New Age Islam
Sat Feb 28 2026, 06:30 PM

Urdu Section ( 13 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Underrepresentation of Backward Classes in Central Universities: A Growing Concern پسماندہ طبقات کی نمائندگی

ڈاکٹر جاوید عالم خان

12 فروری،2026

حالیہ دنوں میں یوجی سی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات کے خلاف تعصب اور زیادتی کو روکنے کے لئے ایک قانون بنایا ہے جس کی مخالفت ملک کی اعلیٰ ذات کے لوگ شدت سے کررہے تھے یہ معاملہ سپریم کورٹ نے اس کے نافذ کرنے پر روک لگادی ہے۔ویسے تو ملک کے دلت آدی واسی او راو بی سی طبقات کیلئے سرکاری نوکریوں میں مناسب نمائندگی دینے کیلئے ریزرویشن پالیسی نافذ کررہی ہے اور ان اداروں میں مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر تعصب کوروکنے کیلئے موجودہ قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے 2012 ء میں بھی اس طرح کا قانون نافذ کیا گیا تھا لیکن اس کے نفاذ کی کمزوری کی وجہ سے ملک کے اندر روہت ویمولا اور پائل تاڑوی کی موت کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایت دی تھی کہ تعصب کو روکنے کیلئے یوجی سی ایک نیا قانون تیار کرے۔ 2026 ء کے اس قانون سے ملک کے اعلیٰ ذات طبقہ کا یہ ماننا ہے کہ اس قانون سے ہندو ذات اور برادریوں کے درمیان تفریق بڑھے گی۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ذات کے طلباء او راساتذہ اس قانون کا سیدھے شکار بنیں گے۔طلباء تنظیموں جیسے اکھل بھارتیہ وردیارتھی پریشد نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس کے بارے میں اعلیٰ ذات کے طلباء میں بے چینی پائی جاتی ہے او رغلط طریقے سے شکایت کرنے والوں کے خلاف بھی نوٹس لیناچاہئے جب کہ اس قانون میں ایسی کوئی تجویز نہیں ہے۔ ایک او رطلباء تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین نے بھی یہ کہاہے کے تعصب کو روکنے کے لئے موجودہ قانون نہایت ہی کمزور ہے او رملک کے تمام تعلیمی اداروں کے کیمپس میں تعصب کو روکنے کیلئے مضبوط قوانین کا نفاذ کیا جاناچاہئے۔ وہیں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کایہ کہناہے کہ ان کو اس طرح کے رد عمل کا امکان پہلے ہی سے تھا لیکن طلباء کمیونٹی پہلے سے ہی اس بات کا مطالبہ کررہی تھی تعصب کو روکنے کیلئے روہت ویمولا ایکٹ بنائے جانے کی ضرورت ہے۔

مرکزی وزیرتعلیم نے اپنے بیان میں یہ کہاہے کہ اس قانون سے کسی بھی طبقے کے خلاف کوئی بھی زیادتی نہیں ہوگی او راس قانون سے سماجی مساوات کو فروغ ملے گا۔ دلت اور آدی واسی تنظیموں کا یہ کہنا ہے کہ اعلیٰ ذات کے لوگ پہلے سے ہی پسماندہ طبقات کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے خلاف تھے کیونکہ ان کے حساب سے پسماندہ طبقات کے اندر قابلیت نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ حکومت نے اسی طرح کا گائڈلائن 2012ء میں بھی جاری کی تھی۔ اس مسئلے کو باریکی سے سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات کی نمائندگی اور تناسب کیاہے۔ اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں مرکزی وزیرتعلیم کے ذریعے لو ک سبھا میں پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیاہے کہ ملک کے 45 /مرکزی یونیورسٹیوں میں اوبی سی طبقے کی نمائندگی پروفیسر اورایسوسی ایٹ پروفیسر کے لئے بالترتیب ۴ /اور 5/ فیصد ہے اسی طرح سے ان 45 /یونیورسٹیوں میں اوبی سی طبقے سے صرف 5 /وائس چانسلر ہیں۔یہاں تک کہ اوبی سی کے پروفیسر وں کی نمائندگی دلت طبقے سے بھی کم ہے۔ اسی طرح سے 85 / فیصد پروفیسر اور 82 /فیصد ایسوسی ایٹ پروفیسر کا تعلق اعلیٰ ذاتوں سے ہے۔ اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ پسماندہ طبقات جیسے دلت، آدی واسی او راو بی سی کی نمائندگی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بہت ہی کم ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ اوبی سی کے لئے اساتذہ کے 423/پوسٹ کی منظوری دی گئی تھی اور ان میں سے صرف 84 /عہدے پر کئے جاسکے ہیں۔ اسی طرح سے آدی واسی زمرے میں اساتذہ کے 83/ فیصد منظور شدہ عہدے خالی پڑے ہیں یعنی 144 /عہدوں میں صرف 24/فیصد عہدے ہی بھرے جاسکے ہیں اسی طرح سے دلتوں کے لئے صرف 64/ فیصد منظور شدہ عہدے خالی پڑے ہیں جو کہ 308 / میں سے 111 / عہدوں کو بھرا جاسکاہے۔ لوک سبھا کے اعداد وشماریہ بھی بتاتے ہیں کہ طلبا ء کی نمائندگی بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بہت ہی کم ہے۔ 2023 ء میں ایس سی ایس ٹی اور اوبی سی زمرے کے 13500 / طلبا نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیاتھا ان میں مرکزی یونیورسٹیاں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ شامل ہیں۔ان طلبا ء کے ان اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چھوڑنے کی وجہ کو بھی غور کیا جانا چاہئے۔ماہرین کا یہ کہناہے کہ پسماندہ طبقات کے طلباء کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے او رکئی طرح کے تعصب کو بھی برداشت کرناپڑتاہے جو کہ عام طور سے دکھائی نہیں دیتاہے او ریہ حکومتوں کی مجموعی ناکامی ہے۔اس کے علاوہ ان طبقات کیلئے خالی عہدوں کو پرنہیں کیاجاتاہے او ریہ کہا جاتاہے کہ پسماندہ طبقات کے لوگ ان عہدوں کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں اورمختلف عہدوں کے درخواست گزاروں کے بارے میں یہ کہاجاتاہے کہ وہ ان عہدوں کیلئے موزوں نہیں ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی سطح پراوبی سی طبقے کی نمائندگی 18/فیصد ہے وہیں اعلیٰ ذاتوں کی نمائندگی 59 / فیصد ہے جب کہ اوبی سی طبقے کیلئے 27/فیصد ریزرویشن ہوناچاہیے۔نان ٹیچنگ میں بھی اوبی سی کی نمائندگی 12/فیصد ہے جب کہ اعلیٰ ذاتوں کی نمائندگی 70/فیصد ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کا دبدبہ ہے تو پھر ان کو اس نئے قانون سے ڈر کیوں لگتاہے۔مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نمائندگی آبادی کے لحاظ سے بہت ہی کم ہے۔ صرف چار سے پانچ فیصد مسلم طلباء کا ان اداروں میں داخلہ ہے وہیں پانچ فیصد سے زیادہ مسلم اساتذہ نہیں ہیں جب کہ ملک کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 14/ سے زیادہ ہے۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات کے طلباء اور اساتذہ تعصب کا شکار ہیں وہیں اسکالر شپ کے نا م پر دی جانے والی امداد بھی ان کو پوری طرح سے وقت پرنہیں مل پاتا ہے جس سے ان کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ اقلیتوں کو دی جانے والی اسکالر شپ پروگرام جیسے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک کو حکومت پچھلے پانچ سالوں سے نافذ نہیں کررہی ہے۔اقلیتو ں کے اعلیٰ تعلیم لیے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو پہلے سے ہی بند کردیا گیاہے۔ تجزیہ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ پسماندہ طبقات سماجی تعصب کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی تعصب کاشکار ہیں۔ لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پسماندہ طبقات کو تنظیموں کو حکومت پردباؤ ڈالنا چاہیے کہ دلت، آدی واسی، او بی سی طبقات کو اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نمائندگی یقینی بنایا جائے اوران طبقات کے طلباء کے لیے اسکالرشپ اسکیموں میں اصلاح کی جائے تاکہ ان کو اسکالرشپ کی مناسب رقم کووقت پرادا کیا جاسکے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طلباء کے ساتھ تعصب اور ذیادتی کوبھی روکا جائے۔

-----------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/backward-classes-central-universities-growing-concern/d/138836

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..