
غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام
29 جولائی 2015
اس سال داعش نے مکمل طور پر اس کے علاقے میں سب سے زیادہ مقدس اسلامی تہوار عید الفطر کے جشن پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ : "(محبت اور امن کو فروغ دینے والا تہوار) عید کبھی بھی اسلام کا ایک حصہ نہیں تھا"۔ ظاہر ہے کہ یہ دلیل بھی داعش کے اس خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کی سوچ و فکر کے مطابق ہے جس نے ایک بار یہ اعلان کیا تھا کہ: "اسلام کبھی ایک بھی دن کے لئے بھی امن کا مذہب نہیں رہا ہے۔ یہ ہمیشہ جنگ اور فساد کا مذہب رہا ہے"۔ (اتفاقاً، ہندوستانی علماء نے دوسری جگہوں کے علماء کی ہی طرح اس کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس بیان کی مخالفت کی) درحقیقت داعش اور اس سے ملحقہ تنظیمیں جس اسلام کا دعویٰ کرتی ہیں یا جس اسلام پر عمل پیرا ہیں اس میں محبت، امن، رحمت اور ہم آہنگی کے کسی بھی تہوار کی کبھی کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ لہذا، وہ خاص طور پر عراق اور نائیجیریا میں، کسی کو عید مناتے اور اس تہوار کا لطف اٹھاتے ہوئے برداشت نہیں کر سکے۔
خاص طور پر، انتہا پسند مسلمانوں کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی نے عید کی روحانی معنویت سے اسلام کی لاتعلقی ثابت کرتے ہوئے عید کی تقریبات کی مزاحمت کی ہمیں روشن نشانیاں دیں ہیں۔ اس نے ہمیں سمجھا دیا ہے کہ جو لوگ سختی کے ساتھ اسلام میں جشن کے تصور کی مخالفت کرتے ہیں وہ لوگ البغدادی کی جہادیت کی راہ پر ہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کی اسلام کی راہ پر نہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش اور اس سے ملحقہ تنظیمیں محض 'مسلم عسکریت پسند' یا سیاسی اسلام پسند ہی نہیں ہیں۔ ان کے منصوبے اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ خطرناک ہیں جس کے لیے انہوں نے مصر میں اخوان المسلمین، نائیجیریا میں بوکو حرام اور شام میں جبہت النصرہ اور عرب کے مختلف حصوں میں ایسی دیگر تنظیموں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے۔ وہ ایک 'اسلامی ریاست' نہیں بلکہ ‘خاری ریاست’ کے قیام کا مقصد رکھتے ہیں۔ مسلم ممالک میں ان کی تمام بربریت اور تشدد آمیز انتہا پسندی کے لئے، صرف اور صرف ایک ہی نظریے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؛ اور وہ خارجیت ہے۔
تاہم، مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں نے اپنے روایتی اور قدیم اسلامی معمول کو ترک نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انتہائی سخت، رجعت پسند اور خطرناک انتہا پسند خوارج کے پیروکار داعش کے جہادیوں نے عید کے دن ان عراقی مسلمانوں پر شدید حملہ کیا جو کسی بھی طرح عید الفطر کی نماز یا اس جشن میں شامل تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق، محض عراق کے مشرقی صوبے دیالہ میں ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے جو رمضان کے مقدس مہینے کی اختتامی تقریب منانے کے لیے ایک بازار میں جمع ہوئے تھے۔ داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں بچوں سمیت 80 افراد قتل کیے گئے تھے۔ کچھ مقامی عرب نیوز چینلز نے رپورٹ دی ہے کہ تقریباً 180 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایف پی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں دیالہ صوبے میں ایک کونسل کے رکن محمد جواد الہمدانی نے کہا کہ " 35 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں اور 70 سے زائد زخمی ہیں"۔ اسی طرح تقریبا 20 میل دور شمالی مشرقی بغداد میں خان بنی سعد میں وحشیانہ حملوں میں انہوں مختلف اسلامی عمارتوں کو نقصان پہنچایا جن میں رمضان کے بعد عید الفطر منانے والے لوگ مارے گئے۔
اس سے قبل اس انتہاپسند جہادی فرقے داعش نے اسی طرح مذہبی بنیادوں پر رمضان المبارک کے دوران روایتی تراویح کی نماز پابندی لگا دی تھی۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ داعش عید اور تراویح جیسے دونوں خوبصورت روحانی معمولات کی سختی کے ساتھ مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی دھارے کے اسلامی علماء کرام متفقہ طور پر ان کی مذہبی و قانونی حیثیت پر متفق ہیں۔ اب یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح داعش کے جہادیوں کا دین مکمل طور پر مرکزی دھارے کے مسلمانوں کی روح کے خلاف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ البغدادی کا ایمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کے ساتھ متصادم ہے۔
ایک کرد زیوز ایجنسی رداؤ ‘Rudaw’ کے مطابق، داعش نے اپنے مقبوضہ علاقوں کے باشندوں کو سختی کے ساتھ نماز عید سے گریز کرنے کے لیے ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ انتباہ داعش کے علماء کرام کی اس رائے کا ایک براہ راست نتیجہ تھا کہ: اس طرح کا کوئی عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کبھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل سعودی عرب کا ایجاد کردہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعش نے عوامی طور پر اس پابندی کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھنے والے تقریبا آٹھ عرب شیوخ کو کوڑے لگائے۔
داعش اور اس جیسی تنظیموں کو صرف عید ہی نہیں بلکہ ہر جشن سے سخت پریشانی ہے خواہ وہ عید الفطر ہو یا عید الاضحیٰ ہو ، دوسرے مذاہب کے تہواروں کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ اس کی وجہ دریافت کرنا مشکل نہیں ہے۔ اسلام میں یہ تمام تقریبات محبت، امن، ہمدردی، رواداری، تکثریت اور تنوع کے اقدار پیدا کرتے ہیں جن کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بالکل یہی وجہ ہے کہ اس انتہا پسند تنظیم نے ماہ رمضان کے بعد عید الفطر کے جشن میں کسی بھی طرح شریک نہ ہونے کے لیے عراق کے مسلمان باشندوں کو دھمکی دی ہے۔
تاہم، خود ساختہ 'امیر المومنین (مسلم خلیفہ) ابو بکر البغدادی کا یہ دعویٰ کہ "اصل اسلامی معمولات میں عید کی کوئی بنیاد نہیں ہے" کمزور اور بے بنیاد ہے۔ امت مسلمہ کا اس بات پر عالمی اتفاق رائے ہے کہ نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ذات پات، نسل اور مذہب سے قطع نظر لوگوں کے درمیان امن، مفاہمت، ہمدردی، اخوت اور مساوات کی روح کو فروغ دینے کے مقصد سے اسلام میں عید کے تہوار کو متعارف کرایا ہے۔ عید کا نظام سماجی اخوت اور یکجہتی کو پھیلانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں کی ایک علامت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی جائے پیدائش مکہ سے ہجرت کر کے شہر مدینہ پنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سختی کے ساتھ ایک ایسی دعوت کی ضرورت محسوس ہوئی جس سے امن، اتحاد، صدقہ، اخوت، مساوات اور گہرے انسانی جذبات کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔ لہٰذا، اس پر وحی الٰہی کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا: "اللہ تعالی نے ہمیں دو بابرکت عیدوں سے نوازا ہے: عید الفطر اور عید الاضحیٰ '(ابو داؤد "کتاب الصلات" صفحہ 245؛ نسائی،"کتاب الادیان" 1 )۔ اس کے علاوہ، عید کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان عید کے موقع پر رمضان کے اختتام کا جشن مناتے ہیں۔ عید کا دن مقدس اسلامی مہینہ شوال کا پہلا دن بھی ہے۔
بہر حال، عرب ممالک میں داعش کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے مسلمان اس سال عید الفطر کی خوشی سے محروم رہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ان علاقوں میں البغدادی کی اسلام کی غلط ترجمانی اور قرآن کی غلط تشریح کی بنیاد پر انسانی حقوق اور عالمی اسلامی اقدار کی زبردست خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس کا نتیجہ عید کے جشن پر غیرانسانی اور غیر اسلامی پابندی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کے متعلق داعش کے نظریات کی صدیوں پرانے روایتی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں ہے جس پر پوری دنیا میں مرکزی دھارے میں شامل مسلمان عمل پیرا ہیں۔ اسی طرح نمازوں اور عید کے تہوار پر انتہائی بنیاد پرست پابندی حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ روایات سے متصادم ہے۔
کسی بھی قسم کی تقریبات پر پابندی عائد کرنے کی ایک مذہبی بنیاد قائم کرنے والے سب سے پہلے اسلام پسند نظریہ ساز 14ہویں صدی کے عالم ابن تیمیہ تھے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام میں جشن کے تصور کو 'بدعت' (اسلام میں ایک نا جائز جدت) قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ایک غیر مصالحانہ جنگ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اپنے فتاوں میں عید میلاد النبی (نبی کی جشن ولادت)، عرس کے جشن (صوفی بزرگوں کی سالگرہ کا جشن) اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت مقدس مزارات کی زیارت جیسی صدیوں پرانی اسلامی روایت کی مخالفت کی۔ ابن تیمیہ نے ان تمام اسلامی معمولات کو 'عیسائی عبادت کی اندھی تقلید' قرار دیکر ان تمام تقریبات کی مذمت کی اور انہیں 'بت پرستی' کی ایک دوسری شکل قرار دیا۔
ابن تیمیہ کے "سخت گیر" راستوں پر چلتے ہوئے وہابیت کے بانی نظریہ ساز محمد ابن عبدالوہاب نے اسلام میں جشن کے تصور کو کالعدم قرار دیا۔ انہوں نے ان تمام معمولات کو صرف حرام اور بدعت (دین میں ناجائز اختراع) ہی نہیں کہا بلکہ انہوں نے کچھ قدم اور آگے بڑھتے ہوئے یہاں تک قرار دیا کہ جو بھی اسلام کی اس مخصوص روایت کو تسلیم کرنے میں 'شک یا تردد' کرے گا وہ مباح الدم (جس کا خون بہانے کی اجازت ہے) اور واجب القتل (جس کا قتل لازمی ہے) ہے۔ یہ تاریخ اسلام میں پہلا ایسا موقع تھا کہ جب جشن کی تقریبات کو اتنا برا قرار دیا گیا تھا کہ جس کی بنا پر لوگوں کو ان کی جائیداد اور زندگی سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد سے، ابن تیمیہ اور ابن عبد الوھاب سے متاثر تکفیری نظریے کے سخت گیر پیروکاروں نے کسی بھی قسم کی تقریبات میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کو 'مشرکین' (کافر) قرار دیکر دوسرے مسلمانوں سے نفرت کرنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سخت گیر انتہا پسند وہابیت اور خارجیت کے پیروکاروں نے مذہبی تہوار، روحانی تقریبات، جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور یہاں تک کہ محفل ایصالِ ثواب اور مقدس مزارات، خصوصی طور پر اسلامی مقامات اور مساجد کی زیارت سمیت اس طرح کی تمام تقریبات پر پابندی عائد کر دی جن کی اسلام میں اجازت تھی اور لوگ جن پر عمل پیرا تھے۔
ظاہر ہے کہ بہت سے دوسرے معاملات کی طرح اس سلسلے میں بھی وہابیت اور داعش کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ عید کی تقریب منانے والے تمام لوگوں کو بے دریغ قتل کرنے کا ابوبکر البغدادی کا حکم ابن عبد الوہاب کے اس فتوے سے مختلف نہیں تھا کہ ‘‘مندرجہ بالا تقریبات میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کو قتل کر دیا جانا، ان کی بیویوں اور بیٹیوں کی عصمت کو پامال کیا جانا اور ان کے مال کو ضبط کر لیا جانا چاہیے"۔ غیر مسلموں سمیت تقریبات منانے کے جرم میں قتل کیے جانے کے مستحقین کی فہرست میں صوفی، شیعہ اور دیگر فرقوں کے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں محمد ابن عبدالوہاب نے کافر اور مشرک قرار دیا ہے اور انہیں واجب القتل شمار کیا ہے۔ کیا عید کا جشن منانے والوں کو کوڑے مارنے کی داعش کی حیوانیت اسی فقہی بنیاد پر مبنی نہیں ہے؟ اسی طرح، کیا البغدادی کی خود ساختہ خلافت مکمل طور پر "ایک حکمران، ایک اتھارٹی اور ایک مسجد" کے ابن عبدالوہاب کے نظریے جیسا نہیں ہے؟
یقیناً اب اس معاملے کو سمجھنا بالکل آسان ہے کہ کیوں انتہا پسند جہادیوں کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی نے سختی کے ساتھ عید کی تقریبات پر پابندی لگا دی اور عید کے دن نماز و دعا میں مشغول مسلمانوں کو کیوں قتل کیا۔ البغدادی نے اس پر اس لیے پابندی عائد کر دی کیوں کہ یہ دنیا اسلام کے لئے اسلام کے بنیادی پیغامات کی بازیافت کرنے کا ایک اہم موقع تھا: نفرت کی جگہ محبت؛ غصے کی جگہ صبر و تحمل؛ جنگ کی جگہ دینی اقدار؛ عدم برداشت کی جگہ بقائے باہمی اور جامعیت اور تفوق پرستی کی جگہ تکثیریت۔
اب آخر میں، میں 5 فروری، 2015ء کو A9TV پر ہارون یحیٰ المعروف بہ عدنان اوکٹار کی لائیو گفتگو سے ایک متعلقہ اور شاندار اقتباس کو پیش کرنا چاہوں گا:
"داعش جس اسلام کی پیروی کرتا ہے اور ہم جس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں اس میں ایک فرق ہے۔ دنیا اس اسلام کو قبول کرتی جس کی ہم تبلیغ کرتے ہیں لیکن دنیا اس اسلام پر در عمل کا اظہار کرتی ہے جس کی تبلیغ داعش فضائی حملوں کے ذریعے کرتا ہے۔ یہ وہ اسلام نہیں ہے جس پر لوگ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ بہر حال، ہم جس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں وہ اسلام دنیا کو تحفظ فراہم کریگا اس لیے کہ اس اسلام میں محبت، امن، بھائی چارہ، نیکی، خوبصورتی، فنون اور جمالیات ہیں۔ اس اسلام میں خواتین کو مردوں کے تاج میں موتی کی طرح پیدا کیا گیا ہے۔ خواتین آزاد ہیں، بچے آزاد ہیں اور نوجوان بھی آزاد ہیں۔ اس میں ہر جگہ خوشی ہے۔ لیکن روایت پسند اور اسلام کے انتہائی قدامت پسند تصور میں ہر چیز سخت ہے، ہر جگہ عذاب کی جگہ ہے، صرف جسم اور روح کے ساتھ یہ تباہی و بربادی کا دوسرا نام ہے۔ (اس ذہنیت کے مطابق) سر قلم کرنا، اعضاء کاٹنا اور ایک انسان کا سر قلم کر کے اس کی نمائش کرنا ایک 'عام' معمول تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں ہر جگہ خون ہے؛ بھوک ہے، بدحالی ہے اور ہر جگہ آہ و زاری ہے۔ بھوک، بدحالی، نفرت، ظلمت انگیز مناظر اور فساد یہ تمام چیزیں انتہائی قدامت پسند اسلام کی بڑی اکثریت کے ساتھ مخصوص خوفناک چیزیں ہیں۔"
URL for English article: https://newageislam.com/the-war-within-islam/the-ideology-behind-isis-banning/d/104077
URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/the-ideology-behind-isis-banning/d/104099