New Age Islam
Thu Apr 23 2026, 04:43 PM

Urdu Section ( 7 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Human Unity in Islam اسلام میں وحدت انسانی کا تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

7 اپریل 2026

اللہ تعالی جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اس نے زمین پر انسان کو پیدا کیا ۔ اسے کائنات پر غور و خوض کرنے اور سمجھنے کی قوت و صلاحیت عطا کی ۔سچائی اور برائی میں فرق کرنے کی کے لیے عقل عطا کی۔ اپنی مرضی کے انتخاب کرنے اور ارادے کی آزادی عطا کی اور زمین پر اس نے اپنا نائب مقرر کیا۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام تمام انسانوں کی عظمت اور احترام کا قائل ہے تو وہیں وحدت انسانی کا بھی  ایک مکمل نظام پیش کرتا ہے ۔  چنانچہ اسلام نے وحدت انسانی کا ایک جامع نظریہ اور تصور پیش کیا ہے۔ جس میں نسلی، مذہبی، طبقاتی اور علاقائی امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اسلام میں  طبقاتی نظام اور معاشرتی عدم استحکام جیسے غیر فطری اور غیر شرعی نظریہ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔  بلکہ مذہب اسلام نے انسانی گروہ اور طبقات کو انسانیت و ہمدردی مواسات و مدارات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔  نوع انسانی کو شعور و آگہی کے زیور سے مزین کرکے اسے وحدت انسانیت کے احساس دلایا ہے ۔ حتی کہ مذہب و ملت تک کی کھائی  کو پاٹ کر ایک انسانی اکائی میں پرو دیا ہے ۔ اس تصور کو قرآن کریم میں کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں سب سے اہم اور پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے انسان کے مقام و حیثیت کا تعین کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو"  خلیفتہ الارض " یعنی" زمین پر اللہ کا نائب" جیسا مقام دے کر انسان کی تکریم و تعظیم کو تسلیم کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَآئِكَـةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۖ قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْـهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْـهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ اِنِّىْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (البقرہ: 30)

"اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔"

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی عظمت و تکریم کا درس دیا ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ آیت انسانیت کی وحدت و یگانگت کے تصور کو بھی پیش کیا ہے ۔

ایک دوسرے مقام پر انسانی عظمت اور وحدت کا فلسفہ کو اللہ تعالیٰ نے  ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۔ ( التین: 4)

"بے شک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا ہے"

اس آیت میں  وحدت انسانی کا پہلو یہ ہے کہ تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے عمدہ انداز میں تخلیق کیا ہے ۔ لہٰذا اس اعتبار سے دنیا کے تمام انسانوں میں وحدت کا تصور موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مذہب اور کمیونٹی کے افراد کو " احسن تقویم " کے سانچہ میں نہیں  ڈھالا ہے ۔ چنانچہ اسلام  میں وحدت انسانی کے بڑے ٹھوس شواہد و براہین موجود ہیں ۔

اسلام نے رنگ و نسل اور وطن و زبان کی بنیاد پر تمام تشریحات و امتیازات کو بے معنی اور غیر ضروری قرار دیا ہے اور اس طرح کے تمام حوالوں کو اضافی قرار دیا گیا اور تقویٰ و خوف خدا کو معیار مقرر کیا گیا ہے ۔

اس کے اس نظریہ سے وحدت انسانی کا بھی تصور جاگزیں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔

( الحجرات: 13)

" ہ اے لوگو!  ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکو اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، اللہ خوب جاننے والا پورا خبردار ہے"

اس آیت میں تمام بنی آدم کو وحدت کا پیغام دیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے ۔سب کو اللہ تعالی نے آدم و حوا سے تخلیق کیا ہے۔  اس ایت کی ذیل میں سید ابو الاعلی مودودی نے انتہائی اہم اور قیمتی پیش کیے ہیں:

" ایک یہ کہ تم سب کی اصل ایک ہے، ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی اور اج تمہاری جتنی نسلیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ درحقیقت ایک ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جو ایک ماں اور ایک باپ سے شروع ہوئی تھی،  اس سلسلہ تحقیق میں کسی جگہ بھی اس تفرقہ اور اونچ نیچ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ، جس کے زعم باطل  میں تم مبتلا ہو۔  ایک ہی خدا تمہارا خالق ہے،  ایسا نہیں کہ مختلف انسانوں کو مختلف خداؤں نے پیدا کیا ہو،  ایک ہی مادہ تخلیق سے تم بنے ہو، ایسا بھی نہیں کہ کچھ انسان کسی پاک اور بڑھیا مادے سے بنے ہوں اور کچھ دوسرے انسان کسی ناپاک یا گھٹیا مادے سے بن گئے ہوں،  ایک ہی طریقے سے تم پیدا ہوئے ہو یہ بھی نہیں کہ مختلف انسانوں کے طریق پیدائش الگ الگ ہوں ، اور ایک ہی ماں باپ کی تم اولاد ہو،  یہ بھی نہیں کہ ابتدائی انسانی جوڑے بہت سے رہے ہوں جن سے دنیا کے مختلف خطوں کی آبادیاں الگ الگ پیدا ہوئی ہوں۔ اسی طرح اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہو جانا ایک فطری امر تھا، ظاہر ہے کہ پوری روئے زمین پر سارے انسانوں کا ایک ہی خاندان تو نہیں ہو سکتا تھا ، نسل بڑھنے کے ساتھ ناگزیر تھا کہ بے شمار خاندان بنیں اور پھر خاندانوں سے قبائل و اقوام وجود میں آ لجائیں۔  اس طرح زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہونے کے بعد رنگ ،خدو خال ،زبان اور طرز بود و ماند بھی لامحالہ مختلف ہی ہوجاتے تھے،  مگر اس فطری فرق و اختلاف کا تقاضا یہ ہرگز نہ تھا کہ اس کی بنیاد پر اونچ نیچ ، شریف اور کمین ، برتر اور کمتر کے امتیازات قائم کیے جائیں،  ایک نسل دوسری نسل پر اپنی فضیلت جتائے،  خالق نے جس وجہ سے انسانی گروہوں کو اقوام اور قبائل کی شکل میں مرتب کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے درمیان باہمی تعارف اور تعاون کی فطری صورت یہی تھی، اس طریقے سے خاندان، ایک برادری ،ایک قبیلے اور ایک قوم کے لوگ مل کر مشترک معاشرت بنا سکتے تھے اور زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے تھے۔  تیسرا اہم نقطہ مذکورہ آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہے اور ہو سکتی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے،  جو محض اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہو، ایسا شخص کسی بھی قوم ملک خاندان اور قبیلے سے تعلق رکھتا ہو اپنی ذاتی خوبی کی بنا پر قابل قدر ہے۔"

( مودودی ، سید ابو الاعلیٰ ، تفہیم القرآن ، مرکزی مکتبہ اسلامی ، 1973، جلد پنجم ، صفحہ: 96-97)

یعنی وحدت کے تمام خصائص انسانی تخلیق میں موجود ہیں ۔ اس لیے بحیثیت انسان تفریق و امتیاز پیدا کرنا  اور معاشرے میں امتیازی سلوک اپنانا نوع انسانی کی توہین و تنقیص ہے ۔ معاشرے کی بقاء اور فلاح و بہبود کے لیے بھی یہ تصور غلط ہے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں وحدت انسانی کے تصور اور اس کی افادیت کو کہیں نہ کہیں کم کرنے اور انسانوں میں رنگ و نسل ، زبان ، وطن اور قوم کے نام پر تفریق برتی جاتی ہے ۔ یہ تفریق  مسلمانوں میں بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے ۔ اس نوع انسانی کے مابین تفریق کے تمام اسباب کو نابود و معدوم کرنے کی ضرورت ہے ۔  کیونکہ اسلام بنیادی طور پر مساوات، اخوت اور انسانوں کی برابری کا سچا علمبردار ہے۔   اس کے باوجود مسلمانوں کے درمیان ذات پات جیسی تقسیمیں تاریخی اور سماجی اثرات کے تحت پیدا ہو گئی ہیں۔ یہ تقسیمیں زیادہ تر مقامی ثقافت اور صدیوں پر محیط روایات کا نتیجہ ہیں، نہ کہ اسلامی تعلیمات کا حصہ۔ چنانچہ اشراف، اجلاف اور ارذال جیسی درجہ بندیاں اسی پس منظر میں سامنے آئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسلام ان امتیازات کی تائید نہیں کرتا ہے۔  مسلمانوں میں پائی جانے والی ذات پات کی تقسیم ایک سماجی مسئلہ ہے، جسے دینی اصولوں کی روشنی میں سمجھ کر ختم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ حقیقی اسلامی مساوات کو عملی شکل دی جا سکے۔

—-

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

---------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/human-unity-islam/d/139566

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..