New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 06:25 AM

Urdu Section ( 25 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pandit Jawaharlal Nehru’s The Study of Religions پنڈت جواہر لعل نہرو کا مطالعہ مذاہب

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

25 جون 2025

پنڈت جواہر لعل نہرو (1889–1964) نہ صرف بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم تھے بلکہ ایک عظیم مدبر، فلسفی، مؤرخ اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تحریریں نہ صرف سیاسی اور تاریخی بصیرت کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ان میں انسانی فکر، تہذیب و تمدن، آزادی اور جمہوریت کی گہری بصیرت  پائی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی کتابوں میں مذہب پر بھی خاصا لکھا ہے۔ اس کا بین ثبوت پنڈت جواہر لال نہرو کی مشہور کتابیں  Discovery of India اور Autobiography ہے اس میں انہوں نے مذاہب  خصوصاً ہندو دھرم کے متعلق نہایت علمی، تاریخی اور فکری انداز میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ہندو دھرم کو صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک تمدن، فکر اور روحانی تجربے کا نام قرار  بھی دیا ہے۔  پنڈت نہرو مذہب میں جامد تقلید اور مذہب کے نام پر توہم پرستی کے بالکل خلاف نظر آتے ہیں ۔

جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی

----------

اسی وجہ سے وہ اپنی معروف کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں رقم طراز ہیں:

The spectacle of what is called religion or at any rate organised religion, in India and elsewhere, has filled me with horror … Almost always it seemed to stand for blind belief and reaction, dogma and bigotry, superstition, exploitation and the preservation of vested interests

"جسے مذہب کہا جاتا ہے، یا کم از کم منظم مذہب، خواہ وہ ہندوستان میں ہو یا دنیا کے کسی اور حصے میں، اس کا منظرنامہ مجھے خوف سے بھر دیتا ہے۔ یہ عموماً اندھی عقیدت، رجعت پسندی، تنگ نظری، مذہبی ضد، توہم پرستی، استحصال، اور مفادات کے تحفظ کی علامت دکھائی دیتا ہے۔"

پنڈت جواہر لعل نہرو مذہب کو سماجی اور معاشرتی ترقی کا سبب تو قرار دیتے ہیں لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ مذہب نے انسان کو محدود کردیا اور اسے یک طرفہ بنا کر چھوڑ دیا اس حوالے سے وہ اپنی متذکرہ کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں Religion, Philosophy and Science کا عنوان قائم کرکے بڑی دلچسپ اور تفصیلی گفتگو کرتے ہیں ۔ مذہب کے متعلق ان کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ  کیجیے :

Religions have helped greatly in the development of humanity. They have laid down values and standards and have pointed out principles for the guidance of human life. But with all the good they have done, they have also tried to imprison truth in set forms and dogmas, and encouraged ceremonials and practices which soon lose all their original meaning and become mere routine. While impressing upon man the awe and mystery of the unknown that surrounds him on all sides, they have discouraged him from trying to understand not only the unknown but what might come in the way of social effort. Instead of encouraging curiosity and thought, they have preached a philosophy of submission to nature, to established churches, to the prevailing Social order, and to everything that is. The belief in a supernatural agency which ordains everything has led to a certain irresponsibility on the social plane, and emotion and sentimentality have taken the place of reasoned thought and inquiry. Religion, though it has undoubtedly brought comfort to innumerable human beings and stabilized society by its values, has checked the tendency to change and progress inherent in human society.

"مذاہب نے انسانی ترقی میں بے حد مدد کی ہے۔ انہوں نے زندگی گزارنے کے لیے اقدار اور اصول وضع کیے اور انسانی رہنمائی کے لیے اخلاقی معیار اور رہنما اُصول فراہم کیے۔ لیکن جہاں انہوں نے یہ خیر کیا، وہیں انہوں نے سچائی کو جامد شکلوں اور عقائد میں قید کرنے کی کوشش بھی کی، اور ایسی مذہبی رسومات و عبادات کو فروغ دیا جو جلد ہی اپنے اصل مفہوم سے محروم ہو کر محض رسم و رواج بن کر رہ گئیں۔

مذاہب نے انسان کے دل میں اس اسرار و خوف کا احساس تو پیدا کیا جو اسے ہر سمت سے گھیرے ہوئے ہے، لیکن ساتھ ہی اس کو صرف انہی چیزوں تک محدود کر دیا اور نہ صرف غیب بلکہ ان چیزوں کو بھی سمجھنے سے روکا جو سماجی جدوجہد میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

تجسس اور غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے، مذاہب نے انسان کو قدرت، مذہبی اداروں، رائج سماجی نظام، اور ہر اس چیز کے سامنے سر جھکانے کا درس دیا جو موجود ہے۔ ایک ماورائی طاقت پر یقین — جو ہر چیز کو طے کرتی ہے — نے سماجی سطح پر ایک قسم کی غیر ذمے داری کو جنم دیا، اور عقل و فہم کی جگہ جذباتیت اور احساسات نے لے لی۔

یقیناً مذہب نے کروڑوں انسانوں کو سکون فراہم کیا اور سماج کو اقدار کے ذریعے استحکام بخشا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے انسانی سماج میں موجود تبدیلی اور ترقی کی فطری صلاحیت کو روکنے کی بھی کوشش کی"

اس اقتباس سے پنڈت نہرو کا مذہبی شعور اور مذہب کے متعلق ان کا نظریہ بخوبی واضح ہوتا ہے ۔ یعنی پنڈت جواہر لعل نہرو مذہبی رسومات اور عقائد و نظریات یا عبادات پر نقد کرتے ہیں اور وہ مذہبی امور کی انجام دہی کو سماجی ترقی میں کہیں نہ کہیں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ جو ایک طرح سے غیر جمہوری اور غیر منطقی نظریہ ہے ۔ البتہ وہ مذاہب کو انسانی تعمیر و ترقی کا ذریعہ ، اخلاقی و روحانی اقدار کے فروغ کا سبب تو سمجھتے ہیں مگر وہ اس کو فلاحی امور میں سد باب بھی گردانتے ہیں ۔

پنڈت جواہر لعل نہرو نے مذاہب و ادیان کی بابت عمومی تجزیہ اور اپنی رائے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ  ڈسکوری آف انڈیا میں ہندو دھرم کے متعلق بھی بڑی بیش بہا معلومات بہم پہنچائی ہیں ۔ ہندو دھرم کیا ہے اس حوالے سے وہ تحریر کرتے ہیں:

Hinduism, as a faith, is vague, amorphous, many-sided, all things to all men. It is hardly possible to define it, or indeed to say definitely whether it is a religion or not, in the usual sense of the word. In its present form, and even in the past, it embraces many beliefs and practices, from the highest to the lowest, often opposed to or contradicting each other. Its essential spirit seems to be to live and let live. Mahatma Gandhi has attempted to define it: ‘If I were asked to define the Hindu creed, I should simply say: Search after truth through nonviolent means. A man may not believe in God and still call himself a Hindu. Hinduism is a relentless pursuit after truth. . .Hinduism is the religion of truth. Truth is God. Denial of God we have known. Denial of truth we have not known.’ Truth and non-violence, so says Gandhi: but many eminent and undoubted Hindus say that nonviolence, as Gandhi understands it, is no essential part of the Hindu creed. We thus have truth left by itself as the distinguishing mark of Hinduism. That, of course, is no definition at all.

" ہندومت بطور ایک عقیدہ مبہم، غیر متعین، کثیر الجہات اور ہر شخص کے لیے الگ الگ معنی رکھتا ہے۔ اسے واضح طور پر متعین کرنا مشکل ہے، بلکہ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ آیا یہ اپنی موجودہ شکل میں، روایتی معنوں میں کوئی مذہب ہے یا نہیں۔  اور حتیٰ کہ ماضی میں بھی، یہ مختلف اور بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد عقائد و اعمال کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، جو اعلیٰ ترین روحانیت سے لے کر ادنیٰ ترین رسومات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کا بنیادی جذبہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ 'خود جیو اور دوسروں کو جینے دو۔'

مہاتما گاندھی نے ہندومت کی تعریف کرنے کی کوشش کی ہے: 'اگر مجھ سے ہندو عقیدے کی تعریف کرنے کو کہا جائے، تو میں بس اتنا کہوں گا: عدم تشدد کے ذریعے سچائی کی تلاش۔ ایک شخص خدا پر ایمان نہ بھی رکھتا ہو، تب بھی خود کو ہندو کہہ سکتا ہے۔ ہندومت سچائی کے لیے ایک بےلوث جستجو ہے۔۔۔ ہندومت سچائی کا مذہب ہے۔ سچائی ہی خدا ہے۔ ہم نے خدا کے انکار کو جانا ہے، مگر سچائی کے انکار کو نہیں۔'

گاندھی جی کے مطابق ہندومت کی بنیاد سچائی اور عدم تشدد پر ہے، لیکن بہت سے معروف اور بلا شبہ ہندو حضرات کہتے ہیں کہ جس عدم تشدد کا تصور گاندھی پیش کرتے ہیں، وہ ہندو عقیدے کا لازمی جزو نہیں ہے۔ چنانچہ اس طرح ہمارے پاس صرف 'سچائی' ہی ہندومت کی امتیازی پہچان کے طور پر بچتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی مکمل یا واضح تعریف نہیں ہے"

پنڈت جواہر لعل نہرو اپنے اس اقتباس میں ہندو دھرم کے متعلق دو باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں ۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ہندو عقیدہ کے اعتبار سے بالکل واضح نہیں ہے یعنی ہندو دھرم پر ایمان لانے کے لیے کوئی واضح خطوط متعین نہیں ہے ۔ جن کو اختیار کرکے ہندو دھرم میں داخل ہوا جاسکتا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہندو دھرم کے ماننے والے مختلف عقائد رکھنے کے باجود ہندو دھرم میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ البتہ دوسری اہم بات جو کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے۔ گاندھی جی کے حوالے سے نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ " عدم تشدد کے ذریعہ سچائی کی تلاش" کا نام ہندو دھرم ہے ۔

پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں ہندو دھرم کی بابت ایک بحث یہ کی ہے کہ لفظ ہندو کا استعمال ہندو دھرم کے لیے آٹھویں  صدی عیسوی میں ملتا ہے۔ قدیم ہندو ادبیات میں لفظ " ہندو" نہیں ملتا ہے ۔ اس حوالے سے ان  کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

The word ‘Hindu’ does not occur at all in our ancient literature. The first reference to it in an Indian book is, I am told, in a Tantrik work of the eighth century a.c., where ‘Hindu’ means a people and not the followers of a particular religion. But it is clear that the word is a very old one, as it occurs in the Avesta and in old Persian. It was used then and for a thousand years or more later by the peoples of western and central Asia for India, or rather for the people living on the other side of the Indus river. The word is clearly derived from Sindhu, the old, as well as the present, Indian name for the Indus. From this Sindhu came the words Hindu and Hindustan, as well as Indus and India

"لفظ 'ہندو' ہماری قدیم ادبیات میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا پہلا حوالہ ایک آٹھویں صدی عیسوی کی تانترک کتاب میں ملتا ہے، جہاں 'ہندو' کا مطلب کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں، بلکہ ایک قوم یا عوام کا ہے۔

البتہ یہ واضح ہے کہ یہ لفظ خود بہت قدیم ہے، کیونکہ یہ اوستا (زرتشتی مذہبی کتاب) اور قدیم فارسی میں پایا جاتا ہے۔ اس زمانے میں اور اس کے بعد ایک ہزار سال تک مغربی اور وسطی ایشیائی اقوام نے اس لفظ کو ہندوستان یا دریائے سندھ کے پار بسنے والے لوگوں کے لیے استعمال کیا۔ یہ لفظ 'سندھو' سے نکلا ہے، جو دریائے سندھ کا قدیم اور موجودہ بھارتی نام ہے۔ اسی 'سندھو' سے 'ہندو' اور 'ہندوستان' کے الفاظ نکلے، اور اسی سے 'انڈس' اور 'انڈیا' کے الفاظ بھی وجود میں آئے۔"

یہ سچ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے ہندو متون اور ہندو مذہب کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا ہے ۔ پنڈت نہرو کی تحقیق یہ ہے کہ ہندو دھرم کا قدیم نا "آرین دھرم" ہے اس بابت وہ اپنی متذکرہ کتاب میں لکھتے ہیں:

The old inclusive term for religion in India was Arya dharma. Dharma really means something more than religion. It is from a root word which means to hold together; it is the inmost constitution of a thing, the law of its inner being. It is an ethical concept which includes the moral code, righteousness, and the whole range of man’s duties and responsibilities. Arya dharma would include all the faiths (Vedic and non-Vedic) that originated in India; it was used by Buddhists and Jains as well as by those who accepted the Vedas. Buddha always called his way to salvation the ‘Aryan Path

"ہندوستان میں مذہب کے لیے جو قدیم اور جامع اصطلاح استعمال ہوتی تھی وہ ‘آریہ دھرم’ تھی۔

دھرم (Dharma) کا مطلب صرف مذہب نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مفہوم مذہب سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔

یہ ایک ایسے لفظی مادّہ (root word) سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ‘چیزوں کو باہم جوڑ کر رکھنا’۔

یہ کسی چیز کی باطنی ساخت، اس کے اندرونی وجود کا قانون ہوتا ہے۔یہ ایک اخلاقی تصور ہے جو نیکی، اخلاقی ضابطوں، راستبازی اور انسان کے تمام فرائض و ذمہ داریوں کے دائرے کو شامل کرتا ہے۔٫آریہ دھرم’ ان تمام عقائد و مذاہب کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا جو ہندوستان میں پیدا ہوئے، خواہ وہ ویدی ہوں یا غیر ویدی۔

اس اصطلاح کو بدھ مت اور جین مت کے پیروکاروں نے بھی استعمال کیا، اور ان لوگوں نے بھی جو ویدوں کو مانتے تھے۔گوتم بدھ نے ہمیشہ اپنی نجات کی راہ کو ‘آریہ مارگ’ یعنی ‘آریائی راستہ’ کہا۔"

اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ جسے اب ہم ہندو دھرم کہتے ہیں اس کا قدیم نام' آریہ دھرم ' تھا ۔ اسی طرح  اس کا ایک نام ' ویدک دھرم ' بھی ہے اس حوالے سے بھی ثبوت ملتے ہیں خود پنڈت جواہر لعل نہرو لکھتے ہیں:

The expression Vedic dharma was also used in ancient times to signify more particularly and exclusively all those philosophies, moral teachings, ritual and practices, which were supposed to

"قدیم زمانے میں 'ویدک دھرم' (Vedic Dharma) کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی تھی، خاص طور پر اُن تمام فلسفوں، اخلاقی تعلیمات، رسومات اور عملی طریقوں کے لیے، جنہیں ویدوں سے ماخوذ یا ان سے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔"

ہندو دھرم کو سناتن دھرم کے نام سے بھی  عہد قدیم میں جانا جاتا تھا اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں:

Sanatoria dharma, meaning the ancient religion, could be applied to any of the ancient Indian faiths (including Buddhism and Jainism), but the expression has been more or less monopolized to-day by some orthodox sections among the Hindus who claim to follow the ancient faith.

"سناتن دھرم، جس کا مطلب ہے قدیم مذہب، اسے قدیم ہندوستانی عقائد میں سے کسی پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے (جن میں بدھ مت اور جین مت بھی شامل ہیں)، لیکن آج کے دور میں یہ اصطلاح زیادہ تر ہندوؤں کے کچھ قدامت پسند طبقوں نے تقریباً اپنی اجارہ داری میں لے لی ہے، جو خود کو قدیم مذہب کا پیروکار قرار دیتے ہیں"

پنڈت جواہر لعل نہرو کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے ہندو دھرم اپنی متنوع صفات اور کثیر الجہات ہونے کے ناطے جانا جاتا ہے ۔ اس مذہب کا نہ کوئی مرکزی عقیدہ ہے اور نہ کوئی ایسی مرکزی شخصیت جس پر سب ہندوؤں کو ایمان لانا لازمی ہو ۔ رہا سوال لفظ ' ہندو ' کا تو اس بابت بھی پنڈت جواہر لعل نہرو کا واضح موقف ہے کہ قدیم ہندو مذہبی مصادر میں ہندو مذہب کے لیے اس کا استعما ل نہیں ملتا ہے ۔ آٹھویں صدی عیسوی میں پہلی بار یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح اس مذہب کا قدیم نام ، آریہ دھرم ، ویدک دھرم یا سناتن دھرم ہے ۔ ہندو دھرم نہیں ہے ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں ہندو دھرم میں ذات پات کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :

The Smritis (Hindu religious books) give lists of dharmas, functions and duties of various castes but none of them contains an inventory of rights. Self-sufficiency was aimed at in the group, especially in the village and, in a* different sense, in the caste. It was a closed system, allowing a certain adaptability, change, and freedom within its outer framework, but inevitably growing more and more exclusive and rigid. Progressively it lost its power to expand and tap new sources of talent. Powerful vested interests prevented any radical change and kept education from spreading to other classes. The old superstitions, known to be such by many among the upper classes, were preserved and new ones were added to them. Not only the national economy but thought itself became stationary, traditional, rigid, unexpansive and unprogressive.

The conception and practice of caste embodied the aristo

"ہندو مذہبی کتب (سمرتیوں) میں مختلف ذاتوں کے دھرموں، یعنی ان کے فرائض و ذمہ داریوں کی فہرستیں تو ملتی ہیں، لیکن کہیں بھی حقوق کی کوئی فہرست موجود نہیں۔ سماجی ڈھانچے میں خود کفالت کو اہمیت دی گئی تھی، خاص طور پر دیہات کی سطح پر، اور ایک مختلف مفہوم میں ذات پات کے نظام میں بھی۔ یہ ایک بند نظام تھا، جو بظاہر کچھ حد تک تبدیلی، لچک اور آزادی کی اجازت دیتا تھا، لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ سخت اور محدود تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام مزید تنگ نظر، خود غرض اور جامد ہوتا چلا گیا۔ اس میں وسعت پیدا کرنے، نئے ذہین افراد کو مواقع دینے کی صلاحیت کم ہوتی گئی۔ طاقتور مفاد پرست طبقے کسی بھی بنیادی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے اور تعلیم کو دیگر طبقات تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ پرانی خرافات، جنہیں بالائی طبقے کے کئی لوگ خود بھی خرافات سمجھتے تھے، محفوظ رکھی گئیں اور ان میں مزید نئی توہمات کا اضافہ ہوتا رہا۔ نتیجتاً نہ صرف قومی معیشت جمود کا شکار ہو گئی بلکہ خود انسانی فکر بھی جامد، روایتی، سخت گیر، غیر تخلیقی اور غیر ترقی پسند بن گئی"

نہرو کے نزدیک مذہب کو عقل، تجربہ، سائنسی تحقیق اور اخلاقیات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ وہ مذہب کو جمود یا ماضی پرستی کے طور پر نہیں، بلکہ انسانیت کے فلاحی نظریہ کے طور پر قبول کرنے کے قائل تھے۔

پنڈت نہرو کے مذہبی نظریات اعتدال پسند، عقل پرست اور سائنسی ذہن کے انسان کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے مذہب کے ان پہلوؤں کو مسترد کیا جو تعصب، نفرت، استحصال یا جمود کو فروغ دیتے تھے، اور ان اقدار کی حمایت کی جو انسان دوستی، رواداری، سچائی اور آزادی سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کی فکر آج کے بھارت اور دنیا کے لیے بھی ایک روشن رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/pandit-jawaharlal-nehru-study-religions/d/135976

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..