New Age Islam
Wed Mar 18 2026, 10:10 AM

Urdu Section ( 21 Dec 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Belief in The Hereafter Is One of The Fundamental Tenets of Islamic Faith آخرت پر ایمان رکھنا ارکان ایمان سے ہے ، جس کے بغیر مومن مومن نہیں

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

21 دسمبر 2023

اس مضمون میں مسٹر سمیت پال کے  مضمون "تم خود انسان کب بنو گے؟"  میں اٹھائے گئے نکات کا جواب ہے ۔

جناب سمت پال !

آپ نے میرے ایک انگریزی  تبصرہ پر ۱۴ دسمبر کو ایک  انگریزی مضمون لکھا جو  معروف ویب سائٹ نیو ایج اسلام  پر شائع ہوا ۔اس ویب سائٹ کی خاصیت ہے کہ یہ ہر طرح کے نظریات کو بلا جھجھک شائع کرتی ہے اور  جہاں پڑھنے لکھنے اور سمجھنے والوں کو اپنی بات کو مہذب انداز میں کہنے کی اجازت ہے ۔  جس طرح فیس بک  وغیرہ آپ کو اپنی بات کہنے کی اجازت دیتا ہے ، یہ ویب سائٹ بھی آپ کو اپنی  بات کہنے لکھنے کی بھرپور اجازت دیتا ہے مگر شرط ہے کہ اسلوب و طرز تکلم مہذب ہو ۔ اس ملٹی لنگول ویب سائٹ پر سو سے زائد  ناچیز کے مضامین انگریزی  زبان میں شائع ہو چکے ہیں  اور کافی طویل     تحریری مناظرہ بھی  متعدد قلمکاروں کے ساتھ ہوا، جن میں مختلف مسالک و مکاتب فکر کے اصحاب نے خوب حصہ لیا ۔  لہذا  اس بات  کا خوب تجربہ ہے   کہ یہ ویب سائٹ  ہر نظریہ کو جگہ دیتا ہے مگر اس کا ایک خاص مقصد ہے کہ انتہاپسندی  اور دہشت گردی  کا  نظریاتی طور پر خاتمہ ہو اور عدل و انصاف اور انسانی حقوق  کے اقدار و روایات کی ترویج و اشاعت ہو ۔ ناچیز نے اپنے مضامین  اور تبصروں کے ذریعے   قرآن و سنت  اور فقہائے کرام کی کتب میں موجود قتال و جہاد سے متعلق نصوص پر اٹھنے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی بہت سعی کی اور امید ہے کہ انگریزی پڑھا لکھا طبقہ اس سے مستفید بھی ہوا ہوگا ۔ لیکن ۱۴ دسمبر کو میرے جس تبصرے پر آپ نے مضمون لکھا اس کا تعلق ایمانیات سے ہے ۔یہ بہت عمدہ موضوع ہے  جس پر گفتگو کرنا بہت مناسب ہے ۔

سب سے پہلے میں اپنے تبصرے کے اس حصہ کو   نقل کر رہا ہوں جس پر آپ  نے مضمون لکھ کر اپنا قیمتی وقت دیا :

  "A man can only remain on the correct path in this life if he has faith and believes in the Hereafter. Without being held accountable, he wouldn't be concerned about changing his behaviour.  When the faith in the Hereafter is absent, he adopts a similar reckless attitude brought on by both doubt and denial..."

