New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 09:08 AM

Urdu Section ( 24 Oct 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam Promotes the Practice of Giving Not of Taking اسلام میں لینےکا نہیں دینے کا تصور ہے

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

24 اکتوبر،2022

قرآن ایک ایسے خطے کے افراد کی سماجی واخلاقی اصلاح کے لئے اتارا گیا جہاں سماجی و اخلاق برائیاں عام تھیں ۔فرد اپنی ذات کے خول میں بند تھا اور خود غرضی اور مفاد پرستی انسان کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی۔ لوٹ مار، خیانت اور بے ایمانی عام تھی بلکہ جاہل لوگوں کا مال بے ایمانی سے ہڑپ لینا جائز سمجھا جاتا تھا۔ گویا سماج کا ہر فرد دوسرے سے لینے کا یقین رکھتا تھا۔ اس لینے کے کلچر نے ظلم، ناانصافی، تشدد اور چوری اور ڈاکہ کو فروغ دیا تھا۔ معاشرے میں ہر فرد ایک دوسرے سے خائف تھا اور لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ سماج میں عدم تحفظ کا احساس شدید تھا۔ اس خوف اور عدم تحفظ کے احساس نے معاشرے کے تانے بانے کو بکھیر دیا تھا۔

اسلام نے اس مرض کی جڑ یعنی لینے کے کلچر کو ہی ختم کردیا۔اس نے معاشرے میں دینے کے کلچر کو فروغ دیا۔ اس دینے کے کلچر نے معاشرے میں ربط اور ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ قرآن میں اس دینے کے کلچر کو اصولی شکل دی گئی۔ صدقات اور زکوة کو شرعی حیثیت دی گئی اور کہہ دیا کہ جب تک کوئی دینے والا نہیں بنتا وہ پوری طرح مومن نہیں بن سکتا۔ انفاق مسلمانوں کے دینی طرز عمل کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ اس دینے کے کلچر نے معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے کا ہمدرد اور مددگار بنا دیا۔ ایک دوسرے کی خیرخواہی کو دین کا اہم جز بنا دیا گیا۔ معاشرے میں ربط اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے حق ہمسائیگی کے تصور کی اشاعت کی گئی۔ مسکینوں، مسافروں اور حاجت مندوں کو دینے کی تلقین کی گئی۔یتیموں کی پرورش، ان کی تعلیم وتربیت اور شادی پر خرچ کرنے کی تلقین کی گئی۔

زکوة کا نظام اسلامی معاشرے کو دینے والا معاشرہ بناتا ہے۔ اور صاحب ثروت و صاحب نصاب کے مال میں غریبوں کا حصہ مقرر کرتا ہے۔ قرآن دوسرے مذہبی معاشروں میں مذہبی پیشواؤں کے ذریعہ قوم کا مال کھائے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ کچھ مذاہب میں مذہبی پیشواؤں کو عطیات دینے کو مذہبی فریضہ قرار دیا گیاہے۔ مگر اسلام میں مذہبی پیشواؤں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے بلکہ انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ معاشرے میں دینے کے نظام کو مضبوط بنائیں۔

جب اسلام نے عرب میں لینے کے کلچر پر ضرب لگائی تو اس کے مخالفین وہ لوگ پہلے ہوئے جن لوگوں نے لینے کے کلچر کو فروغ دیا تھا۔ مکہ کے یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ان پڑھ لوگوں کا مال ہڑپ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ انہوں نے مرکب سود کا نظام قائم کر رکھا تھا تاکہ قرضدار سے زیادہ سے زیادہ سود وصول کیا جا سکے۔ امانت میں خیانت عام بات تھی ۔ قرآن نے خیانت کو گناہ قرار دیا۔سود کو گناہ کبیرہ قرار دیا اور صدقات و خیرات کو کار ثواب قرار دیا۔ اس طرح اسلام نے لینے کے کلچر کی حوصلہ شکنی اور دینے کے کلچر کی حوصلہ افزائی کی۔

آج پھر معاشرے میں دینے کا کلچر کمزور ہورہا ہے اور لینے کے کلچر کا فروغ ہورہا ہے۔ اور یہ صرف قرآن کی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہورہاہے۔ جہیز کی رسم, رشوت کا چلن، امانت میں خیانت یعنی قومی اداروں میں مالی خردبرد اور بدعنوانی سب لینے کے کلچر کا حصہ ہیں جو آج مسلمانوں میں بھی عام ہیں۔ مسلمانوں کبھی لینے کے کلچر کو ختم۔کیا تھا مگر آج وہ اسی کلچر کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پھر مسلم معاشروں میں خوف، عدم تحفظ کا احساس اور معاشی و اخلاقی برائیاں پھیل گئی ہیں۔ ان برائیوں کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب مسلمانوں میں دینے کا کلچر پوری طرح سے رچ بس جائے۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/islam-promotes-practice-taking/d/128254

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..