کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام
6 اگست 2025
انسانی زندگی اور جذباتی نشیب و فراز
انسانی زندگی کبھی بہار کی طرح خوش رنگ، تو کبھی خزاں کی طرح پژمردہ نظر آتی ہے۔ خوشی و غم، اُمید و مایوسی، کامیابی و ناکامی—یہ سب جذبات انسانی تجربے کا حصہ ہیں۔ مگر جب مایوسی، غم اور ناامیدی کی گھٹا اس حد تک گہری ہو جائے کہ انسان کا شعور، اس کی سوچ، جذبات اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے، تو یہ کیفیت ذہنی دباؤ یا "ڈپریشن" کہلاتی ہے۔
ڈپریشن ایک خاموش مگر گہری بیماری ہے، جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عصرِ حاضر کا مادّہ پرست، مصروف اور مقابلہ انگیز معاشرہ اس بیماری کو عالمی سطح پر ایک سنجیدہ مسئلہ بنا چکا ہے، جو نہ صرف فرد کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ڈپریشن کی پیچیدہ شکل: بائی پولر ڈس آرڈر
کئی شدید ذہنی دباؤ کا شکار افراد ایسے دوروں سے بھی گزرتے ہیں جنھیں مینیا (Mania) کہا جاتا ہے، جہاں وہ غیر معمولی خوشی اور سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ حالت بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder) کہلاتی ہے۔ اس میں انسان بظاہر نارمل لگتا ہے، مگر وہ معمول سے کہیں زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ یہ بیماری مرد و زن دونوں میں یکساں پائی جاتی ہے، اور بعض اوقات خاندانی وراثت میں منتقل ہوتی ہے۔
اسبابِ ڈپریشن: ذہنی، جسمانی و معاشرتی عوامل
ڈپریشن کے کئی داخلی و خارجی اسباب ہو سکتے ہیں:
ناکامی کے بعد اندیشۂ مستقبل:
جب انسان اپنی بھرپور کوشش کے باوجود منزل تک نہ پہنچے تو وہ اپنے مستقبل کو تاریک تصور کرنے لگتا ہے۔ ایسی کیفیت میں اس پر شدید ذہنی اور جسمانی تھکن طاری ہو جاتی ہے، جو بالآخر ذہنی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔
حد درجہ حساسیت:
بعض لوگ بہت نازک مزاج اور جذباتی ہوتے ہیں، معمولی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں اور انھی باتوں کو بار بار سوچ کر خود کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ان کی منفی سوچ انہیں ڈپریشن کے گہرے کنویں میں دھکیل دیتی ہے۔
دل کی باتوں کو چھپانا:
اکثر لوگ اپنی تکالیف کسی سے بانٹتے نہیں، اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں۔ یہ اندرونی اضطراب رفتہ رفتہ ذہنی الجھن اور مایوسی میں بدل جاتا ہے۔
معاشرتی و معاشی دباؤ:
گھریلو تنازعات، تجارتی خسارے، بے روزگاری، تعلقات کی خرابی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل بھی ڈپریشن کے نمایاں اسباب میں شامل ہیں۔
شرعی رہنمائی: مایوسی کی ممانعت
اسلام ایک اُمید افزا دین ہے جو انسان کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیتا۔ قرآن مجید میں بار بار بندوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے:
"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِؕ"
"فرما دیجیے: اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو!"(سورۃ الزمر، آیت 53)
مایوسی ایک کبیرہ گناہ ہے، اور بعض حالتوں میں یہ کفر تک پہنچ سکتی ہے، مثلاً:
اللہ تعالیٰ کی قدرت سے انکار
اس کے علم سے انکار
یا اسے (معاذ اللہ) بخیل سمجھنا
یہ تمام تصورات ناقابلِ معافی ہیں اور انسان کو ایمان کے دائرے سے خارج کر سکتے ہیں۔
ڈپریشن کا علاج: دینی اور طبی دونوں زاویے
جس طرح ذیابیطس یا بلڈ پریشر ایک جسمانی بیماری ہے، ویسے ہی ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے اور قابلِ علاج ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اسے بیماری تسلیم کرنے کے بجائے مذاق، کمزوری یا مجرمانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔
نفسیاتی طریقۂ علاج:
ماہرینِ نفسیات مریض کوحوصلہ افزائی کے ذریعے دوبارہ جینے کا جذبہ دیتے ہیں، مثبت خیالات کو ابھارتے ہیں ، ماضی کو چھوڑ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنانے پر آمادہ کرتے ہیں۔
قرآنی علاج:
قرآن مجید سب سے مؤثر روحانی علاج ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: "وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ"
"ہم قرآن میں وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔" (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 82)
قرآن نہ صرف روح کی غذا ہے بلکہ دل کو تقویت اور امید بخشتا ہے۔ انسان جب اس سے گہرائی سے وابستہ ہوتا ہے تو مایوسی، ذہنی پریشانی اور بے سکونی جیسے امراض اس سے دور ہو جاتے ہیں۔
ذکرِ الٰہی اور نماز: سکونِ قلب کا نسخۂ خاص
روحانی سکون کے لیے سب سے مؤثر عمل ذکرِ الٰہی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے: "اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ"
"خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد، آیت 28)
اور ذکر میں سب سے اعلیٰ ذکر نماز ہے۔ نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان ذہنی، روحانی اور جسمانی سکون حاصل کرتا ہے۔
دیگر اہم روحانی تدابیر:
صبر و شکر کا رویہ:
قرآن مجید صبر اور نیک عمل کو مغفرت اور عظیم اجر کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
اللہ سے حسنِ ظن رکھنا:
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق برتاؤ کرتا ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں فرمایا:
"میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔" (صحیح بخاری: 7405)
توبہ اور گناہوں سے اجتناب:
گناہوں سے دوری، دل کی صفائی اور روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہے۔
سبق آموز حکایت: مانگنے والا رب سے مایوس نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ ایک مزدور کو شہد کی حاجت ہوئی، کئی دروازے کھٹکھٹائے، ہر طرف سے مایوس ہوا۔ آخرکار بادشاہ کے دربار میں پہنچا، اپنی حاجت بیان کی۔ بادشاہ نے خوش دلی سے اسے ضرورت سے بڑھ کر نوازا۔ درباریوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا:
"اس نے اپنی حیثیت کے مطابق سوال کیا، میں نے اپنی شان کے مطابق عطا کیا۔"
تو اے بندے! تو رب سے مانگ بندے بن کر، اور رب تجھے اپنی شان کے مطابق نوازے گا۔
تقربِ الٰہی: ڈپریشن کا اصل علاج
وہ لوگ جو اللہ سے قریب ہو جاتے ہیں، ان پر نہ کوئی خوف ہوتا ہے، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوتے ہیں:
"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ" (سورۃ یونس، آیت 62)
یہی ایمان و توکل کا حقیقی فیض ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہے۔
یا اللہ! ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے وافر حصہ عطا فرما، صبر و شکر کی دولت سے نواز، اور ہمیشہ اپنی رحمت سے پرامید رہنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین، یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔
-------------
کنیز فاطمہ عالمہ و فاضلہ ، نیز نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ہیں ۔
-------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/freedom-islamic-spiritual-guidance-peace/d/136421
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism