New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 06:12 AM

Urdu Section ( 19 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-6 نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اسکی حقیقت: (قسط۔ 6) ۔ اسلام جنگ میں زمین سوختہ پالیسی کا مخالف

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

19 دسمبر، 2012

اپنے مضمون کی قسط تین میں شیخ یوسف العبیری ایک اور غیر شرعی نکتہ بیان کرتے ہیں

‘‘ جب کسی زیادتی کرنے والے مسلمان سے قصاص میں برابر (بالمثل ) بدلہ لینا جائز ہے تو پھر زیادتی کرنے والے کافر محارب کا بدلہ کیا ہوگا’’ ۔

مندرجہ بالا قول سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ زیادتی کرنے والے غیر مسلم محارب پر مسلمانوں کو بدلے میں تجاوز کا اختیار ہے ۔ جبکہ قرآن کہتا ہے

‘‘ اگر تم کو بدلہ لینا ہو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہو۔’’ (النحل :126)

اور اس میں کسی مسلم یا غیر مسلم کی تخصیص نہیں کی گئی ہے ۔ کوئی مسلمان صرف اس لئے کسی سے بدلے سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتا کہ زیادتی کرنے والا غیر مسلم ہے ’’۔

قرآن کے الفاظ میں

‘‘ خدا کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر حد سے نہ نکل جاؤ’’ ۔ (البقرہ :190)

اسلام مثلہ اور قصاص کے معاملے میں مسلم او رغیر مسلم میں فرق نہیں کرتا  ۔

حضرت علی کا قول ہے

‘‘ اگر کوئی مسلم کسی عیسائی کا قتل کرتا ہے تو بدلے میں اسے ( مسلمان) بھی قتل کیا جائے گا ۔’’ (الشیبانی ۔ الحجۃ : 349:4)

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے

‘‘ ایک امن پسند یہودی ، عیسائی اور زرتشتی کا خون بہا ایک آزاد مسلمان کے برابر ہے ۔’’

لہٰذا ، بدلہ اور قصاص کے معاملے میں اسلام مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق روا نہیں رکھتا ۔

اس مضمون کے اس حصے میں سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کیا گیا ہے کہ غیر مسلم کی زیادتی کا بدلہ لینا جائز ہے قرآن اور حدیث نے صاف صاف اس بات کی اجازت دی ہے کہ کسی پر اگر زیادتی ہوئی تو وہ زیادتی کرنے والے سے اتنا ہی بدلہ لے سکتا ہے، زیادتی کرنے والا چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم ۔ لیکن آگے چل کر ملاّ العبیری کہتے ہیں کہ

‘‘ فقہا کفار کے کھیتوں کو جلانے او ران  کے درختوں کو کاٹنے کے جواز کی طرف کر چکے ہیں ۔ کہ اگر وہ ہمارے ساتھ ایسا ہی کرتے  ہیں۔ بالکل اسی مسئلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی جانب سے یہودیوں کے کھجور کے درختوں کو انہیں رسوا کرنے کی خاطر کا ٹنے کے عمل کو جائز قرار دیا ہے ۔’’

ملا العبیری ان فقہا ء کا نام یا ان کے بیانات کا حوا لہ نہیں دیتے  جنھوں نے کفار کے کھیتوں کو جلانے اور درختوں کو کاٹنا جائز قرار دیا ہے ۔ اسکے برعکس خلیفۂ اول نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ان  کے متعلق نقل کیا جاتا ہے

 ‘‘ ابوبکر صدیق نے ثمر اور درختوں کے کاٹنے اور (جنگ کے دوران ) عمارتوں کو (قصداً ) ڈھانے سے منع فرمایا او رمسلمان ا ن کی اس ہدایت پر سختی سے عمل کرتے تھے ’’ (سنن)

ابن ابی شیبہ، مجاید سےایک حدیث نقل کرتے ہیں جو اس طرح ہے

‘‘ کم عمر بچوں ، عورتوں اور ناتواں اور ضعیف مردوں کو جنگ میں ہلاک نہ کیا جائے ۔ غذائی اجناس او رکھجور کے درختوں کو نہ جلایا جائے ، عمارتوں کو نہ ڈھایا جائے اور پھل دار درختو ں کو نہ کاٹا جائے ۔’’ ( المصنّف :6:483)

اسلام کی یہ پالیسی موجود ہ دور کی زمین سوختہ پالیسی (Scorched earth Policy) کا رد ہے۔  فوجیں اپنے دشمن فوج کو زک دینے کے لئے اپنے راستے  میں آنے والی تمام فصلوں ، کھیتوں ، درختوں او ریہاں تک کہ شہری آبادیوں کو بھی جلا دیتی ہیں یا پھر تباہ کردیتی ہیں تاکہ وہ دشمن کے کسی کام نہ آسکیں ۔ طالبان نے افغانستان میں جنگ کے دوران شمالی علاقے میں درختوں کو کاٹ دیا وہاں کی نہروں کو تباہ کردیا اور مکانات کو تباہ کردیا اور اس طرح وہاں کے شہریوں کو وہاں سے ہجرت کرنے اور دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ۔ملا العبیری کے ذریعے طالبان کے اسی عمل کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش ہے جبکہ اسلامی قوانین زمین سوختہ پالیسی کے خلاف ہیں۔

قرآن کہتا ہے ۔

‘‘ اے ایمان والوں خدا کے لئے مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ اور حُسن سلوک کے گواہ رہو ۔ دوسروں  کی نفرت تمہیں غلط راہ پر نہ ڈال دے اور انصاف سے نہ ہٹادے ۔ منصف بنو ۔’’(المائدہ: ۸)

لہٰذا ، اسلام کا یہ پیغام ہے کہ مسلمان کسی قوم کی دشمنی میں انصاف اور صحیح راہ کو چھوڑ کر ظلم اور زیادتی اختیار نہیں کرتا ۔بلکہ جنگ ہو یا امن ہر حالت میں عدل، اعتدال او رذمے داری کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے ۔ اس لئے جنگ کے دوران غیر مسلم فوجوں نے زمین سوختہ پالیسی جو اختیار کی تھی اور جو آج  بھی مروج ہے اس پالیسی کواسلام نے منسوخ کیا اور اس کی مذمت کی کیونکہ اس پا لیسی سے عوام فاقہ، بے گھری اور بے شمار پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔

URL of the Part 1 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam,-سہیل-ارشد/the-truth-behind-talibn-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔1)/d/9556

URL of the Part 2 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتوی-اور-اسکی-حقیقت۔۔-قسط-دو/d/9573

URL of the Part 3 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians--part-3---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔۳)۔-خود-کشی،منشیات-اور-خارجیت-پر-مبنی---طالبانی-فکر-و-عمل/d/9613

URL of the Part 4 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-4------نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔4)-۔-طالبانی-عالم-کاغیر-مسلموں-کے-قتل-کا-غیر-اسلامی-فتوی/d/9661

URL of the Part 5 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-5---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔۵)-۔--قرآن-،--حدیث-اور-فقہ-کا-غلط-انطباق/d/9690

URL: https://newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-fatwa/d/9735

Loading..

Loading..