New Age Islam
Wed Jun 03 2026, 11:00 PM

Urdu Section ( 31 Aug 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Committing Excess in Religion دین میں مبالغہ آرائی اور اسلام

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

31اگست،2024

اسلام عقائد اور اعمال و افعال میں سادگی کی تلقین کرتا ہے۔ وہ خدا کی وحدت اور انبیاء کی اطاعت کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں دینی فرائض کی ادائیگی میں بھی آسانی اورسہولت رکھی گئی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ مسلمانوں نے دین کو پیچیدہ اور مشکل بنا دیا اس کی وجہ دین میں مبالغہ آرائی یا غلو ہے۔ دین میں غلو گزشتہ قوموں میں بھی درآیا تھا جس کی وجہ سے ان قوموں میں بھی عقائد کی خرابیاں درآئی تھیں اور مذہبی امور میں اختلافات کی وجہ سے ان میں فرقے بن گئے تھے اور ایک فرقے کے پیروکار نہ صرف دوسرے فرقے کے پیروکاروں کو کافر کہتے تھے بلکہ ان کے قتل کو بھی جائز سمجھتے تھے۔قرآن کی کئی آیتوں میں یہودیوں اور عیسائیوں میں مسلکی اختلافات کا ذکر آیا ہے۔یہ اختلافات دین میں غلو کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔

دین میں غلو کی ایک قسم انبیاء کے مقام کے متعلق ہے۔ پچھلی قوموں نے اپنے انبیاء کے متعلق غلو کیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام کی قوم ان کو دوسرے انبیاء سے افضل ثابت کرنے کے لئے انہیں خدا کا بیٹا کہتی تھی۔ اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو دوسرے انبیاء سے افضل ثابت کرنے کے لئے خدا کابیٹا کہنے لگی۔ قرآن نے اہل کتاب کے اس روئیے کو غلط قرار دیا اور قرآن میں ان کو انبیاء کے متعلق غلو کرنے سے منع کیا۔

۔"اے ایل کتاب دین میں غلو مت کرو اور اللہ کے متعلق حق بات کے سوا کچھ نہ کہو۔"(النساء: 171)۔

یہ آیت عیسائیوں کے نظریہ ءتثلیث کے رد میں اورحضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنے پر تنبیہہ کے لئے اتری۔۔

قرآن میں کہہ دیا گیا ہے کہ ایک مومن تمام انبیاء کو یکساں طور پر مانتا ہے اور ان کے متعلق غلو نہیں کرتا۔ اس میں مسلمانوں کے لئے بھی وہی پیغام ہے کہ خدا اور رسول کے معاملے میں غلو سے کام مت لو۔

دین میں غلو کی دوسری صورت تقوی کے نام پر رہبانیت اور معاشرتی فرائض سے فرار ہے۔ عرب میں دوسری اور تیسری صدی میں سیاسی انتشار کے نتیجے میں علماء کا ایک طبقہ دنیاوی امور سے کنارہ کش ہوکر گوشہ نشیں ہوگیا اور عبادت وریاضت میں زندگی گزارنے لگا۔ اس گوشہ نشینی کے نتیجے میں علماء کے درمیاں علمی مباحث نے زور پکڑا جس کے نتیجے میں صوفیانہ نظریات وجود میں آئے۔ صوفیہ کا ایک طبقہ وجود میں آیا جو زیادہ سے زیادہ عبادت و ریاضت میں وقت گزارتا تھا۔ عام مسلمان ان صوفیہ کو عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کے طرز عمل کو ہی قابل تقلید سمجھنے لگے۔ جبکہ تقوی اور پرہیزگاری اور عبادت وریاضت کی کثرت ان کا ذاتی طرز عمل تھا۔ آگے چل کر صوفیہ کے اعمال اور ان کے افکار کو دین کی کتابوں میں مثال کے طور پر پیش کیا جانے لگ۔ علم دین کے طالب علموں میں صوفیہ کے اعمال اور افکار کے اثر سے دین میں غلو کا رجحان فروغ پایا جس کے نتیجے میں دوسری قوموں میں اسلام کا ایک مشکل تصور تیار ہوا۔دوسری قومیں اسلام کو ایک مشکل دین تصور کرنے لگیں۔۔

اس ضمن میں نامور صوفی بایزید بسطامی کا ایک واقعہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایران سے تعلق رکھتے تھے اور سندھ میں کچھ عرصہ رہ چکے تھے۔ یک یہودی ان سے بہت عقیدت رکھتا تھا ۔وہ ان کے تقوی اور پرہیزگاری سے بہت متاثر تھا۔ وہ کسی دوسرے شہر میں رہتا تھا اور اکثر ان سے ملنے آتا اور گھنٹوں ان کی صحبت میں بیٹھتا اور ان کی باتیں بڑے غور سے سنتا تھا۔ جب بایزید بسطامی کا انتقال ہوگیا تو وہ گھنٹوں ان کی قبر پر بیٹھا رہتا ایک دن شہر کے مسلمانوں نے اسے راستے میں روکا اور اس سے کہا ۔

۔"تم حضرت بسطامی سے بہت عقیدت رکھتے ہو۔ تم ان کی زندگی میں ان کے پاس گھنٹوں بیٹھتے تھے اور اب ان کی وفات کے بعد تم ان کی قبر پر گھنٹوں بیٹھے رہتے ہو۔ تو پھر تم اسلام کیوں نہیں قبول کرلیتے۔۔"۔۔

یہودی نے جواب دیا۔۔"ان کا جو اسلام تھا وہ میرے بس کی بات نہیں تھی اور تمہارا جو اسلام ہے اس سے تو میرا مذہب ہی بہتر ہے۔۔"۔

اس یہودی کے سامنے اسلام کی دو صورتیں تھیں۔ ایک حضرت بایزید بسطامی کا اسلام اور دوسری عام مسلمانوں کا اسلام۔ بایزید بسطامی نے اس یہودی کے سامنے جو اسلام پیش کیا تھا یعنی صوفیوں کا اسلام وہ اتنا مشکل تھا کہ اس کے لئے ناقابل عمل تھا اس لئے بایزید بسطامی سے بےپناہ عقیدت رکھنے کے باوجود اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔ عام مسلمانوں کے اعمال ایسے تھے کہ اس کو اپنا مذہب ہی بہتر معلوم ہوتا تھا کیونکہ عام مسلمانوں میں وہ ساری برائیاں تھیں جو یہودیوں میں تھیں۔

اس یہودی نے دو وجہوں سےاسلام قبول نہیں کیا۔ دین میں غلو اور عام مسلمانوں کی بے دینی۔ اسلام دہن میں اعتدال کی تلقین کرتا ہے جبکہ مسلمانوں نے دین کے معاملے میں غلو کا رویہ اپنا لیا ہے۔دین کی کتابوں میں اس طرح کے واقعات کو مثال کے طور پر قابل تقلید بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ فلاں صوفی نے کئی برسوں تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی یا ایک رات میں ایک قرآن ختم کردیا۔پاکستان کے عالم دین مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کے ہم اس طرح کا اسلام دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکتے۔ آج دنیامیں اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اسی لئے پھیلا یا جارہا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی ہدایت کے خلاف دین میں غلو کا رویہ اپنایا ہے اور بدعات اور خرافات میں مبتلا ہوکر دین کی ایک پیچیدہ اور مشکل صورت دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/committing-excess-religion/d/133085

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..