ہے۔ عبادات کا حقیقی لطف
بھی ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ قوانین شریعت
کا علم اور چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور شے! شریعت کا علم رکھنے والے بہت
سے افراد بھی اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت نہیں رکھتے، نتیجتاً خوف خدا سے عاری اور
اس کی حکم عدولیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں
جو معرفت خداوندی میں کامل اور خشیت الٰہی سے لبریز ہوتے ہیں لیکن شریعت کا بہت
علم نہیں رکھتے۔
l ایک سچا واقعہ:اب اس
بات پر ایک سچا واقعہ ملاحظہ کیجئے جسے بیان کرنے والے علامہ عنایت اللہ مشرقی (۲۵؍
اگست ۱۸۸۸ء
۔ ۲۷؍
اگست ۱۹۶۳ء)
لکھتے ہیں:
’’۱۹۰۹ء
کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہورہی تھی۔ میں کسی کام کے لئے باہر
نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس (۱۱؍
ستمبر ۱۸۷۷ء
۔ ۱۶
؍ ستمبر ۱۹۴۶ء )پرنظر پڑی، جو بغل میں
چھاتا دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے۔ میں نے قریب ہوکر سلام کیا۔ انہوں نے کوئی جواب
نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
میں نے کہا، دو باتیں؛
اوّل یہ کہ زور کی بارش ہورہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے۔ اگر کوئی
مصلحت مانع نہ ہوتو تان لیجیے۔ سر جیمز اپنی بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتا تان
لیا۔
دوم یہ کہ آپ جیساشہرۂ
آفاق (سائنس داں) چرچ میں عبادت کے لئے جارہا ہے، یہ کیا؟ بات یہ ہے کہ اس زمانے
میں سائنس کے انکشافات اور نوبنو حقائق نے مذہب کو تعلیمی حلقوں سے باہر نکال دیا
تھا اور تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کے نام سے بیزار ہوچکا تھا۔ میرے اس سوال پر
پروفیسر جیمزلمحہ بھر کے لئے رُک گئے اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے: ’’آج
شام کو چائے میرے ساتھ پیو۔‘‘
میں شام کے وقت ان کی
رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک چاربجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں ، ’’سر جیمز
تمہارے منتظر ہیں۔‘‘اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر
صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ’’تمہارا سوال کیا تھا؟‘‘ اور میرے جواب
کا انتظار کئے بغیر اجرامِ آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام ، لرزہ فگن
پنہائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی کشش اور طوفان
ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفاصیل پیش کیں کہ میرا دل اللہ تعالیٰ کی اس داستان
کبریا و جبروت سے دہلنے لگا اور ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے
ہوئے تھے ، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و
دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے:
’’عنایت اللہ خان! جب میں اللہ کے تخلیقی کارناموں پر ایک سرسری سی نظر ڈالتا ہوں
تو میری تمام ہستی اللہ کے تصور و جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب کلیسا میں اللہ کے
سامنے سرنگوں ہوکر کہتا ہوں ’’تو بہت عظیم ہے، تو بہت بڑا ہے‘‘ تو میری ہستی کا ہر
ہر ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بے حد سکون و سرور نصیب ہوتا ہے اور ان سجدوں
کے بعد میں کچھ ہلکا سا محسوس کرنے لگتا ہوں۔ عام لوگوں کی صرف زبان نماز پڑھتی ہے
اور میری ہستی کا ہر ہر ذرہ محو تسبیح و تمجید ہوجاتا ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت
ہزار گنا زیادہ کیف نماز میں ملتا ہے۔ کہو تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے میں
کیوں جاتا ہوں؟‘‘
میں نے کہا: ’’جناب والا
، میں آپ کی روح افروز تفاصیل سے بے حد متاثر ہوا ہوں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی
ایک آیت یاد آگئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟ ‘‘ فرمایا: ’’ضرور ‘‘۔ چنانچہ
میں نے آیت پڑھی:
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے
اس سے پھل نکالے جن کے رنگ جداگانہ ہیں، اور (اسی طرح) پہاڑوں میں بھی سفید اور
سرخ گھاٹیاں ہیں ان کے رنگ (بھی) مختلف ہیں اور بہت گہری سیاہ (گھاٹیاں) بھی ہیں،
اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘ (فاطر:۲۷۔۲۹)
یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے:
’’کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز ! بہت عجیب!
یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ و
مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمدؐ کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت
موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمدؐ کو یہ
عظیم حقیقت خود بخود کبھی معلوم نہیں ہوسکتی تھی، انہیں یقیناً اللہ نے بتائی تھی۔
بہت خوب! بہت عجیب! ‘‘ اور سر جیمز کئی منٹ تک اس آیت پہ سر دھنتے رہے اور محمد
عربی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔‘‘ (ماہنامہ نقوش،
لاہور، شخصیات نمبر۲،
اکتوبر ۱۹۵۶ء،
صفحات ۱۲۰۸۔۱۲۰۹)
یہ واقعہ محض ایک مثال
ہے۔ پروفیسر جیمزنے اپنے علم، مشاہدے، تجربات اور تفکرات سے اللہ کو پہچان لیا۔
اسی طرح مسلمانوں کی یہ
ذمہ داری تھی کہ سائنس کے ایسے عالموں کو حکمت کے ساتھ انہی کے سائنسی اسلوب میں
بھی دین کی دعوت دیتے اور انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی پہچان کراتے، لیکن
مسلمانوں نے اس کام پر توجہ نہیں دی بلکہ روایتی علماء کے ایک بڑے طبقے نے سائنس
پڑھنے والوں کو جاہل سمجھا، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
اس طرح علماء نے سائنس سے وابستہ ایک بڑے حلقے
کے یہاں اپنے داخلے کا راستہ ہی بند کرا لیا اور دعوت کی متوقع مواقع گنواں دیے۔ چنانچہ
دونوں ہی طبقے ایک دوسرے سے کٹ گئے -مسلمانوں کی تمام تر توجہ روایتی علوم کی طرف ہی
مرکوز رہی الا ماشااللہ اور سائنس کے میدان میں ہم کافی پیچھے رہ گئے-سائنس کی افادیت
سے آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں رہا -اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان بالخصوص روایتی علما
سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں اپنے روئیں میں تبدیلی لائیں اگرچہ پہلے کے مقابلے میں
اس معاملے میں بہت نمایاں فرق واقع بھی ہوا ہے -مسلم ماہرین سائنس کو بھی چاہیے کہ
وہ قرآن و حدیث سے اپنا تعلق جوڑیں دعوتی فکر اختیار کریں اور اپنے اپنے شعبے کے علم
کو اسلامائز کر کے دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں۔
3 مارچ 2023، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی
--------------
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism