سلطان شاہین ، ایڈیٹر نیو ایج اسلام
18مارچ، 2014
اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل
مستقل پچیسویں نشست (2014 مارچ 28-3)
ایجنڈا آئٹم 4: اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے لئے خصوصی تشویش کے موضوعات
سلطان شاہین،
عزت مآب صدر
افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی اور شمالی امریکہ، یورپ اور دنیا کے باقی حصوں میں شام کی جہادی مہم سے اسلامی دہشت گردوں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو لیکر جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک بڑے فکر مند ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں طالبانی جہاد کا بڑھتا ہوا رجحان ہندوستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی میں اضافہ کی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔
جناب صدر! ایک تجربہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض فوجی ذرائع سے نہیں لڑی جا سکتی۔ اس جنگ میں جس قدر فوجی اقدامات کا عمل دخل ہے اسی قدر اس کی نظریاتی بنیادیں بھی ہیں۔ اسلام کی علیحدگی پسند، سیاسی، جابر اور جہادی روایتوں کی مزاحمت کی جانی چاہیے اور حصول نجات کے لئے ایک جامع اور روحانی راستہ کے طور پر اسلام کی مرکزی تعلیمات کو بھرپور طریقے سے فروغ دیا جانا چاہیے۔ مغربی حکومتوں میں صرف برطانیہ نے اس جنگ کی نظریاتی نوعیت کے تعلق سے بیداری کا ثبوت دیا ہےاور نظریاتی طور پر اس کا مقابلہ کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں برطانوی مسلمانوں کا ردعمل مایوس کن رہا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان اس حقیقت سے انکار کر رہے رہیں۔ ان کے اندر خود احتسابی کی معمولی سی علامت بھی نہیں پائی جاتی۔
برطانوی مسلمانوں کو وزیر اعظم کی ٹاسک فورس سے یہ رپورٹ ملی کہ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی سے نمٹنا ایک مشکل ترین امر ہے۔ اس کے نتیجے میں اٹھائے گئے اقدامات بھی پریشانی اور مشکلات کی ہی وجہ بنیں۔ لیکن اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ خود مسلمان اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو یہ سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے کہ یہ بنیادی طور پر اسلام کے اندر ایک داخلی جنگ ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے۔
طالبان نے پہلے ہی اپنے اثر و رسوخ کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں انہوں نے مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکومت کو مجبور کر دیا۔ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی آرمی کے 23 قیدی فوجیوں کے گلے کاٹ دیے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ 1971ء میں ہندوستان کے خلاف جنگ میں 90000 پاکستانی فوجی قیدی بنائے گئے تھے لیکن ان میں سے ایک کا بھی سر قلم نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں اس بات پر بھی حیرت ہے کہ پاکستانی طالبان کس طرح کے شرعی قانون کا نفاذ چاہتے ہیں جو ان کے اپنے ہی ملک کے فوجیوں کے گلے کاٹنے کی اجازت دیتا ہے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کو انتہائی سرگرمی کے ساتھ جہاد کی اس لعنت اور اسلام کی اس جعلی اور خود ساختہ تشریح کو حل کرنے کی کوشش کرنی ضروری ہے۔
جناب صدر!
اب ہم چند مندرجہ بالا مسائل پر قدرے تفصیل کے ساتھ غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے میں یہ عرض کر دوں کہ میں یہ دیکھ کر خوش ہوں اور مطمئن بھی کہ مغرب میں کم از کم ایک حکومت ایسی ہے جسے اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ یہ جنگ صرف گولیوں اور بموں سے نہیں لڑی جا سکتی۔ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی سے نمٹنے پر برطانوی وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ "اسلامی انتہا پسندی کے نظریات کی وضاحت کرنا ضروری ہے" اور پیراگراف 1۔4 میں یہ بھی مذکور ہے:
"یہ ایک الگ نظریہ ہے جسے روایتی مذہبی معمولات کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو اسلام کی مسخ شدہ تشریحات پر مبنی ہے جو کہ اسلام کے پر امن اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ سید قطب جیسے لوگوں کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسلامی انتہاپسند مسلم اکثریت والے ممالک میں مغربی مداخلت کو ‘اسلام کے خلاف جنگ’ خیال کرتے ہیں 'وہ' اور 'ہم' کی روایت پیدا کرتے ہیں۔ وہ ایک عالمی اسلامی ریاست مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ریاستی قانون کے طور پر شریعت کی ان کی تشریحات کے مطابق حکومت کی جائے اور اس طرح وہ جمہوریت ، قانون اور مساوات کے اصول جیسے لبرل اقدار کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے نظریات میں یہ سخت گیر عقیدہ بھی شامل ہے کہ لوگ ایک ہی وقت میں مسلمان اور برطانوی نہیں ہو سکتے اور ا ن کا یہ بھی ماننا ہے کہ جو لوگ ان سے اتفاق نہیں کرتے وہ سچے مسلمان نہیں ہیں"۔
مجھے امید ہے کہ انہیں اس بات کا بھی احساس ہوگا کہ جدید انتہا پسندی کے بانیان برصغیر ہند کے مولانا ابو الاعلی مودودی سید قطب ایک ایسے نظریہ کی پیداوار ہیں اور اس سے متاثر ہیں جسے مسلم کمیونٹی پر مسلط کرنے میں برطانوی سلطنت نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس نے اپنے ایام طفولیت میں اس بنیاد پرست وہابی نظریہ کی حمایت کی اور تباہی میں پیش آنے والے تمام وسائل و ذروئع کی فراہمی بھی اور یہاں تک کہ اس عمل میں اس نے مکہ کے شریف تصوف کی طرف مائل اور امن پسند ہاشمی خلافت کے ساتھ اپنے رسمی اتحاد کی بھی خلاف ورزی کی۔ پھر دوبارہ مغرب نے اس وقت جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، اس نظریہ کی حمایت کی اور اس کو فروغ بخشا اور یہی نہیں بلکہ سرد جنگ کے آخری سالوں کے دوران اس کو فروغ دینے کے لیے بھاری رقم بھی اس نے خرچ کی ہے۔
لوگوں نے یہ سوچا ہوگا کہ نائن الیون کے بعد جہادیوں کا باقی رہنا بہت مشکل ہوگا۔ لیکن اس کے بجائے اب ایسا لگتا ہے کہ نائن الیون کے بعد کی دنیا میں جہادی عناصر کے لیے تباہی اور منصوبہ بندی کے لیے اور دنیا کے مختلف حصوں میں مزید تباہی کی سازش کرنے کے لئے اور بھی زیادہ زمینیں ہموار کی گئی ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے مغرب اس بات کا فیصلہ بہتر طور پر کر سکتا ہے کہ اگر اسے جہادی نظریہ سے نمٹنا ہے تو سعودی میں اس بنیاد پرست اسلامی نظریہ کے منبع کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کی حمایت کرنا فوری طور پر روکنا ہوگااور دنیا کے کونے کونے تک بڑے پیمانے پر سعودی کی پیداوار بنیاد پرست اسلامی تعلیمات کی برآمدات پر پابندی لگانی ہوگی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نائن الیون کے حملے میں ملوث 19 دہشت گردوں میں سے 16 سعودی تھے جن کی ذہن سازی سعودی اسکول کے نصاب کے ذریعہ کی گئی تھی اور باقی کو بھی سعودی اسلام کی تعلیم دی گئی تھی۔
برطانیہ کی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ انتہا پسندی سے مقابلہ کے لیے ایک مشترکہ کوشش درکار ہے۔ اس کے پیراگراف 1۔5 میں یہ کہا گیا ہے:
"ہم ولوچ حملے کے ردعمل میں مسلم تنظیموں اور دیگر مذہبی جماعتوں کی بروقت اور بھرپور مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ برطانیہ میں حکومت کو بھی اتنی ہی ذمہ داری لینی چاہیئے جتنی وہاں کی تنظیموں اور دوسری برادری اس کے خاتمے کو اپنی ذمہ داری مانتے ہیں۔ ہم ماضی میں اس سخت گیر اور خطرناک اسلامی نظریات کے تعلق سے بڑے خاموش رہے ہیں، جزوی طور پر اس کی وجہ یہ غلط فہمی ہے کہ ہم نے اسلامی انتہا پسندوں پر حملہ کو اسلام پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ہماری اس خاموشی اور انتہا پسندوں سے مقابلہ کرنے میں ہماری ناکامی نے بعض مساجد اور اسلامی مراکز، یونیورسٹیوں اور جیلوں میں بنیاد پرستی کے فروغ کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ بہت سے ادارے ایسے ہیں کہ اگر وہ چاہتے ہیں تب بھی انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئےکہ وہ معاشرے جہاں یہ انتہاپسند سرگرم ہیں اور جو تنظیمیں ان شدت پسندوں کے خلاف کام کر رہی ہیں ان کے اندر ان انتہا پسندوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس چیلنج کی قیادت کرنے میں حکومت کا ایک کردار ہے۔"
انتہا پسند روایات اور نظریات سے مقابلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
" انتہا پسند پروپیگنڈے خاص طور پر آن لائن بہت بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں اور لوگوں کو بنیاد پرست بنانے پر ان کا براہ راست اثر ہے۔ انہیں اتنی مہلت نہیں دینی چاہیے کہ انتہا پسندوں کے زہریلے پیغامات اعتدال پسند اکثریت کی آواز کو دبا دیں۔ "
اس پختہ اور درست بیان کے بعد اس میں یہ تفصیلات درج ہیں پیراگراف 1۔3 میں ہے :
" ٹاسک فورس نے ان باتوں پر اتفاق کیا ہے:
1 ۔ کمیونٹیز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی صلاحیتوں کی تعمیر کی جائے تاکہ وہ بشمول آن لائن تمام قسم کے انتہا پسند مواد کے خلاف مہم چھیڑ سکیں۔
2 ۔ دہشت گردی کے آن لائن انتہاپسند مواد تک عوام کی رسائی کو بند کرنے کے لیے انٹرنیٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے جن کو بیرون ملک سے ہوسٹ کیا جاتا ہے لیکن برطانیہ کے قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔
3 ۔ آن لائن انتہاپسند مواد کی عوامی رپورٹنگ کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے ان کی جاری کوششوں میں ان کی مدد کرنے کے لئے انٹرنیٹ کی صنعت کے ساتھ کام کیا جائے۔
لوگوں نے سوچا ہوگا کہ برطانوی مسلمان اسلام کو رسوا کرنے والے ایسے لوگوں سے مقابلہ کرنے میں ان کی مدد کے لیے حکومت کے عزائم کا خیر مقدم کریں گے جو اسلام کو ایک عدم روادار اور حقارت آمیز مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ لوگ حکومت کے اس اقدام کو جہادی نظریات کی تردید اور مرکزی دھارے میں شامل اس روایتی اسلام کی ایک اعتدال پسند روایت کو جو صدیوں سے دیگر کمیونٹیز کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے پیش کرنے کا موقع جانیں گے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ سے ہی ایک اعتدال پسند راستہ اپنایا ہے اور انہوں نے ہر دور میں انتہا پسندی کو شکست دی ہے خواہ ان کا ظہور کسی بھی شکل میں اور کسی بھی نام کے ساتھ ہوا ہو، تاہم انتہا پسندانہ اسلامی تشریحات تقریبا ہمیشہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک حصہ رہی ہیں۔
لیکن آج اس معاملے پر بڑی حد تک خاموش رہنے کے مسلمانوں کے رجحان سے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی کوئی خاص کوشش ظاہر نہیں ہوتی، اور انتہا پسندی اور جہادیت کا ذمہ دار صرف مغرب کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو ٹھہرانے سے محض ہماری مظلومیت زدہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے اور اس سے اسلامی تاریخ اور زمینی حقائق سے متعلق ہمارے تجاہل عارفانہ کا پتہ چلتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ ایک متشدد عنصر موجود رہا ہے اور اس سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔ کیا ہم آج بھی یہ سمجھنے کے قابل ہو سکے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجے اور چوتھے خلیفہ حضرت علی ابن ابی طالب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ کے درمیان 7 نومبر 656 ء کو جنگ جمل کےنام سے ایک بڑی لڑائی کیوں لڑی گئی جس میں کم از کم پانچ ہزار مسلمان قتل کیے گئے تھے۔ اور اس کے بعد حضرت علی اور معاویہ ابن ابی سفیان کے درمیان 657 ء میں جنگ سفین لڑی گئی جس کے نتیجہ میں خاندانی خلافت کے نام پر ایک سفاکانہ آمریت پسند حکومت قائم ہوئی۔ لیکن جنگ سفین کے بعد بغداد سے بارہ میل دور نہروان کے مقام پر حضرت علی اور ان کے سابق پیروکاروں کے درمیان 658 ء میں جنگ نہروان لڑی گئی تھی ۔ ان جنگوں میں ایک ایسے وقت اور ایسی جگہ پر لاکھوں مسلمان مارے گئے تھے کہ جہاں مسلمانوں کی آبادی مختصر تھی۔ ان تمام واقعات سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں ہمیشہ خانہ جنگی ہوتی رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان حقائق سے ہمارا صرف نظر کرنے کا رجحان باعث حیرت ہے۔
جناب صدر!
ہم مسلمان، مغربی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں اور بین الاقوامی برادری سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ایسی سیاست نہ کھیلیں جس سے مسلم انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو مزید شہ ملے اور وہ عالمی امن کے لئے مزید مصیبتیں پیدا ہوں۔ لیکن ہمارا ان پالیسیوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں ان چیزوں پر توجہ دینی چاہئے جو ہم خود اپنے بل بوتے پر بہتر کر سکتے ہیں۔ آج مسلم دنیا کی حالت ایسی ہے کہ جب کبھی بھی کوئی انتہا پسندی سے متاثر کسی گروپ کو دہشت گردوں اور یہاں تک کہ خود کش حملہ آوروں کی ضرورت پیش آتی ہے فوراً ایک سپاہی دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس فوج کے سپاہیوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ دوسرے بے گناہ مسلمانوں کو (زیادہ تر) قتل کر کے جنت میں جا رہے ہیں اگر چہ اس عمل میں وہ خود کشی جیسے انتہائی سنگین جرم کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔
مسجد میں اپنے ساتھی نمازیوں کو قتل کرنے، کسی صوفی بزرگ کے مزار پر اپنے دینی بھائیوں کو موت کی نیند سلانے اور عوامی مقامات اپنے ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے خود کشی کرنے پر کسی کو آمادہ کرنا شاید دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہونا چاہئے۔ جب ہم مسلمانوں کی باری آتی ہےتو یہ کام سب سے آسان کیوں کر ہو جاتا ہے؟ اور ایک کمیونٹی کی حیثیت سے ہم فکر مند بھی کیوں نہیں ہیں؟ ہم کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟
جناب صدر!
میں آپ کے ذریعے عالمی مسلم برادری سے جو یہاں موجود ہے یہ درخواست کرنا چاہوں گا کہ ہمیں فوری طور خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کے اندر ایک مجازی خانہ جنگی کا ذمہ دار صرف دوسروں کو ٹھہرا کر مطمئن ہونے کے بجائے ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ ہم سے کہاں چوک ہو رہی ہے اور زندگی کے کس پہلو کی ہم اصلاح کر سکتے ہیں۔
جناب صدر! میرے خیال میں سب سے پہلے ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکولوں اور دینی مدارس میں اسلام کی کون سی تعلیم دے رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ ان مدارس کی ہی پیداوار ہیں جو مسائل پر فتوی دینے والے بنتے ہیں اور ہماری مساجد میں نماز کی امامت کرنے والے بنتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح وہ کافی اثر و رسوخ حاصل کر لیتے ہیں خاص طور پر انہیں ان مسلمانوں پر کافی اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے جو اچھی طرح تعلیم یافتہ نہیں ہوتے۔
بہت سے مسلمان تو اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہیں کہ ہمارے اسکولوں اور مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ ان خطوط پر کام کرنے سے ان کی آنکھیں کھلیں گی اور اس سے یہ امر بھی واضح ہو جائے گا کہ آج ہم کہاں ہیں۔ اور امید ہے کہ اس سے خود احتسابی کی امنگ پیدا ہوگی۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے ہمارے بچوں کو اسلام کے نام پر نفرت پیدا کرنے والی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں جن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انہیں قول و عمل میں ان لوگوں سے نفرت کرنا اور ان کے ساتھ دشمن کی طرح سلوک کرنا ضروری ہے جو ابن تیمیہ اور عبد الوہاب کی اسلامی تشریحات اور تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے اور ساتھ ہی ساتھ اہل کتاب سمیت تمام غیر مسلموں سے بھی نفرت کرنا اور ان کے ساتھ دشمنوں کی طرح سلوک کرنا ضروری ہے۔ جن لوگوں کی ان کی زندگی کے ابتدائی مراحل میں "دوسرے" لوگوں کے لئے نفرت اور دشمنی کرنے کے لیے منفی ذہن سازی کی گئی ہو کیا وہ ان لوگوں کا ہدف آسانی کے ساتھ نہیں بن سکتے جو ایک دہشت گرد فوج تیار کرنے کی تگ و دو میں ہیں؟ تو کیا پھر اس میں تعجب کی کوئی بات ہے، ان کتابوں کا اس سے بھی زیادہ تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد جو میں یہاں پیش کر سکا ہوں ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی خودکش بمباروں کی فوج درکار ہوتی ہے وہ مسلم کمیونٹی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔
چونکہ سعودی عرب کی کتابیں تمام مسلم ممالک میں وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔ میں سعودی اسکول میں پڑھائی جانے والی کتابوں پر کی گئی ایک تحقیق سے حوالہ میں اس کے کچھ پیرا گراف پیش کرنا چاہیوں گا جو پروفیسر عبداللہ دومیتو نے اپنی کتاب ‘‘Teaching Islam’’ میں پیش کی ہے۔ میں ہر اس شخص کے لیے اس کتاب کا پڑھنا ضروری سمجھتا ہوں جو جہاد کی اشاعت کے رجحان میں دلچسپی رکھنے والے ہیں۔
پروفیسر عبداللہ دومیتو لکھتی ہیں: "ہر جماعت کی کتابوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلام صرف ایک ہے، تمام مسلمان ایک امت (مسلمانوں کی کمیونٹی) میں متحد ہیں اور تمام مسلم ممالک میں سعودی عرب کو ایک خاص اور مقدس مقام حاصل ہے اور یہ شاہی خاندان قانونی مسلم حکمرانوں کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اسکول کی کتابوں میں طالب علموں کو اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ اتھارٹی کا احترام کریں، حقیقت اور رائے کو خلط ملط کریں، اخلاقی سوالات کو سیاہ اور سفید میں دیکھیں، گو کہ اسلام صرف ایک واحد ہے اور علم کا ایک منجمد ڈھانچہ ہے جو زندگی کے تمام مسائل کا واضح اور پختہ حل فراہم کرتا ہے۔ حالآنکہ یہ مملکت باقی دوسرے مسلم ممالک کی ہی طرح نسلی طور پر متنوع ہے اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر منقسم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی 10 فی صد آبادی شیعہ ہے، سعودی عرب سنی مسلمانوں کی بھی اماجگاہ ہےجہاں ان کے مذہبی رسومات مثلاً صوفی تصوف، مزار پر حاضری، صوفیوں اور ولیوں کی تعظیم و توقیر کو ان کی اسکولی کتابوں میں شرک و بدعت گردانا جاتا ہے اور ان کی مذمت کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ ان کتابوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کی جڑیں قدیم اسلامی تعلیمات سے جڑی ہیں انہوں نے ایک ایسا اسلام اختیار کیا ہوا ہے جو مسلم اخوت کی ان کی گھریلو وہابیت اور سلفیت کا ایک جدید امتزاج ہے، اور ایک ایسا اسلام نواز ایجنڈا ہے جو ریاست کی تعمیر کے سعودی عرب کے اپنے ایجنڈے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں کو بھی قائم رکھتا ہے۔"
پروفیسر عبداللہ دومیتو سال 2001-2002 اور 2003-2004 میں فقہ، حدیث اور توحید کے عنوان پر جماعت نو سے بارہویں تک کی شامل نصاب کتابوں اور پرائمری جماعت تیسری، پانچویں اور چھٹی میں شامل نصاب توحید کے موضوع پر کتابوں اور انٹرمیڈیٹ جماعت ساتویں، آٹھویں اور نویں میں شامل نصاب توحید کے موضوع پر کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنے اس نتیجے پر پہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کتابوں کا بھی جائزہ لیا گیا جو 2003-2004 میں ان کورسز میں داخل تھیں جن میں خاص موضوع کے طور پر مذہب کو شامل کیا گیا تھا: درجہ چار سے چھ اور آٹھ سے بارہ اور دسویں جماعت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلامی ریاست کی تاریخ کا نصاب داخل ہے۔ ہائی اسکول کی مذہب نصابی کتابوں میں وزارت تعلیم اور لڑکیوں کے لئے جنرل صدارت دونوں کے ذریعہ تیار کردہ کتابوں کو شامل کیا گیا ہے۔’
یہ دعویٰ کرنے کے بعد کہ سب کے لئے اسلام صرف ایک ہے اور اس میں دیگر تشریحات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ان اسکولی کتابوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ فلسفہ اور منطق کی وجہ سے فرقہ بندی اور تفرقہ کا جنم ہوتا ہے اور اس وجہ سے خاص طور ان باتوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ پروفیسر عبداللہ کتاب کے(b:1410)سے مندرجہ ذیل پیراگراف نقل کرتی ہیں؟
[جب کچھ لوگوں اپنے عقیدے کی تعمیر ۔۔۔۔ خیالی قیاس آرائیوں [علم الکلام] اور منظم منطق [قواعد المنطق] کی بنیاد پر کرتے ہیں کہ جن کا تعلق یونانی اور رومن فلسفہ سے ہے تو ان کے عقیدہ میں انحراف اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں جھگڑے اور اختلافات اور ایک اسلامی معاشرے کی تعمیر میں دراریں پیدا ہو جاتی ہیں۔
"بلا شبہ صحیح عقیدہ سے انحراف " آفت اور ہلاکت کا سبب ہے’’۔ (10b: 15)۔ 5
پروفیسرعبداللہ لکھتے ہیں:
" یہ اس بات کا پیغام ہے کہ دانشورانہ مباحث اور انفرادی استدلال کا فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیاسی اتحاد کی قربان گاہ پر قربان ہونا ضروری ہے۔ یہ درس واقعی ایک ایسا کتابی خاکہ ہے جسے خالد ابو الفضل نے دور حاضر کے سعودی اسلام کی "تفوق پسندی، سخت گیر رجحان’’ کا عقلیت پسندی مخالف رویہ قرار دیا ہے جو ‘‘متن کی محفوظ پناہ گاہ’’ سے دور ہے اور جہاں اسے محفوظ طریقے سے اہم تاریخی تحقیق سے الگ کیا جا سکتا ہے ( الفضل 2003) ۔ انہوں نے تفوق پسندی، سخت گیر رجحان کو سلفی ازم کا نام دیا ہےجو کہ لفظ "سلفی" اور "وہابی ازم" کا ایک مجموعہ ہے جوکہ سعودی عرب کا مقامی نجدی اسلام ہے جسے اسکولی کتابوں میں سعودی عرب کا ایک واحد اسلام قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے اور وہاں کے موجودہ حکمرانوں کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دسویں جماعت کی توحید کے موضوع پر ایک نصابی کتاب [کتاب التوحید] (غیر ترمیم شدہ ایڈیشن) سے ‘‘دعوت’’ کے عنوان سے ایک باب میں جس کی تصنیف محمد بن عبد الوہاب نے کی ہے نجدی اسلام کے اسلاف کو جزیرہ عرب میں ماحیٔ خرافات و بدعات قرار دیا ہے اور اس میں شیخ عبد الوہاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک مشابہت و مماثلت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سبق میں یہ بتایا گیا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب اس امت کے دین کی تجدید کرنے کے لئے خدا کی طرف سے رحمت بن کر آئے، تجدید کے لئے ان کی دعوت ایک قائم منہج کے لیےموزوں ہے: اللہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے لیے ان عقائدے کی تجدید کرنے کے لیے بھیجا تھا جو وقت کے ساتھ خرافات اور بدعات سے تبدیل ہو چکے تھے۔ اگر چہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں لیکن اللہ ہر زمانے میں بدعات کے خلاف جدوجہد میں ایک نئی روح ڈالنے اور عقائد کی اصلاح کرنے اور تبدیلی اور تحریف سے شریعت کی حفاظت کرنے اور جہالت کے اندھرے میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو معرفت الٰہی کی روشنی عطا کرنے کے لیے علماء کو اس روئے زمین پر پیدا کرتا ہے (10b: 19) ۔ ایسے ہی ایک شخص کی پیدائش بارہویں صدی ہجری میں ہوئی جس کا نام شیخ الاسلام، الامام المجدد محمد ابن عبد الوہاب تھااور وہ عرب میں اس وقت ظاہر ہوئے جب پورا عرب جہالت میں ڈوبا ہوا تھا اور ان کے معمولات سے شرک کا ظہور ہوتا تھا۔"
لیکن محمد ابن عبد الوہاب نے کیا تعلیم دی اور آج اسلامی ممالک میں اور مغرب میں بھی آج ہمارے بچوں کو کیا سکھایا جا رہا ہے؟ ان کتابوں میں ایک اہم ترین سبق الولاء والبراء کے تصور کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے (جس کا معنیٰ بنیادی طور پر وہابی مسلمانوں کے تئیں وفاداری دکھانا اور باقی تمام لوگوں کے تئیں دشمنی پیدا کرنا ہے)۔
اسلامی تعلیمات کے اس باب سے میں دوبارہ یہ اقتباس نقل کرتا ہوں؛ الولاء والبراء کے ذریعہ غیروں کے لیے دشمنی ظاہر کئے جانے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور وہابی دشمنی سے استفادہ کرنے والے وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ڈیوڈ کومنز (2000) کا یہ کہنا ہے کہ دشمنی رکھنے کی ذمہ داری کو 1880ء میں عثمانی ترکوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ معاصر سعودی توحید کی اسکولی کتابوں میں دشمنی کا دائرہ یہودیوں اور غیر وہابی مسلمانوں سے لیکر بالعموم مغربی تہذیب تک ہے۔ مثال کے طور پر آٹھویں جماعت میں پڑھائی جانے والی توحید کی کتاب میں یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ صحیح اصول و معتقدات کے حامل مسلمانوں سے محبت اور دوستی رکھی جائے اور جو لوگ اس سے متفق نہ ہوں ان سےدشمنی رکھی جائے (یا ان سے تعلقات منقطع) کر دئے جائیں۔ دسویں جماعت میں پڑھائی جانے والی توحید کی نصابی کتاب میں اس عنوان سے ایک باب قائم ہے ‘‘غیروں کو وفاداری دکھانا اور ان سے دشمنی رکھنا، ان خیالات اور معمولات کا خاکہ جو مومنوں کو ان کے دشمنوں سے ممتاز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
" 2002 ء میں پڑھائی جانے والی نصابی کتاب میں یہ لکھا گیا ہے کہ جو مسلمان عدم تقلیدیت کا نظریہ رکھتا ہو یا جس کے معمولات اس قسم کے ہوں نہ صرف یہ کہ اس کی اصلاح کی جائے گی بلکہ اسے حقیر جانا جائے گا۔ غیر مسلموں کو نا تو برداشت کیا جائے گا اور نہ ہی وہ دوستی کے لائق ہیں اور نہ ہی انہیں آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف نفرت کے قابل ہیں۔ " یہ توحید کا ایک قانون ہے کہ مسلمانوں کو (مؤحد، وہابی) مسلمانوں کے ساتھ وفاداری کا معاملہ رکھنا چاہیے اور مشرکوں (صوفی، غیر مسلموں) سے دشمنی رکھنی چاہیے’’۔
تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔ (قرآن 56-5:55)
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہ۔ (قرآن 58:22 )۔
"اس کے علاوہ یہ ثابت کرنے کے لیےکہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قطع تعلق کا ہونا (ایمان کے لیے) ایک ایسی عالمگیر اور ابدی شرط ہے جو اللہ نے قائم کیا ہے، اضافی ثبوت (کوئی نقطہ ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیت یا حدیث سے ثبوت)میں مکی جنگوں کے دوران پیش آنے والے کچھ خاص واقعات کا حو الہ پیش کیا گیا ہے، لیکن انہیں تاریخی سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے (10b: 109-110) 10۔ اس درس میں ہے کہ الولاء ولبراء کا اسلام میں ایک عظیم مقام ہے۔ ‘‘اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کا سب سے مضبوط بندھن اس شئی سے محبت کرناہے جس سے خدا محبت کرتا ہے اور ہر اس چیز سے نفرت کرنا ہے جس سے خدا نفرت کرتا ہے اور ان دو باتوں کے ساتھ ہی مسلمان اللہ کی ولایت حاصل کرتا ہے" (10b: 110) ۔ اس سبق میں خدا کی خاطر دشمنی کو اسلام کے ستون سے بھی اوپر اٹھا دیا گیا ہے: "[ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی خدا لئے محبت کرتا ہے اور خدا لئے نفرت کرتا ہے خدا کے لیے کسی سے وفاداری ظاہر کرتا ہے اور خدا کے لیے کسی سے عداوت رکھتا ہے وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے اللہ کی ولایت حاصل کرلے گا، اور جب تک کوئی مومن ایسا نہیں کرتا تب تک اسے ایمان کا ذائقہ نہیں مل سکتا اگر چہ وہ نماز اور روزہ میں زیادہ ہو (10b: 110) ۔
" وہ مشرک دشمن کون ہیں اور موحد مسلمانوں کو کن سے دشمنی رکھنی چاہیے؟ عبد الوہاب کے لئے مشرک کوئی اور نہیں بلکہ دیگر مسلمان ہی تھے خاص طور پر عثمانی ترکی، شیعہ، صوفی اور ہر وہ شخص جو تعویذ وغیرہ کرتا ہے یا جادو سحر کرتا ہے۔ ان اسکولی کتابوں میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ مجرم کے خلاف نفرت ظاہر کرنے کے لئے مسلمانوں کو کیوں مستعد رہنا چاہیے دشمن بننے کے نت نئے طریقے بتائے گئے ہیں۔ جب طالب علم اسے دیکھیں تو انہیں نفاق تسلیم کرنا چاہئے۔ جب کوئی شخص اخلاقی برائیوں کے ساتھ معاشرمیں زندگی گزارتا ہے لیکن وہ خود کو تمام بدخلاقیوں سے مامون سمجھتا ہےتو اس کا مطلب ہے کہ اس کے اندر منافقت سرایت کر رہی ہے اور ان سے تعلقات نہ توڑ کر اور ان سے نفرت کا اظہار نہ کر کہ وہ خدا سے غداری کا اعلان کر رہا ہے (10b: 111)۔ اس کتاب میں ابراہیم علیہ السلام کی وہ کہانی بیان کی گئی ہے جس میں انہوں نے ان لوگوں سے قطع تعلق کر لیا تھا جنہوں نے خدا پر ایمان نہیں رکھا بلکہ انہوں نے بتوں کی پوجا کی"۔11
"فقہ اور حدیث کی کتابوں میں کافروں سے مشابہت کو (مسلمانوں کے اندر) اخلاقی طور پر فساد قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جو عورتیں غیر ملکیوں کی طرح لباس زیب تن کرتی ہیں وہ فتنہ اور فساد کو دعوت دیتی ہیں، لہٰذا مسلمان عورتوں کا لباس اتنا کشادہ ہونا ضروری ہے کہ جس سے ان کے جسم کے تمام خد و خال کا پردہ اچھی طرح ہو سکے اور ان کی شخصیت کی حفاظت کے لئے چہرہ کا پردہ کرنا ضروری ہے۔ کافروں سے مشابہت پیدا کرنا خدا کی توہین ہے کیونکہ مسلمانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے وہ اس چیز سے محبت کریں جس سے خدا محبت کرتا ہے اور چیز سے نفرت کریں جس سے خدا نفرت کرتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان کافروں کی تقریبات میں شامل ہوتا ہے یا ان کی خوشی یا غم میں شریک ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کر رہا ہے (10b: 118)۔ کافروں کو عیدمبارک کہنا صلیب کی عبادت کرنے کی طرح برا ہے، شراب کے ساتھ جام و پیمانہ پیش کرنے سے بھی زیادہ بدتر گناہ ہے، یہ خود کش سے بھی بدتر ہے اور یہ حرام کاری میں ملوث ہونے سے بھی برا ہے اور بہت سے لوگ ایسا کر دیتے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنا بڑا گناہ کر دیا ہے (10b: 118)۔
ہجری کے بجائے "عیسوی" کا استعمال کرتے ہوئے کافروں سے مشابہت بھی ایک الگ مسئلہ ہے "عیسوی" سے حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا اشارہ ملتا ہے جس کی وجہ سے کافروں کے ساتھ ایک تعلق اور ربط ظاہر ہوتا ہے۔ کرسمس کے دن مسلمان کافروں کی طرح کپڑے نہیں پہننے چاہیئے، ان سے تحائف کا تبادلہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان کی ضیافت کرنی چاہیے اور نہ ہی اس دن انہیں بناؤ سنگار کرنا چاہیے۔ کافروں کے تہوار مسلمانوں کے لیے عام دنوں کی طرح ہونے چاہئے۔ جیسا کہ ابن تیمیہ نے کہا ہے کہ: " اہل کتاب کے ساتھ ان چیزوں پر اتفاق کرنا جو ہمارے مذہب میں نہیں ہیں اور جو ہمارے اسلاف کی روایت نہیں رہی ہے دین میں فساد ہے۔ ان چیزوں سے گریز کر کے آپ ان کے لیے اپنی حمایت ختم کرتے ہیں۔ " کسی نے یہ بھی کہا کہ اس سبق میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر آپ ان کے تہواروں یا تقریبات کے دنوں میں رسمی طور پر بھی کسی جانور کو ذبح کر رہے ہیں تو یہ ایسا ہی ہے گو کہ آپ خنزیر ذبح کیا ہے۔
" درسی کتابوں میں ماضی کو حال کے لئے ایک انتباہ بتایا گیا ہے۔ "ملازمت، لڑائی اور ان جیسے معاملات میں کافروں کو شامل کرنے کا حکم" کے عنوان سے اس باب کے ایک حصے میں ابن تیمیہ کا یہ بیان مندرج ہے کہ اہل علم پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ یہودی اور عیسائی ذمیوں نے مسلمانوں کے بارے میں خفیہ معلومات سے اپنے ہم مذہب لوگوں کو آگاہ کر دیا تھا۔ اصول یہ ہے کہ کافروں کے ساتھ نہ تو کوئی تعاون کیا جائے اور نہ ہی ان پر اعتماد کیا جائے:
"مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں (قرآن 3:118 )۔
اگر کوئی ایک بھی ایسا مسلمان موجود ہو جو یہ کام کر سکتا ہے تو کسی کافر کو ملازم نہیں بنانا چاہئے، اور اگر ان کی کوئی ضرورت نہ ہو تو کبھی بھی ان کی خدمات حاصل نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کافروں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا (10b: 121)۔ اور نہ ہی کسی مسلمان کو کسی کافر سے ملازمت قبول کرنی چاہئے اس لیے کہ کسی مسلمان کی کبھی بھی یہ پوزیشن نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کسی کافر کی ماتحتی میں رہے جو کہ ضرور اس کی توہین کرنے والا ہے۔ اور نہ ہی کسی مسلمان کو اس سے اس کے مذہب کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئےکوئی عہدہ دیاجانا چاہئے۔
کسی بھی مسلمان کو مستقل طور پر کافروں کے درمیان نہیں رہنا چاہئے اس لیے کہ اس سے اس کے ایمان کے ساتھ سمجھوتہ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو (بلاد کفر) سے (بلاد اسلام) کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو کافروں کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کے درمیان رہتے ہیں تو یہ بھی ان کے ساتھ وفاداری کرنے اور ان کے ساتھ اتفاق کرنے کی طرح ہے۔ اور ان کا یہ عمل اسلام سے مرتد ہونا ہے۔ اگر چہ کوئی اپنے فائدے یا آرام کے لئے بھی ان کے ساتھ بود و باش اختیار کر رہا ہو اور ان کے مذہب سے نفرت بھی کرتا ہو اور اپنے مذہب کی حفاظت بھی کرتا ہو تب بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔ دردناک عذاب سے بچین۔ (10b: 121)
"اس باب میں موسیقی، ہنسی مذاق اور گانے کے خلاف وعیدیں سنائی گئی ہیں جن کی ممانعت وہابییوں کا موازنہ کالوینییوں کے ساتھ کرنے کے لئے سعودی حکومت کے ماتحت انیسویں صدی کے اسلامی مفسرین نےکی ہے۔ متن کے مطابق پر مسرت طرز زندگی کی اس لیے ممانعت کی گئے ہے کہ وہ اپنے تمام سرمایوں کو اللہ کے احکام کے مطابق خرچ کریں اور فضول سرگرمیوں میں اپنی توانائی خرچ نہ کریں۔ تاہم، اس طرح کی ممانعتوں کی افادیت کا رخ نئے دشمن کے تعلق سے عصر حاضر کے خدشات کی طرف کر دیا گیا ہے اور وہ مغربی ثقافت کی یلغار ہے۔ "اور کافروں سے مشابہت کی بدترین قسم ان غیر اہم چیزوں میں انتہائی مصروف ہو جانا ہے جو کافروں نے اپنے معاشروں میں فروغ دیا ہے اور وہ خداکی یاد سے اور نیک کاموں سے غافل ہونا ہے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے ‘‘مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں’’ (قرآن 63:9 ؛10b: 124) ۔ اس درس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کافر غیر اہم چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں اس لیے کہ کوئی مذہبی عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگیاں خالی ہیں۔
"یہ غیر اہم چیزیں کیا ہیں؟ سب سے پہلے ان میں گانے اور کھیل کے آلات، رقص اور تھیٹر اور سنیما جیسے فنون لطیفہ ہیں جن کا مشاہدہ وہ لوگ کرتے ہیں جو حقیقت سے دور ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد اس زمرے میں ڈرائنگ، پینٹنگ اور سنگ تراشی جیسے (فنون جمیلہ) آتے ہیں۔ (آرٹ پر ممانعت کے باوجود سعودی عرب میں کچھ اسکولوں آرٹ کی کلاس بھی دیتے ہیں)۔ پھر اس کے بعد کھیلوں کا نمبر آتاہے جو کبھی کبھی خدا کو یاد اور اس کی اطاعت سے نوجوانوں کے لیے کہیں زیادہ اہم ہیں؛ کھیلوں کی وجہ سے نوجوان نمازوں کو ترک کر دیتے ہیں اور اسکول اور گھر کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس طرح کے طرز عمل کی اسلام میں اجازت ہے یا نہیں یہ ایک الگ موضوع ہے، آج قوم مسلم کو اپنے دشمنوں سے نمٹنے کے لئے اپنی توانائیوں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے: "مسلمان کو معمولی کاموں میں تھوڑا وقت بھی برباد کرنے کی اجازت نہیں ہے " (10b: 124-125)۔
" ( ڈاکٹر خالد ابو ) الفضل (2003) کا کہنا ہے کہ، ‘‘سالگرہ کی تقریبات خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کی ممانعت اور فنون لطیفہ کو حرام قرار دیا جانا یہ تمام کے تمام وہابی ثقافت کی تاریخی میراث ہیں اور ان کی جدید ساخت کا حصہ ہیں۔ "ایسے کسی بھی انسانی معمول کے خلاف وہابیوں کی دشمنی جو تخلیقی صلاحیتوں اور تخیلات کو عروج بخش سکتے ہیں شاید وہابیوں کی انتہائی مضحکہ خیز اور مہلک فطرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہر وہ عمل جو تخلیقی صلاحیتوں کی طرف ایک قدم آگے لے جاتا ہےوہ وہابیوں کے نزدیک کفر کی طرف ایک قدم ہے۔ "
URL for English article:
URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/the-international-community-actively-address/d/56212