ابوذر عثمانی
23جولائی،2025
جمیل مظہری کی شاعری اپنے رنگ و آہنگ کے اعتبار سے منفرد ہے۔ ان کی جگہ اردو کے ان شعراء میں ہے جنہوں نے اردو شاعری کی روایت میں توسیع کی اور اس میں نئے ابعاد اور جہتیں پیداکیں۔انہوں نے اردو شاعری کے معنوی دائرے کو جس حد تک وسیع کیا وہ یقینا انکا ایک اہم اور قابل قدر کارنامہ ہے اور اسی میں دراصل ان کی انفرادیت کا راز مضمر ہے۔ ان کے یہاں ایسے اشعار کم ملتے ہیں جن میں رسمی اظہار انہ ردعمل کی کارفرمائی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جن تجربات کا اظہار کیا ہے وہ ان کے ذاتی او رنجی تجربے ہیں اوران میں ان کے انفرادی فکر و تخیل کے نقوش نمایاں ہیں۔غور سے دیکھاجائے تو ان کے یہاں موضوع او رطرزاظہار دونوں اعتبار سے کچھ نہ کچھ جدت اور انفرادیت ضرور مل جائے گی۔ ان کے یہاں واضح طور پر مختلف انداز میں سوچنے اور فکر واحساس کی نئی سمتیں پیدا کرنے کی کوشش نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کے یہاں شعوری سے زیادہ غیر شعوری انداز میں سامنے آئی ہے جس سے ان کے انفرادی ذہن اور شخصیت کااندازہ ہوتاہے۔انہوں نے اردو شعراء میں غالب اور اقبال سے خصوصی طو رپر اثرات قبول کئے ہیں اور غالب سے اثر پذیر ی ان کا انفرادی مزاج او ررنگ بن کر ظاہر ہوتی ہے اور اس میں معنی کے نئے گوشے ابھرتے ہیں ۔یہاں ایسے اشعار کی مثالیں دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی جن میں جمیل نے غالب او راقبال سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے افکار احساسات کی نئی تعبیر اور توجیہ پیش کردی ہے اور اس میں معنی کی نئی سطح دریافت کرلی ہے۔ یوں بھی دیکھا جائے تو انہوں نے اردو شاعری کے روایتی مضامین اور موضوعات کو بھی حقائق کے نئے عرفان او رآگہی کے لیے استعمال کیا ہے اور ان میں بصیرت او رمعنویت کے نئے پہلو پیدا کردیئے ہیں اسی لیے ان کی شاعری کی معنوی فضا روایت سے رشتے قائم رکھنے کے باوجود نئی اور بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔

جمیل مظہری
-------
یہ بات بھی قابل غو ر ہے کہ جمیل نے اردو شاعری کی عام او رمروجہ روایت کے مطابق محض نظم نماغزلیں با غزل نمانظمیں لکھنے پر اکتفانہیں کیا بلکہ اردو شاعری کی مختلف اصناف اور فارموں کو استعمال کرکے ان کے ذریعہ اظہار و بیان میں وسعتیں پیدا کیں او راپنے تجربوں کو دنیا گداز او رنکھار عطا کیا ۔ انہوں نے نظم او رغزل کے علاوہ مثنوی ،مرثیے ، قصیدہ ،قطعہ ،رباعی مسدس اور دوسرے روایتی فارموں کو برت کر اپنے خیالات اورمحسوسات کے اظہار میں شعوری طورپر کشادگی پیدا کی او ران سے بڑا کام لیا جمیل کے شعری اظہار کے اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو ان کے یہاں موضوع اورنیت دونوں اعتبار سے خاصی جدت اور انفرادیت کا احساس ہوتاہے۔ جمیل کی شاعری کے ان اساسی پہلووؤں کو سامنے رکھ کر ان کے تغزل او رمطالعہ کرنا مفید او رکارآمد ہوگا۔یہ بات واضح کردینی ضروری ہے کہ جمیل کی شاعری کے مطالعے میں ان کی نظمیں اورغزلیں دونوں یکساں اہمیت رکھتی ہیں اور ان میں کسی ایک کو بھی دوسرے پرآسانی سے فوقیت نہیں دی جاسکتی ۔ قطع نظر اس سے کہ جمیل نے نظمیں اور غزلیں دونوں خاصی تعداد میں کہی ہیں اور‘ نقش جمیل ،اور فکر جمیل’ کے نام سے ان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے الگ الگ شائع ہوئے ہیں۔دونوں میں موضوعاتی سطح پر گہرے رشتے او رہم آہنگی کا احساس ہوتاہے۔ جس طرح ان کی نظموں کے تین واضح مدارج اور اقسام ہیں۔ رومانی، انقلابی اور قومی اور فکری اور فلسفیانہ اسی طرح ان کی غزلوں میں بھی تین نمایاں رنگ رومانی، انقلابی اورفکری او رفلسفیانہ دکھائی دیتے ہیں او ران کے ذہنی اور شاعرانہ ارتقا کے تدریجی مراحل میں متوازی طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ ان رنگوں کی پیش کش جہاں ان کی نظموں میں تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ہوتی ہے وہا ں یہ رنگ ان کی غزلوں میں ایمائی انداز میں بروئے کارآئے ہیں۔
جمیل کی شاعری کے اساسی موضوعات دراصل حیات وکائنات سے متعلق وہ اہم اور بنیادی سوالات ہیں جو انسانی فکر و نظر او رعقل وخرد کے لیے آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں جمیل کا تجسس او رفلسفیانہ ذہن انہی سوالات سے دست وگریباں نظر آتا ہے اوراس کے نتیجے میں ان کے یہاں جنون وخرد کی کشاکش، عقل وعشق کی معرکہ آرائی مجرد اختیار کا تنازعہ او رانسان اور خدا کے رشتے کا تعین جیسے موضوعات اساسی اہمیت اختیار کرگئے ہیں ۔ ان کی غزلوں میں خوا ہ ایام جوانی کی تعبیر پیش کی گئی ہو یا انقلابی اور ترقی پسند خیالات کااظہار کیا گیا ہو ان میں ان کے فلسفیانہ غور وفکر کے یہ پہلو دبدیہی پرشامل ہوگئے ہیں۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ جمیل اپنی غزلوں کو افکار منظوم کانام دیتے ہیں اور انہیں روایتی تغزل کے معیار کو پیش رکھ کر غزل قرار دینے سے ہچکچا تے بلکہ انکار کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی غزلوں کے مجموعے کو فکر جمیل کے نام سے شائع کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنی غزلوں کوفکر وفلسفہ جیسی چیز سمجھتے ہیں او راس میں زبان وبیان کی وہ لطافت ،لوچ اور کشش ، رعنائی خیال گداز اور تاثیر نہیں محسوس کرتے جو تغزل کی جان ہے۔ تغزل کا ہمارے یہاں اب تک جو مفہوم لیا جاتارہاہے جس کی بنیاد پر غزل اورنظم میں فرق کیا جاتارہا ہے او رغزل کی پہچان او رپرکھ ہوتی رہی ہے وہ انہی چیزوں سے عبارت رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جمیل جو اردو شاعری کے مزاج اور روایات کے رمز شناس رہے ہیں وہ اپنی غزلوں کواسی کانٹے پر تولتے ہیں اور اس لحاظ سے اس میں جو کمی پاتے ہیں اس کا واضح طور پر اعتراف کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود دیکھا جائے تو تغزل کے اس معیار سے وقتاً فوقتاً انحراف کیاجاتارہا ہے اور وہ شعرآ جن کے یہاں فکری میلان نمایاں رہا ہے اور جنہوں نے شعر گوئی میں معنی آفرینی اور دقیق او رپیچیدہ خیالات کی ترجمانی کو اصل اہمیت دی ہے اور داخلیت کے ساتھ جارحیت کو بھی سمونے کی کوشش کی ہے اور وہ تغزل کے اس معیار کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر غالب مومن اور اقبال اور ان کے بعد آنے والے بہت سارے شعراء کو پیش کیا جاسکتا ہے جنہوں نے زبان وبیان کی مصنوعی حلاوت او ردل کشی پیدا کرنے کی بجائے اصل توجہ غزل کے رمزی اورایمائی پہلو پر دی ہے اور اس کے ذریعے اپنے تجربات میں معنویت ، بلاغت او ر تہ داری پیدا کی ہے۔ اس معیار سے دیکھا جائے تو جمیل کی غزلیں اپنے رنگ میں منفرد او رکامیاب نظر آتی ہیں۔
غزل کا اصل آرٹ اس کا رمزی اور علامتی پیرایہ بیان ہے جس میں الفاظ کو ان وسیع ترتلاز مات کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے او ران میں معنی کے نئے نئے شیڈز پیدا کیے جاتے ہیں اوریہ چیز غزل کی مخصوص ہیئت میں ردیف وقوافی کے التزام کیساتھ یہ روئے کارآتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہاں مجرد افکار کے پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ غزل میں جو افکار پیش کیے جاتے ہیں وہ شعری پیکروں او رعلامات کے توسط سے مخصوص شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ اسی کو فکر و احساس کے امتزاج او رہم آہنگی کانام بھی دیاجاسکتاہے جو شعری اظہار کانمایاں ترین صف ہے او رغزل میں پوری شدت اور توانائی کے ساتھ نما ہوتاہے۔
جمیل مظہری نے جن شعر ی پیکروں کا استعمال کیا ہے وہ ان کے افکار و خیالت کو فطری طور پر محسوس او رمعنی خیز بنانے کا عمل انجام دیتے ہیں او ران کے ذریعے ان میں نئی صداقت، بصیرت او رمعنویت جنم لیتی ہے جس سے شعری تخلیق کاامتیاز او رانفرادیت قائم ہوتی ہے ۔انہوں نے بیشتر اردو غزل کی، روایتی علامات کا استعمال کیاہے مثلاً آئینہ، قفس صیاد، بلبل ، پروانہ، شمع، میکدہ، ساغر، سبو، جام، باغ ، کلی باغباں، بہار، خزاں، حرم، بت کدہ، نظر،جلوہ، موج، سفینہ، دریا، ساحل، خرد جنوں، عشق ، کفر ، ایماں، آشیاں، گلستاں زنداں اور سلاسل، سراب، پیاس ، تشنگی اور روایتی انداز کی ترکیبیں ہوتی ہیں مثلاً چشم شوق ، نگہ اغیار، حریم نازنگہ فسوں طرار، حن نظرفریب شوخی ناز و ادا وغیرہ مگر ان کی معنوی فضا انہو ں نے عرفان وجدان کے نئے شعلے روشن کیے ہیں، اتنے خیالات اور حقائق کے ابلاغ کا ذریعہ بنایاہے۔جمیل نے حجاب، نقاب، پردہ ، تیرگی ، روشنی ، اندھیرا، اجالا، دھوپ، سایہ او ردرخت کے الفاظ او رعلامتیں بار بار استعمال کی ہیں او ر ان کے پردے میں ان خیالات او رجذبات کی ترسیل کی ہے جو ان کے غور و فکر کی اساس ،محور او رمرکزی نقطہ رہے ہیں جس کی طرف ابھی اشارے کیے جاچکے ہیں ،جمیل مظہری کے یہ اشعار اس ضمن میں قابل غور ہیں۔
آپ اپنے کو لگا دیکھنے شیدا اتیرا
ہر نظراس کی اٹھانے لگی پردا تیرا
۔۔۔۔۔
حقیقتوں نے اوڑھ لی ہے جب نقاب رنگ وبو
تواحترام فرض ہے ہر آنکھ پرنقاب کا
۔۔۔۔۔۔
یہاں بہ جزسراب کے نہیں علاج تشنگی
جمیل پیاس ہے تو آفریب کھا سراب کا
۔۔۔۔۔
مری عقل راہ میں مظہری کھڑی دیکھتی ہے ادھر ادھر
جنہوں نے ترک سفر کیا تو نہ کوئی راہ نما رہا
۔۔۔۔۔۔۔
محبت میں آئی اک ایسی بھی منزل
کہ ڈھونڈا جنوں نے خرد کاسہارا
۔۔۔۔
ہم لوگ ہیں تیرگی کے مارے
کھانے دوفریب روشنی کا
۔۔۔۔۔۔
اٹھلاتی ہیں ہر طرف گھٹائیں
اللہ رے ناز تیرگی کا
۔۔۔۔۔۔۔
کچھ بھی نہ ملاہاتھ کو کشکول بنا کے
یہ دست دعا کا سۂ خالی ہے خودی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بکھرے ہوئے جلوؤں کو قسم ہے تجھ کو
رحم کر میری پریشاں نظری پر اے دوست
۔۔۔۔۔۔
عشق اک تشنہ لبی ہے یہ نظرگاہ مجاز
حسن اک طنز ہے اس تشنہ لبی پراے دوست
۔۔۔۔۔
ایک گم گشتہ صحرائے تحیر ہے جمیل
اور ترالطف تبسم ہے اسی پر اے دوست
جمیل کے یہ اشعار بھی قابل غور ہیں جن میں تہ درتہ معانی پائے جاتے ہیں اورجو ان کی غزل گوئی کے آرٹ کابہترین نمونہ کہے جاسکتے ہیں ۔
صد چاک ہوا گوجامہ تن مجبوری تھی سینا ہی پڑا
مرنے کا وقت مقرر تھا ، مرنے کے لئے جینا ہی پڑا
۔۔۔۔۔۔
تمناؤں کے گھر میں ناامیدی آنہیں سکتی
محبت نے مقدر کوبٹھا رکھا ہے پہرے پر
۔۔۔۔۔
یہ نخل کب تک یہ چھاؤ ں کب تک رہے گا
ہاتھوں میں پاؤں کب تک
جمیل کانٹے نکل چکے ہوں تورحم کراپنے رہ نما پر
۔۔۔۔۔۔
ٹوٹا جاتاہے آگہی کاطلسم
مسکی جاتی ہے چادر اوہام
دیکھنے کو فروغ حسرت عشق
حسن خود کھینچ کے آگیا لب بام
۔۔۔۔۔
یہ خودی کہ عارض مہوشاں میں بھی محو خود نگر ہی رہا
مرا آئینہ کہ رچا ہوا تھا مذاق آئینہ ساز میں
۔۔۔۔۔۔
ہیں نظام شام وسحر میں بھی اسی کشمکش کی علامتیں
جوحجاب ونور کی کشمکش ہے ضمیر نازو نیاز میں
۔۔۔۔۔۔
اصلیت تھی یا دھوکہ تھا اک فتنہ رنگیں برپا تھا
سوجلوے تھے اک پردہ تھا، پردہ نہ رہا توکچھ بھی نہیں
۔۔۔۔
ہوا موافق بھی ہو عزیز و،تو اس کنارے سے دور رہنا
میں بار بار آکے اس کنارے پہ اپنی کشتی ڈبوگیا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔
معاف اے ناز رہ نمائی پہنچ کے منزل یہ بھی نہ پائی
وہ لذت خواب جو میسر ، ہوئی سرراہ خستگی میں
چھپی نہ جب خاک آستاں چھپے گی کیا چشم نکتہ داں سے
وہ اک ذرا سی شکن جو ابھری جبین مجبور بندگی میں
۔۔۔۔۔۔۔
ادھر اندھیرے کی لعنتیں ہیں ادھر اجالے کی رحمتیں ہیں
ترے مسافر لگائیں بستر کہا ں یہ صحرائے زندگی میں
۔۔۔۔۔
نکل گیاہوں بہت دور کی منزل سے
پکارتا ہے میرا شوق مضمحل مجھ کو
اسی سے دل نے جلائے چراغ دیر وحرم
دیا گناہ نے جو سوز منفعل مجھ کو
۔۔۔۔۔
طلب کے صحرا میں چپے چپے پہ ہیں مرے نقش پاکی لہریں
اگر چہ میں اس ہوس کدے سے گزرگیا تھا مسافرانہ
ہماری وحشت نے اس خرابے کواپنے دل کو فروغ بخشا
ہماری حیرت نے اس خرابے کو کردیا اک نگار خانہ
۔۔۔۔۔
جھکا یا تونے جھکے ہم برابری نہ رہی
یہ بندگی ہوئی اے دوست عاشق نہ ہوئی
۔۔۔۔۔
مری گمرہی سے رستے خستگی سے منزل
میری داستاں مرتب مرے نقش ہائے پا سے
۔۔۔۔۔۔
صحرا کو کیا خبر کہ ہے ہر ذرہ حقیر
مٹھی میں اپنی قسمت صحرا لیے ہوئے
۔۔۔۔۔۔
جب دامن شعور نے پونچھی نظر کی گرد
دیکھا ادھر ادھر نگہ اعتبار نے
۔۔۔۔
کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے
ڈرا دیاہے پتنگوں نے روشنی سے مجھے
۔۔۔۔۔
ہے مری آنکھ میں اب تک وہی سفر کاعبار
ملا جو راہ میں صحرائے آگہی سے مجھے
۔۔۔۔۔
اب تو شرمائے تری پردہ نشینی کا غرور
بندگی فتنہ اصنام ہوئی جاتی ہے
۔۔۔۔۔
جمیل کے تغزل کامطالعہ کرتے ہوئے کچھ اور پہلوؤں پر نگاہ جاتی ہے جن سے ان کی غزل گوئی کے آرٹ میں ایک مخصوص رعنائی، دلکشی اور تب وتاب پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے اظہار جذبات میں جابہ جاطنز اور شوخی سے کام لیا ہے جس نے ان کے تغزل میں ایک لطیف پہلو ابھاردیا ہے بعض جگہ ان کی غزلوں میں بڑی اچھوتی پیکر تراشی کی گئی ہے جو دراصل ان کی نزاکت احساس کی تراشیدہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں کہیں کہیں تکرار الفاظ سے بھی کام لیا گیا ہے اوراس سے بھی ایک خاص کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے بعض جگہ ہندی الفاظ کا بڑا اچھوتا اور کامیاب استعمال کیا ہے اور اس سے ایک خاص ترنم اور نغمگی پیداکی ہے۔جمیل نے ایام شباب میں ہندی اردو وتغزل کو ایک سانچے میں ڈھالنے کی جو کوشش کی تھی وہ اردو غزل میں ایک نیا تجربہ تھی۔یہ او ربات ہے کہ ان غزلوں میں جذبات و احساسات کی صداقت کے باوجود ایمائیت کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ غالب اس قسم کی غزل گوئی کے تجربے کوآگے نہ بڑھا سکے اور اردو غزل کے مانوس آداب اورطرز و اسلوب کونبھاتے ہوئے بھرپور ایمائی انداز میں خیالات واحساسات کاجادو جگایا جاتاہے او رذہن وفکر کی تہذیب کی جاتی ہے۔
جمیل مظہری کے تغزل کے اس جائزے سے ان کی غزل گوئی کے وہ مخصوص او رمنفرد نقوش ابھرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی غزلیں اردو غزل کی مرکزیت کا ان مٹ نقش اورناگریز جزوبن کرزندہ رہیں گی اور ہمیں برابر نئے لطف وکیف سے آشنا کرتی رہیں گی۔
23جولائی،2025 ، بشکریہ: روز نامہ آگ،لکھنؤ
----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/jameel-mazhari-contribution-ghazal-poetry/d/136293
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism