New Age Islam
Wed Apr 29 2026, 08:19 PM

Urdu Section ( 29 Jul 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Divorce Occurs More In Western Countries Than In Muslim Countries طلاق مسلمانوں سے زیادہ مغربی معاشرے میں

نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر

29جولائی،2024

مسلمانوں کے متعلق یہ متھ پھیلائی گئی ہے کہ ان میں طلاق بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان کے مذہب میں زبانی طلاق کا رواج ہے۔ جبکہ اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ مغربی معاشرے میں طلاق کا رجحان ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔یہ ضرور ہے کہ کچھ اسلامی ممالک بھی طلاق کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی ان ممالک میں طلاق مغربی ممالک کے مقابلے اوسطاً کم ہے۔ ذیل میں کچھ ممالک میں شرح طلاق پیش کی جاتی ہے۔

ہندوستان ایک فی صد

سری لنکا 1.5فی صد

پاکستان 10 فی صد

ایران 14 فی صد

اسرائیل 14 فی صد

ترکی 27 فی صد

الجزائر 33 فی صد

موریتانیہ 33 فی صد

مراکش 51 فی صد

مصر 25 فی صد

جنوبی افریقہ 17 فی صد

برطانیہ 44 فی صد

جاپان 35 فی صد

امریکہ 54 فی صد

فرانس 55 فی صد

جرمنی 39 فی صد

روس 43 فی صد

پرتگال 92 فی صد

طلاق کی شرح ہر 100 شادیوں میں طلاق کی تعداد سے متعین کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے مغربی ممالک میں طلاق کا وقوع زیادہ ہے۔ کچھ اسلامی افریقی ممالک جیسے الجزائر ، موریتانیہ ، سیریا اور مراکش میں بھی طلاق کا وقوع زیادہ ہے جو وہاں کےکلچر اور معاشی اور سماجی بحران کا نتیجہ ہے ۔ مثال کے طور پر سیریا میں خانہ جنگی سے قبل طلاق کی شرح 33 فی صد تھی لیکن خانہ جنگی کے بعد یہ بڑھ کر 37 فی صد ہو گئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاشی بحران بھی طلاق کا ایک بڑا سبب ہے۔ مراکش میں کووڈ کے دوران 2020ء میں طلاق کی شرح 55 فی صد تک پہنچ گئی تھی لیکن 2021ء میں یہ گھٹ کر 51 فی صد پر رکی ہے۔جرمنی میں طلاق کی شرح 39 فی صد ہے۔ 2005ء میں یہ شرح 52 فی صد تھی۔ اس طرح جرمنی میں طلاو کی شرح میں 30 سے 50 فی صد کے بیچ رہتی ہے۔سب سے زیادہ طلاق پرتگال میں ہوتی ہے ۔ وہاں شادیاں تادیر قائم نہیں رہتیں۔ وہاں ہر ا100 میں سے 92 شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔

اس سے پرتگال کے سماجی تانے بانے کی نا پائیداری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

طلاق کے معاملے میں پوری دنیا میں ہندوستان سب سے اچھی پوریشن میں ہے ۔ ہندوستان میں طلاق کی شرح صرف ایک فی صد ہے اور اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں ہونے والی طلاق شامل ہے۔ایک دہائی قبل یہ شرح اور بھی زیادہ کم تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کی شرح شہری علاقوں کی بنسبت کم ہے۔

جبکہ ہندوستان کے ہمسائے اسلامی ملک پاکستان میں طلاق کی شرح 10 فی صد ہے۔

ان اعدادوشمار سے مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی گئی متھ منھ کے بل گرجاتی ہے۔ ان اعداد سے یہ مفروضہ بھی رد ہوجاتا ہے کہ طلاق کا تعلق انسان کے مذہب یا کلچر سے ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں میں طلاق کی شرح ایک فی صد ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے مسلمانوں میں طلاق کی شرح بالترتیب 10 اور 14 فی صد ہے۔ وہیں عیسائی اکثریتی ملک پرتگال میں شاید ہی کوئی شادی تاحیات قائم رہتی ہے۔امریکہ، برطانیہ اور فرانس مںیں تقریباً ہر دو میں سے ایک شادی شدہ شخص طلاق شدہ ہے۔ سری لنکامیں بھی طلاق کی شرح کم ہے اور اس کی وجہ مذہب سے زیادہ مقامی روایات اور کلچر سے ہے۔

اس سلسلےمیں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی افریقی ملک موریتانیہ میں الجزائر کی ہی طرح طلاق کی شرح 33 فی صد ہے لیکن یہاں طلاق کو عورت کی زندگی کا المیہ نہیں بلکہ خوشی اور جشن کا موقع سمجھا جاتا ہے۔ وہاں عورتیں طلاق ہونے پر اپنے میکے میں جشن مناتی ہیں اور اس کے رشتہ دار اور دوست احباب ایک تقریب میں جمع ہو کر اسے طلاق کی مبارک باد دیتے ہیں ۔اس موقع پر شاعر اس کی شان میں اشعار گاتے ہیں اور اس کے سابق شوہر کی بدنصیبی اور نااہلی کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ موریتانیہ میں طلاق شدہ عورتوں کی قدروقیمت بڑھ جاتی ہے اور مردطلاق شدہ عورتوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

بہر حال، مشرقی اور مغربی مالک میں طلاق کی شرح سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں ہی میں زیادہ طلاق ہوتی ہے جبکہ مغربی ممالک۔میں طلاق کی بلند شرح اور اس میں بتدریج اضافے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طلاق کا تعلق سماجی و معاشی حالات ، عورتوں میں آنے والی خود مختاری کے نتیجے میں شادی سے متعلق ان کے تصور میں تبدہلی اوردیگر سماجی عوامل سے ہے نہ کہ کسی مذہب میں طلاق دینے کی آسانی ہا عدم آسانی سے۔پوری دنیامیں سائنسی اور صنعتی ترقی اور شہری زندگی کی پیچیدگیوں اور اخلاقی اور مذہبی اقدار کے زوال نے کنبے کاشیرازہ بکھیردیا ہے ۔ ان اعداد و شمار سے یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انسانی معاشرہ جتنا زیادہ مادی آسائشوں اور شخصی آزادی کی طرف بھاگے گا وہ دراصل اتنا ہی زیادہ خود غرض ہوتا جائے گا ۔وہ اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ ایک کنبے کو قائم رکھنے کے لئے اپنی انا اور اپنی خود غرضی کو مار کر کنبے کے دوسرے افراد کی فلاح کے لئےکام کرنے میں ہی کنبے کے ساتھ ساتھ خود اس کی بھی فلاح ہے۔ مغربی معاشرے کا فرد آج بے لگام شخصی آزادی کی دوڑ میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/divorce-western-countries-muslim/d/132816

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..