New Age Islam
Wed Apr 29 2026, 07:16 PM

Urdu Section ( 2 Sept 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A.G. Noorani: A Pillar of Indian Constitutional Law and Champion of Civil Liberties اے جی نورانی: ہندوستان کے آئینی دستور کے ایک ستون اور شہری آزادیوں کے علمبردار

 گریس مبشر، نیو ایج اسلام

 30 اگست 2024

 نورانی شہری آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار تھے۔ انہیں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار کی فکر تھی، جو کہ ہندوستان میں ایک ایسی قوم ہے، جو ہمیشہ سے ہی امتیازی سلوک اور پسماندگی کا شکار رہی ہے۔

 -------

Former Supreme Court Lawyer AG Noorani

------

تعارف

عبدالغفور مجید نورانی، جنہیں اے جی نورانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہندوستان کے قانونی اور علمی و فکری حلقوں میں ایک عظیم شخصیت تھے۔ ان کی پیدائش 16 ستمبر 1930 کو بمبئی میں ہوئی، جو اب ممبئی ہے۔ وہ ہندوستان کے ایک عظیم وکیل، مورخ اور سیاسی تبصرہ نگار بن کر ابھرے۔ اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی، انہوں نے کئی دہائیوں تک، آئینی دستور، شہری آزادیوں اور برصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے کافی خدمات انجام دیں۔ نورانی کا انتقال 2024 میں ہوا، لیکن ان کی میراث اب بھی زندہ ہے، اور آنے والی نسلوں کو ہدایت، رہنمائی اور حوصلہ بخشتی رہے گی: علماء، وکلاء اور کارکنوں کو بھی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

اے جی نورانی ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے، جس میں تعلیم اور فکر و نظر کو اہمیت حاصل تھی۔ بمبئی میں پرورش پانے کے سبب، انہیں سماجی و سیاسی حالات سے خوب آگہی حاصل ہوئی، اور ہندوستان کی تحریک آزادی کو دیکھ کر، ان کے اندر اپنے موقف کو مضبوط کرنے، اور انصاف اور شہری حقوق کی بازیابی کے لیے، کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ نورانی نے اپنی تعلیم ہندوستان کے کچھ اہم اداروں سے حاصل کی، اور آخرکار قانون کا کورس کیا۔ ان کے تعلیمی پس منظر نے، انہیں ہندوستان کے عظیم ترین   عہدے تک پہنچنے کے لیے، سازگار ماحول فراہم کیا۔

انہوں نے وکالت کو اپنا پیشہ بنایا، جو کہ آئینی دستور کی گہری سمجھ، اور شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد سے پر ہے۔ انہیں پیچیدہ قانونی دلائل کی مکمل تحقیق، تفصیل پر توجہ، اور اس کی وضاحت اور باریک بینی کے لیے جانا جاتا ہے۔ نورانی کی مہارت کمرۂ عدالت تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک عظیم قلمکار بھی تھے، جن کی تحریریں متعدد مقامات پر شائع ہوئی ہیں، جن میں فرنٹ لائن، دی ہندو، اور اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی کے نام قابل ذکر ہیں۔

ہندوستانی نظام آئین میں، نورانی کی ایک سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے، آئین اور ریاست کے کام کاج کے درمیان تعلق کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہ آئین کے اصولوں کے زبردست محافظ تھے، اکثر ایسے حکومتی اقدامات کی مذمت کرتے تھے، جنہیں وہ آئینی اصولوں کے خلاف سمجھتے تھے۔ ہندوستان کے اندر ایمرجنسی کے دور، 1975-1977 میں ان کی تحریریں - جو کہ ایک ایسا دور تھا جب شہری آزادیوں کو بری طرح سے سلب کر لیا گیا تھا- قابل دید ہیں۔

نورانی نے کبھی بھی اپنے آپ کو، حکومت وقت کے خلاف بولنے سے باز نہیں رکھا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ ان کی خدمات سے، قانون کی بالا دستی قائم کرنے میں، ان کے عزم و حوصلے کی عکاسی ہوتی ہے۔

شہری آزادیوں اور اقلیتی حقوق کے وکیل

نورانی شہری آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار تھے۔ انہیں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار کی فکر تھی، جو کہ ہندوستان میں ایک ایسا معاشرہ ہے، جو ہمیشہ سے ہی امتیازی سلوک اور پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر نورانی کا کام انتہائی متنازعہ فیہ اور حساس ہے، اور اس سے، اس کی پیچیدگیوں کی گہرائی کا ادراک، اور تنازعہ کے نتیجے میں مصائب کا شکار ہونے والوں کے لیے، ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے۔

نورانی نے اکثر اپنی تحریروں کے ذریعے، ہندوستان میں شہری آزادیوں کے خاتمے پر خوب آواز بلندکی، خاص طور پر اختلاف رائے کو دبانے، اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے میں، استعمال ہونے والے قوانین کے حوالے سے۔ ان لا فل ایکٹیوٹیز پریونشن ایکٹ (UAPA)، اور آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ (AFSPA) سمیت، سخت قوانین کے زبردست ناقد رہے نورانی نے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں، حکومت کے ہاتھوں ان قوانین کے واضح طور پر غلط استعمال کی، ہمیشہ مذمت کی۔ نورانی کی وکالت صرف قانونی تبصروں تک ہی محدود نہیں تھی، وہ بحث کرتے، جرح کرتے، اور ان لوگوں کی آواز بھی اجاگر کرتے، جنہیں شاذ و نادر ہی سنا جاتا ہے، اور اکثر جو آوازیں دبا دی جاتی ہیں۔

تاریخی علم اور سیاسی تبصرہ

اپنی قانونی خدمات کے علاوہ، نورانی ایک مشہور مورخ بھی تھے۔ پاک بھارت تعلقات، تنازعۂ کشمیر، اور برصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ پر، ان کی علمی خدمات آج تک بے مثال ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کی عظیم تحریر، کشمیر ڈسپیوٹ، تنازعہ کے تاریخی، قانونی اور سیاسی پس منظر کا، سب سے منظم دستاویزی بیان ہے۔ نورانی کی تاریخی تحریریں، توازن اور نزاکت کے عمدہ احساس سے لبریز تھیں، یہاں تک کہ ان مسائل پر بھی، جہاں مختلف آراء کے درمیان خلیج شدید تھی۔ انہوں نے جب بھی یہ محسوس کیا کہ، ہندوستانی اور پاکستانی حکومت نے لوگوں کو ان کے مفادات کے خلاف کھڑا کردیا ہے، خاص طور پر کشمیر میں، تو انہوں نے ان کی تنقید کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔ اکثر، انہوں نے اپنی تحریروں میں، غالب نظریہ کو چیلنج کیا، اور ایک متبادل نقطہ نظر فراہم کیا، جس کی بنیاد حقیقت اور تاریخی تحقیقات پر ہوتی تھی۔ ایک سیاسی تبصرہ نگار کے طور پر، نورانی شاید اقتدار کے سامنے سچ بولنے میں بے خوف تھے۔ انہوں نے غیرمقبول عہدہ لینے، یا طاقتور افراد اور اداروں پر تنقید کرنے میں، کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، ان کے کالم اور مضامین بڑے پیمانے پر پڑھے جاتے اور قدر کی نظر سے دیکھے جاتےتھے، اور کئی بار وہ خود سے اختلاف کرنے والوں کو بھی غلط ثابت کر دیتے تھے۔ کیونکہ نورانی کی تحریر صرف ملکی مسائل تک محدود نہیں ہے، بلکہ انہوں نے جنوبی ایشیائی امور کے علاوہ بین الاقوامی مسائل پر بھی بھرپور لکھا ہے۔

میراث اور اثر

اے جی نورانی کی موت کے ساتھ، اب ہندوستان کے علمی، فکری، اور قانونی حلقے میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ قانون، تاریخ اور سیاسی تجزیے کے دائرے میں، ان کی خدمات ملک کی سماجی و سیاسی روایت کا حصہ بن گئیں۔ نورانی کی خدمات، ہمیشہ اہل علم، وکلاء اور کارکنوں کو، ہندوستان کے آئینی دستور کی پیچیدگیوں، اور ملک میں شہری آزادیوں کے میدان میں، درپیش مسائل کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔

نورانی کی خدمات، نہ صرف ان کی تحریروں اور قانونی کاموں تک محدود ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ان اقدار میں زندہ ہیں، جن کے لیے وہ کھڑے تھے، یعنی انصاف، عدل اور ریاست کی بالا دستی کے خلاف، انفرادی حقوق کا تحفظ۔ کافی مخالفت کے باوجود، ان اصولوں کے ساتھ ان کی وابستگی، دوسروں کے لیے ایک مثال ہے، جو ان اقدار و نظریات کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ المختصر، اے جی نورانی ایک غیر معمولی ذہانت، ہمت اور دیانت و متانت کے حامل انسان تھے۔ ہندوستانی قانون اور سیاست کے فروغ میں، ان کی خدمات غیر معمولی ہیں، اور ان کا خلا ان تمام لوگوں کو شدت کے ساتھ محسوس ہوگا، جو انصاف اور قانون کی بالا دستی کو پسند کرتے ہیں۔ نورانی کی زندگی اور ان کی خدمات، اس قیمت کی ایک یادگار ہے، جو انسان کو شہری آزادیوں اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں، ادا کرنا ناگزیر ہے۔ مختصراً، نورانی کی میراث، ہندوستان کی سماجی و سیاسی تشکیل میں، آئینی اقدار کو قائم رکھنے، اور تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے پرعزم، علمبرداروں کے لیے مینار نور بنی رہے گی۔

 -----

English Article: A.G. Noorani: A Pillar of Indian Constitutional Law and Champion of Civil Liberties

 URL: https://newageislam.com/urdu-section/ag-noorani-indian-constitutional-law-civil-liberties/d/133103

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..