New Age Islam
Sun Mar 15 2026, 03:00 PM

Urdu Section ( 27 March 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban's Anti-Women Policy against Islamic and Democratic Principles عورتوں کے تئیں طالبان کی پالیسی غیر جمہوری اور غیراسلامی

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

27مارچ،2024

طالبان نے 15 اگست 2021ء کو افغانستان میں دوسری بار اقتدار پر قبضہ کیا۔ چونکہ طالبان اسلام کی ایک سخت گیر اور انتہا پسندانہ تعبیر پیش کرتے ییں اس لئے افغان عوام کو یہ خدشہ تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے پر ان پر بے جا پابندیاں عائد کی جائینگی ۔اس لئے ان کے اقتدار میں آتے یی ہزاروں لوگوں نے افغانستان سے نکل جانے کی کوشش کی اور ان میں سے بہت سے افغان کامیاب بھی ہوئے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاں کے عوام کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ انہوں نے سب سے پہلے تعلیم نسواں پر پابندی لگائی۔ لڑکیوں کو درجہ ششم سے آگے پڑھنے پرہابندی لگا دی۔ ہائی ا سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے دروازے ان پر بند کردئیے گئے۔ حالانکہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عورتوں کو ان کے جائز حقوق دینگے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا عورتوں کے تئیں طالبان کی پالیسی سخت تر ہوتی گئی۔ عورتوں کو سرکاری اور غیرسرکاری نوکریوں سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے بوتیک ، بیوٹی سیلون اور کاروبار بند کردئیے گئے۔ انہیں ٹی وی چینلوں سے ہٹا دیا گیا۔ ان پر کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی۔ ان کے لئے مکمل برقع لازمی کردیا گیا اور انہیں بغیر محرم کے گھر سے نکلنے سے منع کردیا گیا۔ حتی کہ انہوں نے عورتوں کے ذریعہ چلائے جارہے ایک ریڈیو اسٹیشن صدائے بانواں کو بھی اس لئے بند کردیا کہ اس پر موسیقی بجائی گئی تھی۔ جبکہ ریڈیو اسٹیشن کی سربراہ نازیہ سروش نے اس الزام کی تردید کی۔ شاید ریڈیو پر بیک گراؤنڈ میوزک بھی ان کے نزدیک ممنوع ہے۔

جون 2023ء میں طالبان نے ملک میں شادیوں اور دیگر تقریبات میں موسیقی بجانے پربھی پابندی عائد کردی ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ موسیقی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

طالبان حکومت کے ذریعہ تعلیم نسواں پر پابندی تیسرے سال بھی جاری ہے۔ مارچ میں افغانستان کا نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو امسال بھی لڑکیوں کو ہائی اسکول اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی اجازت نہیں ملی۔ اس طرح 14 لاکھ افغان لڑکیاں امسال بھی تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہوگئیں۔ ان میں سے بہت سی لڑکیاں ایسی تھیں جو ڈالکٹر بن کر ملک میں طبی خدمات انجام دینا چاہتی تھیں کیونکہ افغانستان۔میں طبی محکمہ بری حالت سے گزررہا ہے۔ بچے مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ سینکڑوں لڑکیاں ایسی تھیں جو انجینئر ، وکیل اور ٹیچر بن کر ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتی تھیں۔ ان میں بہت سی لڑکیاں ایسی بھی تھیں جو فیشن ڈیزائینر ، صحافی اور ٹی وی اینکر بننا چاہتی تھیں۔ طالبان کی دقیانوسی نظریات رکھنے والی حکومت نے صرف پردے اور حیاداری کے نام پر خواتین کو سماج سے بالکل الگ کردیا اور انہیں گھروں میں قید کردیا۔ انہیں صرف درجہ ششم۔تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے کیونکہ افغانستان کے قبائلی سماج میں لڑکیوں کا بارہ برس کی عمر کے بعد باہر نکلنا ممنوع ہے۔

عورتوں کی تعلیم اور سماجی شعبوں میں ان کی شراکت کے معاملے میں طالبان کا رویہ دیگر اسلامی ممالک کی پالیسی سے متصادم ہے۔ دیگر اسلامی ممالک بشمول سعودی عربیہ ، ایران ،ترکی ، مصر ، پاکستان ، بنگلہ دیش وغیرہ میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے ،ملازمت کرنے کھیلوں اور فنون میں حصہ لینے پر پابندی نہیں ہے بلکہ وہ حیاداری کا پاس کرتے ہوئے زندگی کے تمام شعبوں میں کام کرسکتی ہیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ عرب ممالک کی خواتین اب سائنس کے شعبے میں بھی اہنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں۔ کئی عرب خواتین خلائی سائنس میں بھی سرگرم ہیں۔ کیونکہ اسلام میں حیاداری کا پاس رکھتے ہوئے عورتوں کو تمام شعبوں میں کام کرنے کی اجازت ہے۔اسلام صرف بے حیائی ، فحاشی اور فضول کے کاموں کے خلاف ہے۔ لہذا، طالبان کا خواتین مخالف رویہ اسلامی اصول پر نہیں بلکہ افغانستان کے قبائلی اصول۔پر مبنی ہے ۔ افغانستان کے قبائلی سماج میں عورتوں کو بدی کا محور سمجھا جاتا ہے اس لئے انہیں بارہ برس کی عمر کے بعد گھر سے نہیں نکلنے دیا جاتا طالبان جس کو اسلامی قانون کہہ کر افغانوں پر تھوپ رہے ییں وہ دراصل افغانستان کا قبائلی قانون ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کی حکومت کے تمام وزراء اور طالبان کے تمام لیڈران عورتوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی عورتوں کی تعلیم کے حامی ہیں لیکن طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ عورتوں کی تعلیم اور ان کی سماجی آزادی کے کٹر مخالف ہیں۔وہ قدامت پسند اور انتہا پسند طالبان لیڈر ہیں اور طالبان کی پالیسی سازی کے عمل۔پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لئے طالبان نے ابتدا میں عورتوں کے حقوق کی پاسداری کا وعدہ کرنے کے باوجود اپنا وعدہ وفا نہیں کیا کیونکہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے تعلیم نسواں کی سختی سے مخالفت کی۔

تعلیم سے محروم ہونے اور سماج میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع سے محروم کردئیے جانے کی وجہ سے لڑکیوں اور خواتین میں قنوطیت اور یاسیت کا غلبہ ہے اور ان میں خودکشی کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ لیکن اس صورت حال سے نجات کی انہیں کوئی امید نظر نہیں آرہی ہےکیونکہ طالبان نے اپنے تمام حریفوں کا خاتمہ کردیا ہے۔بیس برسوں تک جس سیکولر لابی نے امریکہ کی مدد سے افغانستان پر حکومت کی اس کے افراد یا تو ملک سے باہر جاچکے ہیں یا غیرفعال کردئے گئے ہیں۔ اگست 2023ء میں طالبان نے سیاسی پارٹیوں کوبھی ممنوع قرار دے کر ملک میں حزب مخالف کو قانونی طور پر ختم کردیا۔ طالبان کے مطابق اسلامی شریعت میں سیاسی پارٹیوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس طرح ملک کی 70 سے زیادہ رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کو طالبان نے کالعدم قرار دے دیا اور اپنے اقتدار کو مزید استحکام بخش دیا۔

طالبان کے اسی غیر جمہوری طرز عمل اور پالیسیوں کی وجہ سے ابھی تک طالبان حکومت کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا یے۔ امریکہ نے اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان شدید معاشی بحران سے گزررہا ہے۔ ملک میں افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ بچے فاقہ کشی کے شکار ہیں لیکن طالبان معاشی اور صنعتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ملک میں قبائلی کلچر کو اسلام کے نام پر فروغ دے رہا ہے ۔ اس کی اس قبائلی سوچ کا خمیازہ افغانستان کے عوام خصوصاً خواتین بھگت رہی ہیں۔

-------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/taliban-anti-women-islamic-democratic/d/132014

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..