غلام غوث صدیقی
1 جولائی 2025
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنی آخری اور ابدی کتاب بنا کر نازل فرمایا، اور اس کے کلام ہونے پر بہت سے دلائل بھی عطا فرمائے۔ ان دلائل میں سے ایک نمایاں دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ رب العزت کا وہ معجزاتی کلام ہے جو ہر قسم کے تضاد اور تناقض سے پاک ہے۔اسی حقیقت کو قرآن مجید نے خود نہایت پرزور انداز میں بیان فرمایا : ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا
’’تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا، تو اس میں ضرور بہت سا اختلاف پاتے‘‘۔(سورۃ النساء، آیت 82)
یعنی جو بھی شخص دیانت اور انصاف کے ساتھ قرآن میں تدبر اور غور و فکر کرے گا، اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی چلی جائے گی کہ یہ کلام الٰہی ہے، کیونکہ اس میں کسی طرح کا کوئی تناقض اور تضاد نہیں ۔
قرآن مجید نے مختلف مقامات پر مختلف انداز، اسلوب اور تعبیرات استعمال کیے ہیں۔ بعض اوقات ناسمجھ قاری ، بلکہ ملحدین قرآن مجید کی بلاغت اور تنوع سے یکسر نابلد ہونے کی وجہ سے خود بھی الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ذہنی الجھن اور شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کی انتھک کوشش کرتے ہیں ، خاص طور پر جب اسے عربی زبان کی گہرائی، قرآن کے اسلوب کی حکمت یا نسخ کی حقیقت کا علم نہ ہو۔ ایسے میں لوگوں کو بظاہر کچھ آیات متضاد محسوس ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
علمائے کرام نے اس موضوع پر تفصیل سے کلام فرمایا ہے، اور تفسیر کی کتابوں میں اس مسئلے کو علمی طریقے سے خوب واضح کیا گیا ہے۔راقم الحروف کے پاس قرآن مجید کی آیات کی ایک لسٹ آئی ہے جس سے یہ شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن کریم کی آیات میں ، نعوذ باللہ ، تضاد و تناقض ہے ۔ یہاں مطلوب یہ ہے کہ اس شبہ کا ازالہ ، اردو ، انگریزی اور ہندی تینوں زبانوں میں کیا جائے۔ ہمارے اسلاف اور امت مسلمہ کے مخلص اکابر نے اس موضوع پر خوب کام کیا ہے ، اس لیے ان سے ہی استفادہ کرتے ہوئے اور ان کے جامع متنوع بکھرے نکات کو مطالعہ کی زینت بنا کر اس شبہ کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی اس کوشش کو قبول فرمالے اور توفیق و ہدایت تو سب اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے وہ جسے چاہتا ہے خدمت دین کی توفیق دیتا ہے اور اس کے ذریعے جسے چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے ۔
پہلا شبہ: قومِ ثمود کے عذاب میں مختلف الفاظ ؟
ایک عام شبہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ قوم ثمود کے بارے میں قرآن میں مختلف الفاظ آئے ہیں جو بظاہر مختلف قسم کے عذاب کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے:
سورۃ ہود (67): فَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ۔ ترجمہ :تو ظالموں(قوم ثمود) کو ایک چنگھاڑ نے آ دبوچا‘‘۔اس کا مطلب ہے قوم ثمود کو چنگھاڑ (الصیحہ) سے ہلاک کیا گیا۔
سورۃ الأعراف (78): فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔ ترجمہ:’’تو انہیں ایک زلزلے نے پکڑ لیا‘‘۔یعنی قوم ثمود کو زلزلے (الرجفہ) سے ہلاک کیا گیا
سورۃ الذاریات (44): فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ ۔ترجمہ:’’تو انہیں صاعقہ نے آ لیا‘‘۔یعنی قوم ثمود کو صاعقہ (بجلی یا تباہ کن آواز) سے ہلاک کیا گیا
سورۃ الحاقہ (5): فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ۔ترجمہ:رہے ثمود، تو وہ حد سے بڑھ جانے والی چیز سے ہلاک کیے گئے‘‘۔ یعنی قوم ثمود کو طاغیہ (حد سے بڑھی ہوئی چیز) سے ہلاک کیا گیا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اصل سببِ ہلاکت کیا تھا؟ کیا یہ تضاد نہیں؟
علمی و تفسیری جواب:
قرآن کے ان مختلف الفاظ میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہی واقعے کی مختلف تفصیلات اور زاویے ہیں، جیسے ایک ہی تصویر کو مختلف زاویوں سے دیکھنا۔ قرآنی آیات کے مطابق، ان کی ہلاکت کا تفصیلی منظر کچھ یوں تھا:
جبریل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک انتہائی شدید آواز (چیخ) بلند کی۔
اس چیخ سے زمین ہلنے لگی اور زلزلہ (رجفہ) پیدا ہو گیا۔
اس خوفناک کیفیت سے ان کے دل پھٹ گئے، اور وہ زمین پر اوندھے پڑے رہ گئے
گویا:
الصیحہ (چیخ) وہ آواز تھی جو عذاب کی ابتدا کا سبب بنی۔
الرجفہ (زلزلہ) اس چیخ کی زمینی تاثیر تھی۔
الصاعقہ (صاعقہ) اس تباہ کن آواز کو بھی کہتے ہیں جو آسمان سے آتی ہے۔
الطاغیہ چونکہ یہ عذاب حد سے بڑھا ہوا، غیر معمولی اور انتہائی شدید تھا، اس لیے اسے "الطاغیہ" (سرکشی اور حد سے تجاوز) کا نام دیا گیا۔
یوں ان چاروں تعبیرات کو سمجھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی عذاب کے مختلف پہلو ہیں۔ جیسے:
الزلزلہ سببِ قریب (Near Cause) تھا۔
الصیحہ سببِ بعید (Remote Cause) تھا۔
الصاعقہ اس عذاب کا عام نام تھا۔
الطاغیہ اس کی شدت اور ہولناکی کی تعبیر تھی۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ قوم ثمود پر آسمان سے چیخ کا عذاب آیا اور نیچے سے زلزلے کا، جیساکہ تفسیر جلالین سورہ اعراف آیت ۷۸ میں ہے : الزلزلۃ الشدیدۃ من الارض و الصیحۃ من السماء یعنی زمین سے شدید زلزلہ آیا اور آسمان سے چنگھاڑ کی آواز آئی۔
علامہ صاوی اس کی وجہ یوں بیان کرتے ہیں: لأن عذابھم کان بھما معا ۔ترجمہ: کیونکہ ان پر بیک وقت دونوں طرح (یعنی آسمان اور زمین )سے عذاب آیا۔
یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کا نام حسنین ہو، مگر گھر والے اُسے کبھی بیٹا، کبھی قاری صاحب، کبھی ڈاکٹر، اور کبھی حسنین کہہ کر پکاریں۔ ہر تعبیر اپنے مقام پر درست ہوگی، مگر سب ایک ہی شخص کی طرف اشارہ کریں گی۔
فرض کیجیے کہ کسی علاقے میں ایک شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اب اگر مختلف افراد اس واقعے کو بیان کریں تو اُن کے بیانات مختلف ہو سکتے ہیں، مثلاً:
ایک شخص کہے گا: ’’یہ لوگ زلزلے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔‘‘
دوسرا کہے گا: ’’یہ عمارت کے منہدم ہونے سے دب کر مر گئے۔‘‘
تیسرا کہے گا: ’’ان کی موت دیواروں کے گرنے سے ہوئی۔‘‘
کوئی کہہ سکتا ہے: ’’زمین کے لرزنے سے ان کی جانیں چلی گئیں۔‘‘
اگرچہ یہ سب بیانات ظاہری طور پر مختلف معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی واقعے کے مختلف پہلو ہیں۔ ان سب کی بنیاد ایک ہی حقیقت پر ہے: "زلزلہ"۔ زلزلہ ہی اصل اور بنیادی سبب تھا، جس نے عمارتوں کو گرایا، دیواروں کو منہدم کیا اور لوگوں کی ہلاکت کا ذریعہ بنا۔
اسی اصول کو قرآن مجید میں قومِ ثمود کے عذاب کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ وہاں بھی ایک ہی عذاب کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ تعبیرات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے: صَیحہ (چیخ)، رَجفَہ (زلزلہ)، صاعقہ (کڑک یا بجلی)، اور طاغیہ (حد سے بڑھی ہوئی آفت)۔ ان تعبیرات کا مقصد تضاد پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس ہولناک عذاب کی شدت اور مختلف اثرات کو بیان کرنا ہے تاکہ سننے والے کے دل پر اس کی حقیقت کا گہرا اثر قائم ہو۔لہٰذا، جیسے زلزلے سے ہونے والی ہلاکت کو مختلف انداز میں بیان کرنا حقیقت کے بیان میں تنوع ہے نہ کہ تضاد، اسی طرح قرآن میں بھی قومِ ثمود کے عذاب کو مختلف تعبیرات میں بیان کرنا ایک ہی حقیقت کے جامع اور حکیمانہ اظہار کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
مفسرین کرام کی آراء
علامہ غلام رسول سعیدی اپنی شہرہ آفاق اردو تفسیر تبیان القرآن میں سورہ اعراف کی آیت ۷۳ کے تحت لکھتے ہیں:
ایک اعتراض یہ ہے کہ قوم ثمود کے عذاب کو متعارض اور متضاد عنوانوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے ، ایک جگہ اس عذاب کو الرجفہ (زلزلہ) (الاعراف ۷۸) سے تعبیر فرمایا گیا اور ایک جگہ اس عذاب کو الطاغیہ (حد سے تجاوز کرنے والی چیز) سے تعبیر فرمایا (ھود:۶۷، الحجر:۸۳، القمر:۳۱)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں یہ عذاب ایک خوفناک زلزلہ کی صورت میں آیا تھا اور زلزلہ میں ہولناک آواز ہوتی ہے اس لیے اس کو الصیحۃ سے بھی تعبیر فرمایا اور چونکہ یہ آواز بہت زیادہ حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس لیے اس کو الطاغیہ سے بھی تعبیر فرمایا۔ (قرآن مجید کی ان سورتوں میں قوم ثمود کا ذکر کیا گیا ہے: الاعراف ، ھود ، الحجر ، الشعرا ، النمل ، فصلت ، النجم، القمر، الحاقہ، الشمس)
اسی طرح علامہ قرطبی ، علامہ آلوسی، اور دیگر مفسرین نے بھی یہی تطبیق پیش کی ہے۔ اردو تفسیر صراط الجنان، تفسیر نعیمی وغیرہ میں بھی یہی وضاحت موجود ہے کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں بلکہ بلاغت اور حکمت کا کمال ہے کہ ایک ہی حقیقت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا تاکہ اثر انگیزی بڑھے اور عذاب کی ہولناکی دلوں پر نقش ہو جائے۔
خلاصہ کلام: قرآن کریم کے اسلوب میں جو تنوع ہے، وہ تضاد نہیں بلکہ فصاحت، بلاغت اور حقیقت نگاری کی اعلیٰ مثال ہے۔ قومِ ثمود پر جو عذاب آیا، وہ:چیخ (صیحہ) کی صورت میں تھا۔ زمین کی لرزش (رجفہ) کی صورت میں ظاہر ہوا۔اتنا شدید تھا کہ اسے صاعقہ بھی کہا گیا۔ اور چونکہ یہ حد سے بڑھی ہوئی سزا تھی، اس لیے اسے طاغیہ بھی کہا گیا۔
پس کوئی تضاد نہیں، بلکہ ایک ہی واقعے کی جامع اور مختلف تعبیرات ہیں۔
اب تک کی وضاحت سے مذکورہ شبہ رفع ہو چکا ہے۔ تاہم مزید فکری و سائنسی استفادے کے لیے ہم ڈاکٹر محمد غلوش کی ایک عربی پوسٹ سے منتخب اقتباس کا ترجمہ اردو میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ قارئین اس موضوع کی سائنسی توضیحات سے بھی بخوبی مستفید ہو سکیں۔
قومِ ثمود کے عذاب کی مختلف قرآنی تعبیرات اور جدید سائنسی توجیہات
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید نے قومِ ثمود کے عذاب کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے: کہیں اسے صَیحہ (چیخ/چنگھاڑ) کہا گیا، کہیں رَجفَہ (زلزلہ)، کہیں صاعقہ (کڑک/بجلی)، اور کہیں ہشیم (جلی ہوئی گھاس پھونس)۔ تو ان سوال اٹھانے والوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جب معانی مختلف ہیں تو ان کے درمیان ہم آہنگی اور مطابقت کیسے ممکن ہے؟
ہم اس اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے عذابِ ثمود کو مختلف تعبیرات سے بیان فرمایا ہے، لیکن جدید سائنسی تحقیق نے ان تمام تعبیرات کی عقلی، سائنسی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی ہے۔ اور یہ وضاحت قرآن کے بیانی ترتیب سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ آئیے ان مراحل کو مرحلہ وار سمجھتے ہیں:
۱۔ زور دار آواز (صیحہ) اور اس سے پیدا ہونے والا زلزلہ (رجفہ):
قرآن کریم نے فرمایا: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ترجمہ:’’تو انہیں زلزلے نے آ لیا۔‘‘
سائنس یہ بتاتی ہے کہ آواز دراصل ارتعاشی لہروں Vibrational Wavesکا مجموعہ ہوتی ہے۔ جب انسان کو بہت ہی زور دار آواز کا سامنا ہوتا ہے، خاص طور پر 200 ڈیسیبل سے زیادہ شدت کی آواز، تو اس کے جسم میں لرزش، کپکپی اور زلزلہ جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے رجفہ سے تعبیر کیا ہے۔ اس رجفہ کی جڑ صیحہ یعنی زبردست چیخ ہے، جو زلزلے کا سبب بنی۔
۲۔ شدید دباؤ، آگ اور حرارت: صاعقہ کا مفہوم
قرآن کا بیان ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ ۔ترجمہ:’’تو ان کو صاعقہ نے آ لیا۔‘‘
سائنس کہتی ہے کہ جب شدید آواز یا انتہائی بلند فریکوئنسی کی لہریں فضا میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ہوا کو اچانک پھیلا دیتی ہیں اور پھر زور سے سکیڑ دیتی ہیں۔ اس عمل سے فضا کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے قرآن نے صاعقہ یعنی آگ کے ساتھ شدید آواز یا بجلی کی کڑک سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں چیخ، دباؤ، گرمی اور تباہی ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں۔
۳۔ جسمانی اعضا کا پھٹ جانا اور ہشیم بن جانا
قرآن نے فرمایا: فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ۔ ترجمہ:’’پس وہ جلے ہوئے سوکھے تنکوں کی طرح ہو گئے۔‘‘
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، جب انسان کو 200 ڈیسیبل سے زیادہ شدت کی آواز لگتی ہے تو جلد پھٹ جاتی ہے، کان اور پھیپھڑے پھٹ جاتے ہیں، اور اگر آواز کی شدت میں مزید اضافہ ہو جائے تو وہ جسم کے گوشت اور ٹشوز کو چیر کر انہیں جلے ہوئے تنکوں کی مانند چھوٹے چھوٹے ذرات میں بدل دیتی ہے۔ قرآن نے اسی کیفیت کو "ہشیم" سے تعبیر کیا ہے، جو دراصل جنگلات میں لگی آگ کے بعد باقی رہ جانے والی جلی ہوئی جھاڑیوں اور تنکوں کو کہا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ قرآن کا ایک اور بیان ہے: فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً۔ترجمہ: ’’تو ہم نے انہیں بہاؤ کے باقی ماندہ جھاگ کی مانند کر دیا۔‘‘
یہ بھی آواز کی شدید تباہ کاری کو ظاہر کرتا ہے کہ جسمانی ساخت ختم ہو کر پانی میں بہنے والی جھاگ جیسی ہو جائے۔
نتیجہ: مختلف تعبیرات، ایک ہی حقیقت کے مختلف مراحل
اب ہم پوری بصیرت سے کہہ سکتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں قومِ ثمود کے عذاب کے لیے جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان میں کسی قسم کا تضاد نہیں، بلکہ وہ ایک ہی ہولناک عذاب کے مختلف سائنسی، تدریجی مراحل کی علامتیں ہیں۔ ان کا تعلق اس تسلسل سے ہے جو ان کی ہلاکت سے پہلے رونما ہوا: چیخ (صیحہ)، زلزلہ (رجفہ)، گرمی و دھماکہ (صاعقہ) ، جسمانی انتشار و جلنا (ہشیم / غثاء)۔
سائنسی میدان میں صیحہ کی طاقت کا عملی استعمال
یہاں ہم اس نکتے کی مزید وضاحت ایک حیران کن سائنسی حقیقت سے کرتے ہیں:
جراحی کے میدان میں "صوتی چاقو"Ultrasonic Scalpel استعمال کیا جاتا ہے، جو اصل میں کوئی دھاتی چاقو نہیں ہوتا، بلکہ ایک قلم نما آلہ ہوتا ہے جو فوق الصوتی لہریں Ultrasonic Waves خارج کرتا ہے۔ یہ لہریں انسانی جسم کے نازک اعضا جیسے جگر کی پیوندکاری کے دوران بافتوں کو کاٹنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ پلاسٹک سرجری میں انہی صوتی لہروں سے چربی کو توڑا اور تحلیل کیا جاتا ہے۔
جدید افواج میں ایک خاص قسم کی صوتی توپ Sonic Cannon استعمال کی جاتی ہے، جو عمارتوں، اسلحہ خانوں اور پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہاں تک کہ ایک خاص فوق الصوتی توپ ایسی بھی بن چکی ہے جو پانی کو بھی بخارات میں تبدیل کر دیتی ہے۔
اختتامی نکتہ: قرآنِ مجید نے جو کچھ فرمایا، جدید سائنس بھی آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ قومِ ثمود پر نازل ہونے والا عذاب کسی خیالی یا ماورائی طاقت کا مظہر نہیں، بلکہ ایسی حقیقی موجی طاقت کا اظہار تھا جس کی ہلاکت خیزی آج کے جدید آلات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اور یہ قرآن کی حکمت، اعجاز اور صداقت کی ایک اور روشن دلیل ہے۔(انتھی۔واللہ الموفق والمستعان)
…
غلام غوث صدیقی نیو ایج اسلام کے مستقل انگریزی اور اردو کالم نگار ہیں۔
-------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/quranic-contradiction-punishment-divine-wisdom/d/136034
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism