New Age Islam
Sat Jun 13 2026, 02:39 AM

Urdu Section ( 15 Nov 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistan and Prophecies of Maulana Azad پاکستان اور مولانا آزاد کی پیشن گوئیاں

سہیل انجم

13نومبر،2024

مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم ہند کے زبردست مخالف تھے۔یہاں تک کہ مہاتماگاندھی، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل تک سب نے تقسیم کے فارمولے کو تسلیم کرلیا تھا لیکن وہ اس کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئے۔ وہ تقسیم سے قبل بھی مذہب کے نام پر پاکستان نامی ملک کے قیام کی مخالفت کرتے رہے اور پاکستان بن جانے کے بعد بھی ان کی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جب کہ پاکستان بن گیاہے تو دونوں ملکوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ انہو ں نے ہندوستان کی تقسیم کو مسلمانوں کا بہت بڑا خسارہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے مسلمانو ں کی طاقت بٹ جائے گی اور وہ کمزور پڑ جائیں گے۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آج ہندوستان تقسیم ہوا ہے تو کل پاکستان بھی تقسیم ہوگا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان کا یہ خدشہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔مولانا آزاد متحدہ قومیت کے زبردست علمبردار اور ہندومسلم اتحاد کے مبلغ اور پیروتھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آزادی کسی کام کی نہیں جو ان دونوں فرقوں میں اختلاف کی بنیاد پر ملے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’انڈیا ونس فریڈم‘ کے آخری مضمون ’حرف آخر‘ میں جنگ آزادی میں مسلم لیگ کا کوئی رول نہ ہونے کی بات کہی ہے اور کہا ہے کہ مسلم لیگ کا مشکل سے ہی کوئی ایسا رکن رہا ہوگا جس نے ملک کی آزادی کی جنگ لڑی ہو۔ اس میں یا تو ریٹائرڈ حکام تھے یاایسے افراد جو انگریزوں کی سرپرستی کے تحت عوامی زندگی میں لائے گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب نئی حکومت کی تشکیل ہوئی تو اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا جو خدمت یا قربانی کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے تھے۔ مولانا نے کہا تھا کہ میں نے مسلم لیگ کے الگ ملک کے مطالبے کو ہز زاویے سے دیکھا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ فیصلہ نہ صرف ہندوستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ اس کا خمیازہ خود مسلمانو ں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ آنے والے وقت میں ہندوستان کو اس تقسیم کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔نفر ت کی بنیاد پر بننے والا یہ نیا ملک اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک یہ نفرت زندہ رہے گا۔

انہوں نے پاکستان سے متعلق بہت ہی پیشین گوئیاں کی تھیں۔ قیام پاکستان سے قبل ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کی بجائے فوج کی حکومت ہوگی۔ یہ ملک بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گا او راسے ہمسایہ ملک سے جنگ کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان کی دوتہائی زندگی فوجی بوٹوں کے سائے میں گزری ہے۔ جنرل ایوب خاں، جنرل یحییٰ خاں، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگایا اور وہ سب کئی دہائیوں تک براہ راست حکومت کرتے رہے۔اب بھی جب کہ انتخابات کے ذریعے حکومت بن رہی ہے اقتدار کی اصل باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں ہے۔آج پاکستان پر اربوں روپے کا قرض چڑھ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 2023ء میں 13ہزار7/ ارب روپے کا قرض لیا تھا۔ مالی سال 2023ء کے اختتام پر حکومت کا قرض 60ہزار 839/ ارب روپے تھا۔مولانا نے متنبہ کیا تھاکہ پاکستان میں امیر تاجر قومی دولت کا استحصال کریں گے او رعالمی طاقتیں اس پر تسلط جمانے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔مولانا نے مسلمانوں کو ہجرت نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو سمجھا یا تھا کہ ان کے سرحد پار کرنے سے پاکستان مضبوط نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان کے مسلمان کمزور ہوں گے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں پہلے سے مقیم لوگ اپنی علاقائی شناخت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے جب کہ ہندوستان سے آنے والوں کو بن بلایا مہمان سمجھا جائے گا۔ پاکستان میں آپ کو دوسری قوم کے شہری کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اور بالکل یہی ہورہاہے۔ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان جانے والوں کی نئی نسلوں کو بھی مہاجر کہا جاتااور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتاہے۔ سندھی، بلوچی اور پنجابی اپنی لسانی عصبیت کا روز روز مظاہرہ کرتے ہیں۔بلکہ زبان کی بنیاد پر علیحدگی پسندی کے رجحانات روز بہ روز مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے انڈیا ونس فریڈم میں لکھا ہے کہ پاکستان کی تخلیق کا واحد نتیجہ برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کی پوزیشن کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کتنی سچی بات کہی تھی۔ اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوا ہوتا تو آج یہاں مسلمانوں کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں کرپاتا۔ ہندوستان میں اگرچہ مسلمان دوسری بڑی اکثریت ہیں لیکن ہیں تو اقلیت میں۔ تاہم اب رفتہ رفتہ اقلیتوں کو حاصل مراعات مسلمانوں سے چھینی جارہی ہیں۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ قیام پاکستان سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ اور سنگین ہوگئے۔ ہندوستان میں ایک طبقہ مسلسل کہتارہتا ہے کہ جب مذہب کی بنیاد پر پاکستان بن گیا اور مسلمانوں نے اپنا ملک لے لیا تو وہ یہاں کیوں ہیں۔ پاکستان چلے جانا چاہئے۔ لیکن بہر حال ہندوستان میں گوکہ حالات مسلمانوں کے لئے بہت سازگار نہیں رہ گئے اس کے باوجود کی حالت پاکستانی مسلمانوں سے بہتر ہے۔

ہندوؤں او رمسلمانوں کے درمیان عداوت بڑھنے کا ان کا خدشہ بھی درست ثابت ہوا۔ آج ہندوؤں او رمسلمانوں کے مابین عداوت نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ اندر اندر منافرت کا جو جذبہ پرورش پارہا تھا وہ اب بالکل کھل کر سامنے آگیاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستان ایسی دوریاستوں میں منقسم ہوگیاہے جو ایک دوسرے کو نفرت اور خوف کے ساتھ دیکھتی ہیں۔ پاکستان کو یقین ہے کہ ہندوستان اسے چین سے نہیں رہنے دے گا اور ہندوستان کو ڈر ہے کہ پاکستان کو جب بھی موقع ملا وہ ہندوستان کے خلاف اٹھے گا اور اس پر حملہ کردے گا۔ ان کی اس بات کو پاکستان سے  سرگرم ہند مخالف دہشت گردی کی شکل میں دیکھا جاسکتاہے۔دونوں ملکوں میں جنگیں ہوچکی ہیں۔ ہندوستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے ہیں۔مولانا آزاد نے محمد علی جناح اور مسلم لیگ کی فہم وتدبر کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ایسا لگتاہے کہ مسٹر جناح او ران کے مقلدوں نے سمجھا ہی نہیں کہ جغرافیہ ان کے خلاف ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس طریقے سے بکھرے ہوئے تھے کہ ایک مربوط علاقے میں علیحدہ ریاست کی تشکیل ناممکن تھی۔مسلم اکثریتی علاقے شمالی مغرب اور شمالی مشرق میں تھے۔ ان دونوں علاقوں میں طبیعی اعتبار سے کوئی نقطہ اتصال نہیں ہے۔ وہاں کے لوگ سوائے مذہب کے ہر معاملے میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں یہ کہنا لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا فریب ہے کہ مذہبی یگانگت ان علاقوں کو متحدکرسکتی ہے جو جغرافیائی، اقتصادی، لسانی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف ہوں۔ مولانا دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہر ملک، ہر خطے او رہر علاقے کی اپنی تہذیب ہوتی ہے، اپنی ثقافت ہوتی ہے۔ ہر قوم اپنی ثقافت کو عزیز رکھتی ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ مشرقی پاکستان جہاں کی زبان مغربی پاکستان میں ضم ہو جائے۔ صرف مذہب کی بنیاد پر ان کو اکٹھا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ جب مشرقی پاکستان کے ساتھ لسانی و تہذیبی بنیاد پر ناانصافی کی جانے لگی تو وہی ہوا جس کے اندیشہ انہوں نے ظاہر کیا تھا۔

بہر حال یہ بات جملہ معترضہ کے طور پر آگئی ہے ورنہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مولانا آزاد نے تقسیم کی شدید مخالفت کی تھی۔ وہ پاکستان نامی ملک کے قیام کے بھی سخت خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں جو مسلم اکثریتی علاقے ہیں وہاں کا نظام بعض امور کے استثنیٰ کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم کو کبھی قبول نہیں کیا۔ یہ ان کی دور اندیشی اور مستقبل بینی تھی کہ انہوں نے پاکستان کے بارے میں جن جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ سب حرف یہ حرف سچی ثابت ہورہے ہیں۔

13 نومبر،2024،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

---------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/pakistan-prophecies-maulana-azad/d/133714

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..