New Age Islam
Sun Apr 05 2026, 10:22 AM

Urdu Section ( 1 Feb 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

It Is Also Forbidden To Call a Kaafir A Kaafir کافر کو بھی کافر نہ کہنے کا حکم ہے

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد

31جنوری، 2025

حسب وعدہ آج ایک ایسے تنازعہ پرقلم اٹھارہا ہوں جو اکثریتی فرقے، متشدد ہندو حلقے او ر ایک عام ہندو کی نفسیات،اس کی سوچ،قول، فعل او ر عمل کو اسلام اور مسلمان کے تناظر میں اس حد تک متاثر کرچکاہے کہ پورا ہندوستانی معاشرہ متعصبانہ ذہنیت اور مذہبی منافرت کی گرفت میں ہے۔ نہ اسلام آج آیاہے، نہ ہندو مسلمانوں نے آج ہی ساتھ رہنا شروع کیا ہے او رنہ ہی کفر وکافر کی اسلامی اصطلاحیں کوئی نئی تحقیق یا انکشاف کا نتیجہ ہیں۔ افہام وتفہیم کے دوتقاضے ہوتے ہیں: پہلا متعلقہ فریق(مسلمان) کو ضروری معلومات فراہم کرناتاکہ بوقت ضرورت وہ وضاحت کا متحمل ہو اور دوسرا سوالی کو اطمینان بخش جواب مل جائے۔

کفر کو سمجھنے او رکسی کو کافر قرار دینے کی تفصیل میری دانش کے مطابق کچھ اس طرح ہے۔ انکا ر (اسلام کو سرے سے ر د کرنا یعنی اپنی ساخت اور شناخت کو اس سے فارغ رکھا)،انحراف (منافقانہ رویہ اختیار کرنا، نہ پورا ماننا او رنہ پورا انکار ہی کرنا، عقیدے کو ایک ایسی کیفیت میں رکھنا جس میں ابہام او رانتخاب دونوں کی آزادی رہے)، اختلاط (اپنی مرضی، منشا اور رائے کو الہامی آراء پر نعوذ باللہ مقدم رکھنا، اطلاق ونفاذدین یعنی فضائل و مسائل میں صاحب رائے بن جانا، صحیح اور غلط طے کرنے کا خود کو ہی حامل بنالینا)، اختلاف (وہ آزاد خیال طبقہ جو انسان اور انسانیت کی رہبری ورہنمائی کیلئے الہامی دین کے تصور سے ہی اختلاف رکھتاہے، اس کے نزدیک انسان ایک مکمل آزاد خود مختار وحدت ہے او روہ ہر معاملہ سازی کامتحمل ہے) ان چار بنیادوں پر یہ طے ہوگاکہ کوئی قول، فعل، عمل، تعریف، تصنیف، تحقیق، تعبیر، تنقید،تنقیص، ادراک، رائے اور آراء حتی کہ تحریک، تنظیم، ادارہ، قوم وملت، فرقہ یافرد دائرہ کفر او رکافر کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ سناتن دھرم، خدا، الوہئیت،موکش (نجات) او ر عبادت کا اپنی تشریحات کے ساتھ قائل ہے۔ اس کے یہاں برہم وشنو،شو مل کر تثلیث کا ایک ویدک تصور موجود ہے۔ خیر یہ تو ایک نجی معاملہ ہوا۔کافر کے تناظر میں دونکات کلیدی طور پر سمجھنے کے ہیں۔ اول الوہئیت کاغیر مشروط قرار واقرار، دوسرے اسلام کا راست انکارکرنا یا تسلیم کرنا! سناتن عقیدے کی بنیاد ایکم ستیہ و پراہ یعنی خدا(الوہئیت کا حقدار) ایک ہے۔ اس کو پانے یا رسائی کے راستے الگ ہوسکتے ہیں۔سناتن دھرم اور ہندو آستھا اس عقیدے پر موقوف ہے۔ اس تناظر میں سناتن،ویدک یاہندو دھرم کو اسلام کی قطعی رد، انکار یا انحراف کے زمرے میں براہ راست یا برجستہ شامل کرنا غور وفکر کاموضوع ہے۔ پھر ہندو یا سناتنی کافرکیسے؟ یہ ایک سوال ہے۔اجمالی رویہ حقیقی ہویہاں ابہام رہتاہے۔ شرک ایک الگ مضمون ہے۔ البتہ متعدد اور متضاد قول، عمل وفعل ایسے ہیں یا ہوسکتے ہیں جہاں کفر یا کفریہ عمل کا ارتکاب ہو۔میں اپنی ناقص سمجھ میں ہندو کواختلاط کے زمرے میں رکھ پارہا ہوں۔ کفر تو ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ایک مسلمان بھی دانستہ اور نادانستہ روزمرہ کی زندگی میں ملوث پایا جاتاہے۔ ارد وشاعر ی صنف نازک کے حسن وجمال کی کیفیات کا جب بیان ہوتاہے تو اس کا اشارہ اس شیطانی وسو سے کی طرف ہوتاہے جو کفر کی کسی شکل میں ظاہر ہو! جہاں کہیں بھی ایمان پر آنچ یا ضرب آئے گی کفر درمیان میں آئیگا۔ ناشکر اہونا،کفر ان نعمت ناشکری اور بدعت ضلالہ کے زمرے میں آتی ہے۔ برادران وطن سے اتناہی کہنا چاہونگا کہ جو جب او رجس کیفیت میں قرآن سنت سے منحرف ہوکر کچھ ایسا دانستہ کرے گا وہ اس وقت کفر کامضمون ہوگا۔ ایک پوری اکائی یا وحدت کے حوالے سے مستقل بیانیہ اس حوالے ممکن نہیں، فی الفور کافر قرار دینا یا نہ دیا یہ فیصلے اورآراء کازمرہ اورمسئلہ ہے جس کا تعلق صاحب رائے حضرات یانظم سے ہے۔ سناتن دھرم کو ماننے والی پوری ہندو قوم پر کافر ہونے کا فتویٰ لگانے میں علماء کرام اور مفتیان کرام نے محتاط رویہ رکھا ہے۔اسلام میں مکالمے کا فرض کفایہ د عوت وتبلیغ کے توسط سے عام رکھا گیا ہے۔ اسلام کو سرے سے جھٹلانے والے کافر پر بھی کسی جبر ظلم،تشدد یا قتل وغارتگری کا نہ کہیں کوئی حکم ہے اورنہ ہی جواز! بطور تمسخر کافر کو بھی کافر کہنے کا حکم نہیں، نہ جانے کب ایمان کی روشنی سے اس کا سینہ منور ہوجائے، کافر محض ایک شناخت ہے۔ اسلام اپنے ہر زاویے کو ایک اصطلاح سے متعارف کرتاہے۔جیسے مشرک، منافق، فاسق، کا ذب وغیرہ۔ اسلام کو مکمل اورغیر مشروط ماننے والا مسلم کہلاتا ہے۔بقیہ دیگر زمروں میں شمار ہوتے ہیں۔آپ کے یہاں تو کسی بھی عقیدے کی رد ہی نہیں! (تو آپ کافرکہاں او رکیسے ہوئے)رہی بات ہم ہندوبھائیوں کو کافرکہنا چھوڑدیں تو جو اعلان عام ہی نہیں اس کو چھوڑنے کا سوال کہاں؟

کچھ او رپہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں۔ آج اس قضیے کو ایسے پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے ہندو کافر ہے اور کافر اسلام میں واجب القتل ہے، اسے عزت سے رہنے اورجینے کا حق نہیں، اسکو ملیچھ،غلیظ اورنجس مانو، اس سے نفرت کرو، بغض پالو، اس کے پاس بیٹھنااٹھنا، ساتھ کھاناپینا گویا پہلو سے اسے اچھوت جانو! اس انتہائی رویے کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے سابقہ 1446 سالہ اسلامی تاریخ، سیرت نبوی، ہندو مسلم رشتوں، جنگ آزادی میں علماء کے ذریعے نظریہ پاکستان اور تقسیم ہند کی مخالفت، متحدہ قومیت کے علماء کے تصور، موجودہ دور میں مسلم ممالک سے ہمارے سیاسی، سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کی صدیو ں پر پھیلی تاریخ سے رجوع کرنا ہوگا۔اگر یہ سب مفروضے درست ہیں جیسا کہ آج بتایا، سمجھایا اور اس کی تشہیر وتبلیغ کی جارہی ہے تو دیکھنا ہوگا کہ ایسے مذہب کے ماننے والوں کو چودہ سوبرس پہلے تناتن سماج نے مسجدیں بنا کر گجرات،چنئی اور کیرالہ میں اس کااستقبال کیوں کیا؟ کیو ں اعلیٰ ذات ہندو کے مظالم کے پس منظر میں مظلوم ہندوؤں نے ایک عرب مسلم حکمراں محمد بن قاسم کو اس ظلم کے خاتمے او رانصاف کے نظام کو قائم کرنے کی پہل کی۔ پہلے تاجر، پھر مظلوم ہندوؤں کے بلانے پربطور حکمران، اس کے بعد بطور حملہ آور بھی، ساتھ ہی صوفیائے کرام کی آمد بھی 1191 سے شروع ہوگئی تھی، سید سالار غازی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔تمام مسلم دوراقتدار میں ہندو مسلم حکمرانوں کے شانہ بہ شانہ رہا، تفرقے یا تعصب کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔حتیٰ کہ 1857 میں پہلی جنگ آزادی آخری مسلم مغل بادشاہ کی قیادت میں لڑی گئی۔ کوئی ہندو۔ مسلم کا سوال ہی نہیں تھا۔کوئی ایک فساد نہیں اقتدار کی چند جنگیں ضرور ہیں۔ ہر اقتدار میں خیر اور شر دونوں پہلو ہوتے ہیں۔کوئی احتجاج، کسی کے مستعفی ہونے یا ایسا کوئی نمایاں واقعہ سامنے نہیں۔ کیوں ہندوؤں نے بڑے عہدے قبول کئے، ساڑھے تین سو سالوں میں مغلیہ دورمیں راجپوت اور کائستھ خصوصی طور پر اقتدار میں برابر کے شریک رہے، اگر کافروں کا قتل ہی واجب تھا تو کس مسلم دور اقتدار میں کافروں کا قتل عام ہوا، کیوں ہندوؤں کے تمام مذہبی شہر مٹھ، دھام، پیٹھ، اقدار وروایات، طریقہ معاشرت، رہن سہن، پوجا ارچنا کے طور طریقے،لاکھوں مندروں کی تعمیر، آشرم اور دوسرے دھارمک استھل سب کی اجازت رہی؟ سب کو مسمار کیوں نہ کردیاگیا۔ چند دیگر مثالیں ہیں، انکار نہیں۔ مگر انکا مذہب سے نہیں سیاست او ر اقتدار سے تعلق ہے۔کیوں تحریک آزادی میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان کی مخالفت مولانا ابوالکلام آزاد مفسر قرآن، علمائے دیویند اور مسلمانوں کی اکثریت نے کی؟ کیوں انہوں نے کثرت میں وحدت اور تکثیرت کی وکالت کی؟ کیوں مسلم ممالک پاکستان کے مقابلے بین الاقوامی محاذ اور اداروں میں ہندو ستان کی حمایت کرتے اور پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں؟ کیوں ایک کروڑ ہندو ستانیوں کو خلیج کے مسلم ممالک نے اپنے یہاں روزگار دیا ہوا ہے؟ کیوں کھربوں روپیوں کی سرمایہ کاری مسلم ممالک یہاں کررہے ہیں؟ عربوں سے زیادہ اسلام کوکون سمجھتاہے۔ ان کی تو مادری زبان قرآن کی زبان ہے۔ وہ اور غیر عرب دونوں مودی کو اپنے اعلیٰ ترین اعزاز سے کیوں نواز رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے یہاں ہندو جو آپ کے مطابق کافر ہیں انہیں عبادت کی چھوٹ ہی نہیں دے رکھی رام مندر سے کئی گنابڑے مندر کی تعمیر کیلئے کئی سو ایکڑ زمین فراہم کی ہے؟

لغویات اور خرافات کا دلیل اورمنطق سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اسلام امن اور صلح کا دین ہے۔ ہر موضوع او رمضمون کی اس کے یہاں ساخت اور شناخت کے حوالے سے ایک اصطلاح موجود ہے۔ کافر ایسی ہی ایک شناخت سے زائد کچھ نہیں۔ آپ کے یہاں شودر، ملیچھ ایک شناخت ہے۔آپ کا کہنا ہے کہ انسان پیدائش سے نہیں اپنے کرم سے شودر ہوتاہے مگر پوری نسل کشی اور تفریق کی تاریخ موجود ہے ہمارے یہاں بس شناخت سے آگے کچھ نہیں۔ آخر میں اتناہی کہوں گا کہ یہ فکر کو درست کرنے کا مسئلہ ہے جس کاتعلق ہم سے نہیں آپ سے ہے جو مسئلہ نہیں اسے مسئلہ بنانا کیا آج کی سیاست تو نہیں!

31 جنوری،2025، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/forbidden-kaafir-call/d/134495

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..