New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 06:29 AM

Urdu Section ( 3 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Concept of Human Dignity in Riligions مذاہب میں تکریم انسانیت کا تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

3جنوری 2026

انسان کا احترام صرف اس لیے کیا جائے کہ وہ ایک انسان ہے اس سے اچھی  بات نہیں ہوسکتی۔ مذہب ، ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نوع انسانی کے ساتھ امتیاز برتنا اور اس بنیاد پر اس کے ساتھ دوہرا سلوک اپنانا غیر سنجیدہ عمل ہے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں بہت سارے معاشروں میں نوع انسانی کے درمیان تفریق یا امتیاز محض اس لیے اختیار کیا جاتاہے کہ اس کا تعلق اونچی ذات سے نہیں ہے ، یا اس کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہے، اشراف اور ارذال  کا نظریہ رکھنا بھی  توہین انسانیت ہے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اس طرح کے جتنے بھی تصورات اور نظریات نوع انسانی کو لے کر پائے جاتے ہیں وہ مثالی معاشروں کے لیے نمونہ عمل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ آئیڈیل یا قابل اتباع وہی نظریہ ، فکر اور عمل ہوتا ہے جس میں یکسانیت ، برابری اور نوع انسانی کا نفع پایا جائے ۔ مذہب ، رنگ اور نسل کی بنیاد پر نوع انسانی میں تفریق  کرنا ایک سنگین عمل اور سوچ کا آئینہ دار ہے۔

آج کے ان تمام  تصورات کو جو کسی وجہ سے انسان  کے ساتھ امتیازی سلوک کے روادار ہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پہلے وہ ایک انسان ہے اس کے بعد وہ کسی دھرم ، ذات ، قبیلہ اور رنگ و نسل سے وابستہ ہوتا ہے ۔ اگر یہ تصور عام ہو جائے اور محض انسان ہونے کی بناء پر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو آج کے بہت سارے مسائل کا حل آسانی سے نکل آئے گا اور اس بنیاد پر معاشرے میں جو کشمکش یا تنازع ہوتا ہے وہ بھی حل ہو جائے گا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری سوچ اس قدر محدود اور تنگ ہوگئی ہے کہ ہم انسانیت کو پس پشت ڈال کر اس کے مذہب اور رنگ و نسل کو دیکھ کر اپنا کردار طے کرتے ہیں جو ایک غیر مناسب عمل ہے ۔

ذات برادریوں کی نسبت پر شادیاں ہونا اور اسی اعتبار سے ان کے کام کی تقسیم کرنا یہ سب اس بات کی واضح علامت ہیں کہ ہم کہیں نہ کہیں انسانیت کے وسیع تصور کو نظر انداز کرکے رنگ و نسل اور ذات برادری کے محدود تصور کو فروغ دے رہے ہیں ۔

 یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ تکریم انسانیت اور احترام نفس کے تصور کو عام کرنے سے ہی معاشرے میں مثبت اور تعمیری پیغام جائے گا ۔

تصور کیجیے!  ایک انسان دوسرے انسان سے محض اس بنیاد پر نفرت کرے کہ اس کا مذہب دوسرا ہے ، اس کی ذات نیچی ہے ، یا اس کا رنگ کالا ہے ، کس قدر افسوس کی بات ہے ۔ جب معاشرے میں یہ سب کچھ ہوتا ہے تو یقیناً اس کے بہت ہی غیر مفید اور مایوس کن اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس تناظر میں جب ہم مذاہب و ادیان کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ادیان میں  تکریم انسانیت اور احترام نفس کے متعلق خاصا کچھ ملتا ہے ۔  چنانچہ اسلام نے اس حوالے سے جو تصور اور نظریہ پیش کیا ہے اس  جامعیت ، آفاقیت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اساس کا بھی درجہ رکھتا ہے۔   یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام انسان کو محض ایک مادی وجود نہیں بلکہ ایک باوقار، باشعور اور ذمہ دار ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلام میں تکریمِ انسانیت کا تصور نہایت واضح، مضبوط اور اصولی بنیادوں پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے: "اور ہم نے بنی آدم کو مکرم بنایا" (سورۃ الاسراء: 70)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عزت و احترام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا قوم سے ہو۔

اسلام انسان کو اللہ کا خلیفہ قرار دیتا ہے، جسے زمین پر خیر، عدل اور توازن قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسی وجہ سے انسانی جان، عقل، مال، عزت اور آزادی کو مقدس حیثیت حاصل ہے۔ اسلام میں کسی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے، جو انسانی جان کی حرمت کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح انسانی عزت و آبرو کی حفاظت، غیبت، بہتان اور تحقیر سے اجتناب کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کو تکریمِ انسانیت کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ دشمنی کے باوجود انصاف سے کام لیں۔ معاشرتی سطح پر اسلام مساوات کا درس دیتا ہے اور نسل، رنگ، زبان یا طبقے کی بنیاد پر کسی بھی برتری کو رد کرتا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں نبی اکرم نے واضح طور فرمایا کہ عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔

اسلام میں کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، عورتوں اور غلاموں کے حقوق پر خاص زور دیا گیا ہے۔ خدمتِ خلق، ہمدردی، رحمت اور حسنِ سلوک کو اعلیٰ اخلاقی اقدار قرار دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی انصاف، رواداری اور انسانی احترام کا حکم دیا گیا ہے۔

اسلام میں تکریمِ انسانیت ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک عملی ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو عزت، تحفظ اور انصاف فراہم کرتا ہے اور ایک پرامن، متوازن اور اخلاقی معاشرے کی تشکیل کا راستہ دکھاتا ہے۔

اسلام کے علاوہ دیگر سامی ادیان یعنی یہودیت اور عیسائیت میں بھی تکریم انسانیت کا تصور پایا جاتا ہے ۔ جو انسان کو محض ایک جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک باوقار، ذمہ دار اور اخلاقی ہستی قرار دیتا ہے۔ سامی ادیان میں انسان کو اللہ کا مخلوق، نائب اور اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل سمجھا گیا ہے، جس کی وجہ سے انسانی جان، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کو خاص احترام حاصل ہے۔

یہودیت میں تکریمِ انسانیت کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ انسان کو خدا نے اپنی "شبیہ" پر پیدا کیا ہے۔ تورات کے مطابق ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی قوم، نسل یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، خدا کی تخلیق ہے اور اسی نسبت سے احترام کا مستحق ہے۔ یہودیت انسانی جان کی حرمت، عدل و انصاف، اور سماجی ذمہ داری پر زور دیتی ہے۔ کمزوروں، یتیموں، بیواؤں اور اجنبیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے، جو انسانی وقار کے تحفظ کا عملی اظہار ہے۔

عیسائیت میں تکریمِ انسانیت کا تصور محبت، رحم اور قربانی کے اصولوں کے گرد گھومتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات میں انسان سے محبت کو خدا سے محبت کے برابر رکھا گیا ہے۔ "اپنے پڑوسی سے اپنے جیسا پیار کرو" یہ عیسائیت کا اخلاقی اصول ہے، جو انسانی احترام کو فروغ دیتا ہے۔  اسی طرح عیسائیت میں معافی، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو اعلیٰ انسانی اقدار میں شمار کیا گیا ہے۔

سامی ادیان میں تکریمِ انسانیت کا یہ مشترک تصور اس بات کی  روشن دلیل ہے کہ مذہب کا اصل مقصد انسان کی تحقیر نہیں بلکہ اس کی عزت اور فلاح ہے۔ یہ ادیان انسان کو ظلم، جبر اور استحصال سے نجات دلانے اور ایک منصفانہ، پرامن اور بااخلاق معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں، جہاں انسانی حقوق کی پامالی، نفرت اور عدم برداشت بڑھ رہی ہے، سامی ادیان کی تعلیمات انسانیت کے لیے ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ سامی ادیان میں تکریمِ انسانیت کا تصور انسان کو مرکزیت دیتا ہے اور اسے عزت، انصاف اور محبت کے ساتھ جینے کا پیغام دیتا ہے، جو آج کی دنیا کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماضی میں تھا۔

ہندو دھرم ایک قدیم مذہبی اور سماجی نظام ہے جس میں ذات پات کا تصور تاریخی، مذہبی اور معاشرتی عوامل کے امتزاج سے تشکیل پایا۔ ہندو روایت میں ذات پات کے نظام کو عموماً ورن آشرم دھرم سے جوڑا جاتا ہے، جس کے تحت معاشرے کو چار بنیادی ورنوں میں تقسیم کیا گیا: برہمن، کشتری، ویش اور شودر۔ انسانیت کی اس تقسیم  فرائض کی ذمہ داریوں نے کہیں نہ کہیں تکریم انسانیت اور اس کے وقار کو کیا ہے ۔

قدیم ویدک تصورات کے مطابق ورن کا تعلق انسان کی صلاحیت، کردار اور عمل سے تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ تصور موروثی ذاتوں میں تبدیل ہو گیا۔ اس تبدیلی نے معاشرتی عدم مساوات کو جنم دیا اور بعض طبقے سماجی، تعلیمی اور مذہبی حقوق سے محروم ہوتے چلے گئے۔ ذات پات کے اس سخت نظام نے معاشرے میں اونچ نیچ، امتیاز اور سماجی دوریوں کو فروغ دیا، جس پر مختلف ادوار میں تنقید بھی ہوتی رہی۔

ہندو مذہبی فکر میں ذات پات کے اس جمود کے خلاف اصلاحی آوازیں بھی بلند ہوئیں۔ بھکتی تحریک کے سنتوں نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق کو رد کیا اور انسان کی قدر و منزلت کو اس کی عقیدت اور اخلاق سے جوڑا۔ جدید دور میں مہاتما گاندھی، سوامی وویکانند اور دیگر مفکرین نے ذات پات کے امتیازی پہلوؤں پر تنقید کی اور مساوات و انسانی احترام پر زور دیا۔

آج کے ہندوستان میں ذات پات کا نظام قانونی طور پر ممنوع ہے، تاہم سماجی سطح پر اس کے اثرات اب بھی کسی حد تک موجود ہیں اور اس کا اظہار بھی آئے دن ہوتا رہتا ہے ۔ البتہ  یہ صداقت ہے کہ ہندو دھرم میں ذات پات کا تصور ایک پیچیدہ تاریخی حقیقت ہے، جسے سمجھنے کے لیے مذہبی تعلیمات اور سماجی ارتقا دونوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ہندوستانی فکری روایت میں بدھ مت، جین مت اور سکھ مت ایسے مذاہب ہیں جنہوں نے انسان کی باطنی عظمت، اخلاقی وقار اور سماجی ذمہ داری پر خصوصی زور دیا ہے۔ ان مذاہب میں تکریم انسانیت کا تصور انسان کو محض جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک باشعور، اخلاقی اور روحانی ہستی کے طور پر تسلیم کرتا ہے، جو خود بھی عزت کا مستحق ہے اور دوسروں کی عزت کا محافظ بھی۔

بدھ مت میں احترامِ نفس کی بنیاد اخلاق، سمادھی (باطنی یکسوئی) اور پرجنا (دانش) پر قائم ہے۔ بدھ مت انسان کو اپنی خواہشات، غصے اور جہالت پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے۔ خود ضبطی اور باطنی پاکیزگی کے ذریعے انسان نہ صرف اپنے نفس کی قدر کرتا ہے بلکہ دوسروں کے دکھ کو بھی محسوس کرتا ہے۔ رحم اور محبت بدھ مت کی وہ اقدار ہیں جو انسان کو خود غرضی سے نکال کر باوقار اور متوازن شخصیت بناتی ہیں اور یہی  تکریم انسانیت  کی عملی صورت ہے۔

جین مت میں  تکریم انسانیت اور احترام نفس کا تصور  اخلاقی اصولوں سے وابستہ ہے۔ اہنسا (عدمِ تشدد) جین مت کا بنیادی ستون ہے، جس کے تحت کسی جاندار کو جسمانی، ذہنی یا روحانی نقصان پہنچانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اپریگراہ (عدمِ حرص) اور آتما سَیمیم (خود ضبطی) انسان کو لالچ، غرور اور نفسانی خواہشات سے بچاتے ہیں۔ جین مت میں تکریم انسانیت اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے اعمال کو پاکیزہ بنائے اور ہر زندگی کے وقار کو تسلیم کرے۔

سکھ مت میں  تکریم انسانیت نظام  مساوات، محنت اور خدمتِ خلق سے جڑا ہوا ہے۔ سکھ مت تمام انسانوں کو ایک ہی خدا کی تخلیق مانتا ہے، اس لیے کسی کو کمتر یا برتر سمجھنے کی گنجائش نہیں۔ کرت کرنی (محنت)، نام جپنا (ذکر) اور ونڈ چھکنا (بانٹ کر کھانا) انسان کو خود اعتمادی، وقار اور سماجی ذمہ داری سکھاتے ہیں۔ لنگر کی روایت عملی طور پر تکریم انسانیت اور مساوات کا  عملی مظہر ہے، جہاں ہر فرد بلا امتیاز عزت کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔

بدھ مت، جین مت اور سکھ مت میں تکریم انسانیت کا تصور اخلاقی پاکیزگی، خود ضبطی، مساوات اور خدمتِ انسانیت پر مبنی ہے۔ یہ مذاہب انسان کو اندرونی وقار عطا کرتے ہیں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی دعوت دیتے ہیں جہاں ہر فرد عزت، توازن اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

متذکرہ بالا سطور کی روشنی میں یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب و ادیان میں تکریم انسانیت کا تصور پایا جاتا ہے ۔ اس تصور اور نظریہ کو زمین پر نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان مذہبی اور دینی روایتوں پر عمل کریں اور انسانیت کے ساتھ  بلا کسی  بھید بھاؤ اور امتیاز کے وفا ، خلوص ، اکرام اور احترام سے پیش آئیں یہی آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے جو کہیں نہ کہیں ہم سے چھوٹ رہی ہے ۔

---

مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/human-dignity-riligions/d/138290

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..