New Age Islam
Fri Mar 13 2026, 07:06 PM

Urdu Section ( 14 Aug 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Plans to Amend the Waqf Act- Severe Criticism both by the Secular Parties and Muslim Organisations وقف ایکٹ میں ترمیم کا منصوبہ- سیکولر جماعتوں اور مسلم تنظیموں دونوں کا شدید ردعمل

 اسد مرزا، نیو ایج اسلام

 8 اگست 2024

 وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنے کے حکومت کے مبینہ منصوبے پر، سیکولر جماعتوں اور مسلم تنظیموں دونوں کی طرف سے شدید تنقید کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ نام نہاد مسلم لیڈر خود اپنے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی ریاستوں کے وقف بورڈوں میں، رپورٹ شدہ بے ضابطگیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یوں معلوم ہوتا ہے، کہ حکومت نے یہ قدم ان لیڈروں کو ملک کی سیاست میں، انہیں تین طلاق کے معاملے پر زوردار جھٹکا دینے کے بعد، ان کی اوقات دکھانے کے لیے اٹھایا ہے۔

 -------

وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنے کے حکومت کے مبینہ منصوبے پر، سیکولر جماعتوں اور مسلم تنظیموں دونوں کی طرف سے شدید تنقید کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ نام نہاد مسلم لیڈر خود اپنے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی ریاستوں کے وقف بورڈوں میں، رپورٹ شدہ بے ضابطگیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یوں معلوم ہوتا ہے، کہ حکومت نے یہ قدم ان لیڈروں کو ملک کی سیاست میں، انہیں تین طلاق کے معاملے پر زوردار جھٹکا دینے کے بعد، ان کی اوقات دکھانے کے لیے اٹھایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، مرکزی حکومت وقف بورڈ کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنے کی پوری تیاری میں ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق، اس میں 40 ترامیم کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف بورڈ کے، کسی بھی جائیداد کو "وقف جائیداد" کے طور پر نامزد کرنے کے، اختیار کو محدود کرنا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، "مجوزہ ترامیم کے مطابق، وقف بورڈ کی طرف سے جائیدادوں پر کیے گئے تمام دعووں کو، لازمی ویریفکیشن کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ وقف بورڈ نے جن جن جائیدادوں پر، وقف جائیداد ہونے کا دعوٰی کیا ہے، ان تمام کے لیے لازمی ویریفکیشن کا عمل تجویز کیا گیا ہے، اور ممکن ہے کہ ان ترامیم کو پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں متعارف کرایا جائے"۔

وقف ایکٹ 1995، اوقاف کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، یعنی وہ اثاثے جو وقف کے طور پر عطیہ کیے جاتے ہیں - ایک واقف کے ذریعہ، - اور واقف ایک ایسا فرد ہوتا ہے، جو اپنی جائیداد کو ان مقاصد کے لیے وقف کرتا ہے، جنہیں مسلم قانون میں نیک، مذہبی، یا خیراتی تسلیم کیا گیا ہے۔

مجوزہ ترامیم کے اندر، مختلف ریاستی اداروں میں مسلم خواتین ارکان کو شامل کرکے، جامعیت کی بات کی گئی ہے۔ درحقیقت، مسلمان خود اس کے خلاف نہیں ہیں، کیونکہ، اسلامک فقہ اکیڈمی، دہلی کے ایک مفتی کے مطابق، اسلام عورت کو متوّلی - وقف املاک کی منیجر، یا کسی وقف بورڈ کی رکن بننے کی اجازت دیتا ہے، کیونکہ یہ ایک انتظامی عہدہ ہے، اور اس کے لیے اسلامی قوانین کی کسی خاص تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا، کہ اے آئی ایم پی ایل بی میں بھی، کئی خواتین ارکان شامل ہیں۔ لہذا، یہ بہانہ بڑے پیمانے پر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہے، کہ مسلمان مختلف وقف اداروں میں، کسی خاتون رکن کو شامل کرنے کے خلاف ہیں۔

اس بل کو لانے کی بنیاد، پچھلے سال اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی، جب مارچ 2023 میں ایک وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے، ایک پی آئی ایل دائر کی تھی، مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا، کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں، تقریباً 120 ایسی رٹ درخواستیں زیر التوا ہیں، جن میں وقف ایکٹ کی ایک یا زیادہ دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

اپادھیائے نے وقف ایکٹ کی بعض دفعات کو چیلنج کیا تھا، اور مرکز سے ٹرسٹ اور ٹرسٹیان، خیرات اور خیراتی اداروں اور مذہبی اوقاف اور اداروں کے لیے، یکساں قانون نافذ کرنے کی درخواست کی تھی۔

عرضی گزار نے کہا تھا، کہ وقف ایکٹ 1995 وقف املاک کے انتظام و انصرام کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ہندومت، بدھ مت، جین مت، سکھ مت، یہودیت، بہائی ازم، زرتشتی اور عیسائیت کے پیروکاروں کے لیے، ایسے کوئی قوانین نہیں ہیں۔ "لہذا، یہ سیکولرازم، اور ملک کی وحدت اور سالمیت کے خلاف ہے۔"

یہاں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت، اسی بنیاد پر ہندوستان بھر کے ایسے مختلف ٹرسٹوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار ہوگی، جو بدری ناتھ/کیدارناتھ سے تروپتی تک مختلف مندروں کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔ کیا اب حکومت ان ٹرسٹوں کو اس بات پر مجبور کر سکے گی، کہ وہ خواتین اراکین کو شامل کر کے جامعیت کو فروغ دیں؟

معاملات کو مزید الجھانے، اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کے لیے، حکومت مبینہ طور پر بوہراؤں اور آغاخانیوں کے لیے بھی، علیحدہ بورڈ آف اوقاف تشکیل دینا چاہتی ہے۔

اب جبکہ حکومت وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا ہے، کہ "غریب مسلم جماعتیں" ایک عرصے سے اس قانون میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

لیکن وہ ان ’’غریب مسلم جماعتوں‘‘ کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔ جبکہ ایک واحد مسلم جماعت جو اب تک ان ترامیم کی حمایت میں آگے آئی ہے، وہ ہے آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل (AISSC)، جس نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، اور مسلم کمیونٹی کو گمراہ کرنے والوں پر مفادات پرستی کا الزام لگایا ہے۔ لیکن AISSC ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتا، اور اس کے ممبران میں، مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلم علماء شامل نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، دی ہندو کے ذریعے حاصل کردہ بل کی ایک کاپی میں، یہ دعویٰ کیا گیا ہے، کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈوں میں "مسلمانوں اور غیر مسلموں کی نمائندگی" کو یقینی بنانا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق کسی بھی تنظیم یا ادارے میں غیر مسلم ارکان کو شامل کیے جانے کا کیا مطلب ہے؟ ایک بار پھر، پہلے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، کیا ہندو مندروں اور ان کے مذہبی ٹرسٹوں میں بھی مسلمانوں کو رکن بنایا جائے گا؟

خود کو تنقید سے بچانے کے لیے، حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ہم (ریٹائرڈ) جسٹس راجندر سچر کی صدارت میں بنائی گئی، اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات، اور کے آر رحمان کی صدارت والی، وقف اور مرکزی وقف کونسل کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، اگرچہ ان کی سفارشات اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد، سال 2013 میں ہی وقف ایکٹ میں جامع ترامیم کر دی گئی ہیں۔

ہندوستان بھر کی بیشتر مسلم تنظیموں نے، مجوزہ ترامیم کی پرزور مذمت کی ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی، کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے کہا، ''بی جے پی حکومت ہمیشہ سے ہی یہ کرنا چاہتی تھی۔ 2024 کے (لوک سبھا) انتخابات کے بعد، ہمیں لگا کہ بی جے پی کے رویے میں تبدیلی آئے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم مجھے لگتا ہے کہ یہ درست اقدام نہیں ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم، کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مجوزہ بل کو مسترد کرتے ہوئے، بی جے پی پر "ہندوتوا ایجنڈا" پر عمل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ ترامیم وقف املاک کو چھیننے کے ارادے سے کی گئی ہیں۔ مزید ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ، "اس ایکٹ کا اصل مقصد مذہب کی آزادی پر قدغن لگانا ہے"۔

صرف مسلم ادارے یا مسلم لیڈران ہی، اس مجوزہ ترامیم کی مذمت نہیں کررہے ہیں، حتیٰ کہ اپوزیشن بھی ان کے خلاف ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ "ہم اس (وقف ایکٹ ترمیمی بل) کی مخالفت کریں گے"، انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "بی جے پی کا واحد کام ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا، اور مسلمان بھائیوں کے آئینی حقوق کو چھیننا ہے۔

آئی یو ایم ایل کے، ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام بد نیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر نامہ نگاروں سے کہا، کہ اگر ایسا کوئی قانون آتا ہے، تو ہم اس کی سخت مخالفت کریں گے۔ ہم اپنی ہم خیال سیاسی جماعتوں سے بھی بات کریں گے۔ بشیر نے مزید کہا، کہ اگر حکومت اس بل کو پیش کرتی ہے، تو اسے مضبوط مزاحمت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے کہا، کہ بی جے پی حکومت بجٹ پر بحث سے بھاگنا چاہتی ہے، اسی لیے اس نے وقف بورڈ کا مسئلہ اٹھا دیا ہے۔

سی پی آئی (ایم) کے ایم پی امرا رام نے کہا، کہ بی جے پی "پھوٹ ڈالنے کی سیاست" میں یقین رکھتی ہے، اور وقف بورڈ کو مضبوط کرنے کے بجائے، ان میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے ایک اور رکن پارلیمنٹ سداما پرساد نے کہا، کہ بی جے پی حکومت کا واحد مقصد، پھوٹ ڈالنے والے ایجنڈے کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا، "حکومت کو بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے ایک بل لانا چاہیے۔ لیکن وہ 24X7 صرف مندر-مسجد اور ہندوستان-پاکستان جیسے تفرقہ انگیز ایجنڈے کو ہوا دے رہے ہیں،"۔

جے ایم ایم کے مہوا ماجی نے کہا، کہ یک طرفہ رخ نہیں اپنانا چاہئے، اور اگر حومت کوئی ترمیم کرنا بھی چاہتی ہے، تو اسے تمام فریقوں کی بات سننا چاہئے۔

پنجاب وقف بورڈ کے رکن ہاشم صوفی نے کہا، کہ حکومت اس طرح کی حرکتیں کر کے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے پر تلی ہوئی ہے، اور اس بات کو نظر انداز کر رہی ہے، کہ وقف بورڈ کی تمام املاک اور اداروں سے، ہندوؤں اور سکھوں سمیت تمام لوگوں کو یکساں طور پر فائدے ملتے ہیں۔

جمعیۃ علمائے ہند نے پیر کے روز کہا، کہ وقف املاک کی حیثیت اور نوعیت میں کوئی بھی تبدیلی لانا، یا حکومت یا کسی فرد کے لیے ان کے "غلط استعمال" کو آسان بنانا، ناقابل قبول ہے۔ جمعیت نے اس بات پر بھی زور دیا، کہ اگر وقف بورڈ کو کمزور کرنے کے لیے، کوئی بھی اقدام کیا گیا تو ہم سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تیار ہے۔

English Article: Plans to Amend the Waqf Act- Severe Criticism both by the Secular Parties and Muslim Organisations

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/waqf-act-criticism-secular-parties-muslim-organisations/d/132939

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..