New Age Islam
Wed Feb 18 2026, 08:47 PM

Urdu Section ( 24 Jan 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Quran and Egalitarianism قرآن اور مساوات پرستی

 وی۔ اے۔ محمد اشرف، نیو ایج اسلام

26 دسمبر 2024

 قرآن پرزور انداز میں اسلام کے تصور مساوات کی بات کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت سے مختصراً اس کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے: ’’لوگ کنگھی کے دانتوں کی طرح برابر ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ، حدیث 166)۔ یہ واضح استعارہ پوری انسانیت کو ایک کنگھی کے دانتوں کی طرح برابر قرار دیتا ہے، جہاں کوئی دانت دوسرے سے بڑا نہیں ہوتا، جو کہ اتحاد اور مساوات کی علامت ہے۔ یہی پیغام قران کی آیت 49:13 میں بھی موجود ہے:

 "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔‘‘

 یہ آیت اس قرآنی اصول کو مضبوط کرتی ہے، کہ انسانوں کے درمیان بڑائی کی واحد بنیاد تقویٰ اور نیکی ہے، اور جنس، نسل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کو مسترد کرتی ہے۔ یہ انسانیت کے لیے ایک واضح حکم ہے کہ وہ تنوعات کو الہٰی حکمت سے بُنی ہوئی ایک چادر سمجھیں۔

مردوں اور عورتوں کے درمیان روحانی مساوات

 قرآن مردوں اور عورتوں کے روحانی طور پر مساوی ہونے کی بات کرتا ہے، بار بار ان کی مساوی ذمہ داریوں اور انعامات کی یاد دلاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

 ’’اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا‘‘ (4:124)۔

 مزید برآں، قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کے حق میں ان کے اعمال پر مساوی جزا کی بات کرتا ہے:

 "تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔‘‘ (3:195)

 یہ آیات اس بنیادی اصول کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مرد اور عورت یکساں طور پر مذہبی اور اخلاقی ذمہ داریوں میں شریک ہیں، جس میں کسی بھی جنس کے لیے برتری کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ پرندے کے دو پروں کی طرح خدا کی طرف روحانی عروج حاصل کرنے کے لیے دونوں ضروری ہیں۔

 انسانیت کا وقار

 قرآن تمام انسانوں کے باطنی وقار کی بات کرتا ہے۔ آیت 17:70 میں قرآن کا اعلان ہے:

 ’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی ۔‘‘

 یہ اعزازِ انسانیت عالمگیر ہے اور نسل، جنس یا طبقے کے امتیازات سے بالاتر ہے۔ 95:4 جیسی آیات میں انسانیت کی خصوصی حیثیت پر مزید زور دیا گیا ہے: "بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔"

 یہ فطری وقار خدا کی اپنی روح سے انسانیت کی تخلیق سے منسلک ہے (15:29؛ 32:9)۔ یہ روحِ الہی ہر انسان کے اندر بیش قیمتی جواہرات کی طرح موجود ہے جو اسے کائنات کی ہر چیز زیادہ قیمتی بنا دیتی ہے۔ یوں، تمام انسان فطری طور پر قابل قدر اور احترام کے مستحق ہیں۔

 قانون کے نظر میں مساوات

 عدل اسلامی تعلیمات کا بنیادی ستون ہے۔ قرآن انصاف اور غیر جانبداری کا حکم دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر یہ ذاتی مفادات یا تعلقات سے متصادم ہی کیوں نہ ہو:

’’اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے "۔ (4:135)۔

 قانون کی نظر میں مساوات انتظامی امور کا ایک بنیادی پہلو ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام افراد کے ساتھ، خواہ وہ کسی بھی حیثیت کے ہوں، انصاف کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ انصاف کو پہاڑ کی طرح اٹل ہونا چاہیے، جو تعصب کی ہواؤں کے خلاف ثابت قدم رہے۔

 صنفی مساوات اور باہمی ذمہ داریاں

 قرآن مردوں اور عورتوں کی باہمی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتا ہے، انہیں زندگی کے سفر میں ایک شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے:

 ’’اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔" (9:71)۔

 یہ شراکت داری روحانی، سماجی اور خاندانی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں فیصلے باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے کیے جائیں گے (2:233؛ 4:19)۔ مرد اور عورت ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں، جو ایک پرامن معاشرے کی تعمیر میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

 خواتین کے معاشی اور قانونی حقوق

 اسلام نے اپنے آغاز سے ہی خواتین کو انقلابی حقوق عطا کئے ہیں۔ قرآن نے عورتوں کو وراثت میں جائیداد کا حق (4:7) اور اپنی دولت خود سنبھالنے کا اختیار دیا ہے۔ شادی، جسے محبت اور رحم کے رشتے کے طور پر بیان کیا گیا ہے (2:187؛ 30:21)، اس میں دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہے، اور خواتین کو مخصوص شرائط کے تحت طلاق لینے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ حقوق پدرسرانہ جبر کے اندھیروں میں روشنی کی کرن کی طرح تھے۔

بین المذاہب تعلقات اور عالمگیر بھائی چارہ

 قرآن کا نظریہ مساوات بین المذاہب تعلقات تک پھیلا ہوا ہے، جس میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ احترام اور تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں پچھلے صحیفوں کی صداقت کو تسلیم کیا گیا ہے اور باہمی افہام و تفہیم کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے:

 ’’اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر۔‘‘ (29:46)۔

 مزید برآں، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اہل کتاب کو، بشمول یہودیوں اور عیسائیوں کے، ان کے اعمال کا برابر بدلہ دیا جائے گا (2:62؛ 5:69، 22:17)، جس سے اخوت کے عالمگیر جذبے کو فروغ ملتا ہے۔ باہمی احترام کا یہ جذبہ ایک پل کی مانند ہے، جو دو کناروں کو جوڑتا ہے اور اختلافات کے دور میں امن و ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔

 سماجی عدل اور معاشی انصاف

 مساوات پرستی قرآن کو کس قدر عزیز ہے اس کا پتہ سماجی انصاف پر اس کے زور سے چلتا ہے۔ قرآن دولت کی ذخیرہ اندوزی کی مذمت کرتا ہے (9:34) اور تجارت میں منصفانہ لین دین کا حکم دیتا ہے (183-26:181)۔ یہ استحصالی طریقوں مثلا سود پر بھی پابندی لگاتا ہے (281-2:275)، اور سب کے لیے معاشی انصاف کو یقینی بناتا ہے۔

 بلال کی کہانی، جو کہ غلام تھے جنہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا موذن بنایا، اس سے اسلام کے نظریہ مساوات کی عکاسی ہوتی ہے۔ بلال کا سفر اس اصول کا مبرہن ثبوت ہے کہ دین و ایمان، سونے کی طرح، کسی بھی دنیاوی شئی سے زیادہ چمکدار ہے۔ مسلم معاشرے میں بلال کی حیثیت کا تعین ان کے دین اور ان کی ذاتی خوبیوں سے کیا جاتا تھا، نہ کہ ان کی نسلی یا سماجی حیثیت سے۔

 مساوات پرستی کا قرآنی تصور

 قرآن مساوات پرستی کا ایک جامع نظریہ پیش کرتا ہے، جس کی جڑیں تمام انسانوں کی فطری وقار اور مساوات پر مبنی ہیں۔ قرآن روحانی اور سماجی مساوات، صنفی انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، اور ایک منصفانہ اور جامع معاشرے کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر، انسانیت ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کر سکتی ہے جس میں انصاف، ہمدردی، اور باہمی احترام کا راج ہو۔

 یہ نظریہ مساوات قرآنی تعلیمات میں جابجا دیکھنے کو ملتا ہے، جس میں تمام مومنین کے درمیان اتحاد اور جذبہ اخوت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی جان سے پیدا کیے گئے ہیں، اور یہ کہ ہمارا الگ الگ ہونا خدا کی حکمت اور رحمت کی علامت ہے۔ ہمارا یہ تنوع ایک باغ کے ان متنوع پھولوں کی طرح ہے، جو مجموعی طور پر ایک باغ کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں۔

 قرآن ظالمانہ اور پدرسرانہ سماجی اصولوں اور قدروں کو بھی مٹانے کی بات کرتا ہے، تاکہ انصاف اور مساوات کے الہی نظریہ کو بالا دستی حاصل ہو۔ قرآن تمام افراد، خاص طور پر کمزور اور پسماندہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی، رحمت اور مہربانی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ شفقت، اس مشفق بارش کی طرح ہے، جو انسانیت کی مٹی میں مساوات کے بیج کو پروان چڑھاتی ہے۔ ان اصولوں کے مطابق زندگی گزار کر ہم ایک مزید عادلانہ اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

 الغرض، اتحاد اور مساوات کا قرآنی نظریہ ان اختلافات اور ناانصافیوں کا ایک مضبوط تریاق ہے، جو ہماری دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس نظریہ مساوات کو اپنا کر، ہم ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں، جہاں ہر فرد کے ساتھ عزت اور احترام کا برتاؤ کیا جائے، اور جہاں ہماری مشترکہ انسانیت کی قدر کی جائے۔ یہ نظریہ مساوات اختلاف و انتشار کے اس پرآشوب دور میں ہمارے لیے مینارہ ہدایت ہے۔

 ----

English Article: The Quran and Egalitarianism

 URL: https://newageislam.com/urdu-section/quran-egalitarianism/d/134419

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..