New Age Islam
Tue May 12 2026, 01:42 AM

Urdu Section ( 25 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Intercultural Influences on Indian Literature ہندوستانی شاعری پر بین ثقافتی اثرات

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

25 اپریل،2026

شاعری کو انسانی نسل کی مادری زبان کہا گیا ہے اور ادب کو سماج کا آئینہ۔ دنیا کی کوئی ایسی قوم نہیں ہے جس کا ادبی سرمایہ نہ ہو یا جس قوم میں شاعری کی روایت نہ ہو۔ ادب انسانی جذبات کے اظہار کا موثر ترین وسیلہ بھی ہے اور سماجی پیغام رسانی کا ایک کارگر آلہ بھی۔ لہذا، قدیم سے قدیم قوموں میں بھی ادبی اور شعری سرمایہ موجود ہے جو آج بھی ماہر عمرانیاتی و سماجیات کے لئے دلچسپی اور تحقیق کا موضوع ہے۔ہردور کے اد ب سے اس دور کے انسانوں کی طرز زندگی ، سماج اور تاریخ کا علم ہوتا ہے۔

ہر خطے اور قوم کا ادب دوسرے خطوں یا لسانی قومیتوں کے ادب پر اثرات بھی ڈالتا ہے اور اثرات قبول بھی کرتا ہے۔ اس طرح ادب پر بین ثقافتی اثرات کے گہرے ہوتے ہیں۔ شاعری ادب کی مقبول ترین صنف بھی ہے اور قدیم ترین صنف بھی اسی لئے اسے نوع انسانی کی مادری زبان  Mother tongue of humanityکہا گیا۔شاعری میں انسانوں کے لطیف جذبات کا اظہار ہوتا ہے اس لئے یہ دوسرے انسانوں کے  زہن ودل پر زیادہ اثر کرتی ہے۔ دنیا میں قدیم ترین شاعری کی مثالوں میں یونان سے لے کر ہندوستان تک کئی شعری نمونے مشہور ہیں جن میں  مشرق وسطی کے نغمہء سلیمانی سے لے کرقدیم ہندوستان کے بدھ سادھوؤں کے مذہبی گیتوں تھیرگاتھا تھیری گاتھا قابل ذکر ہیں۔

دنیا کی مختلف زبانوں کی شعری ہئیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں جن سے متاثر ہوکر دیگر زبانوں کی شاعری میں بھی ہئیتیں داخل ہو جاتی ہیں ۔ کچھ ہئتیں ارتقائی مراحل طئے کرتے ہوئے کسی زبان کی شاعری کا حصہ بن جاتی ہیں۔ قدیم زمانے میں جب عوام کے پاس فرصت ہی فرصت ہوتی تھی اور تفریح کے ذرائع محدود ہوتے تھے تو اس دور میں طویل نظمیں لکھی جاتی تھیں۔ یہ نظمیں اکثر واقعاتی نظمیں ہوتی تھیں جن میں جنگوں کا حال یا محبت کی داستان یا پھر طویل مہمات کی داستان ہوتی تھی۔یونان کی دو مشہور طویل نظمیں ایلئیڈ اور اوڈیسی ہیں جو ساتویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئیں۔ اسی طرح چھٹی یا ساتویں صدی قبل مسیح میں قدیم ہندوستان میں بھی دو طویل نظمیں لکھی گئیں جن کا نام رامائن اور مہابھارت ہے۔ان طویل نظموں کی روایت  یونان سے لے کر ہندوستان  تک شعری اثرونفوذ کا بین ثبوت ہے۔   لیکن جیسے جیسے دنیا صنعتی طور پر ترقی کرتی گئی اور انسان کی مصروفیات میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے شاعری کی  ہئیت اور نوعیت میں بھی تبدیلی آتی گئی۔لیکن طویل نظموں کی ہئیت اب بھی باقی رہی۔ بس ان کے موضوعات میں وقت اور سماج کے تقاضوں کے تحت تبدیلی آئی۔ فارسی اور عربی میں طویل نظمیں لکھی گئیں جنہیں قصیدہ کہا گیا۔ یہ نظمیں جاگیردارانہ نظام کی پیداوار ہیں جو شعراء مالی فائدے کے لئے لکھتے تھے۔ عربی شاعری کی صنف قصیدہ اردو میں بھی داخل ہوگئی اور جاگیردارانہ دور میں اردو میں بہت مقبول ہوئی۔اسی صنف قصیدہ سے فارسی میں  مشہور شعری صنف غزل وجود میں آئی اور پھر فارسی سے اردو میں مقبول ہوئی جو آج بھی اردو کی مقبول ترین شعری صنف ہے۔غزل کی صنف ہندوستان میں اتنی مقبول ہوئی کہ ہندی کے شاعروں نے بھی غزل گوئی میں دلچسپی لینی شروع کی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی غزل کہی جانے لگی۔

اسی طرح ہندی کی مقبول ترین شعری صنف دوہا اردو کے ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی بہت مقبول ہوئی اور اردو کے شاعروں نے نظموں اور غزلوں کے علاوہ دوہے بھی شوق سے کہے۔

جاپان کی شاعری نے بھی دنیا کی کئی زبانوں کی شاعری پر اثر ڈالا۔ اس کی مقبول ترین شعری صنف ہائیکو ہے جو تین سطروں کی نظم ہے۔ ہندوستان کی پنجابی زبان میں بھی ایک سہ سطری شعری صنف ہے جسے ماہیا کہتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ جاپانی کے ہائیکو سے متاثر ہوکر پنجابی زبان میں ماہیا کارواج ہوا ہو۔ اردو میں بھی ہائیکو بہت مقبول ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے پچاسوں شعراء کے ہائیکو کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

اس طرح قدیم زمانے سے آج تک کی شاعری کی ہئیتوں اور موضوعات کا مطالعہ کرنے پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ  پوری دنیا کی شاعری نے ایک دوسرے خطے اور زبان کی شاعری سے اثر لیا ہے ۔ ہر زبان اور خطے کے شاعروں نے بلا تفریق مذہب و مکتب دوسری زبان کی شاعری کی ہئیتوں اور فکر سے استفادہ کرکے اپنی شاعری کو زیادہ متمول اور وقیع بنانے کی کوشش کی ہے۔اس طرح ادب عالم انسانیت کا ایک۔مشترکہ پلیٹ فارم بن گیا جہاں کسی ایک خطے ، قومیت یازبان کے مسائل اور معاملات کو نہیں پیش کیا جاتا بلکہ تمام انسانوں ، قومیتوں اور طبقوں کے فلاح اور ترقی کی بات کی جاتی ہے اور ادب ایک بہتر دنیا کا تصور پیش کرتا ہے۔

فی الحال ، پوری دنیا میں ہئیت کی سطح پر یک رنگی اور یکسانیت آگئی ہے۔ پوری دنیا میں آزاد نظم یا verse libre کو آفاقی ہئیت کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے اور اب ہئیت کے بجائے فکر، موضوع، زبان کے تخلیقی استعمال اور جذبات وافکار کی پیش کش کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ لہزا، ہم کہ سکتے ہیں کہ اگر شاعری نسل انسانی کی مادری زبان ہے تو آزاد نظم شاعری کا آفاقی اسلوب ہے۔

-----------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/intercultural-influences-indian-literature/d/139790

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..