ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام
21 نومبر،2025
یہ ایک اہم سوال ہے کہ مدارس کے فضلاء کو روزگار کے مواقع کیسے میسر آئیں ۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا بھی جاچکا ہے اور بہت سی آراء بھی آچکی ہیں ان تمام آراء کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر درج ذیل امور پر عمل کرلیا جائے تو نئے فضلاء مدارس کے روزگار کا مسئلہ بہت آسانی سے حل ہوسکتا ہے ۔
نصاب کی یکسانیت
دینی مدارس کو موجودہ زمانے میں جن اہم علمی و فکری چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ نصابِ تعلیم کی عدمِ یکسانیت ہے۔ مختلف مدارس میں نصاب، تدریسی طریقے اور تعلیمی معیار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، جس کے باعث طلبہ کی علمی استعداد، فکری ہم آہنگی اور عملی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ برصغیر میں مدارسِ دینیہ کے نصاب کی بنیاد اگرچہ تاریخی طور پر"درسِ نظامی" پر رکھی گئی، جو عربی زبان، منطق، فلسفہ، فقہ، تفسیر اور حدیث پر مشتمل ایک جامع تعلیمی نظام سمجھا جاتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مکاتبِ فکر، مسالک اور تنظیموں نے اپنے اپنے نظریاتی و ادارتی رجحانات کے مطابق اس نصاب میں رد و بدل کیا۔ نتیجتاً آج ملک کے مختلف مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب میں نہ صرف کتابوں بلکہ مضامین، تدریسی انداز اور امتحانی نظام تک میں واضح تفاوت پایا جاتا ہے۔یہ فرق بظاہر تنوع کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، مگر عملی طور پر یہ علمی کمزوری اور فکری انتشار کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ جب ایک مدرسہ فقہِ حنفی کے متون پر زیادہ زور دیتا ہے اور دوسرا مدرسہ منطق یا فلسفے کے مباحث کو فوقیت دیتا ہے، تو طلبہ کی علمی سطح اور فکری افق میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض مدارس میں حدیث یا عربی ادب کے مضامین پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ بعض میں ان کی تدریس محدود یا سطحی رہ جاتی ہے۔ اس غیر متوازن نظامِ تعلیم نے فضلاء مدارس کی علمی استعداد میں ناہمواری پیدا کر دی ہے۔

مزید یہ کہ جدید دور کے تقاضے، جیسے کمپیوٹر، انگریزی زبان، ابلاغی صلاحیت، معاصر افکار اور بین المذاہب مکالمہ، اکثر نصاب میں شامل نہیں کیے جاتے۔ جہاں کچھ مدارس نے ان مضامین کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے، وہاں دوسروں نے انہیں غیر ضروری اضافہ سمجھ کر رد کر دیا۔ اس فکری تقسیم نے مدارس کے اجتماعی نظام کو یکسوئی سے محروم کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں روزگار کے مواقع بھی کم میسر آتے ہیں ۔ نصاب کی یکسانیت کے فقدان کے سبب فضلاء مدارس کو معاشی میدان میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کی تعلیمی قابلیت اور مہارت کا کوئی متحدہ معیار موجود نہیں۔ اگر ملک گیر سطح پر نصاب کا ایک متفقہ خاکہ تیار کیا جائے جس میں دینی و عصری علوم کا متوازن امتزاج ہو تو مدارس کے فارغین نہ صرف علمی لحاظ سے مضبوط ہوں گے بلکہ سماجی و معاشی طور پر بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ نصاب میں تنوع برکت کا سبب بن سکتا ہے مگر نصاب میں انتشار علمی کمزوری اور فکری بے ربطی پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس کے اربابِ حل و عقد مل بیٹھ کر ایک ایسا نصاب تشکیل دیں جو قرآن و سنت کی روح سے جڑا ہوا ہو، مگر زمانے کے علمی و فکری چیلنجز کا بھی سامنا کر سکے۔ یہی اقدام مدارس کے علمی وقار، فضلاء کی صلاحیت اور امت کی فکری یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے۔
جدید تقاضوں سے ہم آہنگی
موجودہ دور میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے بے شمار شعبے اور پیشہ ورانہ مواقع سامنے آنے کے باوجود کئی مدارس میں نصاب اور تدریسی نظام اب بھی صرف دینی علوم تک محدود ہیں۔ قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر اور عربی ادب کی تعلیم طلبہ کے لیے روحانی اور اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن عملی زندگی کے تقاضے، ٹیکنالوجی اور جدید علوم کی عدم شمولیت، انہیں عملی میدانوں میں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اکثر محدود روزگار یا تعلیمی مواقع پر منحصر رہ جاتے ہیں۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، جدید زبانوں میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشی و پیشہ ورانہ میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً نہ صرف ان کی خود کفالت متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں ان کا عملی کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔
عصری علوم کی کمی کا اثر صرف معاشی محدودیت تک محدود نہیں بلکہ علمی و فکری فاصلہ بھی پیدا کرتا ہے۔ جدید علوم اور دینی علوم کا امتزاج طلبہ کو نہ صرف دین کی گہرائی سے روشناس کراتا ہے بلکہ عملی دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ بہت سے مدارس نے محدود پیمانے پر کمپیوٹر یا جدید زبانیں شامل کی ہیں، لیکن یہ کوششیں ابھی تک عام نصاب میں یکساں نہیں ہوئیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگی آج کی ضرورت ہے۔ مدارس اگر اپنے نصاب میں عصری علوم کو بھی شامل کریں تو طلبہ نہ صرف دینی رہنما بنیں گے بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب کردار ادا کر سکیں گے۔
تحقیقی مزاج کا فروغ
مدارسِ دینیہ امتِ مسلمہ کے علمی و فکری مراکز رہے ہیں، جہاں صدیوں سے علم و تحقیق کی روایت قائم رہی۔ تاہم جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر ایک اہم مسئلہ جو اب نمایاں ہو گیا ہے، وہ تحقیقی مزاج کی کمی ہے۔ بیشتر مدارس میں نصاب اور تدریسی نظام ایسا ہے کہ طلبہ زیادہ تر حفظ، روایت اور معیاری کتابوں کی تعلیم پر مرکوز رہتے ہیں، جبکہ تحقیق، تنقیدی سوچ اور تجزیاتی مطالعے کے میدان میں مدارس دینیہ کے طلباء مستحکم نہیں ہیں اس کمی کی وجہ سے طلبہ صرف علمی معلومات تک محدود رہ جاتے ہیں اور عملی یا عصری مسائل کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔
تحقیق نہ صرف علم کی گہرائی پیدا کرتی ہے بلکہ طلبہ کو فکری آزادی، منطقی استدلال اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت بھی فراہم کرتی ہے۔ جب مدارس میں تحقیقی ماحول نہ ہو، تو طلبہ اپنی علمی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار نہیں لا پاتے اور جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق اپنے علم کو اطلاق میں نہیں لاسکتے۔ اس کمی کا اثر نہ صرف فرد بلکہ پورے علمی نظام پر پڑتا ہے کیونکہ نئے افکار، نظریات اور حل تجویز کرنے والے فاضل پیدا نہیں ہوتے۔ مدارس میں تحقیقی مزاج پیدا کرنے کے لیے نصاب میں تحقیق، مقالہ نگاری، مباحثہ اور تنقیدی مطالعے کے مضامین شامل کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو مختلف علمی مسائل پر تجزیہ کرنے، تحقیق کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کی تربیت دی جائے تاکہ وہ صرف معلومات کے ذخیرہ دار نہ رہیں بلکہ علم کو استعمال میں لانے والے فعال فاضل بھی بنیں۔
علاوہ ازیں اساتذہ اور مدارس کی انتظامیہ کو بھی تحقیقی ماحول فراہم کرنے کے لیے جدید ذرائع، لائبریری اور علمی رہنمائی کی سہولتیں مہیا کرنی چاہئیں۔ اس طرح مدارس نہ صرف دینی علم کی حفاظت کریں گے بلکہ عصری مسائل کے حل اور علمی ارتقاء میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحقیقی مزاج کی کمی مدارس کی سب سے بڑی علمی کمزوری ہے، جسے نصاب کی تجدید، تدریسی اصلاحات اور علمی سہولتوں کے ذریعے مؤثر طریقے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ شعبے نہ صرف دینی فریضہ انجام دینے کا موقع دیتے ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی مستحکم بن سکتے ہیں، اگر انہیں منظم اور جدید طرز پر استوار کیا جائے ۔
-------
مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔
---------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/employment-madrasa-graduates/d/137715
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism