New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 06:12 AM

Urdu Section ( 13 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-4 نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اس کی حقیقت: (قسط۔4) ۔ طالبانی عالم کاغیر مسلموں کے قتل کا غیر اسلامی فتوی

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے قریبی عالم ‘‘ شیخ یوسف العبیری کے مضمون ’’ وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل جائز ہوجاتا ہے کے قسط اوّل میں مضمون سے پہلے مدیر نے ایک نوٹ لگایا ہے جو اس طرح ہے ۔

‘‘شیخ یوسف العبیری رحمۃ اللہ علیہ جزیرۃ العرب کے معروف اور جید عالم دین تھے۔ شیخ اسامہ رحمۃ اللہ علیہ  ( اسامہ بن لادن) سے آپ کا قریبی تعلق اور قلبی لگاؤ تھا ۔ معرکہ گیارہ ستمبر کے بعد آپ نے ‘مجاہدین ’ کی اس عظیم کارروائی کی بلاخوف تائید کی اور ان عملیات کو شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جائز قرار دیا ۔ اسی جرم حق گوئی کی پاداش میں آپ کو سعودی طواغیت نے گرفتار کرلیا ۔ آپ پرشدید تشدد کیا گیا اور آپ دوران قید ہی شہید کردیئے گئے ۔’’

مندرجہ بالا ادارتی نوٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر کا حملہ ‘مجاہدین کی عظیم کارروائی ’ تھا  جس کی تائید اسامہ بن لادن کے قریبی عالم نے کی ۔ دوئم طالبان کی نظر میں سعودی حکام اور پولس طواغیت یعنی ظالم یا شیطان تھے ۔ اور یہی وہ رویہّ ہے جو انہیں خارجیوں کے زمرے میں لاکھڑا کرتا ہے ۔ خارجی بھی اپنے آپ کو حق پر اور ،دوسرے تمام لوگوں کو کافر اور طاغوت و ظالم قرار دیتے ہیں ۔ وہ کسی بھی مسلمان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے او رنہ اپنے سوا دوسرے فرقوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔

علما ء اور مفسرین کی نظر میں طالبان اور دوسرے دہشت گروہ خارجی فرقے ہیں جو قرآن اور حدیث کی اپنے طور پر تفسیر اور تاویلیں پیش کرتے ہیں اور  انتہا پسند انہ اور متشدد طرز عمل میں یقین رکھتے ہیں ۔ خارجیوں کا وجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی عمل میں آچکا تھا اور قرآن میں چند آیتیں حدیث کے مطابق خارجیوں ہی سے متعلق ہیں ۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ ایک نمایاں  فرقے کی حیثیت سے کھُل کر سامنے آئے اور آخر کار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ا ن کو شکست دی اور ان کا قلع قمع کیا ۔ مگر بالآخر ایک خارجی ابن ملجم نے ان کا قتل کر ڈالا ۔ انہوں نے حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کو ماننے سے انکار کیا اور مصالحت و مفاہمت کی تمام کوششوں کو ٹھکرا کر جنگ وٹکراؤ کی راہ اختیار کی اور زمین میں فساد پھیلایا ۔ آج بھی یہ اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر زمین پر فساد او  ر قتل و خون پھیلاتے ہیں اور تمام مسلمان حکومتوں کو طاغوت سمجھتے ہیں ۔

امام محمد بن عبداالکریم الشہرستانی اپنی مشہور کتاب الملل و النہل میں رقمطراز ہیں ۔

‘‘ ہر وہ شخص جو عوام کی اکثریت کی حمایت یافتہ مسلم حکومت کے خلاف بغاوت کرتا ہے وہ خارجی کہلاتا ہے ۔ چاہے وہ صحابہ کے دور میں خلفائے راشدین کے خلاف ہو یا تابعین کے خلاف یا بعد کے زمانے کے مسلم حکمرانوں کے خلاف ہو ۔ ’’ (صفحہ 114)

سورۂ فاطر میں انہی لوگوں کے متعلق اللہ فرماتا ہے ۔

‘‘ پھر ایک وہ شخص ہے جس کی نظر میں اس کی برائی کو پرُ کشش بنادیا گیا ہے سو وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے ۔ ’’ (فاطر :8)

لہٰذا ، ان موجودہ دور کے خارجیوں کی نظر میں مسلمانوں کا خون بہانا اور دولت کو لوٹنا جائز ہے ابوحفص الحنبلی نے فرمایا ‘‘ ان میں وہ خارجی ہیں جو مسلمانوں کے خون اور  ان کی جائیداد کو حلال قرار دیتے ہیں ۔’’(اللباب فی علوم الکتاب ۔132۔175)

اور اپنے اسی خارجی نظر ئیے کی بنا پر طالبان کے عالم یوسف العبیری نے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے نہ صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمان عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں اور نہتے عوام کو بے خبری میں قتل کرنے کو جائز قرار دیا ہے ۔ اس مضمون میں انہوں نے ان حالتوں کاذکر کیا ہے جب ان کے مطابق کفار کے بے قصور لوگوں کاقتل جائز ہوتا ہے ۔

پہلی حالت ان کے مطابق یہ ہے کہ مسلمان کفار کو بھی وہی سزا دیں جو انہیں دی گئی۔ لہٰذا اگر کفار مسلمانوں کی عورتوں ، بچو ں اور بوڑھوں کا قتل کرتے ہیں  تو اس حالت میں جائز ہے کہ اُن (کفار) کے ساتھ بھی یہی کام کیا جائے ۔ دلیل اللہ تعالیٰ کا  یہ فرمان ہے کہ

‘‘پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔’’

مندرجہ بالا آیت کو طالبان کے عالم نے غیر مسلموں کے بے قصور لوگوں (بچوں اور عورتوں اور ضعیفوں ) کے قتل کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے جب کہ یہ سماج میں فرد کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی صورت میں اس کے ذریعہ بدلہ لینے کے فیصلہ کے ضمن میں کیا گیا ہے اور اس اصول میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص نہیں کی گئی ہے ۔ قرآن کی نظر میں مسلمان اور غیر مسلم کے حقوق برابر ہیں ۔لہٰذا اگر کوئی کسی پر زیادتی یا ظلم کرے تو اس کو حق ہے کہ وہ بھی اسی مقدار میں بدلہ لے سکتا ہے اور اس سلسلے میں قرآن قصاص اور مثلہ کا اصول پیش کرتا ہے ۔

اس سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ۔

‘‘ اگر کوئی مسلم کسی عیسائی کو قتل کردے تو اسے بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا ۔’’

لیکن قرآن نے یہ نہیں کہا کہ زیادتی کرنے والے کے بھائی بیٹے یا اس کی قوم کے غیر متعلقہ یا بے قصور افراد سے اس کا بدلہ لو۔ بلکہ اس ضمن میں قرآن واضح طو ر پر کہتا ہے ۔

‘‘اور کوئی بھی بوجھ ڈھونے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (الاسراء: ۱۵)

اپنی تصنیف کتاب النحراج صفحہ 78 پر ابو یوسف فرماتے ہیں

کسی بھی غیر مسلم امن پسند شہری کواس کے کسی ہم مذہب کی زیادتیوں کی پاداش میں سزا نہیں دی جائے گی۔’’

غیر مسلموں کے حقوق سے متعلق ایک حدیث یوں ہے

‘‘ سُن رکھو ، جو کوئی بھی کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کرے گا یا اس کے کسی حق کو چھینے گا یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے گا یا اس کی اجازت کے بغیر اس کی کوئی چیز لے لیگا تو قیامت کے دن اس کی طرف سے میں  وکالت کروں گا ۔ ’’ ( ابو داؤد)

عبدا للہ بن مسعود نے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

‘‘ جو کوئی کسی غیر مسلم کو تکلیف دے گا میں اس کا حریف ہوں گا ۔ اور جب میں کسی کاحریف ہوں گا تو قیامت کے دن اس پر غالب آؤں گا ۔’’ (تاریخ بغداد)

لہٰذا قرآن حدیث اور فقہہ بے قصور غیر مسلم شہریوں سے بدلہ لینے یا قتل کرنے یا ان کی جائیداد کو نقصان پہنچانے کی مخالفت اور مذمت کرتے ہیں اور اسے گناہ عظیم قرار دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں یوسف العبیری قرآن کی سورۂ الشوری کی مندرجہ ذیل آیتیں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔

‘‘ اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہوتو (مناسب طریقے سے ) بدلہ لیتے ہیں اور برُائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برُائی ہے مگر جو درگذر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور  جس پر ظلم ہوا ہو گر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں ۔ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ یہی  لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا ۔ ’’ ( الشوری : 39۔42)

اس سلسلے میں اسی مفہوم کی دوسری آیت بھی پیش کرتے ہیں ۔

‘‘ اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی  اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت اچھا ہے اور صبر ہی کرو او رتمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بد اندیشی کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہونا ۔ کچھ شک نہیں  کہ جو پر ہیز گار ہیں اور نیکو کار ہیں خدا ان کی مدد گار ہے ۔’’ ( النحل ۔ 126۔128)

مندرجہ بالا دونوں اقتباسات میں کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس میں غیر مسلموں کے بے قصور افراد کے قتل اور ان کی جائیداد وں کو نقصان پہنچانے کی ترغیب یا اجازت دی  گئی ہے ۔ اس میں صرف زیادتی ہونے پر بدلہ لینے میں اعتدال سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے اور انتقام میں حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا  ہے اور اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص نہیں ہے ۔ بلکہ سورۂ الشوری اور سورہ النحل دونوں میں درگذر کرنے اور صبر کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں سورۂ النحل میں تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ ۔ ‘‘ اور صبر ہی کرو۔’’ یعنی بدلہ لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے اور صبر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن صبر کرنے پر اللہ کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا ہے ۔

اس طرح یوسف العبیری ان تمام آیتوں کے ذریعے سے یہ ثابت نہیں کرسکے کہ قرآن غیر مسلموں کے بے قصور افراد سے ان کے ہم وطنوں کے ظلم کا بدلہ ان کی عورتوں او ربچوں کو ہلاک کر کے لیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ سورۂ الشوری میں خود طالبانیوں جیسے مفسد وں کے لئے کیا گہا ہے ۔ ‘‘ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں  ۔ یہی  لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا ۔ ’’ ظاہر ہے طالبان او ران کے ہمنوا گروہ ہی زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ لہٰذا قرآن ان کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سناتا ہے ۔

دور نبوت میں بھی اسلامی فوجوں کو سختی سے یہ حکم تھا کہ لاشوں کو مسخ نہ کریں اور بچوں او رعورتوں اور غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں کوقتل نہ کریں۔

حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں

‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوجوں کو روانگی کا حکم فرماتے تو ان سے کہتے ‘‘دغا فریب سے کام نہ لو، مال غنیمت میں خیانت سے کام نہ لو، لاشوں کو مسخ نہ کرو  اور بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل مت کرو۔’’ (المسند)

احادیث مبارکہ اور خلفائے راشدین کی ہدایتوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی فوجوں کو روانگی کے وقت تاکید کی جاتی تھی کہ جنگ کے دوران غیر متحارب عورتوں ، بچوں او ربوڑھوں کو قتل نہ کریں۔

‘‘ عبدا للہ بن عمر نے روایت کی کہ حضرت ابوبکر  مسلم فوج کو سیریا روانہ کرتے وقت دو میل تک فوج کے ساتھ پیدل چلے پھر ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔

‘‘ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ خدا سے ڈرو (کمانڈر کی ) نافرمانی نہ کرو اور نہ بزدلی دکھاؤ۔ کھجور کے درختوں کو برباد نہ کرو او رفصلوں کو آگ نہ لگاؤ ۔ جانوروں کو اذیت نہ دو اور پھل دار درختوں کو نہ کاٹو ۔’’ (المروازی : مسندابی بکر)

مثلہ یعنی لاشوں کی ناک ، کان اور دوسرے اعضاء کو کاٹنا یا  ان کی بے حرمتی کرنے کے متعلق بھی خود یوسف العبیری حدیث نقل کرتے ہیں جس میں مثلہ سےمنع کیا گیا ہے مگر پھر بعد میں کہتے ہیں  ۔‘‘ لیکن اگر دشمن مسلمانوں کے مقتولوں کا مثلہ کریں تو مسلمانوں کے لئے جائز ہوجاتا ہے کہ وہ دشمن کے مقتولوں کا مثلہ کریں اور اس صورت میں اس کی حرمت ختم ہو جاتی ہے ۔’’

مثلہ کی ممالغت کے متعلق وہ یہ حدیث نقل کرتے ہیں ۔

‘‘ بخاری میں عبداللہ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ کھسوٹ اور مثلہ سے منع کیا ہے ’’ ۔

انہوں نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے صحیح مسلم میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکروں او ردستوں کے کمانڈروں کو یہ کہہ کر رخصت فرماتے کہ :

‘‘ اللہ کے نام سے حملہ کرو ، اللہ سے کفر کرنے والے سے لڑو او رغلونہ کرو اور نہ غداری کرو نہ مثلہ کرو اور نہ نومولود کو قتل کرو۔’’

مندرجہ بالا حدیث کا ذکر کرنے کے باوجود مولا  ناالعبیری اپنا غیر مدلل فتویٰ بھی صادر کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

‘‘ لیکن اگر دشمن مسلمانوں کے مقتولوں کا مثلہ کریں تو مسلمانوں کے لئے جائز ہوجاتا ہے کہ وہ دشمن کے مقتولوں کا  مثلہ کریں ۔ اور اس صورت میں اس کی حرمت ختم ہو جاتی ہے ۔’’

اپنی اس رائے کی حمایت میں انہوں نے نہ کوئی قرآنی آیت پیش کی ہے اور نہ ہی حدیث اور فقہہ کی کتابوں سےحوالہ پیش کیا ہے بلکہ اپنی تشدد پسند انہ ذینیت کی بنیاد پر کہہ دیا کہ اگر دشمن مسلمانوں کے مقتولوں کا مثلہ کریں تو مسلمانوں کے لئے جائز ہوجاتا ہے کہ وہ دشمن کے مقتولوں کا مثلہ کریں۔’’ خود انہی کے ذریعہ پیش کی گئی حدیث ان کی اس دورغ گوئی کی قلعی کھولتی ہے ۔ اس کے علاوہ فتح مکہّ کے دن جب عام مسلمانوں میں انتہائی غم و غصہ تھا اور وہ مکّہ والوں سے اپنے اوپر ڈھائے گئے مظالم او راپنے عزیزوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے مچل رہے تھے حتیٰ کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے درد ناک قتل اور ان کی لاش کے مثلے کا غم بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا اور مثلہ سےمنع فرمایا ۔ خود قرآن میں اس موقع کے متعلق کہا گیا ہے کہ اگر مسلمان اس دن لڑائی کرتے تو اہل مکّہ کو پیس ڈالتے مگر اس صورت میں بہت سے بے قصور بھی مارے جاتے اور وہ مسلمان بھی مارے جاتے جنہوں نے کفار کے ڈر سے اپنے اسلام لانے کا اظہار نہیں کیا تھا اس لئے مسلمانوں کی نظروں میں وہ بھی کفار تھے او روہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جاتے جس کا وبال ان پر پڑتا ۔ اس طرح اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں صبر ڈال دیا او رمسلمانوں کو بھی صبر عطا کیا ۔

اس طرح کفار کے ظالموں کے ظلم کی سزا تمام مکّہ کے کفار کو دینے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔

لہٰذا قرآن کی جن آیتوں او رجن حدیثوں کو مولانا العبیری  نے اپنے مؤقف کی حمایت میں پیش کیا ہے وہ خود ان کی تردید کرتے ہیں اور قرآن حدیث او رفقہ کی روسے کفار کے بے قصور افراد بشمول عورتوں ، بچوں ، ضعیفوں او رمذہبی رہنماؤں کا قتل نہ صرف ممنوع ہے بلکہ خلاف شرع اور گناہ عظیم ہے (جاری ہے)

URL of the Part 1 of the series: http://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam,-سہیل-ارشد/the-truth-behind-talibn-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔1)/d/9556

URL of the Part 2 of the series: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتوی-اور-اسکی-حقیقت۔۔-قسط-دو/d/9573

URL of the Part 3 of the series: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians--part-3---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔۳)۔-خود-کشی،منشیات-اور-خارجیت-پر-مبنی---طالبانی-فکر-و-عمل/d/9613

URL: https://newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-fatwa/d/9661


Loading..

Loading..