New Age Islam
Sat Mar 07 2026, 01:29 AM

Urdu Section ( 5 Jan 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Extremism in Rawalakot, "Azad" Kashmir? راولاکوٹ" آزاد" کشمیر میں انتہا پسندی؟

سردار ناصر عزیز خان

4 جنوری 2025

مشہور جرمن فلاسفر آرتھر شوپنہار Arthur Schopenhauer کا کہنا ہے کہ ”ہر سچ تین مراحل سے گزرتا ہے :

پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے ؛

دوسرے مرحلے میں اس کی پرتشدد مخالفت کی جاتی ہے ؛ اور تیسرے مرحلے پر اسے خود ایک واضح حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ ”

وقت گواہ ہے کہ انسانی سوچ اور رویے وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لاؤڈ اسپیکر کو ”شیطان کی آواز“ کہا جاتا تھا، جنھوں نے لاؤڈ اسپیکر بنایا، انھوں نے اس کا استعمال چھوڑ دیا۔ نسبتاً جدید اور ماڈرن آلات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن لاؤڈ اسپیکر کو شیطان کی آواز کہنے والے نہ صرف اس کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں، بلکہ آج اس کا بھرپور بلکہ بے تحاشا استعمال کر رہے ہیں۔

تصویر کھینچنا کبھی گناہ سمجھا جاتا تھا، اور ویڈیو بنانا حرام تصور ہوتا تھا۔ لیکن اب پریس کانفرنس اس وقت تک نہیں شروع کرتے جب تک درجنوں کیمرہ مین نہ ہوں۔ اس وقت تک تشفی نہیں ہوتی جب تک اخبارات میں شہ سرخی فوٹو کے ساتھ نہ ہو۔

ہوائی جہاز کا سفر ”خلاف مذہب“ کہا جاتا تھا، اور ریل گاڑی کو قیامت کی نشانی قرار دیا جاتا تھا کہ لوہا لوہے کے اوپر چل رہا ہے۔ لیکن آج وہی لوگ ان تمام سہولیات کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

میڈیا، جسے کبھی مغربی سازش کہا جاتا تھا، آج ہر تقریب کی ضرورت بن چکا ہے۔ ہوائی جہاز، جو کبھی متنازع تھا، اب سفر کا بہترین اور برق رفتار ذریعہ ہے۔ اونٹ اور گھوڑے پر سواری، جو کبھی عام تھی، آج مہارت طلب اور غیر عملی ہے۔ کیونکہ اگر راستے میں سمندر پڑتا ہو تو سفر نامکمل رہتا ہے۔ اور ہوائی جہاز جو سفر ایک گھنٹے میں طے کرتا ہے، وہ گھوڑے اور اونٹ کے ذریعے کئی ہفتوں اور مہینوں میں جا کر طے ہو گا۔ اور اگر سفر چاند یا مریخ کا ہو تو گھوڑے اور اونٹ کے لئے اڑان بھرنا ممکن نہیں ہو گا۔

آزاد کشمیر میں تقریباً ننانوے فیصد مسلمان آباد ہیں۔ اسی کی دہائی تک اکثریت صوفی اسلام کے ماننے والوں کی تھی، جو نماز پڑھتے تھے روزے رکھتے تھے جس طرح ان کے آباو اجداد کی پریکٹس تھی، لیکن اپنے مذہبی عقائد اور تعلیمات دوسروں پر نہیں تھوپتے تھے۔ لیکن جہاد افغانستان کا پروجیکٹ بند ہونے کے بعد جہاد کشمیر پروجیکٹ پر زیادہ توجہ دی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مختلف فرقوں اور جہادی تنظیموں نے آزاد کشمیر کا رخ کیا۔

چندہ مہم اور اسلحہ بردار ہر شہر اور ٹاؤن میں نظر آنے لگے۔ الجہاد الجہاد کے نعرے گونجنے لگے۔ نوجوان کو سرینگر کی آزادی کے خواب دکھائے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق، 1988 سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار گئے۔ صوفی اسلام کے ماننے والے کشمیری دہشت گرد ٹھہرائے گئے اور ریاست جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹوری بنا دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور تک مجاہدین کہلانے والے 9 / 11 کے اچانک دہشت گرد اور کالعدم قرار دیے گئے۔

جنرل مشرف نے انٹرویوز میں کہا کہ ہم ان کو ٹریننگ دیتے تھے۔ ہمارے اثاثے تھے۔ لیکن اب یہ دہشت گرد ہیں۔ انھی کالعدم تنظیموں کے بطن سے نئے ناموں کے ساتھ نئی تنظیمیں بن گئیں۔ کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے لیڈروں نے ہی نئے نام والی تنظیموں کی قیادت سنبھال لی۔ جو چندہ مہم اور کام سرعام ہوتا تھا، اب تھوڑا منظم انداز میں ہونے لگا۔ کیونکہ شہروں کے علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں اور گاؤں کی سطح تک مقامی مساجد پر ان تنظیموں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود ان تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں نے جرگے کے قیام کا اعلان کیا۔ بظاہر کہا گیا کہ یہ انسدادِ منشیات و منکرات کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی سرحد پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ملتی ہے اور تمام راستوں پر جگہ جگہ چیک پوسٹس موجود ہیں۔ تو پھر یہ منشیات آزاد کشمیر میں کیسے پہنچتی ہیں؟ پولیس اور انتظامیہ سے سوال پوچھنے کے بجائے ان کی اصلاح کا مطالبہ کرنے کے بجائے، خود پولیس اور انتظامیہ کے اختیارات سنبھال لینا اور اس کی بھرپور تشہیر کرنا کہ لوگوں کے مسائل اب جرگہ سنے گا اور وہی فیصلے کرے گا۔ تقریباً دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ریاستی اداروں کا خاموش رہنا ایک سوالیہ نشان ہے۔ آزاد کشمیر کو وانا اور فاٹا جیسا بنانے کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔

اس کی علاوہ گزشتہ چند روز سے راولاکوٹ میں ایک اور مہم کا آغاز کیا گیا ہے کہ خواتین کی تصاویر والے بل بورڈز، اشتہارات اور پوسٹرز کو پورے شہر سے اتار دیا گیا ہے کیونکہ یہ ”خلافِ مذہب“ ہیں۔ باقاعدہ طور پر پورے شہر سے تمام بل بورڈز، اشتہارات اور پوسٹرز اتار دیے گئے۔ اور کاروباری حضرات کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے۔ کہ کوئی ایسا پوسٹر نہ لگائیں اور نہ ہی ایسی کوئی پروڈکٹ فروخت کریں۔ جس پر کسی خاتون کی تصویر ہو۔

ہمارے ہاں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں۔ مسلح طاقتور جتھے مقامی لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ قانون کے محافظ اور رکھوالے اور حکومتی ادارے ان کے سامنے خاموش ہیں۔ اسلحہ بردار نقاب پوش شہروں میں بڑی بڑی گاڑیوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔ چند ماہ قبل ایک مولانا صاحب نے راولاکوٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ لبرل، سیکولر اور قوم پرست واجب القتل ہیں۔ اسٹیج کے اطراف مسلح نقاب پوش کھڑے تھے۔ اس واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس کی بازگشت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی بار بار سنی گئی۔

مولانا صاحب کو کون سمجھائے کہ لبرل ازم اور سیکولر ازم کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں، بلکہ ”جیو اور جینے دو“ ہوتا ہے۔ تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر دھرتی ماں سے پیار کرنے والا قوم پرست ہوتا ہے۔ جو اپنی قوم، اپنے ملک اور اپنی دھرتی کا وفادار نہیں وہ بھلا کسی اور کا وفادار کیا ہو گا۔

یہ مولانا صاحب گزشتہ چار دہائیوں سے چندہ مہم کے سلسلے میں برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کے بے شمار دورے کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں سے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی حقوق کی تحریک چل رہی ہے۔ جس کا مقصد سستی بجلی، سستا آٹا، اور دیگر بنیادی مطالبات کا حصول ہے۔ اس پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے مولانا قدوس قوم پرستوں اور لبرل راہنماؤں کے قتل کے فتوے دے رہے تھے۔ یہ سب کچھ دن کے اجالے میں راولاکوٹ شہر کے وسط سے براہِ راست سوشل میڈیا پر نشر کیا جا رہا تھا۔

