نیو ایج اسلام اپنے عیسائی برادران کو کرسمس کی مبارکباد پیش کرتاہے
ہمارے قارئین
غیر مسلموں کے قتل کی حمایت میں طالبانی فتوے کو پڑھ چکے ہیں ۔ ہم نے اسکی تردید
بھی شائع کی ہے۔ طالبان کی طرف سے ایک اور
فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو
عیسائیوں (اہل کتاب ) کو کرسمس کی مبارکباد
دینے سے منع کیا گیا ہے اور اسے حرام اور غیر شرعی عمل قرار دیا ہے۔ یہ انکی طرف سے
اس تکثیری سماج میں مسلموں اور عیسائیوں کے
درمیان تفرقے کو بڑھاوا دینے کی ایک اور کوشش
ہے۔ اس طرح کے فتاوی نفرت کو فروغ دیتے ہیں
اور مسلمانوں کو ایک ایسی قوم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بین مذہبی ثقافتی تبادلے اور افہام و تفہیم میں یقین نہیں رکھتی جس پر قر آن
میں زور دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلموں کے تحائف اور دعوت قبول فرما
تے تھے۔مسلم معاشروں میں اس طالبانی نظرئیے
اور ذہنیت کی جڑیں کتنی گہری ہو چکی ہیں اس
کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا میں مذہبی حلقوں کی طرف سے امسال مسلمانوں کو عیسا
ئیو ں کو کرسمس کی مبارکباد دینے سے منع کیا گیا ہے ،انکی دعوت قبول کرنا اور انکی
خوشی میں شامل ہونا تو دور کی بات ہے۔حتی ٰ کہ انہوں نے وہاں کے صدر سے قومی کرسمس جشن میں شامل نہ ہو
نے کی درخواست کی ہے جبکہ ایک تکثیری ملک کے صدر کی حیثیت سے انہیں شامل ہونا چاہئے۔
لہذا، یہ واضح کہ یہ طالبانی فتاوی دور رس
اثرات کے حامل ہیں اور اس ذہنیت کی سخت ترین
الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے اور اجتماعی طور پر اسکا مقابلہ کرنا چاہئے۔
آخر میں ہم اپنے تمام اہل کتاب برادران کو کرسمس کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور نئے سال میں انکی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں۔ہم یہاں نوائے افغان جہاد میں شائع شدہ مضمون کی نقل
پیش کر رہے ہیں اور اپنے قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار
کریں۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک
Taliban
fatwa against ‘Merry Christmas’ has far reaching consequences
New
Age Islam wishes Christians a Merry Christmas!
Dec
24, 2012
Our
readers have gone through the Taliban’s fatwa justifying the killings of
non-Muslims published in their mouth-piece Nawa-e-Afghan Jihad. We have
published the refutations of it. In yet another fatwa on the issue of extending
greetings to Christians (ahl-e-Kitab) on Christmas, they have declared saying
‘Merry Christmas’ to Christians haram and un-Islamic. This is another attempt
at creating rifts between Muslims and Christians in a multicultural society.
Fatwas like this only promote hatred and present Muslims as a community that
does not believe in communal harmony and interfaith cultural exchanges and
dialogue which the Quran encourages and emphasises. The holy Prophet (PBUH)
accepted invitations and gifts from non-Muslims and stood by them in their joy
and sorrow.
This
Talibani ideology and mindset has taken deep roots in all Muslim societies.
This is evident from the fatwa issued by ulema from a section of religious
community in Indonesia and other Muslim countries urging Muslims not to say
Merry Christmas to the Christians, not to speak of accepting their invitations
to their festivities. In Indonesia they have even asked the President not to
attend the national Christmas celebrations which he should do as the President
of a multi-religious country. The Taliban fatwa, therefore, seems to have
far-reaching consequences and this mindset has to be condemned in the harshest
possible terms and fought collectively. At the end, we wish all our ahl-e-kitab
Christian brethren a very happy Christmas and pray for their well being and
prosperity in the New Year. We are producing the article published in the
Nawa-e-Afghan Jihad so that Muslims may be aware of what is going on their
society. Now when they hear these same arguments from a seemingly
well-educated, even westernised liberal, they can judge where these arguments
are coming from, sometimes even without the express understanding of the
speaker. We hope readers will express their views on it. -- New Age Islam Edit
Desk
--------------------------------------
کرسمس میں عیسائیوں کے ساتھ
کسی قسم کا تعاون اور مبارک باد دینا قطعاً ناجائز اور حرام ہے
حضرت مفتی حمید اللہ جان صاحب
د امت برکا تہم العالیہ
دسمبر ، 2012
بسم اللہ و الحمد اللہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و الہ و صحبہ و
من والاہ۔
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
یَأَ یُّھا اُلَّذِینَ ءَ
امَنُو ا لاَ تَتَّخذٰ وا اُ لْیَھُودَ وَ اُ لنَّصَرٰیٰٓ أَ وْلِیَآ ءَ بَعْضُھُمْ
أَوْلِیَآ ءُ بَعْضٍ وَمَن یَتَوَ لَّھُم مِّنکُم فَإ نَّہُ مِنْھُمْ انَّ اُللہ لاَ
یَھْدِی اُلْقَوْمَ اُلظَّلِٰمِینَ
میرے عزیز بھائیو! آج کا مغرب
ہم پر اپنا نظام مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہ عیسائیوں کانظام ہے ، عیسائیت نےاسی لیے ہمارے
حوالےکیا ہے یہاں کہ مسلمان بظاہر تو مسلمان ہوں لیکن نظام ہمارا ہو .... او ریہ اسی
نظام کی ‘‘برکت’’ ہے کہ آج ہم ہر اُس لعنت میں اُن کے ساتھ ‘ رواداری’ کا نام دے کر
شریک ہوتے ہیں...... کبھی اتحاد کرتے ہیں ..... کبھی چندے اکٹھے کرتے ہیں ...... بلکہ
چند سال پہلے ...... دو یا تین سال پہلے جب
پرویزمشرف کا دور تھا تو ایک اجلاس بلایا تھا اسلام آباد میں اس کی صدارت میں ، اُس
اجلاس میں عیسائی بھی موجود تھے اورمختلف مکاتب فکر کے علما بھی موجود تھے ۔ وہاں عیسائیوں
نے کھُل کر بیان کیاکہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں ( العباذ باللہ )
..... انہوں نے اپنا عقیدہ کھُل کر بیان کیا ..... مگر ہمارے علمانے اس پر کوئی تنقید
نہیں کی بلکہ بعض حضرات نے وہاں خوشامد کی ..... چنانچہ ایک عالم نے میرے سامنے یہ
بات کہی کہ ‘‘ اُس اجلاس سے ہم نکلے مگر ایمان چھوڑ کر نکلے’’ ...... کہ وہ کفر بکتے
رہے او رہم سنتے رہے ..... افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علماء کوئی اُن کے ساتھ کیک
کاٹتا ہے .... کوئی اُن کو مبارک باد دیتا ہے ..... علما یہ کرتے ہیں تو عوام کا کیا
حال ہوگا؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے
رسول ہیں ..... ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت کے منکر نہیں ہیں .... بلکہ حقیقت
میں اُن کی عظمت کے قائل تو ہم ہیں .... ہم کہتے ہیں آسمانوں پر چڑھ گئے تھے ، وہ کہتےہیں
سولی پر چڑھے تھے ..... احترام ہم اُن کا کرتےہیں! لیکن یہ تہوار جو وہ مناتے ہیں ، یہ اُن کا مذہبی تہوار ہے .... او رکافروں کے
کسی بھی مذہبی تہوار کے ساتھ شرکت کرنا نا جائز ہے ..... لہٰذا علمائے کرام کو چاہئے
بلکہ عوام کو بھی چاہئے کہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی بے دار کریں ۔ لیکن ہم کیا
کررہے ہیں؟ ہر کافر کے ساتھ ، مرزا ئیوں کے ساتھ ہم گھُل مل چکے ہیں ، عیسائیوں کے
ساتھ ہم گھل مل چکے ہیں ۔ او رپھر ایسی حالت میں کہ جب عیسائیوں کے ساتھ ہماری عالمی
جنگ ہے ..... ایسی حالت میں اُن کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ...... اللہ اکبر !!! شیخ
الاسلام مولانا حسین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ .... میرے پاس ارشاد ات مدنی موجود ہے
.... کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں سختی کرتا ہوں.... میں اُن کا ارشاد نقل کرتا ہوں
.... اگر سختی کی ہے تو انہوں نے کی ہے، نرمی کی ہے تو اُنہوں نے کی ہے ..... میں نقل
کرنے والا ہوں ......
