سہیل ارشد، نیو ایج اسلام
27مارچ،2026
ایران۔اسرائیل کی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہوچکے ہیں ۔اس دوران خلیجی ممالک نے عیر جانبداری کا جو مکھوٹا پہن رکھا تھا اب وہ دھیرے دھیرے چہرے سے سرکنے لگا ہے اور ان کے عزائم کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ان خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب، قطر، کویت ، بحرین اور اردن نے امریکا کو فوجی اور بحری اڈے قائم کرنے کے لئے زمین دے رکھی تھی جہاں سے ایران پر حملے ہورہے تھے۔ امریکا نے انہیں یہ خوف دلایا تھا کہ مستقبل میں ایران ان کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اور انہیں یہ یقین دلایا تھا کہ یہ اڈے ایران سے ان کی حفاظت کرینگے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ اڈے امریکا نے اسرائیل کی حفاظت کے لئے قائم کئے تھے اور یہ حقیقت تب اور واضح ہوگئی جب ایران نے ان تمام اڈوں کو اپنی میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کردیا اور کویت ، قطر، سعودی عرب اور بحرین کی توانائی اور تیل کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا۔ تو امریکا نے انہیں بچانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔اب یہی ممالک امریکا کو کوسنے کے باوجود ایران کو اپنے وجود کےئے خطرہ بتارہے ہیں جبکہ انہیں امریکا سے جواب طلب کرنا چاہئے تھا اور اس سے ہرجانہ طلب کرنا چاہئے تھا کیونکہ امریکا نے ان کے تحفظ کے نام پر ان سے اربوں روپئے وصول کئے لیکن جب ایران نے حملہ کیا تو خود بقول سعودی عرب امریکا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اور اسرائیل کی حفاظت کے لئے راڈار سسٹم ساؤتھ کوریا سے ہٹا کر اسرائیل میں نصب کردیا ۔ خلیجی ممالک نے امریکا کو اڈے دے کر ایران سے دشمنی مول لی اور اب امریکی اڈوں اور فوجی اور انٹلی جنس تنصیبات کی تباہی پر راحت اور آزادی محسوس کرنے کے اور ایران سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے ایران کے خوف سے اسرائیل سے قربت بڑھانے کی بات کررہے ہیں اور امریکا کو ایران پر فیصلہ کن حملہ کرنے کے لئے اکسارہے ہیں ۔دو دن قبل امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبی نے امریکا کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے لئے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے امریکا کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف تب تک جنگ ختم نہ کرے جب تک اسلامی جمہوریہ ایران سے لاحق عرب ممالک کو خطرہ باقی نہ رہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکا ایران کو پوری طرح سے تباہ کئے بغیر جنگ بندی کا اعلان نہ کرے۔ واضح ہو کہ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ نے کچھ وقفے کے لئے حملے روکنے کی بات کی تھی۔ یوسف العتیبہ کا مضمون بنجامن نتن یاہو کے اس بیان کے ٹھیک دودنوں کے بعد آیا ہے کہ ایران میں زمینی فوج کشی ضروری ہے۔ اس مضمون۔میں العتیبہ نے یہ بھی لکھا کہ یہ جنگ اس خطے کی جغرافیائی اور سیاسی تشکیل نو کے لئے ایک سنہرا موقع ہے اسی دوران یواے ای کے ڈی جی پی کا یہ بیان بھی آیا کہ امارات کو عرب ممالک کے درمیان باہنی تعاون کے بجائے اسرائیل سے تعلقات پر انحصار کرنا چاہئے۔ اگرچہ قطر نے اس جنگ پر ایک۔محتاط موقف اختیار کیا ہے لیکن ایران نے یہ کھل کر کہا ہے کہ سعودی عرب، امارات اور قطر اسرائیل اور امریکا کو جنگی امداد دے رہے ہیں ۔ ایران کے مقابلے میں اسرائیل اور امریکا کی پسپائی نے خلیجی ممالک میں گھبراہٹ اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا ہے اور وہ جنگ کے بعد کے سیاسی منظرنامے کے تعلق سے فکر مند ہیں۔ اس لئے انہوں نے اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا اور اس میں ایران پر عالمی نظام کو درہم برہم کرنے اور توسیع پسندانہ اقدامات کا الزام لگایا۔ عرب ممالک کے ان بیانات سے یہ ظاہر ہے کہ یہ ممالک امریکا اور اسرائیل کی غلامی کے اس حد تک عادی ہوچکے ہیں کہ وہ انہی کو اپنا مسیحا اور محافظ ماننے لگے ہیں جبکہ ایران بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ عرب ممالک امریکا اور اسرائیل کو چھوڑ کر ایک اسلامی اتحاد قائم کریں وہ ان کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ایران نے عملی طور پر بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مجموعی فوجی طاقت بھی ایران کے مقابلے میں کمزور ہے اور اب عالمی نظام ایران ، روس اور چین کے بلاک کے تحت تشکیل نو کے مرحلے سے گزرنے والا ہے۔ امریکا عرب ممالک میں فوجی اڈے قائم کرکے سستے داموں تیل حاصل کرتا ہے اور پٹروڈالر کی مدد سے ہی اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے تباہ کررہا ہے۔اس کے باوجود عرب ممالک کوئی انقلابی قدم اٹھانے کے بجائے گوشہء عافیت میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں ۔ وہ اسرائیل کی ہی طرح جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر جنگ ایران کی شرطوں پر ختم ہوئی تو خطے میں روس ، چین اور ایران کا اثرورسوخ بڑھ جائے گا اور ایران کی فوجی طاقت کے آگے ان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی اور انہیں ایران کے دباؤ میں رہنا پڑے گا۔ جبکہ ایران نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ہر ملک کی خود مختاری اور آزادی کااحترام کرتا ہے ۔
ٹرمپ تو اس جنگ میں پھنس چکے ہیں اور کسی طرح جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن اسرائیل اور عرب ممالک ان پرجنگ جاری رکھنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے اگلے دس دنوں کے لئے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کے خرق جزیرے پر زمینی حملے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ ایران ۔نے بھی اس اعلان پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پر فوج کشی کرے گا ۔ لہذا، یواے ای ، قطر اور بحرین کو ڈر ہے کہ جنگ بڑھے گی تو ایران ان پر قبضہ کر لے گا۔اس کے باوجود یہ۔ممالک امریکا کو جنگ سے روکنے کے بجائے ایران پر فوج کشی کے لئے اکسا رہے ہیں۔ اگلے دس پندرہ روز مشرق وسطی کے لئے بہت اتھل پتھل والے ہو سکتے ہیں۔ اگر اس جنگ میں ایران فیصلہ کن طور پر فاتح ہوتا ہے تو خلیج سے امریکی مداخلت کا پوری طرح خاتمہ ہوجایے گا اور اگر امریکا اور اسرائیل ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرکے جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس بار خلیج میں امریکی اڈے مزید طاقتور ہونگے اور امریکا عرب ممالک کو ایران کاخوف دلاکر مزید افواج اور فوجی تنصیبات قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اسرائیل کے لئے عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں خود یہ عرب ممالک مدد کرکے عالم اسلام کو مستقل طور پر امریکا اور اسرائیل کا غلام ںنادینگے۔
------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/gulf-states-desperation-against-iran/d/139431
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism