New Age Islam
Wed Jun 17 2026, 01:13 PM

Urdu Section ( 16 Jan 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Campaign to Turn Fabricated Stories and Rumors into History من گھڑت کہانیوں، افواہوں کو تاریخ بنانے کی مہم

مولانا عبدالحمید نعمانی

13جنوری، 2025

سماج کو دور بربریت میں لے جانے کا یہ خطرناک اور سنگین عمل ہے کہ اس پراپنے مفروضات کومسلط کرنے کی کوشش کی جائے، برٹش سامراج کے گماشتوں نے ہندوتو وادی سماج میں ایک خاص طرح کے احساس برتری پیداکرنے کے ساتھ اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہماری حکومت،ہندوسماج کے لیے ایک بڑی نعمت او ر رحمت وآزادی ہے،جب کہ دور حکومت، سراسر غلامی،لعنت وعذاب اور ظلم وزیادتی تھی،وہ ہم ہیں کہ اسے آزادی، نعمت اور ترقی وتعمیر کے دور میں لے آئے ہیں۔ اس پروپیگنڈا کا اثر یہ ہوا کہ ہندوتو وادی سماج کا ایک بڑا حصہ انگریزی دور حکومت اور انگریزوں کواپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے ان کے زیر سایہ زندگی گزارنے کو ایک نعمت ورحمت تصور کرنے لگا اور مسلم دور حکومت کو بربریت وغلامی، اس کے تناظر میں کئی قسم کی،مختلف ناموں سے تحریکات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ بنکم چندر کاناول، آنند مٹھ مذکورہ تحریکات کے زیر اثر جاری سرگرمیوں کا حصہ تھا، جس میں برٹش حکومت کو نجات دہندہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، دیگر تحریکات اور تنظیموں کوبھی اسی زمرے میں رکھا  جاسکتاہے۔

جاری تحریکات میں اس کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ ہندو اکثریتی سماج میں رائج افکار واعمال اور مراہم وروایات میں تصحیح واصلاح کاکام بھی وسیع پیمانے پر کیاجائے، اس میں اسلام بطور مسلمانوں اور مسلم دورحکومت کے زیر اثر مرتب وبرآمد ہونے والے اثرات ونتائج کو بھی رکھا جائے، خاص طور پر صوفیاء کے مختلف سلاسل ومکاتب فکر کے مراہم وروایات اور دیگر مسلم حکومتوں کے مقابلے میں منظم طویل مغلیہ سلطنت کے نظام حکمرانی زیر بہت زیادہ فوکس رکھا گیا،محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے معاملے، میں کچھ الگ نوعیت کے ہونے کے سبب علاقائی وعمل اثرات بڑی حد تک محدود تھے۔ بھارت میں رہ کر حکومت کرنے کی راہ ہموار نہیں ہوسکی، محمود غزنوی، آئے گئے کی راہ پرگامزن را تو محمد بن قاسم کو باہمی اقتدار کی چپقلش اور انتقامی ذہنیت کے تحت بھارت میں رہنے نہیں دیا گیا،محمود غزنوی عموماً فتح کے بعد ہندو راجاؤں کو اقتدار پر بٹھا کر واپس چلا گیا،لیکن اسے غیر ہندوستانی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کہ افغانستان اس وقت ہندوستان کا ہی حصہ تھا، البتہ اس کے بہنوئی، بھانجے، سالار ساہو اور سالار مسعود اور ان کے رفقاء نے ہندوستان میں قیام کرکے اس کے مختلف علاقوں میں اپنی مختلف قسم کے صالحانہ سرگرمیوں کو جاری رکھا  خاص طور سے سالار مسعود نے، بہرائچ کے خطے میں وہ وہاں کے عوام کو انسانی بھینٹ کی رسم سے بچانے کیلئے، ان کی دعوت پر آئے تھے، نہ کہ حکومت قائم کرنے کیلئے یہی وجہ ہے کہ سالار مسعود سے مسلمانوں سے زیادہ ہندو عوام عقیدت رکھتے رہے ہیں۔

ادھر گزشتہ کچھ عرصے سے رومانی من گھڑت کہانیوں کے ذریعے سالار مسعود اورراجا سہردیو کوالگ رنگ میں پیش کرکے ایک خاص طرح کی فرقہ وارانہ تاریخ بنانے کی مہم زوروں پر ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں

بھارت کی دیومالائی کہانیوں،پر انک کتھاؤں اور رزمیہ تخلیقات، رامائن، مہابھارت وغیرہ پرمبنی خاصی  تعداد میں ناول لکھنے والے امیش کا ایک ناول مہاراجا سہیل دیو کے نام سے منظر عام پر آچکاہے، ہندوتو وادی ذہنیت کی عام روش کے مطابق حددرجہ مبالغہ آرائی کرتے ہوئے ہندوؤں خصوصاً نوجوانوں میں احساس فخر وشجاعت پیدا کرکے جارحانہ مقابلہ بازی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اسی طرح ڈاکٹر پرشورام گپت نے راجا سہیل دیو کو راشٹر کا محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن تاریخ کے نام پر تاریخ نگاری او راس کی معتبریت کا زیادہ خیال نہیں رکھاگیا ہے سنگھ کی آئیڈیالوجی سے وابستہ لوک ہت پرکاشن لکھنؤ سے شائع کتاب، ’راشٹر رکشک مہاراجا سہیل دیو‘ میں لکھا گیا ہے کہ سید سالار، 10دن 1034(تاریخ، سنہ دونوں غلط ہیں) میں بہرائچ کی جنگ میں وہاں کے حکمراں مہاراجا سہیل دیو کے ہاتھوں، لاکھوں کی تعداد والی فوج کے ساتھ مارا گیا، اسلامی فوج کے شہید ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 4ہزار تھی۔ اس بیان میں حد درجہ انسانویت اور تاریخ سازی سے کام لیا گیا ہے، یہ ہندتووادی سماج کی پرانی عادت ہے۔ کہا جاتاہے کہ کورو چھیتر کی مہابھارت کی لڑائی میں،ایک ارب، 66کروڑ 20 ہزار جنگجو مارے گئے تھے، 24 ہزار65 جنگجو ؤں کا پتانہ چل سکا،مہابھارت کے وقت تو پوری دنیا کی بھی اتنی آبادی نہیں تھی، آج بھی بھارت کی کل آبادی بھی،کوروچھیتر میں مرنے  والوں سے کم ہے۔

اسی ذہنیت کا اظہار ڈاکٹر پرشورام نے کیا ہے،جس آخری جنگ میں سالار غازی، شہ رگ میں تیر لگنے سے شہید ہوئے تھے اس میں تھوڑے سے فوجی ان کے ساتھ تھے، اس کے باوجود سالار مسعود اور ان کے رفقاء کی پوری ہمت وجرأت سے ہندو راجاؤں کی متحدہ بڑی افواج کامقابلہ کرتے ہوئے ان کو زبردست نقصان پہنچایا تھا،سالار مسعود کی قیام گاہ کے محافظ سید ابراہیم نے شہداء کی تدفین کے ساتھ راجا سہیل دیو کو بھی مار گرایا تھا، کمال کی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر پرشورام نے سالار غازی کو زخمی او ربڑی تعداد میں مسلم فوجیوں کے مارے جانے کے باوجود، راجا سہیل دیو کی شکست اور سالار کی فتح کی بات کہی ہے۔ تاریخی شعور کی کمی کے سبب واقعات کو خلط ملط کردیا گیا ہے،اصل بات یہ ہے کہ سالار غازیؒ اور ان کے رفقاء کو بیشتر جنگوں میں فتح حاصل ہوئی تھی۔ بہرائچ کے علاقے کی مختلف لڑائیوں میں بھی سالار نے اپنے مد مقابل کو شکست دی تھی، کٹھلا ندی کے کنارے مختلف راجاؤں کو متحد ہ افواج پرسالار نے فتح پائی تھی، اس سے وہ او ران کے رفقاء مطمئن ہوکر دور دراز کے مختلف علاقوں میں پھیل کر دعوت وتبلیغ میں لگ گئے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راجا سہیل دیو اور دیگر راجاؤں نے اپنی اپنی متحدہ فوجوں کے ساتھ گھیرکر حملہ کردیا تھا، اسی جنگ میں سالار شہید ہوئے تھے سالار کی لڑائی ہندو عوام کو مختلف قسم کے استحصال سے بچانے اور اپنے دفاع میں تھی، یہ علاقے کے ہندوعوام کوبھی معلوم ہے، اس لئے وہ مسلمانوں کی طرح سالار مسعود سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اس طرح کے فرقہ وارانہ رجحان کوبڑھاوا دینے کے لئے من گھڑت کہانیوں اور افواہوں کو تاریخی حقائق بناکر پیش کیا جارہاہے اور یہ سلسلہ دراز سے دراز ت ہوتا جارہا ہے۔بابر اور بابر نامہ کے بہانے سے بھی شرارت پر مبنی افواہوں کو تاریخ حقائق او رپہلے رائج کہانیوں میں تحریفات سے کام لے کر کچھ سے کچھ باور کرانے کی غلط سعی کی جارہی ہے۔دھرم گرنتھوں کے ساتھ دیگر طرح کے لٹریچر میں بھی کاٹ چھانٹ اور گھٹانے بڑھانے کا کام وسیع پیمانے پر کیا جارہا ہے، جس طرح بابری مسجد کے سلسلے میں بابر اور بابر نامہ کے حوالے سے افواہ پھیلاکر رام م مندر کی راہ ہموار کی گئی اسی طرح سنبھل کی جامع مسجد کے بارے میں بھی اسی حربے کو اختیار کیا جارہا ہے۔

بابر نامہ کی انگریزی ترجمہ نگار مسنر بیورج اور علاقائی گزیٹر زتیار کرنے والے شرپسند انگریز افسران کی شرارتوں اورخیالی شوشے بازیوں کو کتاب کا اصل متن بنا کر پیش کیاجارہا ہے، انہوں نے حاشیے میں شرارت کی ہے لیکن ہندوتو وادی عناصر، کتاب کے متن کے طور پر پیش کرکے سماج کو گمراہ کرنے کا کام کررہے ہیں۔وزیر اعلیٰ یوپی بھی بابر نامہ کے حوالے سے سوال کررہے ہیں، جب کہ بابر نامہ کے اصل متن میں مندر توڑ کر مسجد کی تعمیرکا سرے سے کوئی ذکر نہیں ہے، لیکن غلامانہ ذہنیت کے تحت سامراجی گماشتوں کی شرارت کو ہی ثبوت و حقیقت کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے، ایسی حالت میں ضروری ہوجاتاہے کہ من گھڑت کہانیوں او رہندوتووادی عناصر کی افواہوں کو حقیقت اور تاریخ بننے بنانے پر روک لگائی جائے، اس کا احساس غالباً آر ایس ایس سربراہ ڈاکٹر بھاگوت کو بھی ہورہا ہے کہ دھرم کے نام پر زمیں کی تہوں میں آفتاب تلاش کرنے کی للک میں اضافہ ہوتا جارہاہے، اگر اس پر بروقت بریک نہیں لگائی گئی توبات تو بہت زیادہ بگڑ جائے گی، سنگھ کے سابق سربراہ راجو بھیا نے بابری مسجد کی شہادت کے بعدکہا تھا کہ اجودھیا کے ہنگامے سے رام مندر کی تعمیر کے مقصد کو زبردست نقصان ہوا ہے۔

13 جنوری،2025، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/campaign-fabricated-stories-history/d/134350

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..