مولانا ادریس صاحب رحمۃ اللہ
علیہ کی بات یاد آگئی .... مولانا ادریس رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت کمرے
میں اے سی لگانا کیسا ہے ؟ تو مولانا نے فرمایا کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا
کرتے تھے کہ مکان میں چار چیزیں مقصود ہوتی ہیں .... رہائش ....زیبائش ..... آسائش ، سہولت ، پنکھے لگا نا وغیرہ او رنمائش ......
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آخری نمائش ناجائز ہے باقی سب جائز ہے
.... تو اُس شخص نے مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت !
آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ تو آپ نے حضرت تھانوی کا ارشاد نقل کیا ، آپ کی کیا رائے ہے؟
تو مولانا ادریس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ‘‘ اچھا مولوی صاحب ! ہماری کیا حیثیت
ہے ؟ ہماری حیثیت تو حد اوسط کی ہے، حد اوسط صغریٰ کو کبریٰ سے ملا کر درمیان سے گرجاتا
ہے ..... ہم تو بڑوں کی بات آپ تک پہنچاتے ہیں ، ہماری کیا حیثیت ہے ..... بڑوں کی
بات آپ تک پہنچانے والے ہیں ..... تو میں بھی یہی گذارش کررہا ہوں کہ میں بڑوں کی بات
آپ تک پہنچا رہا ہوں ..... پھر آپ خود فیصلہ کریں۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین
احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد ات مدنی کے اندر بہت کچھ فرمایا ہے ، میں اُس کا
خلاصہ او رنچوڑ رکھتا ہوں .... کہ جب کافر مسلمانوں پر حملہ آور ہوں، جیسے روس افغانستان
میں آیا ، امریکہ افغانستان میں آیا .... جب کافر، مسلمان پرحملہ آور ہوں.... شیخ الاسلام
مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ نقل کررہا ہوں .... میں نقل کرنے والا ہوں
.... تو جو مسلمان اُس کافر کا ساتھ دے ، وہ بدترین کافر ہے.... صرف ‘ کافر ’ کا لفظ
نہیں کہا ، بلکہ فرمایا ‘ وہ بدترین کافر ہے ’ ...... آج ہم اُنہی عیسائیوں کے ساتھ
رواداری کرتے ہیں ، اُن کے ساتھ کانفرنس کرتے ہیں.... اُن کے ساتھ کیک کاٹتے ہیں
.... اُن کے ساتھ اظہار محبت کرتے ہیں ..... اللہ کا فرمان ہے :
یَأَ یُّھا اُلَّذِینَ ءَ
امَنُو ا اے ایمان والو! لاَ تَتَّخذٰ وا اُ لْیَھُودَ وَ اُ لنَّصَرٰیٰٓ أَ وْلِیَآ
ءَ یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ بَعْضُھُمْ
أَوْلِیَآ ءُ بَعْضٍ یہ اپنے درمیان ایک دوسرے کے دوست ہیں ..... سب اکٹھے ہیں نا نہیں
ہیں ؟ نیٹو کے نام پہ یا ایسا ف کے نام پہ ..... جو بھی نام رکھتے ہیں ، سب اکٹھے ہیں
آپ کے خلاف وَمَن یَتَوَ لَّھُم مِّنکُم فَإ
نَّہُ مِنْھُمْ اور جس نے اُن کے دوست بنایا وہ بھی اُنہی میں سے ہے، مفسرین لکھتے
ہیں فحکمہ حکمھم اُن کا حکم بھی وہی ہے جو
اُن کا ہے ۔ اس لیے میں یہ گذارش کررہا ہوں کہ علمائے کرام اپنی مساجد میں اس کو موضوع
بنائیں او رایک مشترکہ فیصلہ بھی کریں اور جن لوگوں کی بات ذرائع ابلاغ میں سنی جاتی
ہے وہ اس ذریعے سے بھی اس بات کی وضاحت کردیں کہ مسلمانوں کو کرسمس میں عیسائیوں کے
ساتھ کسی قسم کا تعاون او رمبارک باد دینا قطعاً ناجائز اور حرام ہے ۔ یہ اُن کا مذہبی
تہوار ہے او رکفار کے کسی بھی مذہبی تہوار میں اُن کے ساتھ میل جول یا اختلاط یا دوستی
نماپالیسی یہ سب ناجائز ہے .... اللہ کریم سب کو سمجھ عطا فرمائے ....آج کل کرسمس کا
موقع ہے اور اس میں پھر کانفرنسیں بھی ہوتی
ہیں ، پھر علما بھی اُس میں چلے جاتے ہیں ....
میں علما سے یہ درخواست کروں
گا یہ نہ خود جائیں بلکہ دوسروں کو بھی روکیں .... خدارانہ جائیں..... خدارا نہ جائیں
.... خدارا نہ جائیں .... بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم وہاں حق بات کہہ دیتے ہیں .... لیکن
وہ جو کفر بکتے ہیں ، اُس کفر کو تو آپ نہیں روکتے ! آپ کے ہوتے ہوئے کفر بکتے ہیں
.... علما نہ جائیں اُن کی کانفرنس میں تو یہ اُن کی ناکامی ہوگی کہ علمائے کرام نہیں
آرہے .... جب آپ چلے جاتے ہیں تو اُن کی کانفرنس کامیاب ہوجاتی ہے .... چاہے آپ گالیاں
بھی دیں لیکن اُن کی کانفرنس کامیاب ہوجاتی ہے ......وہ اپنی کامیابی پر خوشی مناتے
ہیں کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء اکٹھے ہوئے تھے ، بریلوی بھی تھے دیوبندی بھی تھے
، اہل حدیث بھی تھے .... تمام مکاتب فکر کے سبب لوگ جمع تھے .... تو اُن کو تقویت مل
جاتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علما آئے تھے .... اس لیے اُنہیں ناکام بنانے کا طریقہ
یہ ہے کہ اُن کا بائیکاٹ کیا جائے ، اُن کی کسی قسم کی کانفرنس میں جو مشترکہ کانفرنس
ہو، مسلمانوں کو خصوصاً علمائے کرام کو قطعاً شرکت نہیں کرنا چاہئے .... اور اُس میں
شرکت کرنا باعث گناہ ہے .... باعث ثواب نہیں ہے ، یہ ایک غلط تصور ہے ۔ اصل میں شیطان
دھوکہ دیتا ہے .... میں وہاں حق بات کروں گا .... بادشاہ کے ساتھ ، وزیر کے ساتھ ،
منظروں کے ساتھ میرا فوٹوں بھی آجائے گا اور میرا نام بھی آجائے کہ یہ بھی بڑا آدمی
ہے ... تو اندر بیماری کچھ اور ہوتی ہے .... او رظاہری میں بات کچھ او رہوتی ہے
.... اللہ تعالیٰ آپ او رہم سب کی حفاظت فرمائے ، آمین ۔ یہی میر اگذارش ہے ..... یہی
میرا فتویٰ ہے اور یہ بھی شکر ہے کے علمائے کرام نے میری تائید کی اور گویا اس فتویٰ
میں میں متفرق نہیں ہوں اور منفرد نہیں ہوں بلکہ علمائے کرام ساتھ ہیں .... اللہ تعالیٰ
اُن کو جزائے خیر دے ۔
و آخر دعوانا ان الحمد اللہ
رب العالمین
دسمبر ، 2012 بشکریہ
: نوائے افغان جہاد
URL: https://newageislam.com/urdu-section/taliban-fatwa-‘merry-christmas’-far/d/9788