New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 03:30 PM

Urdu Section ( 19 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Are Others Really To Blame for Our Before Disgrace? کیا غیر ہی ہماری رسوائی کے ذمہ د ار ہیں؟

مولاناخالد سیف اللہ رحمانی

16 جنوری،2026

درخت جب اندر سے کھوکھلا ہوکرسوکھ جائے تو اس کو گرانے میں نہ دیر لگتی ہے او رنہ دشواری پیش آتی ہے،درخت کاٹنے والابہت آسانی سے او رکم وقت میں اس کوکاٹ دیتاہے، بلکہ جڑیں تک اکھیڑ دیتاہے۔یہ حال قوموں اور گروہوں کا ہے۔جو قوم خود اپنے نظریہ پر عمل نہیں کرتی، جو گروہ خود اپنے اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتا،جس کے قول وفعل میں کھلا ہوا تضاد ہوتاہے، جو الفاظ کے دریا تو بہا سکتاہے لیکن عملی دنیا میں اس کی بساط ایک قطرہ سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ قوم اپنی بقا ء کی لڑائی نہیں لڑسکتی او رنہ اپنے چابک دست دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے۔قرآن مجید نے یہودیو ں کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے یہی بات کہی ہے کہ ان کے قول وفعل میں یکسانیت نہیں ہے۔

اس وقت مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں، وہ دشمنوں کا رونا روتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا رونا رویاجائے۔ جن لوگو ں کو آپ کی فکر، آپ کے عقیدہ، آپ کے طرز زندگی، آپ کی تہذیب وثقافت، آپ کے تاریخی ورثہ، یہاں تک کہ آپ کے وجود اورآپ کے نام سے بھی نفرت ہے، ان سے اس بات کے سوا اور کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے، ان سے یہ امید رکھناکہ وہ آپ کے دین کا تحفظ کرینگے او رآپ کی شریعت کو محفوظ رکھیں گے، ایساہی ہے جیسے کوئی شخص آگ سے پیاس بجھانے کی اوربرف سے ایندھن کے کام آنے کی توقع رکھے، اس لئے ہندوستان کے موجودہ حالات میں ضرورت ہے کہ جہاں ہم عوامی رائے عامہ کے ذریعہ پُر امن احتجاج کریں، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان پوری جرأت او راعتراف حقیقت کے ساتھ آپ کا محاسبہ کریں اور اپنے طرز عمل میں ایک بنیادی تبدیلی لائیں۔

اسلام نے نکاح کو بہت آسان رکھاہے، مسلمان عید، بقرعید میں جتنا خرچ کرتے ہیں، نکاح میں اتناخرچ کرنا بھی ضروری نہیں، صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتاہے او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے، جس میں نہ کوئی کرایہ خرچ ہوتاہے اورنہ سجاوٹ کی گنجائش ہوتی ہے، نکاح کے ساتھ صرف ایک ”دعوت ولیمہ“ رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے قیمتی ولیمہ فرمایا او را س طور پرکہ ایک بکرا ذبح کیا۔البتہ نکاح میں ایک لازمی ذمہ داری مہر کی ہے اور اس کو عقد کے وقت ادا کردینا مسنون ہے۔

لیکن صورت حال یہ ہے کہ نکاح کونہایت ہی مشکل عمل بنادیا گیا ہے، جس میں بعض اوقات لڑکی والے اپنے گھر تک بیچ دیتے ہیں، لڑکی والوں پر جہیز کا بارگراں تو ہے ہی، ایک بڑی نقد رقم کامطالبہ کیاجاتاہے، فنکشن ہال او رکھانے کے متینوتک تعیین ہوتی ہے اور یہ سارا بوجھ لڑکی والوں کے سر ڈالا جاتاہے۔ دوسری طرف مہر ایک رسمی چیزیں بن کررہ گئی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر طلاق کی نوبت آئی تب مہر ادا کیا جائے گا، اس طرح اسلام کا تصور نکا ح مسخ ہوکر رہ گیاہے۔اس غیر اسلامی اورغیر اخلاقی عمل پر ہمیں حکومت یا قانون نے مجبور نہیں کیاہے، بلکہ یہ ہمارااپنا بگاڑ ہے۔

شریعت کے خاندانی زندگی سے متعلق قوانین میں مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی ہے، یہ گنجائش اس لئے ہے کہ معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی او رصفائی ستھرائی باقی رہے۔بہت سی دفعہ یہ اجازت ایک سماجی ضروت بھی بن جاتی ہے، لیکن قرآن نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ شوہر دونوں بیویوں کے درمیان عدل سے کام لے، اگر وہ عدل قائم نہ کرسکے تو اس کے لئے دوسرا نکاح کرنے کی گنجائش نہیں۔”پھراگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کرسکوگے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو)۔(النساء:3)کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دوسری شادی کے جو واقعات پیش آتے ہیں، ان میں 90 /فیصد واقعات میں دوسرا نکاح کسی ضرورت او رسنجیدہ جذبے کے ساتھ نہیں کیا جاتا بلکہ پہلی بیوی کو تکلیف پہنچانے کے لئے انتقامی جذبہ سے کیاجاتا ہے اورانصاف کی شرط کو اس طرح بالائے طاق رکھ دیاجاتاہے کہ ایک بیوی کے ساتھ تو محبوبہ او رمعشوقہ کا معاملہکیاجاتاہے اوردوسری کو اس طرح زندگی بسرکرنے پر مجبور کیا جاتاہے کہ نہ اسے بیوی کے حقو ق ملتے ہیں او رنہ وہ شوہر کی زندگی سے آزاد ہوتی ہے۔ اس طرز عمل سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔ لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ ایک درست حکم کا غلط استعمال ہے، اس لئے وہ خود اس خداناترس شخص کی غلطی کا مجرم اسلام کو سمجھنے لگتے ہیں۔

نکاح کا رشتہ محبت وسکون کارشتہ ہے، تاکہ شوہر وبیوی پرُ سکون زندگی گزارسکیں، اسی رشتہ سے نسل انسانی کا بقاء اور خاندانی نظام کااستحکام متعلق ہے۔اسی لئے شریعت کامنشاء ہے کہ جب ایک بار رشتہ نکاح قائم ہوجائے تو اسے استوار رکھا جائے اور حتیٰ المقدور اس کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ شوہر کی طرف سے رشتہ نکاح کے ختم کردینے کو طلاق کہتے ہیں او ربیوی کے مطالبہ پر شوہر کے رشتہ ختم کردینے کوخلع۔شریعت میں طلاق کو بھی ناپسند کیا گیاہے، یہاں تک کہ اس کو تمام جائز چیزوں میں سب سے مبغوض او رنا پسند یدہ فرمادیا گیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر بھی لعنت بھیجی ہے، جو کسی معقول سبب کے بغیر خلع کا مطالبہ کرے۔

لیکن مسلم سماج میں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو 90 فیصد طلاق کے واقعات غصہ، وقتی رنجش یا شوہر کے رشہ داروں کی طرف سے چڑھانے اوراُکسانے کی بنا پرپیش آتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ بہت سے واقعات میں ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں۔اسی طرح عورتوں کی طرف سے خلع کے مطالبات بعض دفعہ بہت ہی معمولی اسباب اور قوت برداشت کی کمی کی بنا پرکئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عمل برادران وطن کے درمیان اسلام کی غلط تصویر پیش کرتاہے او ریہ تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس میں ذرائع ابلاغ کی مبالطہ آمیزی کابھی دخل ہوتاہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سماج ہی اس کے لئے بنیاد فراہم کرتاہے۔

شریعت اسلامی نے مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کاایک جامع،مربوط اور عادلانہ نظام پیش کیاہے، اس میں کچھ رشتہ داروہ ہیں جو”اصحاب الفروض“ کہلاتے ہیں، یہ وہ حضرات ہیں جن کے حصے خود قرآن مجید میں پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں، شوہر وں کی طرح بیویاں بھی ہیں اور اولاد کی طرح ماں باپ بھی ہیں، لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اس تقسیم پر بہت کم عمل کیا جاتاہے۔ اکثر وبیشتر ماں باپ کے ترکہ پر بیٹے قبضہ کرلیتے ہیں یعنی اپنی بہنوں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں۔بعض دفعہ خود والدین کوبھی یہ سوچ ہوتی ہے کہ مکان، کاروبار او ر زمین دار گھرانوں میں زرعی اراضی پر بیٹیوں کو حق نہ دیا جائے انہیں تھوڑا بہت نقد رقم دے کر کہہ دیا جاتاہے کہ ان کی شادیوں پرپہلے کافی اخراجات ہوچکے ہیں، اسی طرح مرنے والے کا پورا ترکہ لڑکے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں، ماں باپ کا حصہ نہیں دیتے او رکہہ دیاجاتاہے کہ ماں کی پرورش کیلئے ہم لوگ کافی ہیں، انہیں ترکہ میں حصہ کی کیاضرورت ہے؟ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ اگر کوئی جواں سال یا ادھیڑ عمر شخص کاانتقال ہوگیا، اس نے بوڑھے والدین بھی چھوڑے، جوان بیوی او رکم عمر بچے بھی، تو بیوی بچے پورے ترکہ پر قابض ہوجاتے ہیں، اور وہ بوڑھے ماں با پ جنہوں نے اپنے خون جگر سے ان کی پرورش کی تھی او رچھوٹے سے بڑا کیا تھا، ان کو بالکل نظرانداز کردیاجاتاہے۔

یہ سب ظلم کی مختلف صورتیں ہیں، جو ہمارے سماج کا معمول بن چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے میراث کوبے جا تصرف سے روکنے کیلئے صراحت فرمائی ہے کہ یہ ”فریضتہ من اللہ“ ہے یعنی یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حصہ ہے یہ انسان کا مقررکیا حصہ نہیں ہے کہ اس کو اس میں کمی بیشی کااختیار ہو۔ اسلام کے علاوہ کوئی مذہب نہیں جو عورت کو حق میراث دیتاہو،دنیا کے دوسرے قوانین نے بھی اسلام کے قانون میراث سے استفادہ کیاہے، لیکن بجائے اسکے کہ ہم دوسروں کے لئے روشنی فراہم کرتے،ہم نے خود اپنی زندگی میں شریعت کا چراغ بجھادیاہے۔

اسلام کا قانون نفقہ ایک جامع قانون ہے جو انسان کو پیش آنے والی تمام صورت حال کا احاطہ کرتاہے، اس لئے جیسے اولاد کا نفقہ باپ پر او رباپ نہیں ہوتو دادا پر واجب ہوتا ہے اور بیوی کانفقہ شوہر کے ذمہ ہے، اسی طرح بعض حالات میں بھائیوں، بہنوں اور چچا ؤں وغیرہ پر بھی بے سہارا خواتین اوریتیم بچوں کانفقہ واجب ہے، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت، مطلقہ یا بیوہ ہوجائے تو بھائی سمجھتا ہے کہ اس پر اس کی بہن کے نفقہ کی ذمہ داری نہیں، یا بچے یتیم ہوجائیں تو چچا یہ نہیں سمجھتے کہ اب ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہمارے بھائی کے بچوں کی بھی ہم پر ذمہ داری ہے: بلکہ اگرکبھی کچھ حسن سلوک کردیا تو اس کو ایک احسان خیال کرتے ہیں۔ اس کانتیجہ ہے کہ غیر مسلم معاشرہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں بے سہارا عورتوں او ربچوں کی کفالت وپرورش کاکوئی مستحکم نظام نہیں ہے۔غلط تصور پرمبنی اس تصویر میں میڈیا کے لوگ رنگ بھر کر اسے خوفناک بنادیتے ہیں اوراسلام کو نعوذ باللہ ایک بے رحم او رغیر منصف مزاج مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت عدالتیں ایسے فیصلے کررہی ہیں کہ جو واضح طور پر شریعت سے متصادم ہیں، لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اس کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب خود مسلمان اپنے مقدمات سرکاری عدالتوں میں لے کرجاتے ہیں اپنے علما ء او رقاضی ومفتی سے رُجوع نہیں کرتے تاکہ اسلامی وشرعی مشورہ ملے یا وہ جو بھی فیصلہ کریں اسلامی وشرعی اور فقہی نقطہ نظر سے کریں۔ ہمارا یہ طرز عمل منافقانہ ہے کہ زبان سے تو ہم اللہ او را س کے رسول کی بات مانیں او رعملی طور پر اسے نظر انداز کردیں۔

اگر ہمیں ملک کے موجودہ حالات کامقابلہ کرنا ہے اور اپنے دینی تشخص کو بچانا ہے تو سرکٹا نے کا جذبہ کافی ہیں، پہلے ہمیں اپنے اندر سرجھکانے کاجذبہ پیدا کرناچاہئے، شریعت کے احکام خواہ ہماری چاہت او ر مفادات کے خلاف ہوں، لیکن ہم اس کے سامنے جھک جائیں اوراللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشوں او رچاہتوں پر غالب رکھیں او رپھر دیکھیں کہ اس سپرد گی کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہمیں یاد رہناچاہئے کہ جس قول کے پیچھے عمل کی طاقت نہ ہو، وہ دوسرو ں کو قائل نہیں کرسکتا، جو شخص اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ باہر سے دشمنوں کا مقابلہ کرسکے اور اپنی حفاظت کی راہ ہموار کرسکے۔

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/others-really-blame-disgrace/d/138492

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..