نوا ٹھاکریا، نیو ایج
اسلام
1 نومبر 2023
جیسا کہ گمان تھا ہمارا
قریبی پڑوسی اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں سمیت عام بنگلہ دیشی شہریوں کی حراست،
گرفتاری اور ان کے قتل کے نہ ختم ہونے والے چکر میں آہستہ آہستہ پھنس چکا ہے،
کیونکہ جنوبی ایشیاء میں واقع اس ملک میں جنوری 2024 میں قومی انتخابات ہونے والے
ہیں۔ سب سے بڑی حزب مخالف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اپنا مطالبہ
برقرار رکھا ہے کہ شیخ حسینہ کی قیادت والی عوامی لیگ کی حکومت کو انتخابات سے قبل
مستعفی ہو جانا چاہیے تاکہ ڈھاکہ میں ایک غیر جانبدار نگراں حکومت کی راہ ہموار ہو
سکے۔
لیکن وزیر اعظم حسینہ، جو
اس بار مسلسل چوتھی مرتبہ اقتدار کی کرسی اپنے نام کرنے کے لیے تقریباً 160 ملین
بنگلہ دیشی عوام سے مینڈیٹ مانگ رہی ہیں، پہلے ہی اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر
چکی ہیں۔ ناراض بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 28 اکتوبر کو ڈھاکہ میں ایک
زبردست ریلی نکالی اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا الٹی میٹم دیا اور اس طرح اپنی
طاقت کا مظاہرہ کیا۔ حکام نے گھنی آبادی والے پورے شہر بھر میں مشتعل افراد کے
خلاف کاروائی کی اور بنگلہ دیش کے مختلف حصوں سے ہزاروں افراد کو گرفتار کرنے کا
سلسلہ جاری رکھا۔
ہفتہ کے دن کا مظاہرہ ان
عوامی احتجاجات میں سے ایک ہے جن میں مختلف مقامات پر مظاہرین کی پولیس اہلکاروں
کے ساتھ جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ بعض مواقع پر یہ جھڑپیں پرتشدد شکل اختیار کر گئی
جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ کم از کم ایک پولیس اور بی این پی کے دو
لیڈر تشدد کا شکار ہوئے۔ ان جھڑپوں کی کوریج کرنے کے دوران کئی صحافی بھی حملے کا
شکار ہوئے۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی این پی کے جنرل سیکرٹری
مرزا فخر الاسلام عالمگیر سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔
حزب اختلاف کے لیڈروں کی
وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور مظاہرین کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کی خبروں پر ردعمل
ظاہر کرتے ہوئے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں حزب اختلاف کے
لیٹروں اور مظاہرین کے خلاف اس شدید کریک ڈاؤن کا مقصد عام انتخابات سے قبل بنگلہ
دیش میں اختلاف رائے کو مکمل طور پر کچلنا ہے۔ منگل کو لندن سے جاری کردہ ایک بیان
میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کی علاقائی مہم کار یاسمین کاویرتنے نے کہا
کہ بنگلہ دیش میں قتل، گرفتاریوں اور جبر کے اس تسلسُل نے ملک میں انتخابات سے
قبل، اس کے دوران اور بعد میں انسانی حقوق پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکام سے
مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرنے اور پرامن جلسوں کو سہولت فراہم کرنے کی
گزارش کرتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا، مظاہروں میں کچھ افراد نے مبینہ طور پر تشدد
کا استعمال کیا جبکہ یہاں پولیس کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پرامن مظاہرین اپنا
احتجاج جاری رکھ سکیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت کو چاہیے کہ وہ صورتحال کو معتدل کرنے
کے لیے تمام مناسب اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام قانون نافذ کرنے
والے ادارے سخت ضرورت کی صورت میں بھی طاقت کے استعمال کرتے وقت بین الاقوامی
معیارات پر سختی سے عمل کریں، تاکہ لوگوں کی جسمانی سالمیت کو مزید نقصان پہنچنے سے
بچایا جا سکے۔
حسینہ کی پارٹی نے دسمبر
2018 کے عام انتخابات میں 250 سے زیادہ پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور
اس طرح انہیں بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین قانون ساز تنظیم 350 رکنی جاتیہ سنسد میں
مکمل اکثریت حاصل ہے۔ بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی اس بیٹی کو ایک بااثر لیڈر
مانا جاتا ہے، اور حال ہی میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کی
خصوصی دعوت کے بعد انہیں زبردست سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے۔
حسینہ ایسی واحد کسی جنوبی
ایشیائی حکومت کی سربراہ تھیں جنہیں جی 20 میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا اور
انھیں میزبان ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کا بھی لطف
اٹھانے کا موقع مل چکا ہے۔ لیکن خالدہ ضیاء کی قیادت میں بی این پی اور اس کے
اتحادی، خاص طور پر جماعت اسلامی حسینہ کے لیے ضرور رکاوٹیں پیدا کرے گی۔ آنے والے
دنوں میں ملک بھر میں مزید تشدد اور سڑکوں پر احتجاجات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
انتخابات کے بعد کا منظر نامہ ہنگامہ آرائی سے بھرپور ہو سکتا ہے، اگر اپوزیشن
اتحاد انتخابات میں حصہ نہیں لیتا اور بعد ازاں حسینہ دوبارہ جیت جاتی ہیں۔ یہ بے
لگام سیاسی افراتفری بنگلہ دیش کی فوج کو مداخلت کی دعوت دے سکتی ہے اور اس طرح
ڈھاکہ میں ایک اور آمر پیدا ہو سکتا ہے۔ ورنہ، بنیاد پرست اسلام پسند گروہ مسلم
اکثریتی ملک میں ہر چیز پر حاوی ہو سکتے ہیں۔
------
English
Article: Bangladesh Slowly Slips to Cycle of Violence and
Chaos
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism