پرویز حفیظ
23اکتوبر،2025
منہ پھٹ لوگوں کو معاشرے میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے تاہم ان لوگوں کی ایک بات اچھی ہے: وہ دشمن اور دوست دونوں کے منہ پر تلخ سچائی بیان کرنے سے نہیں کتراتے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ سے بڑا منہ پھٹ اس وقت دنیا میں شاید کوئی نہیں ہے۔ جب بنجامن نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی کے ٹرمپ کے پلان میں بار بار خامیاں نکالنے لگے تو امریکی صدرنے انہیں ایک ایسی بات کہہ دی جس کے بعد نتن یاہو کو امن معاہدہ پر دستخط کرتے ہی بنی۔ٹرمپ نے نتن یاہو کو جتادیا کہ ”اسرائیل ساری دنیا سے نہیں لڑسکتا ہے۔“ٹرمپ جیسا منہ پھٹ شخص ہی اسرائیل کے سفاک صہیونی سربراہ کوبدلے ہوئے زمینی حقائق سے آگاہ کرسکتا تھا۔
ٹرمپ نے نامہ نگاروں کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ نتن یاہو نے (غزہ میں) تمام حدیں پار کردیں تھیں او راسی لئے اسرائیل نے عالمی حمایت کھودی۔ٹرمپ نے اگر صاف گوئی سے کام نہیں لیا ہوتا تونتن یاہو فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھتا۔غزہ میں جاری نسل کشی کی وجہ سے عالمی رائے عامہ کتنی اسرائیل مخالف ہوچکی ہے اس کا اندازہ تو 26ستمبر کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بخوبی ہوگیا۔نتن یاہو جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو احتجاجاً لوگ واک آوٹ کرگئے۔ اسرائیل وزیراعظم کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی کا تقریباً خالی ہال اقوام عالم میں اسرائیل کی سفارتی تنہائی کا استعارہ بن گیا۔
ستمبر کے پہلے اور دوسرے ہفتے کے دوران اقوام متحدہ میں اسرائیل کو بار بار بین الاقوامی تنقید اور رسوائی کاسامناکرنا پڑا اور اسے یہ احساس ہوا کہ وہ عالمی اسٹیج پر کس قدر تنہا ہوتا جارہاہے۔ یوکرین پرروسی فوجی حملوں کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ میں کسی قرار داد پر اتنا زبرست اتفاق رائے دیکھا گیا جتنا قطر پرحملے کی مذمت میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے مذمتی قرار داد پردیکھا گیا۔ اس کے دوسرے ہی دن جب مسئلہ فلسطین کے لئے دوریاستی حل کی مشترکہ تجویز فرانس او رسعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کی گئی تو امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اراکین کی اکثریت نے اس تجویز کی حمایت میں ووٹ دیا۔
اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ غزہ میں جاری فلسطینیو کی نسل کشی نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔پہلے فلسطین کے کسی واقعے پر صرف مسلم ممالک میں لوگ سڑکوں پراتر تے تھے لیکن غزہ میں ڈھائی جانے والی صہیونی قیامت نے ساری دنیا کے لوگوں کو سڑکوں پراتر کر احتجاج کرنے پرمجبور کردیا۔ تاریخ میں پہلی بار کسی ایک عالمی ایشوپر یورپ او رامریکہ کے عوام نے اتنی بڑی تعداد میں او راتنی ثابت قدمی سے اپنی آواز بلند کی۔ نیویارک ہو یا ٹورنٹو، لندن ہو یا پیرس، روم ہویابرلن دنیا بھر کے شہر وں میں مہینوں تک لاکھوں کی تعداد میں عام شہری فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے پر مظاہرے کرتے رہے۔ Free Palestine کے نعروں کی بازگشت امریکہ میں بھی سنائی دی اور یورپ میں بھی۔
امریکہ کے صدر ہوں یا یورپی ممالک کے سربراہان،سات اکتوبر 2023 ء سے وہ علی اعلان اسرائیل کی مکمل حمایت، غزہ کی نسل کشی میں صہیونی حکومت کے ساتھ تعاون او راسے اقتصادی اور عسکری امداد فراہم کرتے رہے۔لیکن انہی ممالک کے عوام کے دلوں میں مظلوم فلسطینیوں کیلئے ہمدردیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ عوام کے مشتعل جذبات کا صحیح ادراک کرکے ان ممالک کی حکومتو ں نے بھی بادل ناخواستہ اسرائیل سے منہ موڑ لینے میں اپنی عافیت سمجھی۔ اسرائیل او رامریکہ کی مخالفت کے باوجود برطانیہ، فرانس، بیلئجم،کینڈا، آسٹریلیا، پرتگال، مالٹا، لکژمبرگ او رمونا کو جیسے ممالک کے ذریعے پچھلے ماہ فلسطین کو تسلیم کرنے کااعلان ان لاکھوں بے نام شہریوں کا ظلم کے خلاف احتجاج کا نتیجہ تھا۔ اس وقت پورے یورپ میں اسرائیل الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ یونین آف یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن (UEFA) اسرائیل ٹیم کی شرکت پرپابندی لگا نے کا پلان بنارہا ہے۔ Eurovision جیسے موسیقی کے بین الاقوامی مقابلوں میں اسرائیل کی شمولیت کی پرزور مخالفت کی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھی جب یہ واضح کردیا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کررہاہے تو اسرائیل کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر یورپی یونین نے بھی منہ پھیر لیا۔ٹرمپ نے غزہ میں سیز فائر فلسطینیوں کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اسرائیل کی ہمدردی میں کروایا ہے۔ امریکی صدر کو اندازہ ہوگیا کہ غزہ نتن یاہو کی کرتوتوں کی وجہ سے اسرائیل سفارتی اچھوت بنتا جارہاہے۔ سیز فائر کو نتن یاہو لاکھ اسرائیل کی فتح قرار دیتے رہیں یہ دراصل اسرائیل کو عالمی غیض وغضب سے بچانے کے لئے کئی ٹرمپ کی بچاو کارروائی تھی۔
گلوبل ساؤتھ کے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک اسرائیل سے بدگمان رہتے تھے لیکن یہودی مملکت اپنے قیام کے وقت سے ہی مغرب کی آنکھوں کا تاراہوا کرتا تھا پچھلے دوسالوں میں مغرب کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور یہاں اسرائیل کے خلاف عوامی جذبات عروج پرہیں۔ صہیونیوں کا یہ پرانا حربہ ہے کہ و ہ اپنے جرائم کی تنقید پرفوراً anti-semitism (یہود دشمنی) کا واویلا شروع کردیے ہیں۔مغرب کے لوگ اس الزام سے دامن بچانے کی خاطر پہلے اسرائیل کی غلط حرکتو کی مخالفت نہیں کرتے تھے لیکن غزہ کے المیہ نے یہ دیوار گرادی۔ اب امریکی او ریورپی عوام کھل کر صہیونیت کی مذمت کررہے ہیں او ربرملا یہ تسلیم کررہے ہیں کہ غزہ او رمغربی کنارے میں اسرائیل کاناجائز تسلط ہی سارے مسئلے کی جڑ ہے۔
امریکہ میں یہودی لابی اتنی مضبوط ہے کہ وہ ملک کے فیصلہ سازوں کو اپنی جیب میں رکھتی ہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ہر امریکی سیاستداں کو امریکین اسرائیل پبلک افیئر زکمیٹی (AIPAC) سے بھاری چندہ ملتا ہے۔ امریکی صدر کا تواسرائیل نواز ہونا طے ہے لیکن امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) میں بھی AIPAC کے چندوں کی وجہ سے دونوں پارٹیوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر ہمیشہ مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔لیکن غزہ کی نسل کشی کے بعد نہ صرف ڈیموکریٹ سیاستدانوں نے بلکہ کئی ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے بھی یہ اعلان کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ یہودی لابی سے چندہ قبول نہیں کریں گے۔ وہ وقت شاید جلد آنے والا ہے جب امریکہ کے لئے بھی اسرائیل کی اندھی حمایت جاری رکھنا اور اس کے انسانیت سوز جرائم کا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔
---------------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/israel-become-isolated-world/d/137364
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism