افروز خان، نیو ایج اسلام
23 جون 2025
اُروی الصلیحی، جبلہ، یمن میں 1048 میں پیدا ہوئیں، 1067 میں ملکہ بنیں اور اپنے شوہر کے فالج زدہ ہو جانے کے بعد، خود مختاری کے ساتھ حکومت کی ۔ انہوں نے دارالحکومت کو ذو جبلہ منتقل کیا، اپنے نام کا خطبہ جاری کیا، اور 1138 تک حکومت کی، مساجد کی توسیع کی، سڑکوں کو بہتر بنایا، اور زراعت کی حمایت کی، اور ان کی ان خدمات پر ان کی ذہانت کی تعریف کی گئی ۔
اہم نکات:
1. 1048 میں جبلہ، یمن میں پیدا ہوئیں، اُروی الصلیحی کی تعلیم و تربیت ان کے چچا اور چچی کے زیر سرپرستی ہوئی، اس سلسلے میں انہوں نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کیا ۔
2. 1067 میں ملکہ بنیں ۔ شوہر کے فالج زدہ ہو جانے کے بعد مکمل کنٹرول سنبھالا، خودمختار کی حیثیت سے حکمرانی کی ۔
3. بہتر حکمرانی کے لیے دارالحکومت ذو جبلہ منتقل کیا اور اپنے نام کا خطبہ جاری کیا ۔
4. 1075 میں بنو نجاح کو شکست دی، اپنے سسر کی موت کا بدلہ لیا، اور اپنی حکومت کو مضبوط کیا ۔
5. 1138 تک حکومت کی، مساجد کی توسیع کی، انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا، اور زراعت کو فروغ دیا، اور ان کی ان خدمات پر ان کی ذہانت کی تعریف کی گئی ۔
------

اسلامی تاریخ ایسی بے شمار خواتین سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے اپنی قابلیت کے بل بوتے پر، اپنا نام تاریخ کے اندر سنہرے حروف میں درج کرایا ۔ ان میں یمن کی ایک حکمران کا بھی ذکر ہے، جن کا نام 50 سال تک حکومت کرنے پر تاریخ میں درج ہے ۔
أَرْوَى بِنْت أَحْمَد ابْن مُحَمَّد ابْن جَعْفَر ابْن مُوْسَى ٱلصُّلَيْحِي، 1048 میں جبلہ (یمن) میں پیدا ہوئیں ۔
ان کے والد کا نام احمد بن القاسم الصلیحی اور والدہ کا نام الرداء الصلیحی تھا ۔ ان کے والد احمد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ چھوٹی تھیں ۔
اروی الصلیحی کی پرورش شاہی محل میں، ان کے چچا علی الصلیحی اور ان کی اہلیہ اسماء کی نگرانی میں ہوئی ۔
عروہ الصلیحی کے چچا اور چچی نے ان کی ذہانت کو پہچان لیا، اور ان کے لیے بہترین تعلیم کا انتظام کیا، تاکہ ان کی ذہانت پوری طرح ترقی کر سکے ۔
1065 میں ان کی شادی ولی عہد المکرم احمد سے ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ جہیز کے طور پر، علی نے عروہ کو عدن شہر کی کل سالانہ آمدنی دی، جو کہ 100,000 دینار تھی، جسے عدن کے معنوی امیروں نے ادا کیا ۔
1067 میں عروہ کے سسر علی الصلیحی کو زبید کے نجاح حکمران نے قتل کر دیا، سعید، اسماء اور دیگر خواتین کو بھی بندی بنا لیا گیا ۔ المکرم احمد نے زبید کی جنگ میں ان کو نجاحوں سے آزاد کرایا، اور بادشاہ کا لقب حاصل کیا اور عروہ الصلیحی ملکہ بن گئیں ۔ اس وقت، یمن بھر میں صلیحی خاندان کے خلاف مخالفت بڑھ رہی تھی، لیکن المکرم احمد نے اپنے اقتدار کو دوبارہ مضبوط کرنے کے لیے، مہمات شروع کیں اور بالآخر کامیاب ہو گئے ۔
اسماء کا انتقال 1074 میں ہوا اور احمد المکرم جلد ہی فالج کی وجہ سے صاحب فراش ہو گئے ۔ المکرم احمد کے اس فالج کی وجہ، ان کے دورِ حکومت کے اوائل میں زبید کے مقام پر، نجاحوں کے خلاف لڑائی میں، لگنے والے زخم ہو سکتے ہیں ۔
المکرم احمد کے فالج زدہ ہو جانے کے بعد، حکومت کا مکمل کنٹرول اروی الصلیحی کے ہاتھ میں آ گیا ۔ احمد یمن کا برائے نام حکمران رہا، اور حقیقی بادشاہت اروی الصلیحی کے ہاتھوں میں آ گئی، کیونکہ احمد نے تمام اختیارات ان کے سپرد کر دیے تھے ۔
یہاں سے اروی الصلیحی کے حقیقی سیاسی عروج کی ابتدا ہوتی ہے ۔
حسین ہمدانی (1931) کے مطابق، احمد نے اروی کو ذمہ داری سونپی کیونکہ وہ "اپنی بیوی کے مشورے کا احترام کرتے تھے اور اس کی ہوشیاری اور ذہانت و فطانت پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے" ۔
تخت سلطنت حاصل کرنے کے بعد، اروی الصلیحی نے دو انتہائی اہم فیصلے لیے ۔ سب سے پہلا فیصلہ دارالحکومت کو صنعاء سے جنوب میں ذو جبلہ منتقل کرنا تھا ۔ بظاہر یہ کام احمد کی طرف سے طبی وجوہات، اور اس امکان کے پیش نظر کیا گیا تھا، کہ صلیحی صنعاء سے بہتر دارالحکومت چاہتے تھے۔
ملکہ اروی نے اپنے شوہر شاہ احمد المکرم کو، دو اہم وجوہات کی بنا پر، اپنا دارالحکومت صنعاء سے ذو جبلہ منتقل کرنے پر آمادہ کیا ۔ پہلی وجہ، ذو جبلہ کے بارے میں ان کی سیاسی اور اسٹریٹجک سمجھ تھی، کیونکہ یہ شہر یمن کے بالائی اور زیریں علاقوں کے درمیان واقع تھا ۔ اس سے ریاست کے معاملات کو چلانے میں آسانی ہوئی ۔ دوسری وجہ، خطوں میں لوگوں کی قسم کا دور دراز ہونا۔ انہوں نے اپنے شوہر سے، صنعاء اور اس کے آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کو بلانے کو کہا ۔ جب وہ جمع ہوئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ہر ایک کے ہاتھ میں تلوار یا نیزہ ہے ۔ بادشاہ اپنی بیوی کے ساتھ ذو جبلہ کے باشندوں کو بلوا کر، ذو جبلہ چلا گیا ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر کوئی اپنے ہاتھوں میں یا جانوروں کی پیٹھ پر، تحائف اٹھائے ہوئے ہے، تو اروی الصلیحی نے کہا، "بے شک ہمیں زندگی انہی میں گزارنی چاہیے" اور اس طرح ذو جبلہ کو دارالحکومت بنایا گیا ۔
انہوں نے خلیفہ ثانی اور اپنے شوہر کے نام پر خطبہ جاری کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی عورت کے نام پر خطبہ دیا گیا ۔
1075 میں اروی الصلیحی نے نجاح لیڈر سعید الاحول کے خلاف جنگ لڑی ۔ عمارہ بیان کرتی ہیں کہ "اس جنگ میں نجاح تباہ ہو گئے، اور اروی نے ذو جبلہ کے محل میں، اپنے کمرے کی کھڑکی کے نیچے، سعید کا سر لٹکایا" ۔ یہ علی کی موت کا بدلہ تھا، اور "مغربی علاقوں میں نجاحوں کے خاتمے اور مقامی طور پر اپنی طاقت اور عزم و حوصلے کے اظہار کے لیے بھی تھا"۔
جب الطوار میں مکرم احمد کی 1084 وفات ہو گئی، اروی الصلیحی نے فاطمیوں کو خط لکھا، کہ وہ میرے 10 سالہ بیٹے عبد المستنصر علی کو باضابطہ نیا صلیحی حکمران مقرر کریں ۔
المکرم احمد اور اروی الصلیحی کے بیٹے المستنصر کی وفات کے بعد سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوا ۔ یمن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا، کچھ المکرم کی کزن سبا کو حکومت کی باگ ڈور دیے جانے کے حق میں تھے، اور کچھ ملکہ اروی کی سبا سے شادی کے حق میں تھے ۔ یہ تمام سیاسی پیش رفت 1098 میں اس وقت عروج پر پہنچی جب، سبا کے بیٹے عبد المستنصر کو قتل کر دیا گیا ۔ امیر کا انتقال 1099 میں ہوا ۔ اس طرح اروی اپنے دو اہم سیاسی حریفوں سے آزاد ہو گئیں، اور اب وہ اپنے بل بوتے پر یمن کی اکلوتی خودمختار ملکہ بن گئیں، اب انہیں شادی کرنے یا بیٹے پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔
اروی کو عوامی طور پر "ملکہ" کا لقب دیا گیا تھا - یہ اسلامی دنیا میں پہلی بار ہوا تھا، اس بار فاطمیوں نے اروی کی خود مختاری تسلیم کی، اور اروی الصلیحی نے 1138 تک بغیر کسی خلل کے حکومت کی ۔
اپنے دور حکومت میں اروی الصلیحی نے صنعاء میں جامع مسجد کی توسیع کی، اور شہر سے سامراء تک سڑک کو بہتر کیا ۔ جبلہ میں انہوں نے ملکہ اروی کا ایک نیا محل اور اسی نام کی ایک مسجد بھی بنائی ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے، کہ انہوں نے اپنی سلطنت میں کئی اسکول بنوائے تھے ۔ اروی نے زراعت کی حمایت کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی اور معیشت کو بہتر کیا ۔
اروی کا انتقال 1138 میں 90 سال کی عمر میں ہوا ۔ اروی کی موت سے صلیحی سلطنت کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا، اور اب ان کے پیچھے اروی الصلیحی جیسی مسلم خواتین کی شاندار سیاسی تاریخ رہ گئی ۔
تاریخ کی تمام کتب میں اروی کی ذہانت، ان کی کرشماتی شخصیت اور سیاسی قابلیت کی تعریف موجود" ہے۔
مثال کے طور پر، ادریس عماد الدین نے انہیں "ایک عظیم تقویٰ شعار، دیانت اور فضیلت کی حامل، شاندار ذہانت اور علم و فضل کی حامل، مردوں سے بھی آگے نکل جانے والی" ملکہ بیان کیا ہے ۔
امارہ نے انہیں "پڑھا لکھا، اور ماضی کے زمانے کی تاریخوں سے واقف"، قرار دیا ہے ۔ انہوں نے قرآن کے بارے میں ان کے علم، شاعری اور تاریخ میں ان کی یادداشت، اور نصوص کی تشریح اور تعبیر میں ان کی مہارت کو بھی بیان کیا ہے ۔
----
English Article: "Queen Arwa al-Sulayhi: The Golden Reign of Yemen's First Female Sovereign”
URL: https://newageislam.com/urdu-section/queen-arwa-al-sulayhi-female-sovereign/d/136211
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism