اسلامی فکر، قرآن و سنت، اور اعتدال کی بنیادیں
پہلی قسط
کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام
28جولائی،2025
آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کا دامن چھوٹتا جا رہا ہے۔ یہ بحران صرف ہمارے وطن عزیز ہندوستان کے مسلم معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اسلام کی اعتدال پسندی پر عمل پیرا ہونے کی عملی کمی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
اسلام ایک دینِ فطرت ہے، جو ہر معاملے میں توازن، میانہ روی، اور اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید نے ہمیں "أمة وسطا" یعنی اعتدال والی امت قرار دیا، مگر ہم نے اس صفتِ امتیازی کو فراموش کر دیا۔
خواہ بات علم و تحقیق کی ہو، معاملات و معاشرت کی ہو، یا مطالعہ و فہمِ دین کی، ہم نے اکثر انتہا پسندی یا بے عملی کا راستہ اختیار کیا۔ ہمارے ہاں مسلکی، فکری، اور ذوقی اختلافات اس قدر شدت اختیار کر چکے ہیں کہ ایک دوسرے کی بات سننے کا ظرف بھی باقی نہیں رہا۔ ہر ایک کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کوئی نہ کوئی دلیل تو ہوتی ہے، مگر اس دلیل کو شائستگی، اخلاق، اور اعتدال کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے شدت پسندی اور سخت لہجے کا سہارا لیا جاتا ہے، جس سے معاشرے میں مزید انتشار پھیلتا ہے۔

یہی وہ احساس تھا جس نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ میں نے چاہا کہ اعتدال کے موضوع پر ایک جامع اور مدلل مضمون لکھا جائے ۔ جب میں نے اس پر تفصیل سے لکھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ اس موضوع کی وسعت کے باعث اسے ایک ہی نشست میں مکمل کرنا مشکل ہوگا۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اسے تین قسطوں میں پیش کیا جائے تاکہ ہر قسط میں اس اہم اور حساس موضوع کے مختلف پہلوؤں کو وضاحت سے بیان کیا جا سکے۔
پہلی قسط میں ہم اسلام کی اعتدال پسند تعلیمات کے قرآنی اور نبویؐ دلائل کا جائزہ لیں گے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اعتدال پسندی نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ اسلامی نظامِ حیات کا بنیادی ستون بھی ہے۔
دوسری قسط میں ہم اعتدال کے خلاف موجودہ دور کے رجحانات کا تنقیدی جائزہ لیں گے، جیسے کہ مذہبی انتہا پسندی، تکفیری رویے، اور فرقہ وارانہ شدت پسندی اور اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ کس طرح ان رویوں نے اسلام کے پرامن پیغام کو متاثر کیا ہے۔
تیسری قسط میں ہم اعتدال کو فروغ دینے کے عملی طریقوں، کردار سازی، تعلیم، اور اجتماعی اصلاح کے پہلوؤں پر گفتگو کریں گے، تاکہ ایک معتدل، مہذب، اور باہمی احترام پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں مدد مل سکے۔
اسلامی فکر، قرآن و سنت، اور اعتدال کی بنیادیں
پہلی قسط
اسلام وہ دین ہے جو انسانیت کے لیے خیر و برکت، عدل و انصاف، اور اعتدال و توازن کا پیغام لے کر آیا۔ یہ دین کسی قوم، نسل یا طبقے کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا نور ہے۔ اسلام کی تعلیمات جہاں ایک طرف روحانی ارتقاء پر زور دیتی ہیں وہیں دوسری طرف سماجی، معاشرتی اور انفرادی توازن کی تلقین کرتی ہیں۔
اعتدال کی تعریف:
اعتدال کا مطلب ہے توازن، میانہ روی، انصاف اور افراط و تفریط سے گریز۔ اسلام نے انسان کو ہر شعبۂ زندگی میں یہی راہ دکھائی ہے۔ قرآن مجید ہو یا احادیثِ مبارکہ، ہر جگہ ہمیں اس راہِ اعتدال کو اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
قرآنِ مجید میں اعتدال کی تعلیمات:
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں امتِ مسلمہ کو ’’امتِ وسط‘‘ یعنی درمیانی امت قرار دیا:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا۔‘‘
(سورۃ البقرہ، آیت 143)
مفسرین کے مطابق ’’وسط‘‘ کا مطلب ہے وہ قوم جو ہر معاملے میں عدل و انصاف پر قائم رہتی ہے، نہ تو افراط کی راہ اپناتی ہے اور نہ ہی تفریط کی۔
اعتدال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت میں:
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پوری حیاتِ طیبہ اعتدال کا نمونہ ہے۔ ایک موقع پر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عبادت میں افراط کی نیت سے روزانہ روزہ رکھنے، ساری رات قیام کرنے اور عورتوں سے دور رہنے کا عہد کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
"میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور نکاح بھی کرتا ہوں۔" (صحیح بخاری، حدیث 5063)
یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ عبادت ہو یا دنیاوی معاملات، ہر چیز میں اعتدال ہی اصل روح ہے۔
مسلم معاشرے میں اعتدال کی کمی:
بدقسمتی سے آج کا مسلم معاشرہ شدت پسندی، جذباتیت، اور فرقہ واریت کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ خواہ علم و تحقیق کا میدان ہو یا دینی و فقہی مسائل میں اختلاف، ہم نے دوسروں کو سننے، سمجھنے اور برداشت کرنے کا حوصلہ کھو دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ:
• ہم کسی کے نقطۂ نظر کو بغیر غور کیے رد کر دیتے ہیں؛
• مخالفین کو گمراہ، بدعتی یا کافر تک کہہ دیتے ہیں؛
• مطالعہ کتب میں بھی صرف اپنی جماعت کے بزرگوں پر اکتفا کرتے ہیں؛
• معاشرتی طور پر سخت رویے، جھگڑے، اور عدم برداشت عام ہو چکی ہے۔
علم، ادب، اور مکالمے میں اعتدال کی ضرورت:
اسلامی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم علم و ادب میں بھی اعتدال کو اختیار کریں۔ قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی سے بات کرو تو احسن طریقے سے کرو: وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
’’اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت 83)
اسی طرح فرمایا: ادْعُ إِلِىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔‘‘ (سورۃ النحل، آیت 125)
یہ دونوں آیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اگر کوئی بات بھی دینی یا اصلاحی مقصد سے کرنی ہو، تو اس میں توازن، نرمی، اور حکمت لازمی ہونی چاہیے۔
فقہی و مسلکی اختلافات میں اعتدال:
اسلام نے فقہی اجتہاد اور تنوعِ رائے کو ہمیشہ قبول کیا ہے، لیکن مسلمانوں کے درمیان نفرت، بغض، اور تکفیر کو سختی سے منع کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے:
"میری رائے درست ہے مگر اس میں خطا کا احتمال ہے، اور مخالف کی رائے غلط ہے مگر اس میں درستگی کا امکان ہے۔"
یہی وہ اعتدال پسندی ہے جس نے امت کو علمی رفعت عطا کی، لیکن آج ہم اس سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔
اعتدال کی برکتیں:
• انسان کو سختی اور نفرت سے محفوظ رکھتی ہے
• سوسائٹی میں ہم آہنگی اور امن پیدا کرتی ہے
• علمی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے
• اختلافات کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے
• معاشرتی اقدار کو بہتر بناتی ہے
اختتامیہ:
اسلام کا پورا پیغام ہی اعتدال اور توازن پر قائم ہے۔ چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات، عقائد ہوں یا اخلاقیات، ہر پہلو میں امت کو درمیانی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو امت وسط کہلانے کا شرف رکھتی ہے، اسے اس مقام کی لاج رکھنی چاہیے۔ افراط و تفریط نہ صرف اسلام کے حسن کو ماند کرتی ہے بلکہ امت کے باہمی تعلقات میں بھی زہر گھول دیتی ہے۔
اگلی قسط میں ہم اعتدال کے منافی رویوں اور ان کے نتائج پر گفتگو کریں گے، نیز یہ بھی دیکھیں گے کہ امت نے اعتدال کو کیسے چھوڑا اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
ََََََََََََََََََََََََََََََََ
کنیز فاطمہ عالمہ و فاضلہ ، نیز نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ہیں ۔
------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/moderation-journey-extremism-islam-principles-part-1/d/136324
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism