New Age Islam
Fri Jul 17 2026, 09:44 PM

Urdu Section ( 1 Jul 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Professor Sheikh Khurshid's Views on Hinduism-Part-1 ہندو دھرم سے متعلق پروفیسر شیخ خورشید کے افکار

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط اول)

یکم جولائی 2026

پروفیسر شیخ خورشید(  سابق چیرمین شعبہ تاریخ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ)کی کتاب تاریخ ہند میں ہندو ازم سے متعلق کافی چیزیں ملتی ہیں ۔ انہوں نے یہ کتاب ۔ ہائی اسکول کے طلبہ کے لئے لکھی ہے۔ گویا یہ کتاب تاریخ ہند مستند دستاویز ہندوستانی تہذیب و تمدن پر ایک جامع تحقیق ہے۔ اس کے اندر انہوں نے ہندوستان کی سیاسی صورتحال حال کو تفصیل سے لکھا ہے۔ البتہ کتاب کے ابتداء میں ہندوستانی مذاہب ( ہندو مت، جین مت، بدھ مت ) پر نہایت وقیع معلومات پیش کی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستانی مذاہب کے سلسلے میں درج ذیل موضوعات کے تحت گفتگو کی ہے۔

مباحث کتاب

قدیم تاریخ ہند کے ماخذ ، کتبے اور سکے،پرانی عمارتیں، تاریخ کے علاوہ دوسری کتابیں، سیاحوں کے سفر نامے، ہندوستان اور اس کی قدرتی تقسیم، سندھ وگنگا کا میدان، دکن، ساحل، قدیم ہند کے باشندے، نیا پتھر کا زمانہ لوہے اور تانبے کا زمانہ، دراوڑ اور ان کی معاشرت، منگول، آ ریہ اور دوسری قومیں جو بعد میں آ ئیں، زبانیں، آ ریوں کا وطن ، شکل وشباہت، وید، ویدوں کے زمانے میں سیاسی حالت، اقتصادی حالت اور معاشرت ، آ ریوں کا مذہب، رامائن اور مہابھارت کا زمانہ، بھگوت گیتا، آ ریہ سلطنتیں، سیاسی حالت اور رسم ورواج، ذاتوں کی تقسیم اور برہمنوں کا عروج، منو سمرتی، ذات کی خوبیاں اور عیوب، برہمنوں کا عروج اور ان سے بیزاری، بدھ اور جین مذہب، مہاویر کی تعلیم اور ان کے پیرو، گوتم بدھ کی پیدائش اور ابتدائی حالات، بدھ مذہب کی اشاعت، بدھ کی تعلیم، بدھ مذہب کا عروج اور اس کے اسباب، جین اور بدھ مذہب کا مطالعہ،

مذکورہ مباحث سے یہ اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ پروفیسر شیخ خورشید صاحب نے ہندوستانی ادیان اور تہذیب کا جائزہ نہایت تعمق و گیرائی سے کیا ہے۔ یہ کتاب ہندوستانی مذاہب پر تو نہیں ہے البتہ شروع میں انہوں نے ہندوستانی ادیان کا ذکر کیا ہے۔ مطالعہ ادیان کے قارئین اور محققین نے کے لیے اس کے اندر انتھائی اہم مواد موجود ہے۔

 قدیم تاریخ ہند کے ماخذ

ہندوستان کی قدیم تاریخ کو جاننے کے لئے کوئی ایسا تحریری ویقینی  سرمایہ موجود نہیں ہے جسے اعتماد سے کہا جاسکے کہ ہندوستان کی تاریخ یہ ہے۔ پروفیسر خورشید صاحب نے بھی اپنی کتاب میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔ " عہد قدیم کی تاریخ لکھنے اور پڑھنے میں سب سے بڑی دقت یہ ہیکہ اس زمانے کی کوئی تاریخ موجود نہیں اور ہم مجبور ہیں کہ دوسرے ذرائع سے اس زمانے کے واقعات اور حالات معلوم کریں۔ اگرچہ ہرزمانے کے حالات کے لیے تاریخی کتابوں کے علاوہ پرانے سکے ، عمارتیں اور کتبے وغیرہ نہایت ضروری اور مفید ثابت ہوتے ہیں ہمارے ملک کے قدیم حالات معلوم کرنے کا ذریعہ صرف یہی چیزیں ہیں۔ " ( تاریخ ہند ، صفحہ 1)  گویا تاریخ کے نقوش اس قدر دھندلے ہیں کہ قدیم ہندوستان کی تاریخ کو جاننے کے لیے کتبات، سکے اور عمارتوں پر تکیہ کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے پروفیسر موصوف  ہندوستان کی قدیم تاریخ کے حوالے سے کتبات وغیرہ کی اہمیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:

" تاریخ کے ماخذوں میں سب سے پہلی جگہ کتبات کو دی گئی ہےاور در حقیقت معلومات کا ان سے بہتر اور زیادہ معتبر ذریعہ اور کوئی نہیں۔ بد قسمتی سے تیسری صدی قبل مسیح سے پہلے کتبات کم دستیاب ہوئے ہہں، لیکن اس کے بعد کے زمانے کے کافی تعداد میں ملتے ہیں۔ یہ کتبے پتھر یا کسی قسم کی دھات پر کندہ ہیں۔ بعض پر سرکاری تحریریں ہیں اور بعض کسی عمارت کی تعمیر یا بت خانے کے نصب کیے جانے کے متعلق ہیں۔ اس سلسلے میں اشوک کے ان فرامین اور ہندو نصائح کا ذکر ضروری ہے جو چٹانوں اور پتھروں کے بنیادوں پر کھدوائے گئے ہیں اور جن سے اس کی سلطنت کی وسعت ،حکومت کے اصول، مذہبی عقائد اور کارناموں کا پتہ چلتا ہے۔ دوسرے ماخذ پرانی عمارتیں ہیں ان سے اس زمانے کا طرز معاشرت معلوم ہوتا ہے۔ موہن جوداڑو ،ہڑپا،نالندا اور تکشلا کے کھنڈروں سے جو حال ہی میں کھود کر بر آ مد کئے گئے ہیں ان سے عہد قدیم کی تاریخ پتہ کرنے میں بے انتھا مدد ملتی ہے۔ پروفیسر موصوف نے یہ بھی لکھا ہے کہ تاریخی واقعات ہم اکثر ان کتابوں سے جمع کرتے ہیں جو تاریخ کے علاوہ دوسرے فنون پر لکھی گئی ہیں مثلاً مذہبی کتابوں میں اکثر تاریخی واقعات مل جاتے ہیں ۔ وید، پران ، رزمیہ مثنوی مہابھارت، رامائن ،بعض اوقات معمولی نظمیں ، ڈرامے ، قواعد اور قانون کی کتابوں  جیسے ہرش برت شکنتلا اور منو کا کوڈ وغیرہ شامل ہیں، ان سے  ہندوستان کی قدیم تاریخ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ چوتھا ماخذ ہندوستان کی قدیم تاریخ سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے سیاحوں کے سفر نامے ہیں ۔ سب سے پہلا شخص جس کی کتاب میں ہندوستان کے حالات ملتے ہیں " ہر دو وتس " یونانی ہے ۔ البتہ اس کے اقوال زیادہ معتبر نہیں  اس لیے کہ سکندر اعظم کے حملہ سے پہلے بیرونی دنیا کو ہند کی حالت سے بہت کم واقفیت تھی۔ اس حملہ کے بعد یورپ والوں کو یہاں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملا اور اس زمانے کے یونانی اور رومی مصنفوں کی کتابوں میں ہندوستان کے احوال ملتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں "میگا ستھینس"  کی ہستی خاصی اہمیت کی حامل ہے، چونکہ وہ یہاں بحیثیت سفیر کے آ یا تھا اور اس کو صحیح حالات معلوم کرنے  کا بہت اچھا موقع ملا تھا ، افسوس اس کتاب کا اکثر حصہ اب ناپید ہے۔ جتنا بھی موجود ہے وہ ہندوستان کی قدیم تاریخ پر ایک دستاویز ہے۔ اس کے بعد چینی مورخوں نے ہندوستان کے سفر کیے یہی وجہ ہیکہ دوسری صدی قبل مسیح سے چینی تاریخوں میں ہند کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ان تاریخی دستاویزات کے علاوہ وہ سفر نامے بھی کافی اہم ہیں جو چینی سیاحوں نے یہاں آ کر مرتب کیے  ۔ ان سفرناموں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ  پانچویں صدی میں " فاہیان" ہندوستان آ یا۔ اس کا مقصد اولین بدھ مذہب کی تعلیم حاصل کرنا تھا لیکن اس نے اپنے سفر کے حالات قلمبند کرکے آ ئندہ نسلوں پر بڑا احسان کیا۔ اس طرح دوسرا چینی سیاح " ہیون سانگ " ہے اس نے ساتویں صدی قبل مسیح میں بدھ مذہب کے مقدس مقامات کی زیارت کی غرض سے یہاں آ یا اس نے ہندوستان کے بہت سے مقامات کا سفر کیا اور بہت سے چشم دید واقعات اپنے سفر نامے میں تحریر کیے۔ ان کے علاوہ ہندوستان کی قدیم تاریخ پر اہم دستاویز ابو ریحان البیرونی کی کتاب ہے جو اس نے یہاں مدت دراز تک رہ کر مرتب کی ہے"

( ایضاً،  صفحہ 1- 5)  یہ کہا جا سکتا ہے کہ جن چیزوں سے ہندوستان کی قدیم تاریخ و تہذیب، تمدن و معاشرت اور نظام حکومت کا پتہ چلتا ہے ان میں پروفیسر موصوف کی تحقیق کے مطابق چارمآخذ بڑی اہمیت کے حامل  ہیں ، یعنی کتباب وسکے، پرانی عمارتیں ، ہندو مت کے مصادر اور سیاحوں کے سفرنامے ۔ 

ہند کے قدیم باشندے اور ان کا تمدن

پروفیسر موصوف نے اپنی کتاب میں ایک بحث یہ کی ہے کہ ہندوستان میں جو قومیں طویل مدت سے آ باد تھیں ان کا طرز معاشرت کیا تھا؟ وہ کن چیزوں پر گزر بسر کرتے تھے۔ کھانے میں کن کن اشیاء کا استعمال ہوتا تھا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ " ابتداء میں لوگ غاروں میں رہتے تھے ۔ مکانات بنانا نہیں جانتے تھے ۔ زراعت سے واقفِ نہیں تھے ،جانوروں کے گوشت اور پھلوں پر گزارا کرتے تھے ۔ ان کو دھاتیں معلوم نہیں تھیں اور اپنے اوزار مثلآ چھریاں ، کلہاڑیاں اور بھالے سب پتھر کے بناتے تھے، جسم کو درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانکتے تھے۔ مردوں کو اسی طرح سے چھوڑ دیتے تھے، نہ جلاتے تھے اور نہ دفن کرتے تھے ۔ اس زمانے میں خوراک حاصل کرنے کا عام طریقہ شکار تھا۔ تاریخ میں اس زمانہ کو پتھر کا زمانہ کہتے ہیں۔ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس زمانے میں جو لوگ آ باد تھے وہ کون سی نسل سے تھے۔ بناء بریں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ "انڈمن "کے باشندوں کی طرح حبشی تھے ، ان کا رنگ سیاہ، سر چھوٹا، بال بڑے ، قد چھوٹا اور ناک چپٹی ہوتی تھی ۔ جوں جوں ترقی ہوتی گئی ان کے اندر معاشرتی شعور بھی آ نے لگا۔ جدید ایجادات سے واقفیت پیدا ہوئی چنانچہ وہ زراعت سے آ شنا ہوئے اور اناج وپھل پیدا کرنے لگے۔ اسی طرح دیگر ضروریات کے سامان سے بھی واقف ہوئے، جن ایجادات میں انہوں نے ترقی کی وہ یہ تھیں برتن بنانا ، لباس کے لیے درختوں کی چھال، چمڑا اور روئی کا استعمال ، سونا بھی انہوں نے دریافت کرلیا تھا اور اس سے زیور تیار کرتے تھے۔ مردوں کو دفن کرنے لگے تھے۔ یہ زمانہ نیا پتھر کا زمانہ کہلاتا ہے اس زمانے میں شمالی اور جنوبی ہند میں بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی قائم ہوگئیں تھیں۔ جنوبی ہند میں لوہے کی اشیاء استعمال کی جانے لگیں۔لیکن شمالی ہند میں اس کے بعد تانبے کا زمانہ آ تا ہے ۔ تانبے کے اوزار ممالک متوسط ، متھرا، کانپور ، جنوبی پنجاب اور سندھ میں دستیاب ہوئے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب میں ہڑپا اور سندھ میں موہن جوداڑو کے مقامات پر کھدائی ہوئی ہے اور قدیم تہذیب کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ پانچ ہزار سال قبل یہ ایک خوبصورت شہر تھا ، عمارتیں پکی ہوئی اینٹ کی ہیں، پتھر استعمال نہیں ہوتا تھا،سڑکیں باقاعدہ اور ترتیب کے ساتھ بنائی گئی تھیں، مکانوں میں کنوئیں اور غسل خانوں اور تہ خانوں کے آ ثار بھی ملتے ہیں ۔ یہ لوگ جو اور گیہوں کی کاشت کرتے تھے۔ اوزار اور برتن عام طور سے تانبے کے بنتے تھے اور نادار لوگ اس کو زیورات کے لیے بھی استعمال کرتے تھے، اون اور سوت سے کپڑا بنتے تھے،لڑائی میں بھالے، کلہاڑی،خنجر اور تیروکمان استعمال کرتے تھے ، نیز ایسی مہریں دستیاب ہوئی ہیں جن پر نقوش اور تصاویر کندہ ہیں، ان کو پڑھنا اور سمجھنا ہمارے لیے تقریباً نا ممکن ہے لیکن اس میں ذرا شک نہیں کہ اس وقت فن نقاشی میں کافی ترقی ہوچکی تھی۔ دیوتاؤں اور دیویوں پر ایمان رکھتے تھے "

 مذکورہ حقائق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند کے قدیم باشندوں کو تمدن و معاشرت سے ہلکی پھلکی شد بد تھی جو آ ثار وشواہد دستیاب ہوئے ہیں ان سے بہت حد تک یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے بہت سے شعبوں اور ضروری اشیاء سے واقفیت حاصل کرلی تھی۔ 

—--

مضمون نگار: اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

ایمیل: ubfzdqasmi@gmail.com

--------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/professor-sheikh-khurshid-views-hinduism-part-1/d/140631

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..