"انسان اپنی  اس زندگی میں صرف اسی صورت میں صراط مستقیم پر  گامزن رہ سکتا ہے جبکہ وہ مومن ہو  اور آخرت پر یقین رکھتا ہو۔آخرت میں جوابدہی کی فکر کے بغیر ،  وہ  دنیا میں  اپنے     برے اعمال کو اچھے اعمال سے بدلنے کی فکر نہیں کرے گا ۔  جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ یا تو شکوک و شبہات کی منزل میں  رہ کر قریب انکار ہوتے ہیں یا پھر آخرت کا سرے سے انکار کرتے ہیں  اور پھر دونوں صورتوں میں ایک لاپرواہ زندگی گزارتے ہیں ، جہاں اسے نہ اچھے اعمال اور برے اعمال کے نتائج کی فکر ہوتی ہے ۔ ۔۔’’

آپ نے راقم الحروف  کے اس تبصرے  کو نقل کرتے ہوئے اپنے مضمون کی ابتدا کی ۔پھر اس کےبعد ناچیز کے معتدل لہجے اور اسلوب بیان کی سراہنا کی  اور پھر اگلے ہی لمحے آپ نےناچیز کے تبصرے کے ایک حصے پر نا اتفاقی کا اظہار کیا ۔

آپ  نے لکھا :  ‘‘اگرچہ  میں جناب غلام غوث صدیقی کے تبصرے میں ان کے  معتدل لہجے اوراسلوب بیان و  زبان کی مدح  کرتا ہوں (جس کی تمام قارئین کی طرف سے تعریف اور تقلید کی جانی چاہیے)،  لیکن میں  ان کے اس بیان کو  قبول نہیں کر سکتا کہ: ‘‘ انسان اپنی  اس زندگی میں صرف اسی صورت میں صراط مستقیم پر  گامزن رہ سکتا ہے جبکہ وہ مومن ہو  اور آخرت پر یقین رکھتا ہو۔۔۔’’’

اس کےبعد آپ رقمطراز ہیں : ‘‘چونکہ عالم  قلمکار  نے سامی مذاہب کا مطالعہ کیا ہے، اس لیے انہیں  اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ تلمود ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں اجر و انعام  کی امید میں "بادشاہ" (خدا) کی اطاعت  نہیں کرنی چاہیے’’۔

اب ناچیز  اپنا اصل مدعا بیان کرنا چاہتا ہے ۔ ہماری گفتگو  آخرت پر ایمان رکھنے کی تھی ۔ آخرت پر ایمان رکھنا ، اس کو حق ماننا ایک مومن کے مومن ہونے کے لیے ضروری ہے ۔مختصر یہ سمجھ لیجیے کہ ضروریات دین کا یقین کرنا  ایک مسلمان کے  مسلمان یا مومن  ہونے کے لیے ضروری ہے ۔ارکان ایمان ، مثلا ، توحید ، ایک خدا پر ایمان رکھنا ، اسی کو عبادت کو لائق سمجھنا ، اس کے سوا کسی اور کی پوجا نہ کرنا ، اللہ کے تمام رسولوں  پر ، اس کی تمام کتابوں پر، اس کے تمام فرشتوں پر ، آخرت کے دن پر ، اور اچھی بری تقدیر پر رکھنا ضروری ہے ۔ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی کوئی انکار کرے تو وہ مومن نہیں وہ مسلمان نہیں ۔

اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں کئی مقامات پر بندوں کی عقلی صلاحیت و سمجھ کے موافق ایسی واضح نشانیوں کو بیان فرمادیا ہے کہ جس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت حق ہے اور اس پر ایمان لانا حقیقت پر ایمان لانا ہے ، اور جس میں کسی طرح کا شک نہیں ۔جب  اللہ تعالی ایک بنجر زمین کو آسمان سے پانی برسا کر زندہ کرنے پر قادر ہے تو کسی انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا اس ذات باری تعالی کے لیے کیونکر محال ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح جب بنا کسی نمونہ صورت کے کسی انسان کی پہلی مرتبہ صورت بنانے پر قادر ہے تو صورت والے انسان کو مار کر دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے کیونکر محال ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالی نے آخرت اور بعث بعد الموت  کے حق ہونے پر واضح دلیلیں بیان فرما چکا ہے ، جس کے بعد اب کسی مومن کے لیے اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔

میرے کہنے کا مقصد یہی تھا ۔

مگر آپ نے جس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے  وہ میرے مطلب سے مختلف بات ہے ۔ لیکن اس مضمون میں اس بات کی میں   وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ دیکھیے ، تمام ضروریات دین اور اسلامی عقائد پر ایمان رکھنا ایک مسلمان کے مسلمان اور مومن ہونے کے لیے ضروری ہے ۔ مومن ہو جانے کے بعد ،  اب یہ بندوں کے دل اور اس کی نیت کا  معاملہ  ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت کس نیت سے کرتا ہے ۔ مومن کو اختیار ہے چاہیں تو  وہ کہیں ہم صرف اللہ کی رضا پانے کے لیے اللہ کی عبادت و اطاعت کر رہے ہیں ، یا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ کے احکام کی اتباع کرتے ہیں ، وہ چاہیں تو مختلف الفاظ سے اپنے اعمال صالحہ کرنے کی نیت کو بیان کر سکتے ہیں ۔ اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ سب عمدہ کلام ہیں ۔ ایسا  سنا  بھی جاتا  ہے کہ  اللہ کے بعض مومن  بندے جب اللہ و رسول  کی اطاعت کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول  کی رضا کے لیے ایسا  کر رہے ہیں ۔  جسے اللہ کی رضا حاصل ہو جائے تو وہ اجر بھی اللہ کی رضا سے ہی پاتا ہے ۔ اللہ تعالی جس سے راضی ہو جائے اسے بلا اجر نہیں چھوڑتا ۔ بعض اللہ کی اطاعت کو  اللہ کی محبت کا  نام دیتے ہیں ۔ بعض یوں کہتے ہیں  کہ وہ آخرت میں عذاب سے بچنے کے لیے ایمان لائے ہیں ۔ کہنے والوں کے الفاظ مختلف ہوتے  ہیں لیکن سب کا مقصود ایمان کا مختلف انداز میں اظہار ہے ۔ اللہ تعالی بندوں کے اعمال کو اس کی نیتوں کے مطابق قبول فرماتا ہے ۔ جس کی نیت جتنی عمدہ ہوگی اجر بھی اتنا ہی عمدہ ہوگا ۔

چونکہ آپ نے سامی مذاہب اور  تلمود کا ذکر کیا ہے اور آپ بخوبی واقف ہیں کہ تلمود یہودیت کا مجموعہ قوانین ہے۔ تلمود  یہوددیوں کی زندگی میں تقدس کا درجہ رکھتا ہے اور اسے یہودی تقنین میں دوسرا ماخذ قرار دیا گیا ہے۔یہودی مذہب وہ آسمانی مذہب ہے جس کا زیادہ تر انحصار   تورات، تلمود اور علماء اور ا ن  کے فتاویٰ یا فیصلوں پر ہے۔اگرچہ  یہودیت آسمانی مذہب ہے اور اہل کتاب شمار کیے جاتے ہیں  لیکن زمانے کے  عروج وزوال سے گزرا ہے کہ تحریفات کا اتنا ضخیم ڈھیرلگ گیا کہ جس کی وجہ سے اصل دین کو پہچاننا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ بہرحال موجودہ زمانے میں یہودی مذہب کی جو بھی شکل موجود ہے اس پر یہودی تاریخ اور یہودیوں کے دوسری اقوام سے تعلقات کا گہرا مطالعہ کیے بغیر مذہب یہود کو سمجھنا تقریباً محال ہے۔

آپ نے تلمود کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ اجر کی امید کے بغیر خدا کی اطاعت کرنی چاہیے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اجر کیا چیز ہے  ؟

اجر کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔جب ہم کہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد اچھے کام کرو ، تمہیں بہت اجر ملے گا ۔ تو اس کا تعلق  صرف دنیا کے متاع ، کھانے پینے اور ضروریات زندگی  یا  آسائش زندگی   ہی سے نہیں ہوتا ہے بلکہ  آخرت میں جنت میں داخل ہونے ، دوزخ سے بچنے ، جنت کی کل نعمتوں کے  سے لطف اندوز ہونے  کو بھی شامل  ہے ۔ جنت کی نعمتوں کے تعلق سے قرآن مجید نے بہت صاف واضح کر دیا ہے کہ جنت کی نعمتیں اتنی خوب ہوں گی کہ اس کا اندازہ نہ کسی دماغ نے ، اس کے بارے میں نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور اس کی زیارت دنیا میں نہ کسی آنکھ نے کبھی کیا ہوگا،  یا اس کا  کما حقہ تصور کسی نے کبھی نہیں کیا ہوگا ۔ اجر  کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ دنیا میں خوشحالی ، امن  و شانتی ، سکون و راحت ،  صحت و سلامتی ،  یا آخرت میں نجات ،  اللہ کے احکام کی مخالفت کے نتیجے میں ملنے والی  عذاب سے چھٹکارا ،  دیدار الہی سے فیضیاب ہونا ، اللہ و رسول کا تقرب ، دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل و کرم  اور اس کی رحمت وغیرہ یہ سب اجر  ہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔

اب کوئی مومن مسلمان اجر کی امید رکھتے ہوئے ،  جنت کی امید رکھتے ہوئے ، یا رضائے الہی یا اللہ کے فضل و کرم کا طالب ہو کر عمل صالح کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ان الفاظ کے درمیان اگرچہ ظاہرا تباین ہے مگر سب  کا مقصود ایک ہی ہے ۔

مثلا اگر کوئی اللہ کی رضا کے حصول کی امید میں عمل صالح کرے ، تو اسے یقینا اللہ کی رضا حاصل ہوگی ، اور یہ اللہ کی رضا اس کے لیے  اجر ہوگا ۔ جس کو اللہ کی رضا حاصل ہوگی وہ یقینا جنت کی نعمتوں سے فیضیاب ہوگا ۔تو اب غور کیجیے ، جنت کی نعمتوں  کی امید رکھتے ہوئے عمل صالح کیجیے یا پھر اللہ کی رضاکے حصول کی امید رکھتے ہوئے عمل صالح کیجیے ، دونوں طرح کے الفاظ  اگرچہ مختلف ہیں مگر دونوں اجر ہی  کہلائیں گے ۔

 عقلی اور منطقی اعتبار سے بھی غور کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر اچھے عمل کا اجر ہوتا ہے ۔ ہم اپنی دنیاوی زندگی میں فطری طور پر اچھے اعمال کے نتیجے میں اجر سے محروم ہونا پسند نہیں کرتے ۔ مثلا اگر کوئی بیمار شخص اچھا کام کرے ، اس کے لیے اچھا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی سے شفا کی امید رکھے اور دوا کھائے ، تو پھر اس کا نتیجہ اجر ہی شکل میں اسے ملتا ہے یعنی وہ مریض صحتیاب ہو جاتا ہے ۔ ہماری عادت بھی ہے کہ جب ہم کسی کے یہاں ملازمت کرتے ہیں تو بغیر اجر کے ہم کام نہیں کرتے ۔ کوئی بھی انسان ہو بغیر اجر کے کوئی کام نہیں کرتا ۔ اجر کی امید تو اس کی فطرت میں داخل ہے ۔

تو پھر وہ جو اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے شمع کرتے ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان کا نور بستا ہے ، وہ اپنے رب سے اجر کی امید کیوں نہ کرے اور پھر اس اجر کی امید میں وہ کیوں نہ اچھے کاموں کی تحریک چلائے ؟!!!

-----------------

English Article: The Belief in The Hereafter Is One of The Fundamental Tenets of Islamic Faith

URL: https://newageislam.com/urdu-section/hereafter-fundamental-tenets-islamic-faith/d/131350

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..