New Age Islam
Tue Jan 13 2026, 04:00 AM

Urdu Section ( 12 Aug 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Did The Qur’ān Refer To Women As A Field (tilth)? قرآن نے عورتوں کو کھیتی کیوں کہا؟

خالد ایوب مصباحی شیرانی

چیرمین: تحریک علمائے ہند، راجستھان

12 اگست 2025

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 نِسَاَؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔ (سورہ بقرہ، 223) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ اور اپنے لیے (نیک اعمال) پیش کرو، اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم اس سے ملاقات کرنے والے ہو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے۔

چوں کہ اس آیت میں عورت کو "کھیتی" سے تشبیہ دی گئی ہے،اس لیے بعض جدید ذہنوں میں اس کو لے کر کچھ غیر ضروری قسم کے سوالات پائے جاتے ہیں جیسے:

        عورت کو کھیتی کہنا، اس کی کھلی توہین ہے۔

        یہ تشبیہ گویا عورت کو صرف تولیدی مشین بناکر پیش کرتی ہے۔

        عورتوں کو محض آلہ کار بنا کر یہ آیت مردوں کو عورتوں پر برتری دیتی ہے۔

اور

        کیا" فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ" – جنسی آزادی کی اجازت عام نہیں؟ وغیرہ

ہم کوشش کریں گے کہ اس مضمون میں اس آیت کا لغوی، تحقیقی، عقلی، سائنسی اور مفسرین کی آرا کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ پیش کریں  تاکہ اس تشبیہ کا اصل مفہوم، سیاق و سباق، اور مقصد واضح ہو اور غلط فہمیاں دور۔

لفظ"حرث" کی لغوی تحقیق اور وسیع مفہوم:-

لفظ " حَرْثٌ" باب "نصر، ینصر" سے ثلاثی مجرد ہے، جس کا مادہ "ح ر ث " ہے۔

یہ مادہ عربی لغت میں کاشت کرنے، بیج بونے، زمین کو نرم کرنے، اور پیداوار حاصل کرنے جیسے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی قدرے تفصیلات اس طرح ہیں:

" لسان العرب" میں ہے:

الحرث: الزرع أو الأرض التي تُزرع۔ حرث الشیءَ یحرثه: بَذَرَهُ أو سَقاهُ أو أَصلَحهُ لِلزِرَاعَةِ۔یعنی حرث کا مطلب ہے کھیتی یا وہ زمین جس میں کاشت کی جائے۔" حرث الشیء" کا مطلب ہے: کسی چیز کو بیج ڈالنے، پانی دینے یا اس کو قابلِ زراعت بنانے کا عمل۔

"القاموس المحيط" میں ہے:

الحَرْثُ: الزَّرْعُ، والأرضُ المزروعةُ، أو إصلاحُها للزِّراعة۔ حرث کا مطلب ہے زرع (کھیتی)، یا وہ زمین جو کاشت کے لائق ہو یا کاشت کے لیے تیار کی گئی ہو۔

"مفردات الراغب الاصفہانی" میں ہے:

الحرث: استخراج ما في باطن الأرض من نبات، وهو نوعان: حسّي ومعنوي۔ حرث وہ عمل ہے جس کے ذریعے زمین کے باطن سے نباتات نکالے جاتے ہیں اوریہ عمل دو طرح کا ہوتا ہے: حسی (جیسےکھیتی باڑی کی اصل زمین) اور معنوی (جیسے نیکی یا علم کا بیج بونا، اعمال کا نتیجہ حاصل کرنا)۔

یعنی عربی زبان میں" حرث"  ایسی زمین یا کھیت کو کہا جائے گا، جس میں کاشت ہو سکے اور اس سے پیداوار حاصل کی جا سکے جبکہ وسیع تر معنوں میں، یہ کسی بھی ایسی جگہ یا ذریعے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جس سے نتیجہ، فائدہ، یا افزائش حاصل ہو، جس کی تعبیر علامہ راغب نے حسی اور معنوی سے کی ہے۔

لفظ "حرث" کا یہ وسیع مفہوم خود ساختہ نہیں بلکہ اہل ِ زبان کے یہاں رائج ہے اور نہ صرف اہل ِ لغت کے ہاں بلکہ خود کلام الٰہی میں بھی یہ لفظ اپنے حسی اور معنوی دونوں مفاہیم کے لیے موجود ہے، جس کا تعین سیاق و سباق سے ہوتا ہے،  چناں چہ سورہ واقعہ میں مادی یعنی حسی معنی میں استعمال ہوا ہے، ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:

"اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۔ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ"۔(سورہ واقعہ: 63-64) کیا تم نے غور کیا اس چیز پر جسے تم بوتے ہو؟ کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟

اور سورہ شورٰی میں معنوی معنی میں مستعمل ہے:

"مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ"۔(سورہ شوریٰ: 20)جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں۔

یہاں "حرث"اپنے سیاق بلکہ کلام الٰہی کی تصریح کے مطابق نیک و بد اعمال کے لیے استعمال ہوا ہے، جن کا پھل آخرت میں ملتا ہے۔

یعنی اہل ِ زبان اور خود کلام ِ الٰہی میں بھی لفظ "حرث" نہ صرف کھیتی باڑی اور کاشت کاری کے لیے استعمال ہوا ہے بلکہ عمل، نیت، اور انجام کے معانی میں بھی استعمال ہوا ہےاور جب ایسا ہے تو تمثیلی معنوں میں عورت سمیت کسی بھی ایسے وجود کو جس سے  افزائش کا عمل انجام پاتا ہو  یا کچھ نتیجہ بر آمد ہوتا ہو،"حرث" کہنے میں مضائقہ نہیں کیوں کہ اپنے وسیع معانی میں یہ لفظ  ایک نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور زندگی بخش تصور پیش کرتا ہے، جو پیداوار اور بقا سے منسلک ہے جبکہ ایسے معنی خیر، مناسب ِ حال اور حیا آمیز لفظ پر بے جا اعتراض بجائے خود کم علمی اور تنگ نظری کی نشانی ہے۔

عورت کو "حرث" سے  کیوں تشبیہ دی گئی؟:-

قرآن نے عورت کو ایک گہرے استعاراتی (metaphorical) انداز میں "کھیتی" سے تشبیہ دی ہے۔ یہ تشبیہ حقیقی نہیں، بلکہ علامتی ہے، جو عورت کے کردار کو نسل انسانی کی بقا اور ترقی کے تناظر میں سمجھاتی ہے اور وجہِ تشبیہ یہ ہے کہ جیسے کھیت میں بیج بویا جاتا ہے، اسے پانی دیا جاتا ہے، اس کی نگہداشت کی جاتی ہے، اور پھر اس سے فصل یا پھل حاصل ہوتا ہے، اسی طرح عورت کے رحم میں مرد کا نطفہ (بیج) جاتا ہے، جو رحم کی نگہداشت، پرورش، اور حفاظت کے بعد اولاد کی شکل میں نتیجہ دیتا ہے یعنی یہ تشبیہ عورت کے حیاتیاتی کردار کو اجاگر کرتی ہے، جو اللہ کی تخلیق کا ایک معجزہ ہے۔

جبکہ بلاغی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ تشبیہ عورت کی تحقیر نہیں بلکہ حیا کے تمام تقاضوں کو انتہائی درجے تک ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی توقیر کا استعارہ ہے کیوں کہ کھیت کی طرح عورت بھی ایک ایسی ہستی ہوتی ہے جو زندگی، پرورش، اور تربیت کا ذریعہ ہے۔ یوں  یہ تشبیہ عورت کے تقدس، عزت، اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

اس نقطہ نظر پر  مفسرین کرام  کی درجنوں تفصیلی عبارات ، شرعی تشریحات ،لغوی استدلالات اور تفسیری  آرا شافی دلیل ہیں، جن کی یہاں نہ گنجائش ہے اور نہ ضرورت، ہاں! امام قرطبی علیہ الرحمہ کی درج ذیل نمائندہ عبارت  کافی ہونی چاہیے، آپ  علیہ الرحمہ "الجامع لأحكام القرآن"  میں لکھتے ہیں:

وَ" حَرْثٌ" تَشْبِيهٌ، لِأَنَّهُنَّ مُزْدَرَعُ الذُّرِّيَّةِ، فَلَفْظُ" الْحَرْثِ" يُعْطِي أَنَّ الْإِبَاحَةَ لَمْ تَقَعْ إِلَّا فِي الْفَرْجِ خَاصَّةً إِذْ هُوَ الْمُزْدَرَعُ. وَأَنْشَدَ ثَعْلَبٌ:

إِنَّمَا الأرحام أرض … ون لَنَا مُحْتَرَثَاتُ

فَعَلَيْنَا الزَّرْعُ فِيهَا … وَعَلَى اللَّهِ النَّبَاتُ

فَفَرْجُ الْمَرْأَةِ كَالْأَرْضِ، وَالنُّطْفَةُ كَالْبَذْرِ، وَالْوَلَدُ كَالنَّبَاتِ، فَالْحَرْثُ بِمَعْنَى الْمُحْتَرَثِ۔( الجامع لأحكام القرآن للقرطبی، تحت الاٰیۃ)

"حرث" (کھیتی) ایک تشبیہ ہے، کیوں کہ عورتیں نسل کے لیے کھیتی کی جگہ ہیں۔پس "الحرث" کا لفظ یہ مفہوم دیتا ہے کہ مباشرت کی اجازت صرف آگے کی شرم گاہ ہی کے لیے دی گئی ہے، کیوں کہ وہی نسل کے بیج بونے کی جگہ ہے۔اور ثعلب نے (اس مفہوم کی تائید میں)  شعر کہا ہے:

"رحم زمین کی مانند ہیں۔ جو ہمارے لیے کھیتی کی جگہیں ہیں۔پس ہم پر لازم ہے کہ ان میں بیج بوئیں  اور اللہ پر ہے کہ وہ اس میں نشو و نما دے"۔

لہٰذا عورت کی شرم گاہ زمین کی مانند ،نطفہ بیج کی مانند اور بچہ پودے کی مانند ہے۔

چناں چہ "حرث" کا مطلب ہے وہ جگہ جس میں بیج بویا جاتا ہے۔

غرض یہ کہ مفسرین کا اس بات پر تقریباً  اتفاق ہے  کہ عورت کو "حرث" سے تشبیہ دینا، عورت کے انسانی کردار کو عزت اور احترام کے ساتھ پیش کرتا ہے، نہ کہ اس کی کوئی توہین کرتاہے۔

عقلی  اور سائنسی تجزیہ:-

نقل کے علاوہ سائنسی اور عقلی نقطہ نظر سے بھی اس تشبیہ میں چنداں مضائقہ نہیں کیوں کہ اس تشبیہ سے مستفاد مفہوم ہی در اصل نسل ِ انسانی کی حیاتیاتی حقیقت اور زمینی سچائی ہے اور سچائی کو بطور تمثیل پیش کرنے میں توہین کیوں کر ہو سکتی ہے!

جہاں تک بات اس تشبیہ کے حیاتیاتی حقیقت ہونے کی ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ عورت کا رحم ایک حیاتیاتی "انکوبیٹر" ہے، جہاں نطفہ (sperm) اور بیضہ (ovum) کا ملاپ ہوتا ہے، اور جنین (embryo) 9 ماہ تک پرورش پاتا ہے۔

          اور یہ وہ فطری عمل ہے، جسے  زراعت سے نہ صرف دو چند زاویوں سے بلکہ کئی زاویوں سے بلا کی مماثلت ہے جیسے:

        جیسے کھیتی سے اناج پیدا ہوتا ہے، ویسے ہی عورت کی کوکھ سے نسلِ انسانی کی پیداوار ہوتی ہے۔

        کھیتی کو فصل دینے سے پہلے محنت، آبیاری، حفاظت اور وقت درکار ہوتا ہے، اسی طرح عورت سے رشتہ بھی محبت، خیال، عزت، اور جذباتی سہارے کا طالب ہوتا ہے۔

        جیسے کھیتی کو پامال کرنا تباہی لاتا ہے، ویسے ہی عورت کی عزت پامال کرنا انسانی اقدار کی بربادی ہے۔

        جیسے کھیتی کو جانوروں، کیڑوں اور موسم کی شدت سے بچایا جاتا ہے،عورت بھی ناموس، غیرت اور تحفظ کی حق دار ہے۔

        جیسے کھیتی میں بیج بونے کا وقت اور طریقہ مخصوص ہوتا ہے، اسی طرح عورت کے ساتھ تعلق کا بھی اخلاقی، نفسیاتی اور فطری وقت ہوتا ہے۔

        جیسے زمین کے بغیر بیج بے کار ہے، اسی طرح مرد کا نطفہ عورت کے رحم کے بغیر نسل نہیں چلا سکتا۔ گویا یہ ایک حیاتیاتی شراکت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کے درمیان قائم کی۔

        رحم ایک "gestation chamber" ہے، جو جنین کو غذا، آکسیجن، اور حفاظت فراہم کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے زمین بیج کو پرورش دیتی ہے۔

یعنی

        زراعت اور عورت دونوں فطرت کی سنجیدہ امانتیں ہیں، جن سے کھیل نہیں، ذمہ داری اور مقصدیت مطلوب ہوتی ہے اوردونوں میں ہی خلق و افزائش (تخلیق) کا  بلند مقام  مشترک ہے۔

حاصل یہ کہ یہ تشبیہ نہایت موزوں، بر محل، اخلاقی اقدار کی ضامن اور غیر معمولی مشابہتوں کی حامل ہے، جس میں تحقیر کوئی کوئی پہلو نہیں بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ اس سے قرآن مجید کا حکیمانہ اسلوب اور اس کا کلام ِ خداوندی ہونے کا دعویٰ مزید مستحکم ہوتا ہے کیوں کہ 1400 سال قبل جب میڈیکل سائنس ترقی کی اس شاہ راہ پر نہ تھی، جہاں آج ہے، اس عہد میں بھی قرآن کی ایسی تمثیل جو جدید سائنس سے ہم آہنگ ہو، بے شک اعجاز کلام کی بہترین مثال ہے، بالکل ویسے ہی جیسے زراعت اور عورت سے افزائش و خلق کا یہ حیران کن نظام ِ قدرت، اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ایک عظیم معجزہ ہے اور بہر صورت یہ اسلوب ِ کلام زراعت و عورت کے تئیں احساس و شعور اور فکر و تدبر کے جذبات ِ غیرت بیدار کرنے کے ساتھ بیک وقت زراعت و عورت کی عظمتیں بھی ظاہر کرتا ہے۔

یہاں تک کے مباحث سے اس اعتراض کا جواب بھی ہو چکا ہے کہ عورت کے لیے "حرث" کی تشبیہ،  کسی بھی ناحیے سے اس کی توہین نہیں بلکہ در حقیقت حرث اور رحم مادر میں غیر معمولی مشابہتوں کی بنیاد پر یہ  تمثیلی اسلوب اختیار کیا گیا اور بس، ورنہ کھیت ایک قیمتی اور بابرکت چیز ہے، جس پر نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جان داروں کی خوراک اور زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ اسی طرح عورت نسل ِانسانی کی بقا، تربیت، اور تسلسل کا ذریعہ ہے اور جب کاشت کاری بجائے  خود غیر محترم نہیں تو اس کا مشبہ  یعنی عورت غیر محترم کیوں کر ہو سکتی ہے!یہ محض ایک غلط فہمی یا کج فہمی ہی ہو سکتی ہے ۔

محض غلط فہمی اس لیے بھی کہ کلام ِخدا و رسول میں ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی جب عورت کی توہین کرنا تو دور اسے کسی بھی ناحیے سے ہلکے میں بھی آنکا گیا ہو اور جب کلام ِ خدا و رسول کا ایسا مزاج نہیں واقع ہوا ہے تو یہ الزام، محض ایک تہمت کا درجہ رکھتا ہے۔

جبکہ اس کے بالمقابل ایسی بے شمار نظیریں ملتی ہیں جہاں عورت کی توقیر  کی باتیں کی گئی ہیں اور یہ وہ پہلو ہے جس پر دلیل کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔

آیت کا سیاق و سباق:-

اس نظریے کے غلط ہونے پر ایک چوٹ، اس آیت کا شان ِنزول  اور پس منظر بھی ہے اور الگ الگ مفسرین کے مطابق وہ یہ ہے :

یہود میں سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ مباشرت کے مختلف طریقوں سے اولاد پر کچھ منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔  اس آیت نے ان کے شبہات کو دور کیا اور واضح کیا کہ شریعت کے دائرے میں مباشرت کے تمام طریقے جائز ہیں، بشرطیکہ وہ فطری مقام (رحم) تک محدود ہوں۔چناں چہ علامہ ابن جریر طبری نے اس بابت بہت سی روایتیں نقل کی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے:

"عَن عَمارٍ، قال: ثنا ابنُ أبي جعفرٍ، عن أبيه، عن الربيعِ قولَه: {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}. يقولُ: مِن أين شئْتُم. ذكر لنا، واللهُ أعلمُ، أن اليهودَ قالوا: إن العربَ يأتون النساءَ من قِبَلِ أعجازِهنَّ، فإذا فعَلوا ذلك جاء الولدُ أحولَ، فأكْذَب اللهُ أُحْدُوثَتَهم، فقال: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}۔(تفسیر الطبری، تحت الاٰیۃ)

"حضرت عماررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:

ہم سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، وہ اپنے والد سے، اور وہ ربیع سے نقل کرتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:{فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}"پس اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ"کے بارے میں فرمایا:یعنی "جہاں سے چاہو" (یعنی مختلف زاویوں سے)۔ ہمیں یہ بات بتائی گئی — اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے — کہ یہود نے کہا تھا:

عرب لوگ اپنی بیویوں کے پاس ان کے پیچھے کی طرف سے (لیکن فرج میں) آتے ہیں، اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ بھینگا (احول) ہوتا ہے۔

تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کو جھوٹ قرار دیا، اور فرمایا:{نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}"تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں، پس اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ"۔

" فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ " کا  مطلب:-

آیت کریمہ کے جز " فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ"کے متعلق بعض جدید اذہان میں یہ غلط فہمی بھی ہےکہ یہ جنسی آزادی یا فحاشی کی اجازت  ہے۔

جبکہ ابھی گزرا مفسرین کے مطابق، اس سے مراد مباشرت کے متنوع طریقے ہیں اوربس ۔ اس کی صریح وضاحت درج ذیل روایت بھی ہے:

أن ابنَ كعبٍ كان يقولُ: إنما قولُه: {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}. يقولُ: ائْتِها مُضطجِعةً وقائمةً ومُنحرفةً ومقبِلَةً ومدبِرَةً كيف شِئتَ، إذا كان في قُبُلِها۔(ایضا)

آیت کریمہ " فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ "کا مفہوم بیان کرتے ہوئے ابن کعب کہا کرتے تھے: عورت سے مباشرت کا ہر طریقہ جائز ہے چاہے لیٹی ہو، بیٹھی ہو، الٹے منہ ہو، سامنے سے ہو یا پیٹھ پیچھے سےالبتہ یہ شرط رہے گی مقام ِ مباشرت بہر صورت فرج ہی ہونا چاہیے۔

یعنی آیت کریمہ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ بھلے کیفیت کچھ بھی ہو، مقام ِمباشرت بہر حال قبل یعنی آگے کا مقام ہی ہونا چاہیے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملاعبت کی اس آزادی کے مفہوم کا ان غیر فطری طریقوں اور بے حیائیوں سے دور کا بھی علاقہ نہیں، جو پورن کے عہد کی پیداوار ہیں، جنھیں حد سے بڑھی ہوئی حیوانیت ہی کہا جا سکتا ہے۔

اسلام سے ایسی بے حیائیوں کا تصور اس لیے بھی ممکن نہیں کہ یہ دین ِفطرت ہے اور دین ِ فطرت میں کوئی نظیر ایسی نہیں ملتی، جب اس نے دیانات و معاملات تک کسی بھی مسئلے میں کسی بھی غیر فطری عمل کو جواز فراہم کیا ہو یا اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھا ہو یا انسانی حدیں پھلانگنے کا ادنیٰ بھی تصور دیا ہو۔

ہاں! اسی آیت کا جزو ِ اخیر اور خاتمہ بجائے خود اخلاق  و دیانت کی تعلیم دیتا ہے ، جسے ہم بالفاظ ِدیگر  اس بے جا اعتراض کا غیر منصوص جواب بھی کہہ سکتے ہیں، ارشاد ہے:

"وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ" یعنی اپنی آخرت کے لیے  نیک اعمال تیار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔

 یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شادی شدہ تعلقات میں بھی صلاح و تقویٰ اور خشیت ِ ربانی کا خیال ضروری ہے۔

دیگر تمثیلات پر کیا کہیں گے؟:-

اس تشبیہ پر کوئی اعتراض اس لیے بھی نہیں بنتا کہ کلام ِ خدا و رسول میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جب مماثلت و مشابہت کے تمام لازمی تقاضوں کے مطابق  بکثرت تشبیہات نظر آتی ہیں  اور یہی سنت ِ الٰہیہ ہے، ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا۔ (سورہ بقرہ: 26) بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں فرماتا کہ سمجھانے کے لیے مچھر یا اس سے بڑھ کر کوئی بھی مثال پیش فرمائے۔

ایسا اس لیے کہ  انسانی مزاج مثالوں سے قریب واقع ہوا ہے اور تشبیہات و کنایات اور استعاروں کی زبان جلدی اور آسانی سے سمجھتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دیگر بہت سی تشبیہات ، کنایات، استعارات ، ضرب الامثال اور محاوروں کے ساتھ عورت کے لیے قرآن مجید میں موقع بموقع کئی قسم کےالگ الگ الفاظ استعمال فرمائے گئے جیسے ایک موقع پر عورت کو مرد کےلیے اور مرد کو عورت کے لیے "لباس" قرار دیا گیا، ارشاد ہے:

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ۔ (سورہ بقرہ: 187)وہ (تمھاری بیویاں) تمھارا اور تم  ان کا لباس ہو۔

کیا کوئی کج فہم سےکج فہم بھی اس آیت کا یہ مفہوم سمجھے گا کہ میاں بیوی کو ایک معمولی کپڑے  جیسا قرار دیا گیا ہے؟ ہرگز نہیں کیوں کہ نہ یہ مفہوم ہے، نہ یہ مقصد اور نہ ہی پس ِ منظر بلکہ "لباس" جیسے جامع لفظ میں لپیٹ کر یہاں زوجین کے عظیم رشتے   کو نہایت پاکیزگی اور حیا کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے کہ جیسے لباس انسان کا پردہ دار ، راز دار اور تا دم ِ مرگ ساتھی ہوتا ہے، ویسے ہی میاں بیوی کا باہمی رشتہ ہوتا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کے بھرپور راز دار، پردہ پوش اور دکھ سکھ کے گہرے ساتھی ہوتے ہیں۔    

اسی طرح قرآن مجید نے عورت کو  ایک سے زائد مقامات پر مرد کے لیے سکینہ یعنی سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے، کیا کوئی نہایت موٹی عقل رکھنے والا بھی اس سے یہ مفہوم اخذ کر سکتا ہے کہ عورت کو محض سامان ِ تسکین  بنا کر پیش کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا  یہ گمان بھی نہیں پال سکتا۔

جیسے لباس اور سکینہ کا مفہوم اپنے  اپنے پس منظر میں پاکیزہ، بجا،واضح اور صاف ستھرا ہے، اسی طرح "حرث" کا مفہوم بھی اپنی جامعیت، غیر معمولی مماثلت اور مقصدیت میں نہایت شفاف ہے جس پر عقل ِ سلیم کے ہاں سرے سے کوئی اعتراض بنتا ہی نہیں، تا وقتیکہ ذہن  مذہبی تعصب، فکری بے ہودگی، علمی پس ماندگی اور لسانی درماندگی کا شکار نہ ہواور چوں کہ بنیادی طور پر اس نوع کے اعتراضات مستشرقین کے ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں، جو چھن چھنا کر ملحدین، مشرکین اور  اسلاموفوبیا کے شکار فیمنسٹ طبقے تک پہنچتے ہیں، اس لیے ان کے متعلق وثوق سےکہا جا سکتا ہے کہ ان کے پیچھے فریب دہی اور کورے تعصب کے علاوہ کچھ نہیں۔

کیوں کہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کا مطالعہ اکثر سیاق و سباق سے خالی، متعصبانہ افکار سے بری طرح متاثر اور تہذیبی بالادستی پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ قرآن کی آیات کو اپنے مغربی تصوراتِ آزادی، جنس، فردیت اور مساوات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ اسلام کا مقصد انسانی اقدار، عدل اور فطری توازن کو قائم رکھنا ہے۔

--------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/quran-refer-women-field-tilth/d/136473

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..