ریاست کو معلوم تھا کہ مولانا قدوس کیا کہہ رہے ہیں۔ اسٹیج کے ساتھ مسلح نقاب پوش کون ہیں۔ ان کی تربیت کہاں ہوتی ہے۔ اور اسلحہ کہاں سے آتا ہے۔ عوام بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ کہ کون ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کے نتیجے میں عوام کو سستی بجلی اور سستا آٹا ملنا شروع ہوا ہے۔ جو بعض قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اسی لیے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عوامی حقوق کی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

جو لوگ معاشرتی اصلاحات کی بات کرتے ہیں اور دلیل کے بجائے گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں، ان کی تربیت، اخلاقیات اور تعلیمی معیار پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ لوگ خود سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ لیکن دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ خواتین کی تصاویر والی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

اگر یہ لوگ اپنی باتوں میں مخلص ہیں تو جدید ٹیکنالوجی جیسے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع چھوڑ کر خط و کتابت کے پرانے طریقے اپنائیں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ کیونکہ ان کا مقصد معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے۔ اور آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں اسلامی نظام چاہتی ہے۔ اور سرینگر جموں وکشمیر میں حالیہ انتخابات میں مودی جی کی حکومت کے ساتھ ڈیل کر کے نہ صرف جیلوں سے اپنے لوگوں کو رہائی دلواتی ہے۔ بلکہ اپنے امیدواروں سے الیکشن بھی لڑاتی ہیں۔ مقصد نیشنل کانفرنس اور دیگر مسلم جماعتوں کے ووٹ کاٹنا تھا۔ جو کہ ریاست جموں و کشمیر کے سپیشل سیٹس کی بحالی کا وعدہ لے کر انتخابات میں اترے تھے۔ جماعت اسلامی جو کل تک سرینگر کشمیر میں الیکشن میں حصہ لینے کو کفر سمجھتی تھی۔

اب کی بار بی جے پی کو جتوانے کے لئے ڈیل کرتی ہے اور الیکشن لڑتی ہے۔ تاکہ مسلمانوں کا ووٹ تقسیم ہو۔ جو ریاست کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن کشمیریوں نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اور نیشنل کانفرنس کی جیت ہوئی۔ اور جیت کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس نے اسمبلی میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی قرارداد بھی پیش کر دی۔

ان حضرات کے لئے ملکہ برطانیہ کے فوٹو والے پاؤنڈز کا چندہ لینا جائز ہے۔ لیکن راولاکوٹ میں اشتہارات پسند نہیں۔ دوسروں کو بیماریاں کلونجی سے ٹھیک کرنے کی تبلیغ کرتے ہیں اور خود یورپ، کینیڈا اور امریکہ جا کر ہارٹ سرجری اور دیگر علاج کرواتے ہیں۔ یہ تضاد ان کے کردار کی اصل تصویر پیش کرتا ہے۔

اکیسویں صدی ترقی اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ ترقی کے پہیے کو پیچھے کی طرف گھمانا اب ممکن نہیں۔ اگر ہم واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اپنے رویوں اور سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ یہ روپے اور سوچ بدلنا ان کی ذمہ داری ہے۔ جنھوں نے یہ اثاثے بنا رکھے ہیں۔

پاکستان کو چاہیے کہ آزاد کشمیر میں عدلیہ، پولیس اور مقامی انتظامیہ کے متوازی اس طرح کے جتھے نہ تیار کرے۔ اگر انارکی اور غیر یقینی کا ماحول ہی پیدا کرنا ہے تو فوج، پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ پر اربوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ چھوڑ دیجئے جس کے پاس جتنا بڑا جتھہ ہو گا، قانون وہی بنائے گا اور نافذ بھی کرے گا۔

مذہبی جنونیوں کا وتیرہ ہے کہ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ دلیل کے بجائے دوسروں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ دراصل گالم گلوچ کرنے والا اپنی اصلیت، اپنی تربیت اور اپنا پس منظر دوسروں کو دیکھا رہا ہوتا ہے۔

دلیل سے بات کرنے کے لیے تاریخ، سائنس، فلسفہ، تقابل ادیان اور رسوم اقوام کا مطالعہ ضروری ہے۔ لیکن صرف مطالعہ پاکستان اور سطحی علم سے اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنا بہت بڑا مغالطہ ہے۔ مطالعہ بھی ایسے قصے کہانیوں کا ہو جن پر خود پاکستان کے تاریخ دان اور ماہرین پریشان ہیں کہ یہ ایسی من گھڑت کہانیاں کس نے اور کیسے گھڑی ہیں۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزاد کشمیر ایک انتہائی حساس اور متنازعہ علاقہ ہے۔ جس پر علاقائی اور عالمی طاقتوں کی گہری نظر ہے۔ دوسرا شاید ہی آزاد کشمیر کا کوئی ایسا گھر ہو جس کا کوئی نہ کوئی فرد، بلکہ اکثر تین، تین، چار، چار اور پانچ، پانچ افراد بھی، بیرونِ ممالک روزگار کے سلسلے میں آباد نہ ہوں۔ مقامی سطح پر صنعتوں کا نہ ہونا اور روزگار کے مواقعوں کے نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بیرونِ ممالک مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالرز زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ بیرون ممالک میں رہنے کی وجہ سے کشمیری بین الاقوامی اور علاقائی تناظر میں چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر پاکستان نے اس معاملے کی سنگینی کو سنجیدگی سے نہ لیا اور آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر فوری اور مکمل پابندی نہ لگائی، مذہبی منافرت اور شدت پسندی کو فروغ دینے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا، تو یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور ایف اے ٹی ایف میں ایک بار یقیناً پھر جائے گا۔

بین الاقوامی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور مختلف ممالک کی سرحدوں میں تبدیلیاں ہوں گی۔ برصغیر خاص طور پر جنوبی ایشیا، اس سے مبرا نہیں ہو گا۔

پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست جموں و کشمیر، بشمول آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان متنازعہ علاقے ہیں۔ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے تفویض کردہ فرائض کے تحت امن و امان اور لوگوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا پاکستان پر لازم ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ لاکھوں کشمیری بیرون ممالک میں رہتے ہیں۔ اور حالات اور واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کوئی بھی باشعور کشمیری اپنے عزیز و اقارب اور اپنی دھرتی ماں کو کالعدم تنظیموں اور مذہبی جنونیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔

ان مذہبی جنونیوں کے پاس جب کوئی دلیل نہیں ہوتی تو پھر مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور سوال اٹھانے والوں اور تنقید کرنے والوں کو مذہب مخالف، غیر ملکی قوتوں کے ایجنٹ کے فتوے لگا دیتے ہیں۔ لیکن ایسے فتویٰ کوئی نئی بات نہیں۔ دہائیاں بدل گئیں، چہرے بدل گئے لیکن طریقہ واردات وہی پرانا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح، باچا خان، ذوالفقار علی بھٹو، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی، سردار شوکت علی کشمیری، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، جی ایم سید، ولی خان، عمران خان، بے شمار رائٹرز، صحافی حضرات اور میڈیا پرسنز، اور ہر باشعور آدمی جو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے، ان کی نظر میں ملک دشمن، مذہب دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ ہے۔

ان جنونیوں کو کون سمجھائے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت تھیں۔ اور ان کا کاروبار کئی ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ ان مذہبی جنونیوں کو کون سمجھائے کہ کشمیریوں کو اپنے وطن سے محبت کرنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے۔ جتنا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے باشندوں کو اپنے وطن سے محبت کا حق ہے۔ اپنے وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے کشمیریوں کو کسی کی منظوری یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

سچ کو ابھی پر تشدد  مخالفت کا سامنا ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب فتح حق اور سچ کی ہو گی۔ اور ماضی کی طرح اس بار بھی بالآخر سچ کو بھی من و عن تسلیم کر لیا جائے گا۔

4 جنوری 2025، بشکریہ:ہم سب ، پاکستان

-------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/extremism-rawalakot-azad-kashmir/d/134245

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..