New Age Islam
Tue Apr 14 2026, 07:52 AM

Urdu Section ( 28 Dec 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Divide within Muslims: Navigating Doctrinal Differences and the Search for Unity فقہی اختلافات، آرائے جمہور

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد

27دسمبر،2024

قرآن کریم تمام مسالک کے درمیان صحیفہ اسلامی ہے۔ سردار الانبیاء ختم النبین، رحمت اللعالمین اور شافع محشر آپ کا بالا تفاق مقام ومنصف،اللہ اور اللہ کے فرشتوں کا آپ پر درود وسلام بھیجنا اور امت واحدہ کو بھی اس کی تلقین ربانی، یہ سب ہمارے ایمان کی کلیات  کے اجزائے اصل ولازم ہیں۔عشرہ مبشرہ ازواج مطہرات دختران نبی آخر الزماں، اہل بیت جن کے مقام کو آپ نے اپنی چادر میں سمیٹ کر ان کی حرمت وعظمت کا خود اظہار فرمایا ان کے تقدس، احترام واکرام پر اتفاق رائے۔

فرائض، فضائل، حقوق اللہ، حقوق العباد پراجماعی کیفیت، ثواب، تعظیم اور تفہیم کے زمرے میں تلاوت قرآن، تجوید، تفسیر قرآن پہ وہ تمام ذیلی عنوانات ہیں جن پر بھی عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تشریحات میں اختلافات رائے ہونا فطری ہے۔ ریاست مدینہ، میثاق مدینہ،فرمودا ت رسول للہ،کردار صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین سب کا حسب مراتب مقام و منصب۔یہ وہ اجماع کی کیفیت ہے جس کو ذہن میں رکھیں۔ البتہ امامت اور خلافت پر مختلف اور متصادم زاویے ہیں۔

آپ کے وصال کے دوسو پچاس برس بعد احادیث کوجمع کرنا شروع ہوا۔آپ تک یہ سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھیں۔ بخاری 256، مسلم 261، ابوداؤد 275، نسانی303، ترمذی 279، اور ابن ماجہ 273، ہجری ا دورانیہ ہے۔ ان کی سند اور مستند درجہ بندی کو طے کرنے کے لئے اسماء الرجال کا عدیم المثال طریقہ کا ر اپنایا گیا۔ مندرجہ بنیادوں پر یہ مقرر کیا گیا۔ پہلا براہ راست یعنی خود رسول اللہ کی زبانی، دوسرا جنہوں نے اول سے سنا ان کی نقل زبانی، تیسرا ان کی نقل زبانی اور چوتھا ان کی نقل زبانی۔ حدیث صحیح، حدیث قدسی، حدیث ضعیف تین بنیادی قسمیں مانی گئیں بہت بڑی تعداد میں احادیث مسترد بھی کی گئیں۔

احادیث کے انتخاب او رسند میں لگ بھگ نوے فیصد اتفاق رائے ہے۔ اختلاف رائے کاعمل فقہ کے وجود میں آنے کے ساتھ زور پکڑتا ہے۔ مکاتب ومسالک وجود میں آنے لگتے ہیں۔خلاف او رامامت کا تصور سامنے آتا ہے۔ جس کی سند آپ کی حیات طیبہ،سیرست مطاہر و اور ریاست مدینہ میں تلاش کی جاتی ہے۔ اہل تشیعہ کے خلافت کے سوال پر اپنے دلائل ہیں۔ اہل سنت اور اہل تشیع دوبنیادی مسلک ہیں۔ بقیہ ان کی شاخیں قراد دی جاسکتی ہیں۔ قرآن کریم موجودہ شکل میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے 12سالہ دور خلافت میں ترتیب پایا۔ قرآن کی پہلی تفسیر عربی زبان میں تفسیر الکبیر 150-80 ہجری، اس کے بعد معنیٰ القرآن 207ہجری، فارسی میں تفسیر طبری 223ہجری، اردو 1826 حضرت شاہ عبدالقادر صاحبزادہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے کی۔ معلوم ہوا کہ ترجمہ و تفسیر کا سلسلہ بھی صدیوں بعد شروع ہوا۔

امت میں اختلاف قائم ہوتے گئے۔ ہم قرآنی شناخت سے دور ہوتے گئے او رائمہ کی نسب سے پہچانے جانے لگے۔ ہم اب حنفی،حنبلی، مالکی، شافعی، جعفری ہیں۔ سنی، وہابی، سلفی، شیعہ، بوہرو، اسمٰعیلی، آغا خانی اور نہ جانے کتنے ناموں میں بٹتے چلے گئے۔ حدیث میں 73 فرقوں کا ذکر ملتاہے جس میں برحق فرقہ صرف وہ ہوگا جو اللہ او راللہ کے رسول اور اصحاب رسول کے طریقہ کار پر ہوگا، بقیہ باطل۔

اس کے بعد قرآن کے معنی ومفہوم، تفہیم، تشریح اور تفسیر میں اختلافات، آگے شریعت،طریقت، روحانیت، خانقاہیت، اولیا ء اللہ کے تصورات سے مزیدتقسیم،تفرقے واختلافات کو زمین فراہم ہوئی۔ ایک دین، ایک قرآن اور ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باوجود ملت پارہ پارہ۔شدت اتنی کہ ایک دوسرے پرکافر ہونے کے فتوے او رنہ جانے کیاکیا؟ آج سابقہ تفاسیر جو اپنے وقت کی نہایت مستند تفاسیر میں شمار ہوتی ہیں، موجودہ مستند تحقیق کے مطابق قرآن کی وہ ایک ہزار آیات  جن کا راست یا بالواسطہ تعلق سائنس یا سائنسی تحقیق کے نتائج سے ہے اس حد تک سابقہ متعلقہ تفاسیر فرسودہ اور غیرمطابق ہوچکی ہیں۔ قرآن کا متن تا قیامت اللہ کے امان میں ہے مگر اس کے معنی، مفہوم اور ان پر ادراک تا قیامت علم و آگہی کے نئے نئے گوشے کھولتے رہیں گے۔ یہ کام نہایت کم ہے کیونکہ اس سے مسندیں کھسکتی ہیں۔ اسی کئی ضعیف احادیث بھی نظرثانی مانگ سکتی ہیں جو کسی ایسے تضاد کے زمرے میں آگئی ہیں جو کسی مستند تحقیق سے مطابقت ہی نہیں رکھتیں یا کوئی ایسا ابہام پیدا کررہی ہیں جن سے اسلام بحیثیت دین متن کسی فتن کا شکار ہو رہا ہو۔ واضح رہے یہ ہردور کے اکابرین کا فرض کفایہ ہے کہ وہ جہاں فتنوں سے اپنے کو باخبر رکھیں وہیں تحقیق، منطق اور مصلحت گرمستند قرار پاجائے تو ضروری اقدامات کو اجماع کے ذریعے اٹھانے سے پیچھے نہ رہیں۔ یہاں تشنگی برقرار ہے۔

وہ علمی وتحقیقی اختلافات جو سند یا سمجھ کو لیکر تھے وہ کیونکہ ذات اور ذاتیات تک پہنچ گئے کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں لین دین قرار پاگئیں، رسومات نے دین کا لبادہ اوڑھ لیا،فرائض جن کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے وہ پیچھے ڈال دیئے گئے۔ الوہیت،وسیلے اور سفارش کی نئی نئی جہتیں ایجاد کرلی گئیں او ران کی اتباع میں اتنی سختی لادی گئی کہ اعتراضات فتنہ وفساد کی شکل اختیار کرنے لگے۔ تعویذ گنڈے، ٹوٹکے،جھاڑ پھونک وہ دین جو ہر قسم کی تو ہم پرستی کی رد کے لئے آیا تھا۔ آج ہی کے نرغے میں آچکا ہے۔

اس سب کاذکر کرنے کا پس منظریہ ہے کہ جہاں بنیادی تفہیم اور ہم آہنگی بدرجہ اتم موجود ہو وہاں بنیادی تفرقے اختلاف رائے تک علمی حلقوں میں محدود نہ رہ کر عوام میں سرایت کرجائیں یہ کوئی دانشوری تو نہیں۔ آج جس مقام پر دنیا کا دو راب مسلمان کھڑا ہے اس کے زوال وذلت ورسوائی کو سمجھنے کے لئے کیا یہ سب کافی نہیں؟ کافر، مشرک، منافق، فاسق، کا ذب، مکار وعیا، اور اغیار سے معاملات دوستی اور رفاقت میں کچھ آڑے نہیں۔مگر کلمہ گو اللہ، اللہ کے رسول اور قرآن پرایمان رکھنے والے کے ساتھ کون سی مسجد میں نماز نہیں ہوگی، کس مولوی کاپڑھایا ہوا نکاح باطل قرار پائے گا، کس فرقے میں نکاح جائز یا ناجائز ہے۔ وہ ہزار خرافاتیں جو امت واحدہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرتی ہیں ان پر پورا زور ہے۔ مساجد ذاتی اور موروثی ملکیت بن چکیں، مدارس، مقابر، خانقاہیں، ادارے اور تنظیمیں، ادارے،ملکیت اور وراثت منتقل اقتدار کا فارمولہ محض موروثیت بقیہ سب جگہ جمہوریت۔

اس تفصیل کے بعد کچھ سوال قائم کرکے آپ کو اس مضمون میں شامل کرنا چاہتاہوں۔

(1) جو کام روزمحشر ہوتا ہے وہ اس دنیا میں کرنے کا کس کے پاس حق ہے؟

(2)آپس میں کفر کے فتوے، مذہبی منافرت پر مبنی آراء،تفرقہ اور انتشار پھیلانے والے اقوال حرکات، اقدامات اور بیانات معاذ اللہ کیوں؟

(3)رات رات بھر کی مجلسیں اور ایک دوسرے کو مسترد کرنے پر کیوں سجائی جاتی ہیں اور اس پر نذرانے بھی پیش کئے جاتے ہیں آخر کیوں؟

(4)اسلامی اخلاقیات پر مجلسیں کیوں نہیں منعقد کی جاتیں؟

(5)دوسرے کو ذلیل اور رسوا، معتوب اورمکروہ کرنے پرساری صلاحیتیں! اتفاق اتحاد اور اشتراک کے مضامین کیوں ترک کئے ہوئے ہیں؟

(6)مالی معاونت سب کی قبول، تحفے تحائف سب کے قبول،مسجد، درگاہ، مدرسے میں کوئی رقم دے قبول مگر آپس میں نہ کوئی بڑا قبول، نہ سب کے لئے کوئی ایک مستند قبول۔ یہ کیا اخلاقیات او رکیا علمیت ہے؟

(7) تو ہم پرستی میں ملت کو کس قدر الجھا دیا گیا ہے اگر اس سب میں ہر مسئلے کا حل ہے تو کسی ایک اسلام کے دشمن کا توقلع قمع کرکے آج تک دکھا دیا ہوتا؟

سوالات بہت ہیں جو اب کی سب کو دعوت ہے۔ انا کا ساتھ صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے، قادر مطلق وہ اور تنہا اس کی ذات ہے، کوئی نعوذ باللہ خدا بننے کی کوشش نہ کرے۔ کوئی مفاہمت اور مصالحت میں اتنا بڑھنا چاہتاہے کہ جڑ، تنا اور ٹہنی تک سے جدا ہوا جارہا ہے تو کوئی اسلام کے امن،صلح وسلامتی کے داعی چہرے کوبھی سامنے آنے دینے میں رکاوٹ بن رہاہے۔ اسلام فتنے، فساد اور قتال کی جڑ کو کاٹنے والا دین ہے بیشک۔ جب فیصلے کا قطعی وقت آتاہے تو ذاتی مفادات اور مصلحتیں دین کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کردی جاتی ہیں اسلام میں ہرمسئلے کا حل ہے مگردنیا میں ہم کسی مسئلے کا حل پیش نہیں کر پارہے بلکہ خود مسئلہ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں یہ کیا مذاق ہے۔

27 دسمبر،2024، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

------------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/muslims-navigating-differences-search-unity/d/134172

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..