ڈاکٹر شہباز حسیبی
28فروری،2025
امیر خسرو کا پورانام ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔ وہ 1253 ء میں پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد امیر سیف الدین محمود ترک ن ژاد تھے او ر بلخ سے ہندوستان ہجرت کر آئے تھے، جب کہ ان کی والدہ ہندوستانی تھیں۔ یہ امتزاج ان کی شخصیت شاعری اور فن میں بھی نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ان کی پرورش ایک علمی اور مذہبی ماحول میں ہوئی، جس نے ان کی فکری نشوونما میں اہم کردار اداکیا۔ امیر خسرو نہ صرف ایک صوفی شاعر تھے بلکہ وہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔وہ حضرت نظام الدین اولیاء کے محبوب مرید تھے اور ان کے کلام میں صوفیانہ رنگ نمایاں نظر آتاہے۔انہوں نے فارسی، ہندوی، اور برج بھاشا میں شاعری کی او رمختلف اصناف سخن جیسے غزل، مثنوی، قطعہ، دوبیتی اور ترکیب بند میں طبع آزمائی کی۔ ان کی ٹھمریا ں اور گیت آج بھی مقبول ہیں۔

امیر خسرو کی زبان نہایت دلکش، معنی آفریں اور صناعی سے پرُتھی۔ پروفیسر شریف الحسن قاسمی کاخیال ہے کہ ”مادری زبان اور فخر کرنے کا خیال امیر خسرو کی ہی دین ہے۔“ چونکہ ان کی والدہ ہندوستانی تھیں،انہوں نے اپنی ماں کی زبان ہندوی میں شاعری کی، جو بعد میں اردو زبان کے ارتقا میں مددگار ثابت ہوئی۔
امیر خسرو نہ صرف شاعر بلکہ موسیقی کے عظیم موجد بھی تھے۔ انہیں ستار،طبلہ اور سبک ہندی کے موجد کے طور پر بھی جاناجاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں کئی نئے راگ متعارف کروائے، جن میں ”قوالی“ کو خاص شہرت ملی۔ قوالی اور ترانہ کی صنف کو آج بھی ان کی دین سمجھا جاتاہے اور یہ صوفیانہ موسیقی کی ایک اہم قسم ہے۔
امیر خسرو کئی بادشاہوں کے دربار کی رونق رہے۔ وہ غیاث الدین بلبن، جلاالدین فیروز خلجی، علاء الدین خلجی، اور محمد بن تغلق جیسے حکمرانوں کے دربار سے وابستہ رہے۔ ان کی شاعری میں درباری ادب اور سماجی اصلاحات کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ امیر خسرو کی تخلیقات میں کئی مثنویاں اور نثری مجموعے شامل ہیں۔ ان کی کچھ مشہور تخلیقات درج ذیل ہیں: تحفۃ الصغر، وسط الحیات، غرۃ الکمال، بقیہ نقیہ، قصہ چہار درویش، نہایۃ الکمال، ہشت بہشت، قرآن السعدین، نہ سپہر، دیوان غزلیات۔ حمس خسرو(جس میں مثنویاں شامل ہیں: مطلع الانوار، شیرین وخسرو،مجنون ولیلیٰ،آئینہ سکندری، اور ہشت بہشت ہیں)
زحال مسکین مکن تغافل (فارسی او رہندوی میں لکھی گئی، جو آج بھی مشہور ہے)
چھاپ تلک سب چھین لیہہ (برج بھاشا میں لکھی گئی، جو صوفیانہ محبت کا بہترین اظہار ہے)
آج رانجھا گھر آوے گا(لوک رنگ میں رنگی ہوئی شاعری)
زحال مسکین مکن تغافل۔ یہ ایک منفرد نظم ہے جو فارسی او رہندوی کے امتزاج سے لکھی گئی ہے: زحال مسکین مکن تغافل، دورائے نیناں بنائے بتیاں۔کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں۔ یہ کلام محبت جدائی اور سوزوگداز کی بہترین عکاسی کرتاہے۔ اس میں فارسی اور ہندوی کی آمیز ش ایک نئی صنف سخن کی بنیاد رکھتی ہے۔امیر خسرو نے اس غزل کے تمام اشعار کے مصرع ہائے اولیٰ فارسی میں جب کہ مصرع ہائے ثانی اس دور کی مروجہ فارسی اور ہندوی میں لکھے تھے۔ مختصراً یہاں اس کامطلب بیان کیا جاتا ہے۔امیر خسرو نے اپنے محبوب سے استدعا کی ہے کہ اس غریب کے حال سے تغافل نہ برت، آنکھیں پھیر کر باتیں بنا کر اب جدائی کی تاب نہیں مری جان، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگالیتے۔
شبان ہجراں دراز چوں زلف وروز وصلت چوں عمر کوتاہ سکھی! پیاکو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں۔
جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر ہے۔ اے دوست! محبوب کو دیکھے بغیر یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردتسکیں / کسے پڑی ہے جو جاسناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں پلک جھپکتے میں وہ دوساحر آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں۔ اب کسے پڑی ہے کہ جاکر ہمارے محبوب کو ہمارا حال دل(باتیں) سنائے۔
چوں شمع سوزاں، چوں ذرہ جیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما/ نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیا ں میں اس عشق میں جلتی ہوئی شمع کی اور ذرہ حیراں کی طرح ہمیشہ فریاد کررہا ہوں۔ نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین ہے او رمعاملہ یہ ہے کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں او رنہ ہی کوئی پیغام ہی بھیجتے ہیں۔
مولانا جلاالدین رومی نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ:”اگر خسرو فارس میں ہوتے تووہاں کی زبان کے سب سے بڑے شاعر ہوتے“۔ چھاپ تلک سب چھین لیہہ۔ یہ ایک مشہور صوفیانہ کلام ہے جو عشق حقیقی کی گہرائی کو بیان کرتا ہے: حضرت امیر خسرو فرماتے ہیں کہ مجھ سے نظریں ملاکے میری شناخت ہی مجھ سے چھین لی یعنی میری صورت ہی مجھ سے چھین لی نظریں ملا کے اور عشق مجاذی کی صورت میں عشق حقیقی مجھ میں سما گیا اور میری صورت پے مجھے اپنے محبوب کی صورت نظر آنے لگی۔
پریم بھٹی کا مدھواپلائی کے، متوالی کرلی نی مو سے نیناں مِلائی کے اور ایک خاص بات کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینہ بہ سینہ حوض کوثر تمام اولیا اللہ کو ملتاہے حضرت امیر خسرو کہتے ہیں میرے مرشد نے مجھے بھی وہ جام اپنی نظروں سے پلایا۔ خسرو نظام کے بل بل جاؤں، موہے سہاگن کی نی رہے موسے نیناں ملائی کے حضرت خسرو کہتے ہیں کے میں اپنے مرشد کے قربان جاؤں کہ مجھے عشق مجازی کی صورت میں عشق حقیقی اپنے وجود میں ہر وقت محسوس ہوتا ہے اور اس کیفیت کو وہ سہاگن کہہ رہے ہیں کہ جس سہاگن کا سہاگ ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ ہو۔ یہ کلام صوفی موسیقی کا ایک شاہکار ہے اور آج بھی مختلف محافل میں شوق سے گایا جاتاہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی ان کے فن کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ”خسرو نے مشرق ومغرب کے ادبی ذوق کو ایک پل کی صورت میں جوڑا ہے“۔ مشہور فلم ساز اور ثقافتی شخصیت مظفر علی نے امیر خسرو کی لازوال اور روحانیت میں پروری ہوئی موسیقیت سے پرُ شاعری کو روشناس کرانے کے لئے’جہانِ خسرو‘کے نام سے ایک پرُ رونق محفل سجائی ہے۔ وہ گزشتہ 24برسوں سے امیر خسرو کے نام سے محفل سجارہے ہیں۔ اور اس سال بھی مظفر علی کی ہی قیادت میں ’جہان خسرو‘ کی سلور جوبلی سندر نرسری دہلی میں 28 فروری سے شروع ہورہی ہے۔ یہ تین روزہ جشن ہوگا جس میں خسرو کی شاعری،موسیقی اور ان کے فن پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔ اس پروگرام میں ضرور شامل ہوں، لطف اٹھائیں اور خسرو سے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔
یہاں اس بات کاذکر کرنا قرین قیاس نظر آتاہے کہ امیر خسرو نہ صرف ایک شاعر اور موسیقار تھے بلکہ وہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی ایک روشن علامت بھی تھے۔ ان کی خدمات آج بھی ادب، موسیقی اور ثقافت میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ و ہ ہندوی، فارسی، اور برج بھاشا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے، اور ان کی تخلیقات آج بھی اتنی ہی تازہ ہیں جتنی کہ سات صدی قبل تھیں۔ ان کی شاعری میں محبت، تصوف اور ہندوستانی تہذیب کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔
28فروری،2025، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
-----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/amir-khusro-herald-shared-civilization/d/134769
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism